یونس 4
متن
نینوہ بچ گیا، اور یہی بات یونس نبی کو ناقابلِ برداشت لگی۔ وہ غصے میں خدا سے شکایت کرتا ہے کہ اُسے پہلے ہی معلوم تھا کہ رب "مہربان اور رحیم خدا" ہے، اور اِسی لئے وہ ترسیس بھاگا تھا؛ اب وہ موت مانگتا ہے۔ شہر کے مشرق میں جھونپڑی بنا کر وہ انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، ایک بیل اُسے سایہ دیتی ہے، ایک کیڑا اُسے سکھا دیتا ہے، لُو چلتی ہے، اور یونس پھر مرنا چاہتا ہے۔ کتاب ایک جواب پر نہیں بلکہ ایک سوال پر ختم ہوتی ہے: "کیا مجھے اِس بڑے شہر پر غم نہیں کھانا چاہئے؟"
اصل بات
یونس کی شکایت غور طلب ہے، کیونکہ وہ خدا پر کسی بُرائی کا الزام نہیں لگاتا۔ وہ اُسی جملے کا حوالہ دیتا ہے جو اسرائیل کی سب سے قیمتی گواہی تھی: رب رحیم ہے، تحمل سے بھرپور ہے، سزا دینے میں دیر کرتا ہے۔ یونس اِس سچائی کو مانتا ہے؛ وہ صرف یہ نہیں چاہتا کہ یہ سچائی نینوہ تک پھیلے۔ یہاں گناہ کی ایک ایسی شکل بے نقاب ہوتی ہے جس پر ہم شاذ ہی بات کرتے ہیں: خدا کے فضل کو اپنی ملکیت سمجھنا اور دوسروں کے لئے اُس کا حساب مانگنا۔ خدا اُسے ڈانٹتا نہیں، دلیل نہیں دیتا، بلکہ ایک سوال پوچھتا ہے، اور پھر خاموشی سے انتظار کرتا ہے۔ یہ خاموشی خود ایک تعلیم ہے: رحم زبردستی نہیں سکھایا جاتا، وہ دل میں اُگتا ہے، بیل کی طرح۔
سلسلۂ کلام
یونس کا کردار اسرائیل کی بلاہٹ کا آئینہ ہے: قوموں کے لئے برکت بننے کے لئے بلایا گیا، مگر برکت کو اپنے پاس روک لینے کا خواہش مند۔ اور یہیں سے مسیح کی روشنی پڑتی ہے۔ یونس شہر کے باہر بیٹھا ہے تاکہ اُس کی تباہی دیکھے؛ خداوند یسوع شہر کے باہر کھڑے ہو کر یروشلم پر روتے ہیں، اور آخرکار شہر کے باہر ہی صلیب پر جان دیتے ہیں تاکہ شہر بچ جائے۔ یونس کہتا ہے، "جینے سے بہتر یہی ہے کہ مَیں کوچ کر جاؤں"، مگر یہ مایوسی کی موت ہے، محبت کی نہیں۔ مسیح وہی موت خوشی سے قبول کرتے ہیں جو یونس ناراضی میں مانگتا ہے۔ کتاب کا ادھورا اختتام مسیح میں مکمل ہوتا ہے: خدا کا غم بالآخر خدا کی قربانی بن جاتا ہے۔
آئینہ
یہ باب اُن جگہوں کو چھوتا ہے جہاں ہم خود کو دیندار سمجھتے ہوئے سخت ہو چکے ہیں۔ وہ رشتہ دار جس نے خاندان کا پیسہ ہڑپ کیا اور اب کلیسیا میں ہاتھ اُٹھا کر گیت گاتا ہے؛ وہ ساتھی جس کی ترقی آپ کی قیمت پر ہوئی اور جس کی بیماری کی خبر سُن کر آپ کے اندر ایک ٹھنڈی سی تسلی جاگی؛ وہ گروہ، وہ فرقہ، وہ محلہ جس کے بارے میں آپ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اُن کے لئے توبہ کا دروازہ کھلنا انصاف کے خلاف ہوگا۔ یونس ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ ہم بُرے ہیں، بلکہ یہ کہ ہم منصف بننا چاہتے ہیں۔ اور خدا کا سوال ہمیں چیر دیتا ہے: "کیا تُو غصے ہونے میں حق بجانب ہے؟"
آج ہی ایک کاغذ پر اُس شخص یا گروہ کا نام لکھیں جس کی معافی آپ کو کھٹکتی ہے، اور اُس نام کے سامنے بلند آواز میں یہ دعا کریں: "اے رب، تُو اِن پر بھی غم کھاتا ہے۔"
سوال
کیوں خدا نے یونس کو جواب نہیں دیا؟ آخری آیت میں سوال ہوا میں معلق رہ جاتا ہے۔ ہمیں نہیں بتایا جاتا کہ یونس نرم پڑا یا نہیں، کہ وہ جھونپڑی سے اُٹھ کر شہر میں گیا یا وہیں بیٹھا رہ گیا۔ یہ ادھورا پن اتفاق نہیں۔ اگر یونس توبہ کر لیتا تو ہم کہانی بند کر کے اطمینان سے سو جاتے۔ خاموشی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ جواب ہم دیں۔ مگر ایک اور، زیادہ تکلیف دہ سوال بھی باقی ہے: خدا کے رحم کی حد کہاں ہے؟ نینوہ نے چند دہائیوں بعد پھر ظلم شروع کیا۔ کیا خدا کا تحمل بےمعنی رہا؟ متن جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ خدا اُن پر غم کھاتا ہے جو دائیں اور بائیں میں امتیاز نہیں کر پاتے، اور یہ ہمیں ماننا پڑتا ہے، سمجھے بغیر۔
کلام کی گونج
یونس کی زبان پر جو الفاظ ہیں، "تُو مہربان اور رحیم خدا ہے۔ تُو تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے"، وہ خروج ۳۴ سے آتے ہیں، جہاں سونے کے بچھڑے کے بعد خدا خود کو موسیٰ پر یوں ظاہر کرتا ہے۔ یعنی یونس وہی وعدہ خدا کے منہ پر واپس پھینک رہا ہے جس نے اسرائیل کو زندہ رکھا تھا۔ دوسری گونج نئے عہدنامے میں ہے: کھوئے ہوئے بیٹے کی تمثیل میں بڑا بھائی گھر کے باہر کھڑا رہ جاتا ہے، ناراض، جبکہ اندر جشن ہو رہا ہے، اور باپ باہر آ کر منت کرتا ہے۔ وہ تمثیل بھی ادھوری ختم ہوتی ہے۔ دونوں بار خدا دروازے پر کھڑا ہے اور ناراض بندے سے پوچھ رہا ہے: کیا تُو اندر آئے گا؟
ایک باریک نکتہ
آیت ۶ میں لکھا ہے کہ بیل اِس لئے اُگی "تاکہ سایہ دے کر اُس کی ناراضی دُور کرے"۔ مگر یونس تو پہلے ہی جھونپڑی بنا چکا تھا؛ اُس کے پاس سایہ موجود تھا۔ بیل کی ضرورت نہیں تھی، وہ خالص نرمی تھی، ایک زائد تحفہ۔ اور یہی بات چبھتی ہے: خدا اُس آدمی کو مفت کی مہربانی دیتا ہے جو دوسروں کے لئے مہربانی کا مخالف ہے۔ یونس اُس بیل پر "بہت خوش" ہوتا ہے، پوری کتاب میں پہلی بار خوش، اور اُس کی خوشی کا سبب ایک پودا ہے، ایک لاکھ بیس ہزار جانیں نہیں۔ کیڑا صرف بیل کو نہیں کھاتا؛ وہ یونس کے دل کا نقشہ کھول دیتا ہے۔ ہم بھی اکثر اُس چیز پر روتے ہیں جو راتوں رات ملی، اور اُس پر بےحس رہتے ہیں جس کے لئے خدا صدیوں سے صبر کر رہا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
اگر خدا آج آپ سے پوچھے، "کیا تُو غصے ہونے میں حق بجانب ہے؟"، تو آپ کا پہلا، ایماندارانہ جواب کیا ہوگا، اور اُس جواب سے آپ کے دل کے بارے میں کیا ظاہر ہوتا ہے؟
کون سی چھوٹی چیز آپ کے آرام کے لئے "بیل" بن گئی ہے، اور کیا آپ اُس کے چھن جانے پر اُتنا ہی غم کھائیں گے جتنا آپ کسی انسان کی ہلاکت پر کھاتے ہیں؟
Jonah 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یونس 4 کا کیا مطلب ہے؟
یونس 4 کس بارے میں ہے؟
یونس 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یونس 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یونس 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jonah 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ایک بیل کے مرجھانے پر یونس کا دل ٹوٹ گیا، مگر ایک پورے شہر کے ہلاک ہونے پر نہیں۔ اِسی لئے اللہ نے جھلسا دینے والی ہَوا بھیجی، تاکہ یونس کو اپنے دل کا اصل حال دکھائے۔ کبھی کبھی جو دھوپ تجھے تڑپا رہی ہے وہ سزا نہیں، ایک سوال ہے: تُو کس چیز پر روتا ہے، اور کس پر نہیں؟
اے خدا، کبھی کبھی تیری رحم دلی مجھے کھلتی ہے، خاص کر جب وہ اُن پر ہو جنہیں میں نے دل سے معاف نہیں کیا۔ میرا غصہ تجھ سے چھپا نہیں۔ میرے دل کو نرم کر، تاکہ میں تیری معافی پر جلنے کے بجائے اُس میں خوش ہو سکوں۔
یونس مرنا چاہتا ہے، مگر کسی ناکامی کی وجہ سے نہیں۔ اُس کی منادی کامیاب رہی تھی! "اے رب، اب میری جان لے لے، کیونکہ میرے لئے مرنا جینے سے بہتر ہے۔" وہ اِس لئے ٹوٹ گیا کہ خدا نے اُس کے دشمنوں پر رحم کیا۔ کیا کوئی ایسا ہے جس کی معافی تجھے کڑوی لگے گی؟ خدا کی شفقت وہاں تک پہنچتی ہے جہاں تک تیرا دل جانے کو تیار نہیں۔
اے خدا، تُو میرے غصے کو دیکھتا ہے اور نرمی سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ ٹھیک ہے۔ میں اکثر جواب دینے کے بجائے منہ پھیر لیتا ہوں۔ مجھے سکھا کہ میں اپنے دل کو تیرے سامنے کھول دوں، اور جن پر تُو رحم کرتا ہے اُن سے میں بھی محبت کروں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں