لوقا 24:6
متن
قبر کے اندھیرے میں، مسالوں کی خوشبو کے ساتھ کھڑی اُن عورتوں کو ایک ہی جملے میں سب کچھ بدل دینے والی خبر ملتی ہے: ”وہ یہاں نہیں ہے، وہ تو جی اُٹھا ہے۔“ لاش نہ ملنے کی اُلجھن کا جواب کوئی تسلی نہیں بلکہ ایک اعلان ہے، اور اُس اعلان کے فوراً بعد ایک حکم آتا ہے جو عجیب لگتا ہے: ”وہ بات یاد کرو جو اُس نے تم سے اُس وقت کہی جب وہ گلیل میں تھا۔“ یعنی خالی قبر کے سامنے اُنہیں نئی وحی نہیں دی جاتی، اُنہیں پرانی بات کی طرف واپس بھیجا جاتا ہے، اُس آواز کی طرف جو گلیل کی گرد بھری سڑکوں پر اُن کے کانوں میں پڑ چکی تھی مگر دل میں نہیں اُتری تھی۔
مرکزی بات
یہاں دو باتیں ایک ساتھ کہی جا رہی ہیں، اور دونوں ہی ہمارے مذہبی مزاج کو کاٹتی ہیں۔ پہلی: قیامت کوئی اندرونی احساس یا اُمید کی علامت نہیں، بلکہ ایک جگہ کا خالی ہونا ہے۔ ”وہ یہاں نہیں ہے“ ایک جغرافیائی بیان ہے، پتھر، کفن اور خالی طاق کے بارے میں۔ خدا نے موت کو سمجھایا نہیں، توڑا ہے۔ دوسری بات اِس سے بھی زیادہ چبھتی ہے: یاد کرو۔ اللہ تعالیٰ اُن عورتوں کے خوف کا علاج ایک نئے تجربے سے نہیں بلکہ ایک پرانے کلام سے کرتے ہیں۔ ایمان یہاں کسی خالی جگہ کو حیرت سے بھرنا نہیں، بلکہ خالی جگہ کو اُس وعدے کی روشنی میں پڑھنا ہے جو پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ خالی قبر گواہی دیتی ہے، مگر معنی مسیح کے اپنے الفاظ سے آتا ہے۔
سلسلۂ کلام
فرشتوں کا حکم ”یاد کرو“ اتفاقی نہیں۔ اسرائیل کا پورا ایمان یادداشت پر کھڑا ہے: مصر سے نکلنے کی رات کو یاد کرو، اُس ہاتھ کو یاد کرو جس نے سمندر چیرا۔ عید فسح، جو اُنہی دنوں منائی گئی تھی، سراسر ایک یادداشت کی رسم ہے۔ اب اُسی شہر میں، اُسی عید کے دوران، ایک نئی رہائی کا اعلان ہوتا ہے اور اُس کی سند بھی وہی پرانی ہے: پہلے سے کہا گیا کلام۔ اِسی لیے چند گھنٹے بعد یسوع خود اماؤس کی سڑک پر ”موسیٰ اور تمام نبیوں سے شروع کر کے“ صحیفوں کی تشریح فرماتے ہیں۔ خالی قبر کوئی اچانک حادثہ نہیں جو تاریخ میں گر پڑا ہو؛ یہ اُس وعدے کی سب سے آخری کڑی ہے جو گلیل میں، اور اُس سے بھی صدیوں پہلے نبیوں کے صحیفوں میں، بولا جا چکا تھا۔
آئینہ
ہم اکثر خدا سے وہ مانگتے ہیں جو وہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ نوکری چھن جانے کے بعد، رپورٹ کے نتیجے کے انتظار میں، بچے کی ضد اور خاموشی کے درمیان، ہم کسی نئی نشانی کے منتظر رہتے ہیں: کوئی خواب، کوئی آواز، کوئی اتفاق جو ثابت کرے کہ خدا موجود ہیں۔ اور فرشتہ کہتا ہے: تمہارے پاس پہلے سے ایک بات موجود ہے، تم اُسے بھول گئے ہو۔ یہ بھولنا سستی نہیں، یہ غم کا اثر ہے؛ اُن عورتوں کے ہاتھ میں مسالے تھے، اُن کے ذہن میں دفن کا انتظام تھا، اور اُس رَش میں مسیح کا اپنا وعدہ دب چکا تھا۔ ہمارا حال بھی یہی ہے: مصروفیت اور مایوسی مل کر یادداشت کو کھا جاتی ہیں۔ آج ہی، دس منٹ نکال کر ایک کاغذ پر خداوند کی وہ ایک بات لکھیے جو کبھی آپ کے دل پر لگی تھی اور اب یاد نہیں رہی، اور اُسے بلند آواز میں ایک بار پڑھ لیجیے۔
مشکل سوال
اگر یسوع نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ تیسرے دن جی اُٹھیں گے، تو یہ عورتیں مسالے کیوں لے کر گئیں؟ اور شاگردوں کو یہ خبر ”بےتُکی سی“ کیوں لگی؟ سیدھا جواب یہ ہے کہ سننا اور یقین کرنا ایک چیز نہیں۔ مگر اِس سے زیادہ بےچین کرنے والی بات یہ ہے کہ خدا نے اُن کی اِس ناکامی کو روکا نہیں۔ وہ اُنہیں مکمل ایمان کے ساتھ قبر پر نہیں بھیجتے؛ وہ اُنہیں اُلجھن، دہشت اور غلط توقع کے ساتھ جانے دیتے ہیں، اور پھر وہاں ملتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایمان ہمیں صدمے سے بچا لے۔ متن یہ وعدہ نہیں کرتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ صدمے کے بیچ میں بھی وہ کلام، جو بھلا دیا گیا تھا، اپنی جگہ سلامت کھڑا رہتا ہے اور وقت پر واپس آ جاتا ہے۔
پہلے سننے والے
لوقا نے یہ انجیل ایسے لوگوں کے لیے لکھی جو خود قبر پر نہیں گئے تھے، اکثر غیریہودی، رومی دنیا کے شہری، جن کے لیے مُردوں کا جسمانی طور پر جی اُٹھنا فلسفیانہ طور پر مضحکہ خیز تھا۔ اُن کے کانوں میں سب سے زیادہ کھٹکنے والی بات یہ تھی کہ سب سے پہلی گواہ عورتیں ہیں۔ اُس زمانے کی عدالتوں میں عورت کی گواہی کا وزن نہ ہونے کے برابر تھا۔ کوئی جھوٹی کہانی گھڑنے والا اپنے سب سے اہم لمحے کے لیے ایسے گواہ کبھی نہ چنتا۔ اور یہ بات خود متن مانتا ہے: رسولوں کو یہ باتیں ”بےتُکی سی“ لگیں۔ پہلے سامعین نے یہاں ایک بےساختہ سچائی سنی، ایسی جو اپنی شرمندگی خود بیان کرتی ہے۔
پس منظر
اتوار کی صبح، سبت ختم ہونے کے بعد پہلا موقع کہ لاش کی خدمت کی جا سکے۔ یروشلم عید کے ہجوم سے بھرا ہوا، رومی فوج چوکس، اور تین دن پہلے شہر کے باہر ایک سیاسی سزائے موت دی جا چکی ہے، ایسی موت جو غلاموں اور باغیوں کے لیے مخصوص تھی اور جس کا مقصد ہی بےعزت کرنا تھا۔ اُس مصلوب کے پیروکار ہونا خطرناک بھی تھا اور شرمناک بھی۔ عورتیں اندھیرے منہ نکلتی ہیں، مسالے اُٹھائے، کیونکہ یہی وہ آخری خدمت تھی جو محبت کر سکتی تھی۔ اور ”گلیل“ کا ذکر اِس منظر میں طنز کی طرح گونجتا ہے: وہ دُور دراز، حقیر سمجھا جانے والا علاقہ جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا۔ یروشلم کے طاقتوروں نے فیصلہ سنایا؛ مگر آخری بات گلیل میں کہی گئی تھی، اور وہی سچ نکلی۔
غور و فکر
خداوند کی کون سی بات آپ نے سنی تو تھی مگر اپنے غم یا مصروفیت کے نیچے دفن کر دی؟
آپ اِس وقت کہاں ”زندہ کو مُردوں میں“ ڈھونڈ رہے ہیں، یعنی کس ختم شدہ چیز سے زندگی کی توقع لگائے بیٹھے ہیں؟
Luke 24:6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 24:6 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 24:6 کس بارے میں ہے؟
لوقا 24:6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 24:6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 24:6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 24 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ جب وہ دو شاگرد اُداس دل کے ساتھ راستے میں بحث کر رہے تھے تو تُو خود قریب آ کر اُن کے ساتھ چلنے لگا۔ میرے اُلجھے سوالوں اور بےچین دنوں میں بھی تُو دُور کھڑا نہیں رہتا بلکہ ساتھ ساتھ قدم اُٹھاتا ہے۔ اِس قربت کے لیے تیرا شکر۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں