بائبل کی تشریح

یوحنا 17:21

بائبل
یہ آیت Canonical Catholic Church Of Celtic Cross کی جانب سے منسوب ہے

متن

یسوع اب اُن لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے: وہ سب جو رسولوں کا پیغام سن کر اُن پر ایمان لائیں گے۔ اُن کے لیے اُن کی درخواست صرف ایک ہے، ”تاکہ سب ایک ہوں۔“ اور اِس یکجہتی کا نمونہ کوئی انسانی اتحاد نہیں بلکہ خود خدا کی ذات ہے: ”جس طرح تُو اے باپ، مجھ میں ہے اور مَیں تجھ میں ہوں اُسی طرح وہ بھی ہم میں ہوں۔“ غور کریں کہ آیت کہاں جا کر ختم ہوتی ہے: ایمان داروں کے آرام یا خوشی پر نہیں، بلکہ دنیا پر۔ ”تاکہ دنیا یقین کرے کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔“ یہ دعا ایک دائرے کی طرح ہے جو باپ سے نکل کر بیٹے، پھر کلیسیا، اور آخرکار دنیا تک پہنچتی ہے۔

مرکزی بات

یہاں سب سے چونکا دینے والی بات لفظ ”ایک“ نہیں بلکہ لفظ ”ہم“ ہے: ”وہ بھی ہم میں ہوں۔“ یسوع یہ نہیں مانگتے کہ ایمان دار آپس میں ایک جیسے ہو جائیں، بلکہ یہ کہ وہ باپ اور بیٹے کے اُس رشتے کے اندر شامل کر لیے جائیں جو ازل سے قائم ہے۔ نجات کا مطلب محض گناہوں کی معافی نہیں؛ یہ خدا کی اپنی زندگی میں داخلہ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ کلیسیا کی پھوٹ محض افسوسناک نہیں، بلکہ جھوٹ ہے: وہ دنیا کے سامنے خدا کی غلط تصویر پیش کرتی ہے۔ یسوع گواہی کو دلیل یا طاقت سے نہیں باندھتے بلکہ ایک ایسی برادری سے جو خود اپنے وسائل سے یہ محبت پیدا نہیں کر سکتی۔ یکجہتی کارکردگی نہیں، فضل کا پھل ہے، اِسی لیے وہ اِسے مانگ رہے ہیں، حکم نہیں دے رہے۔

مشترکہ دھاگہ

کلامِ مُقدّس بکھراؤ کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ باغ میں آدمی اور عورت ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں، قائن اپنے بھائی کو مار ڈالتا ہے، اور بابل میں انسانیت زبانوں میں بٹ کر زمین پر منتشر ہو جاتی ہے۔ اُس کے بعد خدا کا سارا منصوبہ جمع کرنے کا منصوبہ ہے: ایک خاندان، ایک قوم، پھر حزقی ایل کی وہ تصویر جس میں خدا دو لکڑیاں لے کر اپنے ہاتھ میں ایک کر دیتا ہے۔ یسوع کی یہ دعا اُسی دھاگے کا آخری سرا ہے، مگر ایک فیصلہ کن فرق کے ساتھ: اب جمع ہونے کا مرکز کوئی مینار، مندر یا سرزمین نہیں بلکہ ایک شخص ہے۔ ”وہ بھی ہم میں ہوں۔“ منتشر انسانیت باپ اور بیٹے کے رشتے میں واپس اکٹھی کی جاتی ہے، اور یہ اُس صلیب کی قیمت پر ہوتا ہے جس کی طرف یسوع اِسی رات بڑھ رہے ہیں۔

آئینہ

یہ آیت ہمارے اُس خیال کو توڑتی ہے کہ ایمان ایک نجی معاملہ ہے۔ آپ اپنی ذاتی دعا میں خدا کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہوں، یسوع کی درخواست یہ ہے کہ دنیا آپ کے اور دوسرے ایمان داروں کے تعلق میں خدا کو دیکھ سکے۔ سوچیے اُس بھائی یا بہن کے بارے میں جس سے آپ نے کلیسیا میں بات کرنا چھوڑ دیا ہے؛ اُس رشتہ دار کے بارے میں جس کے ساتھ عقیدے پر جھگڑا ہوا اور اب صرف خاموشی باقی ہے؛ اُس جماعت کے بارے میں جس کا ذکر آپ طنز کے ساتھ کرتے ہیں۔ آپ کا پڑوسی آپ کے عقیدے کی تفصیل نہیں پڑھے گا، وہ یہ دیکھے گا کہ آپ اُن لوگوں سے کیسے پیش آتے ہیں جنہیں آپ نے خود نہیں چُنا۔ آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک مسیحی کا نام لکھیے جس سے آپ نے فاصلہ بنا رکھا ہے، اور اُس نام کے ساتھ بلند آواز میں یہ الفاظ دعا میں کہیے: ”تاکہ سب ایک ہوں۔“

بین المتونی گونج

اعمال کی کتاب میں لوقا پہلی جماعت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ایک دل اور ایک جان تھے اور سب کچھ مشترک رکھتے تھے؛ یہ اتفاق نہیں، یہ یسوع کی اِس دعا کا پہلا قابلِ دید جواب ہے۔ پینتیکست بابل کا اُلٹ ہے: وہاں زبانیں تقسیم کے لیے دی گئیں، یہاں سمجھنے کے لیے۔ مگر تناؤ بھی فوراً سامنے آ جاتا ہے۔ کرنتھس کی کلیسیا دھڑوں میں بٹ جاتی ہے اور پولس کو تلخی سے پوچھنا پڑتا ہے کہ کیا مسیح بٹ گیا ہے۔ یعنی یہ دعا کوئی خودکار ضمانت نہیں؛ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عطا کی گئی ہے اور جسے روزانہ جینا پڑتا ہے۔ افسیوں میں پولس اِسی کو یوں کہتا ہے کہ ایک بدن، ایک روح، ایک خداوند ہے، اور پھر فوراً صبر اور تحمل کی تاکید کرتا ہے۔ یکجہتی عطیہ ہے؛ اُسے قائم رکھنا محنت ہے۔

پس منظر

یہ آخری رات ہے۔ کھانا ختم ہو چکا، پاؤں دھوئے جا چکے، یہوداہ اندھیرے میں نکل چکا ہے، اور یسوع گتسمنی کی طرف جانے سے پہلے آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے ہیں۔ یہودی روایت میں باپ اپنے بچوں کو موت سے پہلے برکت دیتا تھا؛ یسوع یہاں برکت نہیں بلکہ دعا کرتے ہیں، اور وہ بھی اُن کے لیے جو ابھی موجود نہیں۔ سامنے بیٹھے شاگرد مایوس، خوف زدہ اور آپس میں بڑائی کے جھگڑے میں اُلجھے لوگ ہیں۔ رومی سلطنت کے زیرِ سایہ ایک مقبوضہ قوم میں، جہاں مذہبی قیادت خود پھوٹ کا شکار تھی، یہ دعا سیاسی طور پر بے وزن لگتی تھی۔ اور پھر بھی یسوع اپنی موت سے چند گھنٹے پہلے سب سے بڑی درخواست یہی رکھتے ہیں کہ اُن کے لوگ بکھر نہ جائیں۔

سامعین کا خاکہ

یوحنا نے یہ انجیل ایسی جماعتوں کے لیے لکھی جو دباؤ میں تھیں: عبادت خانے سے نکالی گئی، یہودی اور غیریہودی ایمان داروں کے درمیان کھنچاؤ میں، اور اندرونی اختلافات سے زخمی۔ اُن کے کانوں میں آیت 20 کے الفاظ، ”اُن سب کے لئے بھی جو اِن کا پیغام سن کر مجھ پر ایمان لائیں گے“، کسی عام جملے کی طرح نہیں گونجے ہوں گے۔ وہ خود وہی لوگ تھے۔ خداوند نے اپنی آخری رات میں اُن کا نام لیے بغیر اُن کے لیے دعا کی تھی۔ اور جو گروہ شاید تیس چالیس افراد پر مشتمل تھا، کسی بڑے شہر کے کسی گھر میں، اُسے بتایا جا رہا تھا کہ دنیا کا ایمان لانا اُن کی آپسی محبت سے جُڑا ہے۔ یہ تسلی بھی تھی اور بوجھ بھی۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سا رشتہ ہے جو اِس وقت دنیا کے سامنے خدا کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے؟

اگر یکجہتی عطیہ ہے اور کارکردگی نہیں، تو اِس ہفتے آپ کی دعا میں اور آپ کے رویے میں اِس کا فرق کہاں نظر آئے گا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 17:21 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 17:21 کا کیا مطلب ہے؟
یسوع اب اُن لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے: وہ سب جو رسولوں کا پیغام سن کر اُن پر ایمان لائیں گے۔ اُن کے لیے اُن کی درخواست صرف ایک ہے، ”تاکہ سب ایک ہوں۔“ اور اِس یکجہتی کا نمونہ کوئی انسانی اتحاد نہیں بلکہ خود خدا کی ذات ہے: ”جس طرح تُو اے باپ، مجھ میں ہے اور مَیں تجھ میں ہوں اُسی طرح وہ بھی ہم میں ہوں۔“ غور کریں کہ آیت کہاں جا کر ختم ہوتی ہے: ایمان داروں کے آرام یا خوشی پر نہیں، بلکہ دنیا پر۔ ”تاکہ دنیا یقین کرے کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔“ یہ دعا ایک دائرے کی طرح ہے جو باپ سے نکل کر بیٹے، پھر کلیسیا، اور آخرکار دنیا تک پہنچتی ہے۔
یوحنا 17:21 کس بارے میں ہے؟
کلامِ مُقدّس بکھراؤ کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ باغ میں آدمی اور عورت ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں، قائن اپنے بھائی کو مار ڈالتا ہے، اور بابل میں انسانیت زبانوں میں بٹ کر زمین پر منتشر ہو جاتی ہے۔ اُس کے بعد خدا کا سارا منصوبہ جمع کرنے کا منصوبہ ہے: ایک خاندان، ایک قوم، پھر حزقی ایل کی وہ تصویر جس میں خدا دو لکڑیاں لے کر اپنے ہاتھ میں ایک کر دیتا ہے۔ یسوع کی یہ دعا اُسی دھاگے کا آخری سرا ہے، مگر ایک فیصلہ کن فرق کے ساتھ: اب جمع ہونے کا مرکز کوئی مینار، مندر یا سرزمین نہیں بلکہ ایک شخص ہے۔ ”وہ بھی ہم میں ہوں۔“ منتشر انسانیت باپ اور بیٹے کے رشتے میں واپس اکٹھی کی جاتی ہے، اور یہ اُس صلیب کی قیمت پر ہوتا ہے جس کی طرف یسوع اِسی رات بڑھ رہے ہیں۔
یوحنا 17:21 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اعمال کی کتاب میں لوقا پہلی جماعت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ایک دل اور ایک جان تھے اور سب کچھ مشترک رکھتے تھے؛ یہ اتفاق نہیں، یہ یسوع کی اِس دعا کا پہلا قابلِ دید جواب ہے۔ پینتیکست بابل کا اُلٹ ہے: وہاں زبانیں تقسیم کے لیے دی گئیں، یہاں سمجھنے کے لیے۔ مگر تناؤ بھی فوراً سامنے آ جاتا ہے۔ کرنتھس کی کلیسیا دھڑوں میں بٹ جاتی ہے اور پولس کو تلخی سے پوچھنا پڑتا ہے کہ کیا مسیح بٹ گیا ہے۔ یعنی یہ دعا کوئی خودکار ضمانت نہیں؛ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عطا کی گئی ہے اور جسے روزانہ جینا پڑتا ہے۔ افسیوں میں پولس اِسی کو یوں کہتا ہے کہ ایک بدن، ایک روح، ایک خداوند ہے، اور پھر فوراً صبر اور تحمل کی تاکید کرتا ہے۔ یکجہتی عطیہ ہے؛ اُسے قائم رکھنا محنت ہے۔
یوحنا 17:21 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا نے یہ انجیل ایسی جماعتوں کے لیے لکھی جو دباؤ میں تھیں: عبادت خانے سے نکالی گئی، یہودی اور غیریہودی ایمان داروں کے درمیان کھنچاؤ میں، اور اندرونی اختلافات سے زخمی۔ اُن کے کانوں میں آیت 20 کے الفاظ، ”اُن سب کے لئے بھی جو اِن کا پیغام سن کر مجھ پر ایمان لائیں گے“، کسی عام جملے کی طرح نہیں گونجے ہوں گے۔ وہ خود وہی لوگ تھے۔ خداوند نے اپنی آخری رات میں اُن کا نام لیے بغیر اُن کے لیے دعا کی تھی۔ اور جو گروہ شاید تیس چالیس افراد پر مشتمل تھا، کسی بڑے شہر کے کسی گھر میں، اُسے بتایا جا رہا تھا کہ دنیا کا ایمان لانا اُن کی آپسی محبت سے جُڑا ہے۔ یہ تسلی بھی تھی اور بوجھ بھی۔
یوحنا 17:21 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر یکجہتی عطیہ ہے اور کارکردگی نہیں، تو اِس ہفتے آپ کی دعا میں اور آپ کے رویے میں اِس کا فرق کہاں نظر آئے گا؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 17 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 9

خداوند یسوع، شکر ہے کہ تُو نے کہا: ”مَیں اُن کے لئے دعا کرتا ہوں... جو تُو نے مجھے دیئے ہیں۔“ میرا نام بھی تیری دعا میں شامل ہے۔ شکریہ کہ مَیں باپ کی ملکیت ہوں اور تیرے ہاتھوں میں محفوظ ہوں، چاہے دن کیسا ہی کیوں نہ ہو۔

بصیرت ادارتی کو آیت 1

صلیب سے چند ہی گھنٹے پہلے عیسیٰ کہتے ہیں، ”اے باپ، وقت آ گیا ہے۔ اپنے فرزند کو جلال دے۔“ جس گھڑی سے ہم بھاگتے ہیں، وہ اُسے جلال کی گھڑی کہتے ہیں۔ کانٹوں کا تاج اور کیلیں، یہی اُن کی شان بنی۔ سوچ، تیری زندگی کا وہ مشکل ترین لمحہ شاید وہی جگہ ہو جہاں خدا اپنا جلال ظاہر کرنا چاہتا ہے۔

دعا ادارتی کو آیت 4

اے باپ، یسوع نے وہ کام پورا کیا جو تُو نے اُسے سونپا تھا، اور اُسی میں تیرا جلال چمکا۔ مجھے بھی وہ کام دکھا جو میرے ہاتھ میں ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا نظروں سے اوجھل۔ مجھے بھٹکنے سے بچا اور اپنی مرضی پوری کرنے کی طاقت دے، تاکہ میری زندگی سے تیرا نام جانا جائے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 8

یسوع باپ سے دعا میں کہتے ہیں: ”کیونکہ جو باتیں تُو نے مجھے دی ہیں وہ مَیں نے اُنہیں دے دی ہیں۔ اُنہوں نے یہ باتیں قبول کر لیں۔“ غور کریں، وہ شاگردوں کی خامیاں نہیں گنواتے، بلکہ باپ کے سامنے اُن کی ایک ہی بات کی تعریف کرتے ہیں کہ اِنہوں نے میرا کلام قبول کیا۔ آج آپ کے بارے میں بھی وہ یہی کہنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو کلام اُنہوں نے آپ کو دیا، کیا آپ نے اُسے واقعی تھام لیا ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟