لوقا 20
متن
فسح سے کچھ دن پہلے، بیت المُقدّس کے صحن میں، عیسیٰ تعلیم دے رہے ہیں اور شہر کے سب سے بااثر لوگ باری باری اُن کا امتحان لینے آتے ہیں: کس اختیار سے؟ ٹیکس جائز ہے یا نہیں؟ قیامت کے دن سات بھائیوں کی بیوہ کس کی ہو گی؟ ہر بار عیسیٰ سوال کو اُلٹ کر پوچھنے والے کے دل پر رکھ دیتے ہیں، درمیان میں انگور کے باغ کی وہ تمثیل سناتے ہیں جس میں مالک کا پیارا بیٹا قتل ہوتا ہے، اور آخر میں اپنے شاگردوں کو خبردار کرتے ہیں کہ شاندار چوغوں اور لمبی دعاؤں کے پیچھے بیواؤں کے گھر ہڑپ کیے جاتے ہیں۔
پس منظر
تصور کریں: فسح کا ہفتہ، شہر میں یاتریوں کا سیلاب، قربانی کے جانوروں کی بو، خون اور دھوئیں کی مہک، اور عین بیت المُقدّس کے شمال میں قلعۂ انطونیہ سے رومی فوجی نیچے ہجوم کو گھورتے ہوئے۔ صحن میں کھڑا ایک گلیل کا معلّم اُس جگہ تعلیم دے رہا ہے جو راہنما اماموں کی جائیداد سمجھی جاتی تھی۔ صدوقی اُس نظام کے مالک تھے، اُن کی دولت اور رومی حکومت سے سمجھوتہ اِسی ہیکل سے جُڑا تھا۔ اِسی لیے سوال معصوم نہیں: ”آپ یہ کس اختیار سے کر رہے ہیں؟“ یہ علمی بحث نہیں بلکہ علاقے کی حد بندی ہے۔ اور وہ عوام سے ڈرتے تھے، کیونکہ ہجوم میں چنگاری بھڑکنے کو تیار تھی۔
مرکزی بات
مالک باغ لگاتا ہے، پھر ”بہت دیر کے لئے“ چلا جاتا ہے۔ یہی خدا کی خاموشی ہے جسے ہر نسل محسوس کرتی ہے، اور یہی مزارعوں کی غلط فہمی کی جڑ ہے: غیر حاضری کو وہ لاوارثی سمجھ لیتے ہیں۔ تمثیل کا سب سے حیران کن جملہ مالک کی زبان پر ہے: ”شاید وہ اُس کا لحاظ کریں۔“ یہ صبر ہے جو حد سے آگے جاتا ہے، اور اِسی لیے اِس کا انکار اِتنا سنگین ہے۔ خدا کا غضب یہاں مزاج کی بھڑک نہیں بلکہ اُس محبت کا انصاف ہے جسے مسلسل ٹھکرایا گیا۔ ذمہ داری اٹھا لی جاتی ہے، باغ نہیں مٹایا جاتا: ”باغ کو دوسروں کے سپرد کر دے گا۔“
وہ ایک دھاگا
اسرائیل کے لیے انگور کا باغ گھِسا پٹا استعارہ تھا؛ نبیوں نے بار بار یہی تصویر استعمال کی، اور سننے والے فوراً سمجھ گئے، اِسی لیے وہ چیخ اُٹھے، ”خدا ایسا کبھی نہ کرے۔“ لیکن عیسیٰ تمثیل کو ایک قدم آگے لے جاتے ہیں: بھیجے جانے والوں کی فہرست میں آخری نام نوکر کا نہیں، بیٹے کا ہے، اور اُسے ”باغ سے باہر پھینک کر قتل کیا“ جاتا ہے، بالکل ویسے جیسے چند دن بعد شہر کی دیوار سے باہر ہوا۔ پھر وہ زبور کا وہ پتھر سامنے رکھتے ہیں جو رد ہوا مگر ”کونے کا بنیادی پتھر بن گیا“۔ صلیب منصوبے کی ناکامی نہیں؛ ٹھکرایا گیا بیٹا ہی نئی عمارت کی بنیاد ہے۔
آئینہ
جاسوسوں کی تعریف پڑھیں: ”آپ جانب دار نہیں ہوتے“۔ سچ ہے، اور بےایمانی سے کہا گیا۔ ہم بھی یہ کرتے ہیں: سچی بات کو ہتھیار بنا کر کسی کو پھنسانا، کمیٹی میں نرم لہجے سے سوال کرنا جس کا اصل مقصد کسی کو گرانا ہے، دعا میں وہ الفاظ چننا جو آس پاس بیٹھے لوگ سنیں۔ اور وہ آخری جملہ نہ چھوڑیں: بیواؤں کے گھر ہڑپ کرنا اور ساتھ ساتھ لمبی دعائیں مانگنا۔ اِن دونوں میں تعلق ہے۔ مذہبی وقار کمزور پر خرچ ہونے والے حساب کو ڈھانپ دیتا ہے۔ اپنی بہی کھاتہ، اپنے ملازم، اپنے رشتہ دار کی وراثت کو ایک بار پھر دیکھیں: کیا وہاں بھی چوغہ لمبا اور انصاف چھوٹا ہے؟
کلام کی گونج
عیسیٰ صدوقیوں کو قیامت کا ثبوت کسی نبی سے نہیں بلکہ خروج کی جھاڑی سے دیتے ہیں، کیونکہ صدوقی توریت ہی کو حتمی مانتے تھے: ”ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا“۔ دلیل نام میں ہے، عہد میں: جس سے خدا نے عہد باندھا، اُسے موت میں چھوڑ دینا خدا کے اپنے نام کی نفی ہو گا۔ ”اُس کے نزدیک یہ سب زندہ ہیں۔“ دوسری گونج زبور ۱۱۰ کی ہے، جسے عیسیٰ داؤد کے سوال میں بدل دیتے ہیں: ”داؤد تو خود مسیح کو رب کہتا ہے۔“ مسیح داؤد کی نسل سے ہے مگر داؤد سے بڑا ہے؛ نسب نامہ اُس کی شناخت بیان کرنے کے لیے کافی نہیں۔
مشکل سوال
”وہ وہاں جا کر مزارعوں کو ہلاک کرے گا۔“ عیسیٰ خود یہ کہتے ہیں، اور ہجوم کی سِسکی جائز ہے۔ ہم اِسے نرم کرنا چاہتے ہیں، مگر تمثیل نرم نہیں۔ چند دہائیوں بعد بیت المُقدّس واقعی جل کر خاک ہوا، اور سننے والوں میں سے کئی اُس آگ کو دیکھنے کے لیے زندہ تھے۔ سوال یہ ہے: وہی مالک جو اپنا پیارا بیٹا خالی ہاتھ بھیجتا ہے، وہی حساب بھی لیتا ہے؟ ہاں۔ اور یہی رحم کا بھاری وزن ہے، کیونکہ جو محبت بےاثر رہ جاتی ہے وہ محبت نہیں، بےپروائی ہے۔ آیت ۱۸ کا پتھر دو ممکنہ انجام دیتا ہے، مگر تیسرا انجام بھی موجود ہے: اُس پتھر پر تعمیر ہونا۔ تمثیل یہ نہیں کہتی؛ صلیب کہتی ہے۔
غور و فکر
جس بات کو آپ ”خدا کی خاموشی“ کہتے ہیں، کہیں وہ اُس کا صبر تو نہیں، اور کیا آپ اُس صبر کو غیر حاضری سمجھ کر جی رہے ہیں؟
آپ کی زندگی میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں مذہبی وقار کسی کمزور کے ساتھ کیے گئے ناانصاف حساب کو ڈھانپ رہا ہے؟
Luke 20 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 20 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 20 کس بارے میں ہے؟
لوقا 20 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 20 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 20 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 20 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
صدوقی ایک عورت اور سات شوہروں کی پہیلی لے کر آئے، جیسے ابدیت کوئی حساب کتاب ہو۔ یسوع نے کہا: ”لیکن جنہیں اللہ آنے والے زمانے میں شریک ہونے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے لائق سمجھتا ہے وہ اُس وقت نہ شادی کریں گے، نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی۔“ غور کریں، لائق ٹھہرانا خدا کا کام ہے، آپ کی کارکردگی کا نہیں۔ آنے والی زندگی اِس زندگی کی نقل نہیں، کچھ اَور ہی ہے۔ کیا آپ اُس پر بھروسا کر سکتے ہیں جسے آپ نے ابھی دیکھا نہیں؟
صدوقی قیامت کا مذاق اُڑانے آئے تھے، اور عیسیٰ نے جواب میں ایک نیا نام دے دیا: "قیامت کے فرزند"۔ سوچیں، آپ کی اصل پہچان قبر سے نہیں بلکہ جی اُٹھنے سے بنتی ہے۔ "وہ مر بھی نہیں سکتے۔" جس رشتے کو موت توڑ نہیں سکتی، کیا وہ آج آپ کے دل کا ڈر بھی نرم نہیں کر سکتا؟
وہ تیسرا نوکر جسے مالک نے بھیجا، اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا۔ زخمی کر کے باہر پھینک دیا گیا۔ یسوع یہ تمثیل اُن مذہبی پیشواؤں کے سامنے سنا رہے تھے جو خدا کے نبیوں کو ایک کے بعد ایک ٹھکراتے آئے تھے۔
سوچنے کی بات یہ ہے، خدا کتنا صبور ہے۔ ایک بھیجا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ ہر بار رد ہونے کے باوجود وہ ہاتھ بڑھاتا رہا۔ آج بھی وہ آپ کے دل کے دروازے پر اُتنی ہی نرمی سے دستک دے رہا ہے۔ کیا آپ نے پچھلی آواز سنی تھی؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
