بائبل کی تشریح

یوحنا 11:25

بائبل

متن

مرتھا اپنے بھائی کی قبر سے چار دن کے فاصلے پر کھڑی ہے اور اُس کے پاس ایک درست عقیدہ موجود ہے: ”مجھے معلوم ہے کہ وہ قیامت کے دن جی اُٹھے گا، جب سب جی اُٹھیں گے۔“ یہ جواب غلط نہیں، مگر بہت دُور ہے، کسی آنے والے دن میں محفوظ رکھا ہوا۔ خداوند یسوع اُس کی توجہ اُس دُور دراز تاریخ سے ہٹا کر اپنی ذات پر لے آتے ہیں: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان رکھے وہ زندہ رہے گا، چاہے وہ مر بھی جائے۔“ یعنی جس چیز کا مرتھا آخری دن تک انتظار کر رہی ہے، وہ اِس وقت اُس کے سامنے کھڑی ہے، مٹی بھرے راستے پر، ایک انسان کی شکل میں، اُس سے بات کرتی ہوئی۔

مرکزی بات

یہ فقرہ قیامت کو ایک نظریے سے نکال کر ایک رشتے میں بدل دیتا ہے۔ مرتھا کے لیے زندگی بعد از موت ایک ایسا وعدہ تھا جسے کیلنڈر کے آخری خانے میں رکھا جا سکے، اور ایسے وعدے ہمارے آج پر بہت کم دباؤ ڈالتے ہیں۔ لیکن اگر قیامت کوئی واقعہ نہیں بلکہ ایک شخص ہے، تو پھر اُس کے ساتھ میرا آج کا تعلق ہی طے کرتا ہے کہ موت میرے اوپر کتنا اختیار رکھتی ہے۔ خداوند یہ نہیں فرماتے کہ ایمان رکھنے والا مرے گا نہیں؛ وہ صاف کہتے ہیں ”چاہے وہ مر بھی جائے۔“ جنازے ہوں گے، جسم ٹوٹے گا، قبر کھودی جائے گی۔ مگر موت اب آخری لفظ نہیں، صرف ایک وقفہ ہے۔ اور جو شخص یہ مان لے، وہ زندگی کو مٹھی میں بھینچ کر پکڑنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اُسے پکڑنے والا کوئی اَور ہے۔

سلسلۂ نجات میں اِس کا مقام

پرانے عہدنامے میں زندگی ہمیشہ خدا کی اپنی ملکیت رہی ہے، اُدھار دی ہوئی سانس، جسے وہ جب چاہیں واپس لے لیں۔ اسرائیل نے صدیوں تک قبر کو ایک بند دروازہ سمجھا اور صرف دھیرے دھیرے نبیوں کے ذریعے یہ اُمید پکی ہوئی کہ خدا مُردوں کو کھڑا کریں گے۔ مرتھا اُسی اُمید کی وارث ہے۔ لیکن یوحنا کی پوری کتاب ایک ہی نکتے کی طرف بڑھ رہی ہے: جو کچھ خدا کرتے ہیں، وہ اب اِس ایک شخص میں مجسم ہو کر آ گیا ہے۔ اِس لیے یہ آیت لعزر کے معجزے کی محض تمہید نہیں، بلکہ ایسٹر کی پیشگی جھلک ہے۔ لعزر پھر مرے گا؛ خداوند یسوع نہیں مریں گے۔ قبر سے نکلتا ہوا لعزر، پٹیوں میں بندھا ہوا، اُس صبح کی طرف اشارہ ہے جب کفن قبر میں پڑا رہ جائے گا اور اُٹھنے والا واپس نہیں لَوٹے گا۔

آئینہ

اگر قیامت ایک شخص ہے جو آج زندہ ہے، تو آپ کے فیصلوں کا حساب بدل جاتا ہے۔ وہ نوکری جسے آپ صرف اِس لیے پکڑے ہوئے ہیں کہ چھوڑنے میں غیرمحفوظ ہونے کا ڈر ہے؛ وہ پیسہ جو آپ اِس لیے جمع کر رہے ہیں کہ بڑھاپا خوفناک لگتا ہے؛ وہ رنجش جسے آپ نے یہ سوچ کر پالا ہے کہ معافی مانگنے کا وقت ابھی بہت ہے۔ یہ آیت اُس سب پر ہاتھ رکھتی ہے۔ جو یقین رکھتا ہے کہ موت آخری لفظ نہیں، وہ اپنی عزت، اپنی صحت اور اپنے وقت کو اِتنی سختی سے نہیں بھینچتا۔ اور ساتھ ہی یہ آیت آپ کو جھوٹی تسلی سے بھی روکتی ہے: آپ کا جسم واقعی ٹوٹے گا۔ آج ہی، دس منٹ نکال کر اُس شخص کو فون کریں جس سے آپ نے یہ سوچ کر بات ٹال رکھی ہے کہ ”کبھی موقع مل ہی جائے گا“، اور وہ ایک جملہ کہہ دیں جو آپ اُس کے جنازے پر کہنا چاہیں گے۔

ایک باریک نکتہ

اُردو ترجمے میں لفظوں کی ترتیب پر غور کریں: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔“ زور ”مَیں“ پر ہے۔ مرتھا نے ایک تاریخ کا نام لیا تھا، خداوند نے اپنا نام لیا۔ اور یہ بات کہاں کہی جا رہی ہے؟ گاؤں کے باہر، کھلے راستے پر، ایک ایسی عورت سے جس کے کپڑوں سے ابھی ماتم کی بو آ رہی ہے اور جس کا بھائی چار دن سے قبر میں ہے۔ ایسے لمحے میں یہ دعویٰ یا تو ناقابلِ برداشت بےحسی ہے یا سچ۔ درمیانی راستہ کوئی نہیں۔ اِسی لیے اگلی سانس میں سوال آتا ہے: ”مرتھا، کیا تجھے اِس بات کا یقین ہے؟“ یہ آیت معلومات دے کر ختم نہیں ہوتی، وہ آپ سے جواب مانگتی ہے، اور وہ بھی نام لے کر۔

دوسرے مقامات کی گونج

یوحنا کے پانچویں باب میں خداوند یسوع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ وقت آ رہا ہے جب مُردے اُن کی آواز سنیں گے اور نکل آئیں گے؛ یہاں وہ اُس اعلان کو اُسی طرح عملی کر دکھاتے ہیں، ”لعزر، نکل آ!“ کہہ کر۔ لفظ سے حقیقت تک کا فاصلہ اُن کے ہاں صفر ہے۔ اور پولس رسول جب کرنتھس کی کلیسیا کو لکھتے ہیں کہ اگر مسیح نہیں جی اُٹھے تو ہمارا ایمان بےکار ہے، تو وہ بالکل یہی منطق چلا رہے ہیں: مسیحی اُمید کسی خوش گمانی پر نہیں، ایک خالی قبر پر ٹکی ہے۔ اِن دونوں مقامات کو ساتھ رکھیں تو یوحنا 11:25 نعرہ نہیں رہتی، دستاویز بن جاتی ہے۔

مرکزی کردار

یہ فقرہ کسی ایسے شخص کے منہ سے نہیں نکلا جو موت سے محفوظ فاصلے پر کھڑا تھا۔ چند آیتیں بعد لکھا ہے: ”عیسیٰ رو پڑا۔“ وہی زبان جو ابھی ابھی خود کو قیامت کہہ رہی تھی، اب قبر کے سامنے کانپ رہی ہے۔ یوحنا لکھتے ہیں کہ اُنہیں ”بڑی رنجش“ ہوئی اور وہ ”مضطرب حالت“ میں تھے۔ یہ اُس خدا کی تصویر ہے جو موت کو دُور سے حل نہیں کرتے بلکہ اُس میں اُتر کر اُسے توڑتے ہیں، اور جو اِس معجزے کی قیمت جانتے ہیں: اِسی باب کے آخر میں عدالتِ عالیہ اُن کے قتل کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ لعزر کی زندگی خداوند کی موت کی قیمت پر واپس آتی ہے۔ یہ محبت جذباتی نہیں، مہنگی ہے۔

غور و فکر کے لیے

آپ کی زندگی کا کون سا فیصلہ اِس وقت اِس مفروضے پر کھڑا ہے کہ آپ کے پاس ابھی بہت وقت ہے؟

خداوند نے مرتھا سے نام لے کر پوچھا، ”کیا تجھے اِس بات کا یقین ہے؟“ اگر آج وہ آپ کا نام لے کر یہی سوال کریں، تو آپ کا ایمانداری سے دیا گیا جواب کیا ہوگا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 11:25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 11:25 کا کیا مطلب ہے؟
مرتھا اپنے بھائی کی قبر سے چار دن کے فاصلے پر کھڑی ہے اور اُس کے پاس ایک درست عقیدہ موجود ہے: ”مجھے معلوم ہے کہ وہ قیامت کے دن جی اُٹھے گا، جب سب جی اُٹھیں گے۔“ یہ جواب غلط نہیں، مگر بہت دُور ہے، کسی آنے والے دن میں محفوظ رکھا ہوا۔ خداوند یسوع اُس کی توجہ اُس دُور دراز تاریخ سے ہٹا کر اپنی ذات پر لے آتے ہیں: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان رکھے وہ زندہ رہے گا، چاہے وہ مر بھی جائے۔“ یعنی جس چیز کا مرتھا آخری دن تک انتظار کر رہی ہے، وہ اِس وقت اُس کے سامنے کھڑی ہے، مٹی بھرے راستے پر، ایک انسان کی شکل میں، اُس سے بات کرتی ہوئی۔
یوحنا 11:25 کس بارے میں ہے؟
پرانے عہدنامے میں زندگی ہمیشہ خدا کی اپنی ملکیت رہی ہے، اُدھار دی ہوئی سانس، جسے وہ جب چاہیں واپس لے لیں۔ اسرائیل نے صدیوں تک قبر کو ایک بند دروازہ سمجھا اور صرف دھیرے دھیرے نبیوں کے ذریعے یہ اُمید پکی ہوئی کہ خدا مُردوں کو کھڑا کریں گے۔ مرتھا اُسی اُمید کی وارث ہے۔ لیکن یوحنا کی پوری کتاب ایک ہی نکتے کی طرف بڑھ رہی ہے: جو کچھ خدا کرتے ہیں، وہ اب اِس ایک شخص میں مجسم ہو کر آ گیا ہے۔ اِس لیے یہ آیت لعزر کے معجزے کی محض تمہید نہیں، بلکہ ایسٹر کی پیشگی جھلک ہے۔ لعزر پھر مرے گا؛ خداوند یسوع نہیں مریں گے۔ قبر سے نکلتا ہوا لعزر، پٹیوں میں بندھا ہوا، اُس صبح کی طرف اشارہ ہے جب کفن قبر میں پڑا رہ جائے گا اور اُٹھنے والا واپس نہیں لَوٹے گا۔
یوحنا 11:25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اُردو ترجمے میں لفظوں کی ترتیب پر غور کریں: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔“ زور ”مَیں“ پر ہے۔ مرتھا نے ایک تاریخ کا نام لیا تھا، خداوند نے اپنا نام لیا۔ اور یہ بات کہاں کہی جا رہی ہے؟ گاؤں کے باہر، کھلے راستے پر، ایک ایسی عورت سے جس کے کپڑوں سے ابھی ماتم کی بو آ رہی ہے اور جس کا بھائی چار دن سے قبر میں ہے۔ ایسے لمحے میں یہ دعویٰ یا تو ناقابلِ برداشت بےحسی ہے یا سچ۔ درمیانی راستہ کوئی نہیں۔ اِسی لیے اگلی سانس میں سوال آتا ہے: ”مرتھا، کیا تجھے اِس بات کا یقین ہے؟“ یہ آیت معلومات دے کر ختم نہیں ہوتی، وہ آپ سے جواب مانگتی ہے، اور وہ بھی نام لے کر۔
یوحنا 11:25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ فقرہ کسی ایسے شخص کے منہ سے نہیں نکلا جو موت سے محفوظ فاصلے پر کھڑا تھا۔ چند آیتیں بعد لکھا ہے: ”عیسیٰ رو پڑا۔“ وہی زبان جو ابھی ابھی خود کو قیامت کہہ رہی تھی، اب قبر کے سامنے کانپ رہی ہے۔ یوحنا لکھتے ہیں کہ اُنہیں ”بڑی رنجش“ ہوئی اور وہ ”مضطرب حالت“ میں تھے۔ یہ اُس خدا کی تصویر ہے جو موت کو دُور سے حل نہیں کرتے بلکہ اُس میں اُتر کر اُسے توڑتے ہیں، اور جو اِس معجزے کی قیمت جانتے ہیں: اِسی باب کے آخر میں عدالتِ عالیہ اُن کے قتل کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ لعزر کی زندگی خداوند کی موت کی قیمت پر واپس آتی ہے۔ یہ محبت جذباتی نہیں، مہنگی ہے۔
یوحنا 11:25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
خداوند نے مرتھا سے نام لے کر پوچھا، ”کیا تجھے اِس بات کا یقین ہے؟“ اگر آج وہ آپ کا نام لے کر یہی سوال کریں، تو آپ کا ایمانداری سے دیا گیا جواب کیا ہوگا؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 11 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 43

قبر کے سامنے کھڑے ہو کر عیسیٰ نے عام آواز میں نہیں کہا، بلکہ ”اونچی آواز سے پکارا، لعزر، نکل آ!“ اور غور کریں، اُس نے نام لے کر بلایا۔ موت بھی اُس رشتے کو نہ مٹا سکی جو یسوع اور لعزر کے درمیان تھا۔ آج بھی وہ آپ کو بھیڑ کا حصہ سمجھ کر نہیں، بلکہ نام لے کر پکارتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کس قبر میں چار دن سے پڑے ہیں، اور کیا آپ اُس کی آواز سن رہے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو آیت 54

لعزر کو زندہ کرنے کے بعد سردار کاہنوں نے قتل کا منصوبہ بنایا، اور عیسیٰ "وہاں سے ریگستان کے قریب ایک علاقے میں چلا گیا۔" وہ ڈر کر نہیں چھپا، بلکہ باپ کے وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ صلیب اُس کی منزل تھی، مگر ابھی نہیں۔ کیا تُو بھی کسی ویرانے میں ٹھہرا ہوا ہے؟ ہر خاموشی پیچھے ہٹنا نہیں ہوتی۔ کبھی وہ فرمانبرداری ہوتی ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟