یوحنا 14
متن
آخری رات، بالاخانے میں، جب یہوداہ اسکریوتی باہر اندھیرے میں نکل چکا ہے، خداوند یسوع اپنے گھبرائے ہوئے شاگردوں سے کہتے ہیں: ”تمہارا دل نہ گھبرائے۔“ وہ بتاتے ہیں کہ باپ کے گھر میں بےشمار مکان ہیں، کہ وہ جگہ تیار کرنے جا رہے ہیں اور واپس آئیں گے۔ توما راستہ نہیں سمجھتا، فلپّس باپ کو دیکھنا چاہتا ہے، اور یہوداہ (اسکریوتی نہیں) پوچھتا ہے کہ آپ خود کو دنیا پر کیوں ظاہر نہ کریں گے۔ جواب میں مسیح خود کو راہ، حق اور زندگی کہتے ہیں، روح القدس کے آنے کا وعدہ کرتے ہیں، ایسی سلامتی دیتے ہیں جو دنیا نہیں دے سکتی، اور آخر میں کہتے ہیں: ”اب اُٹھو، ہم یہاں سے چلیں۔“
مرکزی بات
اِس باب کا دل یہ ہے کہ خدا کو جاننا ایک شخص کو جاننا ہے۔ فلپّس کی خواہش بےحد مذہبی تھی: ”باپ کو ہمیں دکھائیں۔ بس یہی ہمارے لئے کافی ہے۔“ یہ موسیٰ کی طرح کوہِ سینا پر جلال دیکھنے کی تمنا ہے۔ مگر یسوع اُسے آسمان کی طرف نہیں بلکہ اپنی طرف موڑ دیتے ہیں: ”جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا ہے۔“ یہاں خدا کی معرفت کسی صوفیانہ تجربے یا فلسفیانہ بلندی سے نہیں، بلکہ اُس آدمی کے چہرے سے ملتی ہے جو کچھ گھنٹوں بعد صلیب پر ہوگا۔ اور معرفت محض علم نہیں رہتی: باپ اور بیٹا آ کر ایمان دار کے ساتھ ”سکونت“ کریں گے۔ خدا مہمان نہیں، ساکن بننا چاہتا ہے۔
سلسلۂ کلام
”باپ کے گھر“ اور ”جگہ تیار کرنے“ کی زبان اُس ہیکل کی یاد دلاتی ہے جو یروشلم میں چند سو گز کے فاصلے پر کھڑی تھی: خدا کا گھر، جہاں وہ اپنی قوم کے درمیان بستا تھا۔ پرانے عہد کی پوری کہانی اِسی کوشش کی کہانی ہے کہ پاک خدا ناپاک انسان کے ساتھ کیسے رہ سکے، خیمے سے ہیکل تک، پردے اور قربانیوں کے ساتھ۔ یسوع اِس سلسلے کو اُلٹ دیتے ہیں: اب سکونت پتھروں میں نہیں، لوگوں میں ہوگی، اور راستہ رسم نہیں بلکہ ایک شخص ہے۔ روح القدس کا وعدہ یرمیاہ اور یوایل کی اُس اُمید کو پورا کرتا ہے کہ خدا اپنی شریعت دلوں پر لکھے گا اور اپنی روح ہر بشر پر ڈالے گا۔
آئینہ
جب زندگی کا کوئی ستون گرتا ہے، نوکری، صحت، کوئی رشتہ، تو ہم اکثر وضاحت مانگتے ہیں: کیوں، اور کب تک؟ توما بھی نقشہ مانگتا ہے، اور جواب میں اُسے راستہ نہیں بلکہ ایک ساتھی ملتا ہے۔ یہ اکثر ہماری توقع کے خلاف ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں خدا ہمیں آگے کا منظر دکھائے، اور وہ ہمیں اپنا ہاتھ دیتا ہے۔ اور غور کریں کہ محبت کی کسوٹی یہاں جذبات نہیں: ”اگر تم مجھے پیار کرتے ہو تو میرے احکام کے مطابق زندگی گزارو گے۔“ یہ بات دفتر کی ایمانداری، گھر کے لہجے، پیسے کے استعمال اور معاف کرنے کی آمادگی میں کھری اُترتی ہے۔ عبادت میں آنسو آسان ہیں؛ فرمانبرداری مہنگی ہے۔
پہلے سننے والے
اِن باتوں کو سب سے پہلے گیارہ دیہاتی گلیلی مردوں نے سنا، جو تین سال سے اپنا گھر، جال اور روزگار چھوڑ کر ایک اُستاد کے پیچھے چل رہے تھے۔ یہودی معاشرے میں شاگرد کا وجود اپنے ربی سے جُڑا ہوتا تھا؛ ربی کے جانے کا مطلب تھا بےسہارا ہو جانا۔ اِسی لیے یسوع کا لفظ ”یتیم“ اُن کے کان میں چبھتا ہوگا، کیونکہ اُس دنیا میں یتیم اور بیوہ سب سے کمزور، بےزبان لوگ تھے۔ رومی فوجی قریب ہی قلعۂ انطونیہ میں تھے، فسح کی وجہ سے شہر بھرا ہوا تھا، اور ہوا میں بغاوت اور شبہے کی بو تھی۔ اِس ماحول میں ”سلامتی“ کا وعدہ رومی امن کا مقابلہ کرتا ہے: ”مَیں اِسے یوں نہیں دیتا جس طرح دنیا دیتی ہے۔“
مرکزی کردار
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تسلی دینے والا خود موت کے دہانے پر کھ
John 14 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 14 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 14 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 14 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 14 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 14 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 14 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
فلپّس نے کہا تھا، ”ہمیں باپ کو دکھائیں،“ اور یسوع کا جواب چونکا دینے والا ہے: ”جو باتیں مَیں تم کو بتاتا ہوں وہ میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ باپ جو مجھ میں رہتا ہے اپنا کام کر رہا ہے۔“ وہ اپنے الفاظ کا کریڈٹ خود نہیں لیتے۔ سوچ کر دیکھ، تیری زندگی میں جو اچھا ہو رہا ہے، کیا تُو اُس کا سہرا اپنے سر باندھتا ہے یا اُس کے سر جو تجھ میں رہتا ہے؟
اے میرے آسمانی باپ، دنیا کے حاکم کا کوئی حق مجھ پر نہیں کیونکہ میں تیرا ہوں۔ جب اندھیرا مجھے ڈرانے آئے تو مجھے یاد دلا کہ تیرا بیٹا اُس پر غالب آ چکا ہے۔ میرا دل تیری محبت میں محفوظ رکھ اور مجھے فرمانبرداری کی راہ پر چلا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
