یشوع 13
متن
خداوند یشوع سے بات کرتے ہیں جب وہ بوڑھا ہو چکا ہے: ”تُو بہت بوڑھا ہو چکا ہے، لیکن ابھی کافی کچھ باقی رہ گیا ہے جس پر قبضہ کرنے کی ضرورت ہے۔“ پھر فلستیوں، صیدانیوں اور لبنان تک کے اُن علاقوں کی فہرست آتی ہے جو ابھی تک فتح نہیں ہوئے۔ اِس کے باوجود حکم ملتا ہے کہ قرعہ ڈال کر یہ سارا ملک نو قبیلوں اور منسّی کے آدھے قبیلے میں بانٹ دیا جائے۔ باب کا باقی حصہ یردن کے مشرق میں روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کی زمینوں کی تفصیل ہے، اور دو بار یہ یاد دہانی کہ لاوی کو زمین نہیں ملی، کیونکہ رب خود اُن کی میراث ہے۔
مرکزی بات
یہاں دو سچائیاں ایک ساتھ کھڑی ہیں اور وہ ایک دوسرے کو منسوخ نہیں کرتیں۔ پہلی: کام ادھورا ہے۔ دوسری: زمین پھر بھی تقسیم ہو گی، گویا وہ پہلے سے اسرائیل کی ہے۔ خدا اپنے وعدے کی بنیاد یشوع کی کارکردگی پر نہیں رکھتے بلکہ اپنے قول پر۔ ”مَیں خود ہی اِن لوگوں کو اُن کے سامنے سے نکال دوں گا“ یہ کہتا ہے کہ فتح کا اصل فاعل خدا ہے؛ ”لازم ہے کہ تُو قرعہ ڈال کر یہ پورا ملک… تقسیم کرے“ یہ کہتا ہے کہ انسان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی۔ فضل کام کو ختم نہیں کرتا، وہ کام کو خوف سے آزاد کرتا ہے۔ آپ ادھورے میدان میں بھی خدا کے وعدے کے مطابق حصہ بانٹ سکتے ہیں۔
سلسلۂ کلام
یشوع بوڑھا ہو کر مر جائے گا اور فلستی باقی رہیں گے۔ یہ ناکامی نہیں، نامکملیت ہے؛ اور بائبل کی پوری کہانی اِسی نامکملیت پر چلتی ہے۔ موسیٰ نے زمین کے کنارے پر وفات پائی، یشوع ادھورے نقشے کے ساتھ رخصت ہوتا ہے، داؤد مندر نہیں بناتا۔ ہر بار ایک بڑھتی ہوئی انگلی ایک ایسے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو واقعی کہہ سکے کہ ”تمام ہوا“۔ مسیح وہ یشوع ہے جو ادھورا چھوڑ کر نہیں جاتا۔ اور لاوی کی میراث یہاں سب سے زیادہ مسیحی آیت ہے: ”رب اسرائیل کا خدا اُن کا موروثی حصہ ہے۔“ یہی وہ میراث ہے جو مسیح میں ہر ایمان دار کو ملی، جس کا کوئی نقشہ، کوئی سرحد اور کوئی قبضہ درکار نہیں۔
آئینہ
یہ باب آپ کی عمر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ چالیس، پچاس یا ساٹھ سال کے بعد ہم اندر ہی اندر حساب لگاتے ہیں: کیا اب بھی کچھ بننا باقی ہے؟ اور خدا جواب میں تسلی نہیں دیتے، وہ فہرست پڑھواتے ہیں، فلستیوں کی، صیدانیوں کی، لبنان کی۔ جو ابھی فتح نہیں ہوا۔ شاید آپ کے لیے وہ فہرست یوں ہے: وہ بیٹا جو کلیسیا چھوڑ چکا، وہ غصہ جو بیس سال سے میز پر پھٹ پڑتا ہے، وہ قرضہ، وہ رشتہ جو جُڑا ہی نہیں۔ ہم دو میں سے ایک غلطی کرتے ہیں: یا تو ادھورے پن کو شرمندگی بنا لیتے ہیں اور چپ ہو جاتے ہیں، یا یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جو ہم نے فتح کیا وہی ہماری اصل دولت ہے۔ لاوی کا قبیلہ دونوں کو کاٹ دیتا ہے: اُن کے پاس ایک انچ زمین نہیں، اور وہ سب سے امیر ہیں۔ آج کے لیے ایک کام: کاغذ پر وہ ایک نام یا معاملہ لکھیں جو آپ کی زندگی کا ”جو ابھی فتح نہیں ہوا“ ہے، اُس کے نیچے یہ جملہ لکھیں: ”رب اسرائیل کا خدا ہی میرا موروثی حصہ ہے“، اور اُسے بلند آواز سے ایک بار پڑھیں۔
کلام کی گواہی
قضاۃ کی کتاب کا پہلا باب اِس باب کا تلخ تسلسل ہے: وہاں قبیلہ بہ قبیلہ لکھا ہے کہ کون سے کنعانی نکالے نہ گئے۔ جو یہاں وعدہ تھا، وہاں نافرمانی کی وجہ سے زخم بن جاتا ہے؛ یعنی ادھورا پن معصوم بھی ہو سکتا ہے اور گناہ آلود بھی، اور فرق اِس میں ہے کہ ہم آگے بڑھنا جاری رکھتے ہیں یا سمجھوتہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف زبور 16 کی وہ سطر جو لاوی کی زبان سے نکلی لگتی ہے: خداوند خود پیالہ اور میراث ہے۔ پولس رسول نے اِسی خیال کو انجام تک پہنچایا جب اُس نے اپنی ساری کامیابیوں کو مسیح کے مقابلے میں کوڑا کہا۔ میراث کسی زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں، ایک شخص کا نام ہے۔
پس منظر
ہم فتح کی کہانی کے آخری سانس پر کھڑے ہیں۔ بڑی مہمات ختم ہو چکی ہیں، مگر ساحلی پٹی اب بھی فلستیوں کے پانچ شاہی شہروں کے قبضے میں ہے، غزہ، اشدود، اسقلون، جات اور عقرون، یعنی لوہے کے رتھوں اور منظم فوج والی وہ طاقت جو صدیوں تک اسرائیل کا درد بنی رہی۔ شمال میں صیدانی تجارتی شہر ہیں اور لبنان کے پہاڑ۔ زمین کی تقسیم قرعہ سے ہوتی ہے، کیونکہ قرعہ طاقتور قبیلوں کی سودے بازی کو روکتا ہے؛ فیصلہ خدا کا ہے، سیاست کا نہیں۔ یردن کے مشرق کا حصہ پہلے ہی موسیٰ نے سیحون اور عوج کی شکست کے بعد دے دیا تھا، اور وہاں بلعام کے انجام کا ذکر بھی آتا ہے، جو اسرائیل کے ماضی کا ایک کڑوا باب تھا۔
سوال
اگر خدا نے کہا ”مَیں خود ہی اِن لوگوں کو اُن کے سامنے سے نکال دوں گا“، تو وہ نکالے کیوں نہ گئے؟ متن یہ سوال خود اُٹھاتا ہے اور جواب نہیں دیتا، صرف اتنا لکھتا ہے کہ ”یہ آج تک اسرائیلیوں کے درمیان رہتے ہیں“۔ آسان جواب یہ ہے کہ قصور انسان کا ہے، اور بڑی حد تک یہ سچ ہے۔ مگر پورا سچ نہیں، کیونکہ خدا نے بعد میں خود فرمایا کہ وہ اِن قوموں کو آزمائش کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ یہاں ہمیں ایک ایسے خدا کا سامنا ہے جو وعدہ پورا کرتے ہیں مگر ہماری رفتار سے نہیں، ہمارے نقشے کے مطابق نہیں۔ اور یہ تکلیف دہ ہے۔ جو تسلی ملتی ہے وہ وضاحت نہیں، بلکہ وہ میراث ہے جو کسی سرحد کی محتاج نہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا کون سا علاقہ ہے جس کے بارے میں آپ نے چپ چاپ طے کر لیا ہے کہ ”اب تو عمر گزر گئی“؟
اگر آج سب کچھ چھن جائے جسے آپ اپنی میراث سمجھتے ہیں، تو کیا آپ لاوی کے ساتھ کھڑے ہو کر سچ مچ کہہ سکیں گے کہ رب ہی میرا حصہ ہے؟
Joshua 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یشوع 13 کا کیا مطلب ہے؟
یشوع 13 کس بارے میں ہے؟
یشوع 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یشوع 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یشوع 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Joshua 13 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، لاویوں کو زمین کا کوئی حصہ نہ ملا، مگر تُو خود اُن کا حصہ ٹھہرا۔ مجھے بھی سکھا کہ جو کچھ میرے ہاتھ میں نہیں، اُس کا غم کم ہو، اور تیری قربت ہی میری اصل دولت بن جائے۔ جب دل خالی لگے، تو یاد دلا کہ تُو میرے پاس ہے، اور یہی کافی ہے۔
یشوع بوڑھا ہو چکا ہے، بہت سا ملک ابھی دشمنوں کے قبضے میں ہے، اور اِسی حالت میں خدا فرماتا ہے، ”اب اِس ملک کو نو قبیلوں اور منسّی کے آدھے قبیلے میں تقسیم کر دے۔“ یعنی جو ابھی ہاتھ میں نہیں آیا، اُسے بھی وراثت میں بانٹ دو۔ کیا تُو اُس وعدے پر اپنا نام لکھنے کو تیار ہے جو ابھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
