متی 6:34
متن
یسوع مسیح ساری بات کو ایک تیز، تقریباً بےرحم جملے میں سمیٹتے ہیں: "اِس لئے کل کے بارے میں فکر کرتے کرتے پریشان نہ ہو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں۔" یہ کوئی تسلی بھرا تکیہ کلام نہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خداوند یہ فرض ہی نہیں کرتے کہ کل آسان ہو گا؛ وہ صاف کہتے ہیں کہ کل کی اپنی مصیبتیں ہوں گی، بالکل ویسے ہی جیسے آج کی اپنی ہیں۔ ان کا حکم صرف اتنا ہے کہ تم کل کا بوجھ آج کے کندھوں پر مت لادو۔ آج کا دن اپنے حصے کی تکلیف کے ساتھ پہلے ہی بھرا ہوا ہے، اور اسی بھرے ہوئے دن میں تمہیں آسمانی باپ پر بھروسا کرنا سیکھنا ہے۔
مرکزی بات
یہ آیت وقت کے بارے میں ایک بنیادی دعویٰ کرتی ہے: کل خدا کا ہے، تمہارا نہیں۔ فکر دراصل ایک خاموش کوشش ہے کہ ہم اُس دن پر قابو پا لیں جو ابھی ہمیں دیا ہی نہیں گیا۔ ہم تصور میں کل کی بیماری، کل کے بل، کل کی گفتگو جیتے ہیں، اور اُس کے لئے وہ فضل خرچ کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں صرف آج کے لئے ملا ہے۔ آیت 33 نے ابھی کہا تھا کہ "پہلے اللہ کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش میں رہو"، اور یہ تلاش ہمیشہ آج کی تلاش ہوتی ہے: آج کی دیانت داری، آج کی معافی، آج کا سخی ہاتھ۔ اسی لئے دعا میں روٹی روزانہ مانگی جاتی ہے، ہفتے بھر کی نہیں۔ خدا اپنے آپ کو ہمیں قسطوں میں دیتا ہے تاکہ ہم اُس پر انحصار کرنا نہ بھولیں۔
سلسلۂ کلام
آسمان سے من ہر صبح نیا اترتا تھا، اور جو لوگ کل کے لئے ذخیرہ کرتے، اُن کا من سڑ جاتا۔ خدا نے اپنی قوم کو چالیس سال تک روزانہ کے انحصار کی تربیت دی، اور یسوع مسیح یہاں وہی تربیت جاری رکھتے ہیں: "ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔" یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ نجات کی پوری کہانی کا انداز ہے۔ خدا اپنے وعدے پورے کرتا ہے، مگر ہمارے وقت کے مطابق نہیں، اپنے وقت پر۔ اور مسیح خود اسی طرح جیے: گتسمنی میں انہوں نے پورے صلیبی راستے کا بوجھ ایک ساتھ نہیں اٹھایا، بلکہ اُس رات کے پیالے کے سامنے گھٹنے ٹیکے۔ جو آج کے لئے فرمانبردار رہا، اُسی نے کل کو بھی فتح کر لیا۔
آئینہ
فکر شاذ و نادر ہی خود کو فکر کہلاتی ہے۔ وہ خود کو ذمہ داری کہتی ہے، دور اندیشی کہتی ہے، اچھی ماں یا اچھا کارکن ہونا کہتی ہے۔ آپ رات کے دو بجے چھت کو گھورتے ہوئے اگلے مہینے کی تنخواہ، بیٹے کے امتحان، بیوی کی رپورٹ، یا دفتر کی اُس میٹنگ کو بار بار جیتے ہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ اور صبح آپ تھکے ہوئے اٹھتے ہیں، اُس دن کے لئے جو حقیقت میں آپ کے سامنے ہے۔ یہ آیت اِس عادت کو ذمہ داری نہیں، بلکہ بےاعتقادی کہتی ہے: ہم مستقبل کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے کر خدا کی جگہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ آج ایک کاغذ لے کر وہ ایک بات لکھیں جو آپ کو کل کے بارے میں سب سے زیادہ ستاتی ہے، اُسے بلند آواز میں پڑھ کر کہیں، "یہ کل کا بوجھ ہے، اے باپ، یہ آپ کا ہے"، اور کاغذ کو تہہ کر کے رکھ دیں۔
سوال
اگر فکر منع ہے، تو کیا منصوبہ بندی بھی گناہ ہے؟ کیا بیمہ، بچت، بچوں کی تعلیم کا انتظام سب بےایمانی ہے؟ نہیں۔ خداوند نے پرندوں کی مثال دی، اور پرندے بھی گھونسلہ بناتے ہیں۔ فرق ارادے میں ہے: منصوبہ بندی آج کا کام ہے، فکر کل کا خیالی عذاب ہے۔ لیکن یہاں سچائی کو ہلکا نہ کیجئے: مسیح یہ وعدہ نہیں کرتے کہ کل تکلیف نہیں آئے گی۔ "ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں" کا مطلب ہے کہ مصیبت آئے گی، اور کچھ لوگوں کا کل واقعی ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ آیت درد کا انکار نہیں کرتی؛ وہ صرف یہ کہتی ہے کہ درد کے دن کے ساتھ اُس دن کا فضل بھی آئے گا، پہلے نہیں۔
بین المتون
پولس رسول اِسی سانس میں لکھتے ہیں کہ کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ دعا اور منت کے ذریعے اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کرو؛ وہ فکر کا علاج خاموشی نہیں بلکہ زبان دیتا ہے، فکر کو دعا میں تبدیل کر دینا۔ اور یعقوب اُن تاجروں کو جھنجھوڑتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم کل فلاں شہر جا کر نفع کمائیں گے، حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا۔ دونوں مقامات ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں: کل ہمارے قبضے میں نہیں، اِس لئے اُسے سنبھالنے کی کوشش چھوڑ کر اُس کے حوالے کر دو جس کے ہاتھ میں وہ پہلے سے ہے۔
پس منظر
پہاڑ پر بیٹھے سننے والے زیادہ تر گلیل کے کسان، مزدور اور ماہی گیر تھے، ایسے لوگ جن کے پاس مہینے بھر کا ذخیرہ نہیں تھا۔ رومی ٹیکس، فصل کی ناکامی، بیماری: ان کے لئے "کل" کوئی فلسفیانہ خیال نہیں، بلکہ بھوک کا حقیقی امکان تھا۔ اسی لئے یسوع مسیح کا حکم اُن کے کانوں میں آسان نہیں، بلکہ تقریباً ناممکن لگا ہو گا۔ اور یہی اس کی طاقت ہے: یہ بات اطمینان سے بھرے امیروں کو نہیں، بلکہ خالی ہاتھ لوگوں کو کہی گئی، اور اُن کے سامنے کوئی ضمانت نہیں رکھی گئی سوائے ایک کے، کہ آسمانی باپ اُن کی ضروریات پہلے سے جانتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کے دن کا کتنا حصہ اُن مسئلوں پر خرچ ہوتا ہے جو ابھی وجود میں ہی نہیں آئے، اور اِس سے آج کے کن حقیقی کاموں کو نقصان پہنچ رہا ہے؟
جب آپ کہتے ہیں "مجھے فکر ہے"، تو آپ اصل میں کس چیز پر قابو رکھنا چاہتے ہیں، اور اُسے خدا کے سپرد کرنے میں سب سے زیادہ کیا چیز رکاوٹ بنتی ہے؟
Matthew 6:34 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 6:34 کا کیا مطلب ہے؟
متی 6:34 کس بارے میں ہے؟
متی 6:34 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 6:34 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 6:34 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 6 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے باپ، کل کی فکر میرے دل کو تھکا دیتی ہے۔ مجھے سکھا کہ آج کا دن تیرے ہاتھ سے لوں، بس آج کے لیے۔ جو کل آئے گا، وہ بھی تیرے سامنے ہی آئے گا۔ آج کی مشکل کے لیے آج کی طاقت دے، اور میرے بےچین دل کو تھام لے۔
جنگلی گھاس کل بھٹی میں جھونکی جائے گی، پھر بھی خدا اُسے آج شاندار لباس پہناتا ہے۔ سوچیں، اُس کی محبت اِس بات پر نہیں تُلی کہ کوئی چیز کتنی دیر ٹکے گی یا کتنی کارآمد ہے۔ وہ ایک دن کی گھاس پر بھی خرچ کرنے سے نہیں کتراتا۔ اور یسوع تجھے جھڑکتے نہیں، صرف نرمی سے کہتے ہیں، "اے کم اعتقاد لوگو۔" تیری فکر کا علاج زیادہ کوشش نہیں، اُس باپ کو غور سے دیکھنا ہے جو گھاس کو بھی نہیں بھولتا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں