لوقا 18
متن
اِس باب میں یسوع دو تمثیلیں سناتے ہیں: ایک بیوہ جو بےانصاف جج کو تنگ کر کر کے اپنا حق چھین لیتی ہے، اور ایک فریسی اور ایک ٹیکس لینے والا جو ایک ہی ہیکل میں دعا کرتے ہیں مگر گھر صرف ایک راست باز ٹھہر کر لوٹتا ہے۔ اِس کے بعد بچوں کو برکت، ایک دولت مند راہنما کا اداس چلے جانا، شاگردوں سے یروشلم میں ہونے والی اذیت اور تیسرے دن جی اُٹھنے کی خبر، اور آخر میں یریحو کے راستے پر بیٹھے ایک اندھے بھکاری کی آنکھوں کا کھل جانا۔ ساری بُنت ایک ہی سوال کے گرد گھومتی ہے: اللہ کی بادشاہی آخر کس کو ملتی ہے؟
پس منظر
تصور کیجیے: شہر کا پھاٹک، صبح کی دھوپ، تاجروں کا شور، اور ایک چبوترے پر بیٹھا جج۔ عدالتیں عمارتوں میں نہیں، پھاٹک پر لگتی تھیں، کھلے عام، گواہوں اور تماشائیوں کے سامنے۔ ایک بیوہ کے پاس نہ وکیل تھا، نہ رشوت، نہ کوئی مرد جو اُس کی طرف سے بولتا۔ اُس کا واحد ہتھیار اُس کی آواز تھی۔ جج کا یہ خوف کہ ”ایسا نہ ہو کہ آخرکار وہ آ کر میرے منہ پر تھپڑ مارے“ اصل یونانی میں مکے بازی کی اصطلاح ہے، آنکھ کے نیچے چوٹ لگانا؛ یعنی وہ اپنی ساکھ کی خاطر ڈرتا ہے، انصاف کی خاطر نہیں۔ اور یریحو؟ وہ فسح کے زائرین کی شاہراہ تھی، بھکاریوں کے لیے سال کا بہترین موسم، جہاں ایک اندھے کو خاموش کرا دینا بالکل معمول کی بات تھی۔
اصل بات
یہ تمثیل اللہ کو جج جیسا نہیں بتاتی بلکہ اُس کے بالکل اُلٹ رکھتی ہے۔ دلیل چھوٹے سے بڑے کی طرف چلتی ہے: اگر ایک بےضمیر آدمی بھی محض جان چھڑانے کو انصاف کر دیتا ہے، تو وہ باپ جو اپنے چنے ہوئے لوگوں سے محبت رکھتا ہے کیا ٹالتا رہے گا؟ دوسری تمثیل اِس سے بھی گہری کاٹ کرتی ہے۔ فریسی جھوٹ نہیں بول رہا؛ وہ واقعی روزہ رکھتا اور دسواں حصہ دیتا ہے۔ مگر اُس کی دعا شکرگزاری کے بھیس میں حساب کتاب ہے، اور اُس حساب میں خدا کے لیے کچھ کرنے کو نہیں بچتا۔ ٹیکس لینے والے کے پاس صرف ایک فقرہ ہے، ”اے خدا، مجھ گناہ گار پر رحم کر!“ اور یہی راست بازی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ بادشاہی کمائی نہیں جاتی، قبول کی جاتی ہے، بچے کی طرح، خالی ہاتھ۔
سلسلۂ کلام
پرانے عہدنامے میں بیوہ، یتیم اور پردیسی اللہ کی خاص نگرانی میں ہیں؛ شریعت میں باربار اُن کے حق میں فیصلہ کرنا رب کے کردار کی علامت ہے۔ یسوع اُسی دھارے میں بول رہے ہیں: جو خدا دن رات پکارنے والوں کی سنتا ہے، وہی دراصل یروشلم کی طرف جا رہا ہے تاکہ خود بےانصاف عدالت کے سامنے کھڑا ہو، تھوکا جائے، کوڑے کھائے اور مارا جائے۔ جب لوگ پوچھتے ہیں ”پھر کس کو نجات مل سکتی ہے؟“ تو جواب ”جو انسان کے لئے ناممکن ہے وہ اللہ کے لئے ممکن ہے“ محض ایک اصول نہیں؛ اُس کی قیمت تینتیسویں آیت میں لکھی ہے۔ اور اندھا جسے ”ابنِ داؤد“ پکارتا ہے، اُس بادشاہ کو پہچان لیتا ہے جسے آنکھوں والے نہیں پہچانتے۔
آئینہ
ہم میں سے کوئی بھی فریسی کی دعا اونچی آواز میں نہیں پڑھے گا، مگر ہم اُسے روز سوچتے ہیں۔ جب آپ کلیسیا میں بیٹھ کر اُس جوڑے کے بارے میں سوچتے ہیں جن کا نکاح ٹوٹ گیا، یا اُس رشتہ دار کے بارے میں جس کے پیسوں کا ذریعہ مشکوک ہے، اور دل میں ایک ہلکی سی راحت اُٹھتی ہے کہ شکر ہے مَیں ایسا نہیں، تو وہی دعا آپ کے اندر چل رہی ہے۔ دولت مند راہنما کا دُکھ بھی جانا پہچانا ہے: ہم ایمان میں سب کچھ دینے کو تیار ہیں سوائے اُس ایک چیز کے جس پر ہماری سلامتی ٹکی ہے۔ آج ہی اُس شخص کا نام ایک کاغذ پر لکھیے جسے آپ دل ہی دل میں حقیر جانتے ہیں، اور اُس نام کے ساتھ اپنے لیے یہ دعا بلند آواز میں کہیے: ”اے خدا، مجھ گناہ گار پر رحم کر!“
مرکزی کردار
اِس باب میں یسوع ایک ایسے آدمی ہیں جو اپنی موت کی طرف چل رہے ہیں اور راستے میں رکتے جاتے ہیں۔ شاگرد بچوں کو ہٹاتے ہیں، وہ اُنہیں بلا لیتے ہیں۔ ہجوم اندھے کو ڈانٹتا ہے، وہ کھڑے ہو کر حکم دیتے ہیں، ”اُسے میرے پاس لاؤ۔“ اور پھر وہ سوال جو اُن کے پورے کردار کا نچوڑ ہے: ”تُو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لئے کروں؟“ وہ جانتے ہیں کہ آدمی کیا چاہتا ہے، مگر وہ اُسے بولنے کا وقار دیتے ہیں۔ یہی یسوع دولت مند سے وہ بات کہتے ہیں جو اُسے دُکھ دیتی ہے، کیونکہ اُن کی محبت نرم نہیں، سچی ہے۔ وہ لوگوں کو اُن کے دروازے تک لے جاتے ہیں اور اُنہیں مجبور نہیں کرتے۔
مشکل سوال
”وہ جلدی سے اُن کا انصاف کرے گا“ اور ہمارا تجربہ آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ بہت سے لوگ برسوں، کچھ ساری عمر پکارتے رہے اور فیصلہ نہ آیا۔ یسوع اِس تضاد کو چھپاتے نہیں؛ وہ اُسی سانس میں پوچھتے ہیں، ”لیکن کیا ابنِ آدم جب دنیا میں آئے گا تو ایمان دیکھ پائے گا؟“ یہ سوال مان لیتا ہے کہ انتظار اتنا لمبا ہو گا کہ ایمان بجھنے لگے گا۔ شاید ”جلدی“ کا پیمانہ ہماری گھڑی نہیں بلکہ خدا کی عدالت کا یقینی ہونا ہے: جب وہ کھڑا ہو گا تو تاخیر ایک لمحے کی نہ ہو گی۔ یہ جواب زخم نہیں بھرتا۔ مگر بیوہ کو بھی یقین نہیں تھا، صرف ضد تھی۔ کبھی کبھی ایمان یہی ہے: پکارتے رہنا جب خاموشی ہی واحد جواب ہو۔
غور و فکر
آپ کی دعا میں وہ کون سی ایک چیز ہے جس کے لیے آپ نے پکارنا چھوڑ دیا ہے، اور کیوں؟
اگر یسوع آج آپ سے پوچھیں، ”تُو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لئے کروں؟“ تو آپ کا ایماندار جواب کیا ہو گا؟
Luke 18 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 18 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 18 کس بارے میں ہے؟
لوقا 18 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 18 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 18 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 18 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ابھی ابھی یسوع نے بچوں کو گود میں لیا اور کہا تھا کہ بادشاہی بچوں جیسوں کی ہے۔ اور فوراً ایک راہنما آ کر پوچھتا ہے، ”نیک اُستاد، مَیں کیا کروں تاکہ ابدی زندگی میراث میں پاؤں؟“ غور کرو، میراث کمائی نہیں جاتی، وہ تو رشتے کی بنا پر ملتی ہے۔ بچہ ہاتھ پھیلاتا ہے، یہ آدمی فہرست مانگتا ہے۔ تم آج کس طرح خدا کے پاس آ رہے ہو؟
اے خدا، تُو ہی اکیلا نیک ہے۔ میں اکثر اپنی نیکی گننے لگتا ہوں اور بھول جاتا ہوں کہ جو کچھ بھی مجھ میں اچھا ہے وہ تیری ہی بخشش ہے۔ مجھے عاجزی سکھا، تاکہ میں اپنی طرف نہیں بلکہ تیری طرف دیکھوں اور تیرے فضل پر بھروسا رکھوں۔
یسوع نے دعا سکھانے کے لیے سب سے بُرا نمونہ چنا: "کسی شہر میں ایک جج تھا جو نہ خدا کا خوف مانتا، نہ کسی انسان کی پروا کرتا تھا۔" ایسا آدمی جس کے دروازے پر کھڑا ہونا بےکار لگتا ہے۔ اور پھر وہ بیوہ کو سنتا ہے۔ سوچ، اگر ایسا دل بھی نرم پڑ سکتا ہے تو تیرا باپ جو تجھ سے محبت رکھتا ہے، تیری آواز کو کیسے نظرانداز کرے گا؟
وہ اندھا تھا، دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن اُس نے سنا اور فوراً پکار اُٹھا، ”عیسیٰ ابنِ داؤد، مجھ پر رحم کریں!“ بھیڑ میں سب کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر پہچانا اُس نے جو دیکھ نہ سکتا تھا۔ اور غور کریں، بھکاری ہوتے ہوئے بھی اُس نے پیسے نہیں مانگے، رحم مانگا۔ آپ آج یسوع سے کیا مانگ رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ چھوٹی چیز پر اکتفا کر رہے ہیں؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
