لوقا 16
متن
یسوع ایک ایسے منتظم کی کہانی سناتے ہیں جس پر بددیانتی کا الزام لگا اور جس نے برخاستگی کی خبر سنتے ہی مالک کے قرض داروں کے بِل گھٹا کر اپنے لیے آنے والے دنوں کے دوست خرید لیے۔ اِس کے بعد خداوند دولت اور اللہ کی دوہری غلامی کی ناممکنات پر بات کرتے ہیں، فریسیوں کے مذاق کا جواب دیتے ہیں، اور آخر میں ایک امیر آدمی اور اُس کے گیٹ پر پڑے ناسوروں سے بھرے لعزر کی کہانی سناتے ہیں، جن کا انجام موت کے بعد پوری طرح اُلٹ جاتا ہے۔
جان
اِس پورے باب کا مرکزی نکتہ گیارہویں اور بارہویں آیت میں چھپا ہے: دولت ہماری ہے ہی نہیں۔ یسوع اُسے ”دوسروں کی دولت“ کہتے ہیں، یعنی امانت۔ ہم مالک نہیں، منتظم ہیں، اور ہر منتظم سے ایک دن حساب مانگا جاتا ہے۔ اِسی لیے سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا ہے، بلکہ یہ کہ آپ کس کے لیے سنبھال رہے ہیں۔ تیرہویں آیت اِسے غلامی کی زبان میں کہتی ہے: دولت کوئی غیرجانبدار چیز نہیں، وہ ایک مالک ہے جو وفاداری مانگتا ہے۔ اور پندرہویں آیت کی کاٹ یہ ہے کہ انسانی نظر میں جو قابلِ قدر ہے، خدا کی نظر میں وہ مکروہ ہو سکتا ہے۔ عزت، کامیابی، محفوظ بڑھاپا: یہ سب دل کی اصل حالت چھپانے کے بہترین پردے ہیں۔
اصل دھاگا
باب کا آخری جملہ پورے انجیل کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتا ہے: ”اگر وہ موسیٰ اور نبیوں کی نہیں سنتے تو وہ اُس وقت بھی قائل نہیں ہوں گے جب کوئی مُردوں میں سے جی اُٹھ کر اُن کے پاس جائے گا“۔ لوقا یہ بات اُس وقت لکھ رہا ہے جب مسیح واقعی جی اُٹھ چکے ہیں، اور بہتیروں نے پھر بھی ایمان نہیں لایا۔ یہ جملہ تمثیل سے نکل کر قاری کے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اِسی طرح چھبیسویں آیت کی ”وسیع خلیج“، جسے کوئی پار نہیں کر سکتا، اُس ایک کی یاد دلاتی ہے جس نے اُسے پار کیا: جو امیر تھا اور ہمارے لیے کنگال بنا، جو خود گیٹ سے باہر، شہر کے باہر مرا۔ لعزر کو فرشتے اُٹھا کر لے گئے؛ مسیح کو خدا نے مُردوں میں سے اُٹھایا تاکہ خلیج پر پُل بن جائے۔
آئینہ
غور کیجیے کہ امیر آدمی پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا۔ اُس نے لعزر کو مارا نہیں، گالی نہیں دی، گیٹ سے دھکے دے کر نکلوایا نہیں۔ اُس نے بس اُسے نہیں دیکھا۔ روز اُس دروازے سے گزرتے ہوئے اُس نے ایک زندہ انسان کو منظر کا حصہ بنا لیا، جیسے دیوار یا درخت۔ اور یہی ہمارا سب سے عام گناہ ہے: بے رحمی نہیں، بے توجہی۔ وہ ہمسایہ جس کی بیماری کا سب کو علم ہے، دفتر کا وہ ساتھی جس کا گھر ٹوٹ رہا ہے، وہ رشتہ دار جس کا فون آپ اٹھاتے نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ کچھ مانگتا ہے۔ منتظم کم از کم ہوشیار تھا: اُس نے آنے والے دن کو سامنے رکھ کر آج فیصلہ کیا۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیے جو آپ کے ”گیٹ“ پر پڑا ہے، اور ابھی، اِسی وقت، اُسے ایک پیغام بھیجیے یا کچھ رقم منتقل کر دیجیے۔
سیاق
یسوع یہ باتیں اُسی مجمعے میں کہہ رہے ہیں جہاں باب پندرہ کی تین گمشدہ چیزوں کی تمثیلیں سنائی گئیں: ایک طرف محصول لینے والے، دوسری طرف فریسی جو بڑبڑا رہے تھے۔ چودھویں آیت صاف بتاتی ہے کہ وہ ”لالچی تھے“، اور اُس زمانے کی دینداری میں دولت کو اکثر خدا کی برکت کا ثبوت سمجھا جاتا تھا، اِس لیے یسوع کی بات اُن کی پوری دینی معاشیات کو اُلٹ دیتی ہے۔ ارغوانی رنگ اور نفیس کتان بادشاہوں کا لباس تھا، یعنی یہ آدمی صرف خوشحال نہیں، شاہانہ تھا۔ دوسری طرف لعزر ناپاک سمجھے جانے والے کتوں کے درمیان پڑا ہے۔ قرض داروں کے حساب، سَو کنستر تیل اور ہزار بوریاں گندم، معمولی رقمیں نہیں بلکہ کسی بڑی جائیداد کے سالانہ ٹھیکے تھے۔
کھٹکتا ہوا سوال
پچیسویں آیت کو نرم کرنا مشکل ہے: ”تجھے اپنی زندگی میں بہترین چیزیں مل چکی ہیں جبکہ لعزر کو بدترین چیزیں۔“ یہاں امیر کے کسی گناہ کا ذکر نہیں اور لعزر کے کسی ایمان کا بھی نہیں۔ کیا محض آرام سے جینا سزا کا سبب ہے، اور محض دکھ اٹھانا نجات کا؟ اگر یہ جملہ کسی نظام کا اعلان ہوتا تو انجیل کی باقی تعلیم اُسے جھٹلا دیتی۔ لیکن یسوع یہاں عقیدے کا کوئی اصول نہیں، ایک منظر دکھا رہے ہیں، اور منظر جان بوجھ کر بے رحم ہے۔ وہ اُس دینداری کا پردہ چاک کر رہے ہیں جو دولت کو خدا کی منظوری کا سرٹیفکیٹ سمجھتی ہے۔ کہانی ہمیں تسلی نہیں دیتی؛ وہ ہمیں گیٹ پر لے جا کر کھڑا کر دیتی ہے اور جواب ہمارے ہاتھ میں تھما دیتی ہے۔
بین المتون
مریم کے گیت میں وہی اُلٹ پھیر پہلے سے گونج رہی ہے: خدا بھوکوں کو اچھی چیزوں سے سیر کرتے اور دولت مندوں کو خالی لوٹا دیتے ہیں۔ لوقا اپنی انجیل کے شروع ہی میں یہ اصول رکھ دیتا ہے، اور باب سولہ اُسے کہانی کی شکل میں کھول دیتا ہے۔ دوسری گونج یوحنا کی انجیل میں ہے، جہاں ایک اور لعزر واقعی قبر سے نکلتا ہے، اور ردِعمل یہ ہوتا ہے کہ مذہبی قیادت قتل کا منصوبہ بناتی ہے۔ ابراہیم کا فیصلہ درست نکلا: جو موسیٰ اور نبیوں کی نہیں سنتے، اُنہیں مُردوں کا جی اٹھنا بھی قائل نہیں کرتا۔ معجزہ ایمان پیدا نہیں کرتا؛ سننے کے لیے تیار دل پیدا کرتا ہے۔
غور و فکر کے لیے
کیا آپ کے پیسے کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ خود کو مالک سمجھتے ہیں یا منتظم؟ پچھلے مہینے کے خرچ پر نظر ڈال کر ایمانداری سے جواب دیجیے۔
آپ کے گیٹ پر کون پڑا ہے جسے آپ نے دیکھنا بند کر دیا ہے، اور کیا چیز آپ کو اُس کی طرف قدم بڑھانے سے روک رہی ہے؟
Luke 16 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 16 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 16 کس بارے میں ہے؟
لوقا 16 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 16 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 16 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 16 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جو تھوڑے میں وفادار ہے وہ بہت میں بھی وفادار ہو گا۔“ یسوع یہ بات پیسے کی ایک کہانی کے بعد کہتے ہیں۔ یعنی وفاداری کوئی بڑے موقعے کا انتظار نہیں کرتی۔ وہ اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب آپ کسی کے دس روپے لوٹاتے ہیں، یا تنہائی میں سچ بولتے ہیں۔ شاید خدا آپ کو کچھ بڑا اِس لئے نہیں سونپ رہا کہ وہ دیکھ رہا ہے آپ چھوٹے کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
خداوند، تیرا شکر ہے کہ جب مقروض نے کہا، ”سَو مَن زیتون کا تیل“ تو اُس کا بِل کم کر دیا گیا۔ میرا قرض تُو نے آدھا نہیں بلکہ پورا کا پورا مسیح کی صلیب پر مٹا دیا۔ شکر ہے کہ تُو نے مجھے سمجھ بھی دی کہ جو کچھ میرے ہاتھ میں ہے اُسے دوسروں کی بھلائی کے لیے دانائی سے استعمال کروں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
