حبقوق 2
متن
حبقوق اپنی شکایت ہوا میں چھوڑ کر خاموش نہیں بیٹھتا؛ وہ بُرجی پر چڑھ جاتا ہے، قلعے کی اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر چاروں طرف دیکھتا رہتا ہے، کیونکہ وہ جاننا چاہتا ہے کہ اللہ اُس کے اعتراض کا کیا جواب دے گا۔ جواب آتا ہے: رویا کو تختوں پر اِتنا صاف لکھ دے کہ ہر گزرنے والا اُسے روانی سے پڑھ سکے؛ وقت مقرر ہے، دیر لگے تو صبر کر؛ مغرور اندر سے ٹیڑھا ہے، مگر ”راست باز ایمان ہی سے جیتا رہے گا“۔ پھر پانچ ”افسوس“ ظالم سلطنت کے سر پر گرتے ہیں، اور باب اِس اعلان پر ختم ہوتا ہے کہ رب اپنے مقدّس گھر میں موجود ہیں اور پوری دنیا اُن کے حضور خاموش رہے۔
مرکزی بات
غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا نہیں کیا۔ اُنہوں نے حبقوق کے سوال کا فلسفیانہ جواب نہیں دیا، ظلم کی وجہ نہیں سمجھائی، بابل کی کامیابی کا جواز پیش نہیں کیا۔ اُنہوں نے دو چیزیں دیں: ایک تحریر اور ایک طریقۂ زندگی۔ تحریر یہ ہے کہ مقررہ وقت ہے اور وہ جھوٹا ثابت نہ ہو گا؛ طریقۂ زندگی یہ ہے کہ ”راست باز ایمان ہی سے جیتا رہے گا“۔ عبرانی لفظ اِیمونا کا مطلب صرف عقیدہ ماننا نہیں، بلکہ وفاداری سے جمے رہنا ہے، جیسے رسّی تنی رہتی ہے۔ یعنی راست باز اُس وقت بھی خدا سے چمٹا رہتا ہے جب حساب برابر نہیں ہوتا۔ یہ سستی تسلی نہیں؛ یہ اُس خلا میں رہنے کا ہنر ہے جو وعدے اور اُس کی تکمیل کے درمیان پڑا ہے۔
سنہری تار
یہی ایک فقرہ صدیوں بعد پولس رسول کے ہاتھ میں آیا اور رومیوں ۱:۱۷ کی بنیاد بن گیا: راست بازی ایمان سے ہے۔ پولس نے اِسے سیاق سے کاٹا نہیں؛ اُنہوں نے وہی منطق آگے بڑھائی۔ اگر انسان کی بقا اُس کے ہاتھوں کے زور پر نہیں بلکہ خدا کے وعدے پر بھروسے سے ہے، تو نجات بھی اُسی اصول پر ملے گی۔ اور عبرانیوں ۱۰ میں آیت ۳ کا ”آنے والا پہنچے گا، وہ دیر نہیں کرے گا“ سیدھا مسیح کی دوسری آمد پر لگایا گیا ہے۔ آیت ۱۴ اِس تار کو پورا کرتی ہے: ”جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے، اُسی طرح دنیا ایک دن رب کے جلال کے عرفان سے بھر جائے گی“۔ بابل کی اینٹیں نہیں، یہی آخری منظر ہے۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں وہ احساس کیسا ہوتا ہے جب دفتر میں ترقی اُس شخص کو ملتی ہے جس نے جھوٹ بولا، جب رشتہ دار نے جائیداد کا وہ حصہ ہڑپ کر لیا جو والدین نے آپ کے لیے رکھا تھا، جب بددیانت ٹھیکیدار کا گھر بلندی پر بنتا ہے اور آپ کا کرایہ بڑھتا جاتا ہے۔ حبقوق نے بھی یہی گنا تھا۔ اور آیت ۹ کی چبھن یہ ہے کہ ظالم نے ”آفت سے بچنے کے لئے اپنا گھونسلا بلندیوں پر“ بنایا؛ وہ بھی ڈرتا ہے، صرف اپنے بندوبست پر بھروسا کرتا ہے۔ آپ کا بندوبست کیا ہے؟ آج ایک کاغذ لیں اور ایک جملے میں لکھیں کہ آپ خدا سے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، نیچے تاریخ ڈالیں، اور اُسے وہاں رکھیں جہاں روز نظر پڑے۔ ”اُسے تختوں پر یوں لکھ دے“ ایک حکم ہے، صرف شاعری نہیں۔
سوال
”وہ دیر نہیں کرے گا“ کہنے والے خدا نے بہت دیر کی ہے، اور یہ ماننا ایمانداری ہے۔ بابل ستر سال بعد گرا؛ جن دیہات اور شہروں پر ”اُن کے باشندوں سمیت شدید ظلم“ ہوا، اُن کے مرنے والے اِس انصاف کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ تھے۔ حبقوق نے خود غالباً کچھ نہ دیکھا۔ تو ”دیر نہیں کرے گا“ کا مطلب یہ نہیں کہ انتظار مختصر ہو گا، بلکہ یہ کہ وقت مقرر ہے اور وہ مقررہ وقت سے پیچھے نہ ہٹے گا۔ یہ فرق چھوٹا لگتا ہے مگر زندگی بھر کا بوجھ اُٹھاتا ہے۔ متن ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ خدا اِس قدر صبر سے کیوں چلتے ہیں۔ وہ ہمیں آیت ۲۰ پر چھوڑ دیتا ہے: ہمارے پاس وضاحت نہیں، حضوری ہے، اور حضوری کے سامنے خاموشی۔
مرکزی کردار
یہاں بولنے والے خدا ہیں، اور اُن کا لہجہ قابلِ غور ہے۔ وہ شکایت پر ناراض نہیں ہوتے؛ وہ بُرجی پر کھڑے آدمی کو جواب دیتے ہیں۔ پھر اُن کی آواز بدل جاتی ہے اور وہ مظلوم قوموں کا ماتمی گیت اپنے منہ میں لے لیتے ہیں: ”اُس پر افسوس جو دوسروں کی چیزیں چھین کر اپنی ملکیت میں اضافہ کرتا ہے“۔ خدا ظلم کو اعداد و شمار کی طرح نہیں، زخم کی طرح جانتے ہیں؛ اُن کے نزدیک دیواروں کے پتھر تک چیخ کر التجا کرتے ہیں۔ اور پھر وہ مغرور کو اُسی پیالے سے پلاتے ہیں جو اُس نے دوسروں کو پلایا تھا۔ یہ انتقام کی بے ترتیبی نہیں، بلکہ عدل کی وہ ترتیب ہے جس میں ہر کارروائی اپنے کرنے والے کی طرف لوٹتی ہے۔ آخر میں وہ خاموش ہو جاتے ہیں، مگر غیر حاضر نہیں: ”رب اپنے مُقدّس گھر میں موجود ہے“۔
پس منظر
ساتویں صدی قبلِ مسیح کا آخری حصہ۔ نینوہ گر چکا ہے، اور بابل تیزی سے اُٹھ رہا ہے؛ کرکِمیس کی جنگ کے بعد یہوداہ خراج دینے والی چھوٹی ریاست بن گیا ہے، جہاں بادشاہ تخت پر بیٹھتے اور ہٹائے جاتے ہیں۔ بابل کے شاہی محلے مفتوح قوموں کی مزدوری اور لبنان کے دیودار سے بن رہے ہیں؛ آیت ۱۷ کا ”جو ظلم تُو نے لبنان پر کیا“ اِسی لوٹ مار کی طرف اشارہ ہے۔ بُرجی اور پہرا جنگی زبان ہے: شہر کی دیوار پر پہرے دار دشمن یا قاصد کو دیکھتا تھا۔ اور ”تختوں پر لکھ دے“ کا مطلب سرکاری اعلان ہے، جیسے چوک میں لگایا جائے۔ سونے چاندی سے مڑھے بابلی بُت شان کا نشان تھے؛ حبقوق اُن کی طرف اشارہ کر کے ایک ہی سوال کرتا ہے: ”بُت کا کیا فائدہ؟“
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”مقررہ وقت“ ہے جس کا انتظار اِتنا طویل ہو گیا ہے کہ آپ نے چپکے سے اُس پر بھروسا کرنا چھوڑ دیا ہے؟
اگر آج کوئی آپ کے خرچ، وقت اور محنت کا حساب دیکھے، تو کیا وہ کہے گا کہ آپ اپنے بنائے ہوئے ”گھونسلے“ پر بھروسا رکھتے ہیں یا اُس خدا پر جو اپنے مقدّس گھر میں موجود ہیں؟
Habakkuk 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حبقوق 2 کا کیا مطلب ہے؟
حبقوق 2 کس بارے میں ہے؟
حبقوق 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حبقوق 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حبقوق 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Habakkuk 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، میں اکثر ایسی چیزوں سے اُمید لگا لیتا ہوں جن میں نہ جان ہے نہ آواز۔ وہ مجھے کچھ نہیں سکھا سکتیں۔ تُو ہی زندہ ہے، تُو ہی بولتا ہے۔ میرا دل اُن بےجان سہاروں سے ہٹا کر اپنی طرف موڑ لے، تاکہ میں تیری آواز سنوں اور تجھ پر بھروسا رکھوں۔
خداوند، تُو خاموش نہیں رہتا جب زمین پر ظلم ہوتا ہے اور بے قصور خون بہایا جاتا ہے۔ ہمیں معاف کر جہاں ہم نے اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو اور تیری بنائی ہوئی دنیا کو نقصان پہنچایا۔ ہمارے دل نرم کر، اور ہمیں انصاف اور رحم کے ساتھ جینا سکھا۔
بُت کا کیا فائدہ؟ آخر اِنسان نے ہی اُسے تراشا ہے۔“ حبقوق ایک عجیب بات کی طرف اشارہ کرتا ہے: آدمی اپنے ہاتھ سے کچھ بناتا ہے، پھر اُسی کے سامنے جھک جاتا ہے اور اُس سے مدد مانگتا ہے۔ آج بُت لکڑی کے نہیں رہے۔ وہ بینک بیلنس ہے، عہدہ ہے، وہ منصوبہ ہے جو تُو نے خود کھڑا کیا۔ ذرا سوچ، جس چیز پر تُو بھروسا رکھتا ہے، کیا وہ مشکل کے دن تجھ سے بول بھی سکے گی؟
حبقوق نے شکایت کی، سوال اُٹھائے، اور پھر برج پر چڑھ کر انتظار کیا۔ اللہ نے جواب دیا تو پہلا حکم یہ تھا: ”جو کچھ تُو نے دیکھا ہے اُسے لکھ لے۔“ کیوں؟ کیونکہ جواب اُس وقت پورا نہیں ہونا تھا۔ لکھی ہوئی بات انتظار کے دنوں میں ہاتھ میں رہتی ہے۔ تُو نے بھی کبھی خدا کی آواز سنی تھی۔ کیا تُو نے اُسے لکھا؟ یا بھول گیا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
