بائبل کی تشریح

لوقا 5

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

جھیل گنیسرت کا کنارہ، صبح کا وقت، اور مچھیروں کے ہاتھ خالی۔ رات بھر کی محنت رائیگاں گئی ہے، جال دھوئے جا رہے ہیں، اور اِسی تھکن کے بیچ ایک اُستاد ایک کشتی کو منبر بنا لیتا ہے۔ باب پانچ اِسی منظر سے کھلتا ہے: شمعون کا بےدلی سے جال ڈالنا، مچھلیوں کا وہ غول جو جالوں کو پھاڑ دیتا ہے، اور پطرس کا منہ کے بل گر کر کہنا، ”خداوند، مجھ سے دُور چلے جائیں۔ مَیں تو گناہ گار ہوں۔“ پھر ایک کوڑھی کو چھونا، ایک مفلوج کو چھت سے اُتارا جانا اور گناہوں کی معافی کا اعلان، لاوی محصول لینے والے کو بلانا، اُس کے گھر کی ضیافت، اور آخر میں روزے کا سوال، نئے لباس کا پیوند اور نئی مشکوں کی مثال۔ ایک ہی باب میں چار بار وہی جھٹکا: یسوع وہاں ہاتھ بڑھاتے ہیں جہاں کوئی اور ہاتھ نہیں بڑھاتا۔

اصل بات

یہ باب ایک ہی سوال کے گرد گھومتا ہے: خدا نجاست سے کیسے پیش آتا ہے؟ مذہبی منطق سادہ تھی، ناپاکی چھوت کی طرح پھیلتی ہے، اِس لئے فاصلہ رکھو۔ لیکن یہاں اُلٹ ہوتا ہے۔ کوڑھی کو چھوا جاتا ہے اور کوڑھ ہٹ جاتا ہے۔ گناہ گار پطرس خود کو پیچھے ہٹانا چاہتا ہے اور اُسے بلایا جاتا ہے۔ محصول لینے والے کی میز پر یسوع بیٹھتے ہیں اور وہ میز ناپاک نہیں، نئی بن جاتی ہے۔ ”مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گناہ گاروں کو بُلانے آیا ہوں تاکہ وہ توبہ کریں۔“ یہ محض نرمی نہیں، یہ اختیار کا دعویٰ ہے: مفلوج سے ”تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں“ کہنا وہی کام ہے جو صرف خدا کرتا ہے۔ فریسی غلط نہیں سمجھے تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ اُنہوں نے کیا سنا، بلکہ یہ کہ وہ ماننے کو تیار تھے یا نہیں۔

مشترکہ دھاگا

سِینا سے لے کر ہیکل تک، پاکیزگی کی حفاظت فاصلے سے ہوتی تھی۔ کاہن معائنہ کر سکتا تھا، اعلان کر سکتا تھا، مگر شفا نہیں دے سکتا تھا؛ وہ پاکی کو پہچانتا تھا، پیدا نہیں کرتا تھا۔ اِسی لئے یسوع کوڑھی کو ہیکل بھیجتے ہیں: ”سیدھا بیت المُقدّس میں امام کے پاس جا تاکہ وہ تیرا معائنہ کرے۔“ نظامِ شریعت منسوخ نہیں ہوتا، بلکہ اُس کے سامنے وہ کھڑا ہو جاتا ہے جس کی طرف وہ ہمیشہ اشارہ کرتا رہا تھا۔ اور جب یسوع خود کو ”ابنِ آدم“ کہتے ہیں، تو دانیال نبی کی اُس رویا کی گونج سنائی دیتی ہے جس میں ابنِ آدم کو قدیم الایام کے حضور اختیار اور بادشاہی دی جاتی ہے۔ یعنی: معافی کا اعلان کوئی جذباتی رعایت نہیں، تختِ خدا سے جاری شدہ فرمان ہے، جو ایک مٹی کی چھت کے نیچے سنایا جا رہا ہے۔

آئینہ

پطرس کا جملہ اُس رات کی تھکن سے نکلا تھا، مگر اُس کی جڑ اَور گہری تھی: جب برکت توقع سے بڑی ہو جائے تو ہم خود کو نااہل محسوس کرتے ہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں یہ احساس: ترقی ملی مگر اندر آواز کہتی ہے کہ میں اِس کے لائق نہیں؛ کسی نے آپ کی تعریف کی اور آپ کو فوراً اپنی وہ عادت یاد آئی جسے کوئی نہیں جانتا؛ عبادت میں دل بھر آیا اور آپ نے سوچا، اگر خدا مجھے واقعی جانتا تو دُور رہتا۔ یسوع اِس پر بحث نہیں کرتے، وہ پطرس کے گناہ کا انکار نہیں کرتے، صرف کہتے ہیں ”مت ڈر“ اور کام سونپ دیتے ہیں۔ دوسری طرف چھت اُدھیڑنے والے دوست ہیں، جنہوں نے کسی کا ایمان اُس وقت اُٹھایا جب وہ خود اُٹھ نہیں سکتا تھا۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جو اِس وقت خود چل کر خداوند تک نہیں آ سکتا، اور وہ نام بلند آواز سے دعا میں خداوند کے سامنے رکھیں۔

بین المتون

یسعیاہ نبی ہیکل میں رب کا جلال دیکھ کر چیخ اُٹھا کہ وہ ناپاک ہونٹوں والا آدمی ہے، اور عین اُسی لمحے اُسے بھیجا گیا۔ پطرس کی کشتی وہی ہیکل بن جاتی ہے: پہلے گھٹنے ٹوٹتے ہیں، پھر بلاہٹ آتی ہے۔ ترتیب کبھی اُلٹی نہیں ہوتی؛ خدا پہلے آدمی کو درست نہیں کرتا کہ پھر بلائے، وہ بلاتے ہوئے درست کرتا ہے۔ دوسری گونج احبار کی اُن ہدایات سے آتی ہے جہاں کوڑھی کو خود پکارنا پڑتا تھا کہ میں ناپاک ہوں، تاکہ لوگ ہٹ جائیں۔ لوقا اِسی پس منظر میں ایک ہی فقرہ رکھتا ہے جو سب کچھ پلٹ دیتا ہے: ”عیسیٰ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چھوا۔“ چھونے سے یسوع ناپاک نہیں ہوئے؛ ناپاکی پاک ہو گئی۔

سوال

باب کا اختتام میٹھا نہیں ہے: ”جو بھی پرانی مَے پینا پسند کرے وہ انگور کا نیا اور تازہ رس پسند نہیں کرے گا۔ وہ کہے گا کہ پرانی ہی بہتر ہے۔“ یسوع اِس بات کو رد نہیں کرتے، صرف بیان کرتے ہیں۔ یہ تکلیف دہ ہے، کیونکہ اِس کا مطلب ہے کہ سچائی دیکھ لینا اور اُسے پسند کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ فریسیوں نے معجزہ دیکھا اور پھر بھی شکایت کی؛ اُن کا مسئلہ ثبوت کی کمی نہیں، ذائقے کی عادت تھی۔ اور یہی ہمارا خطرہ ہے: برسوں کی مذہبی مشق ہمیں ایسا چکھنے والا بنا سکتی ہے جو نئے کو صرف اِس لئے مسترد کرے کہ وہ نیا ہے۔ لوقا اِس کا حل نہیں دیتا۔ وہ جملہ کھلا چھوڑ دیتا ہے، جیسے کوئی دروازہ جسے بند کرنا یا کھلا رکھنا سننے والے کے ذمے ہے۔

پہلا سامع

لوقا لکھ رہا ہے اُن لوگوں کے لئے جو زیادہ تر یہودی نہیں تھے، رومی دنیا میں رہتے تھے، اور جن کے لئے تھیُفِلُس کی طرح سوال یہ تھا: کیا یہ خبر بھروسے کے قابل ہے؟ وہ محصول کی چوکی کا مطلب فوراً سمجھتے تھے، وہاں بیٹھا آدمی اپنی قوم سے پیسہ نچوڑ کر قابض حکومت کو دیتا تھا؛ اُس کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھنا محض بےتکلفی نہیں، سماجی طور پر اپنی عزت داؤ پر لگانا تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مچھیرے مفلس نہیں، ساجھے دار تھے، اور ”سب کچھ چھوڑ کر“ کا مطلب کشتیاں، جال اور کاروبار چھوڑنا تھا۔ اُنہوں نے جو سنا وہ یہ تھا: یہ خداوند حاشیے پر بیٹھے لوگوں کو نہ صرف معاف کرتا ہے، اُنہیں کام پر بھی لگاتا ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”پرانی مَے“ ہے جسے آپ محض عادت کی وجہ سے بہتر کہتے ہیں، اور جو آپ کو مسیح کے نئے کام سے بیزار رکھتی ہے؟

پطرس نے دُور ہٹنے کی درخواست کی اور بلاہٹ پائی۔ کس بات کی وجہ سے آپ خود کو خدا کے کام کے لئے نااہل سمجھتے ہیں، اور اگر ”مت ڈر“ آج آپ سے کہا جائے تو پہلا قدم کیا ہوگا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Luke 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

لوقا 5 کا کیا مطلب ہے؟
جھیل گنیسرت کا کنارہ، صبح کا وقت، اور مچھیروں کے ہاتھ خالی۔ رات بھر کی محنت رائیگاں گئی ہے، جال دھوئے جا رہے ہیں، اور اِسی تھکن کے بیچ ایک اُستاد ایک کشتی کو منبر بنا لیتا ہے۔ باب پانچ اِسی منظر سے کھلتا ہے: شمعون کا بےدلی سے جال ڈالنا، مچھلیوں کا وہ غول جو جالوں کو پھاڑ دیتا ہے، اور پطرس کا منہ کے بل گر کر کہنا، ”خداوند، مجھ سے دُور چلے جائیں۔ مَیں تو گناہ گار ہوں۔“ پھر ایک کوڑھی کو چھونا، ایک مفلوج کو چھت سے اُتارا جانا اور گناہوں کی معافی کا اعلان، لاوی محصول لینے والے کو بلانا، اُس کے گھر کی ضیافت، اور آخر میں روزے کا سوال، نئے لباس کا پیوند اور نئی مشکوں کی مثال۔ ایک ہی باب میں چار بار وہی جھٹکا: یسوع وہاں ہاتھ بڑھاتے ہیں جہاں کوئی اور ہاتھ نہیں بڑھاتا۔
لوقا 5 کس بارے میں ہے؟
سِینا سے لے کر ہیکل تک، پاکیزگی کی حفاظت فاصلے سے ہوتی تھی۔ کاہن معائنہ کر سکتا تھا، اعلان کر سکتا تھا، مگر شفا نہیں دے سکتا تھا؛ وہ پاکی کو پہچانتا تھا، پیدا نہیں کرتا تھا۔ اِسی لئے یسوع کوڑھی کو ہیکل بھیجتے ہیں: ”سیدھا بیت المُقدّس میں امام کے پاس جا تاکہ وہ تیرا معائنہ کرے۔“ نظامِ شریعت منسوخ نہیں ہوتا، بلکہ اُس کے سامنے وہ کھڑا ہو جاتا ہے جس کی طرف وہ ہمیشہ اشارہ کرتا رہا تھا۔ اور جب یسوع خود کو ”ابنِ آدم“ کہتے ہیں، تو دانیال نبی کی اُس رویا کی گونج سنائی دیتی ہے جس میں ابنِ آدم کو قدیم الایام کے حضور اختیار اور بادشاہی دی جاتی ہے۔ یعنی: معافی کا اعلان کوئی جذباتی رعایت نہیں، تختِ خدا سے جاری شدہ فرمان ہے، جو ایک مٹی کی چھت کے نیچے سنایا جا رہا ہے۔
لوقا 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ نبی ہیکل میں رب کا جلال دیکھ کر چیخ اُٹھا کہ وہ ناپاک ہونٹوں والا آدمی ہے، اور عین اُسی لمحے اُسے بھیجا گیا۔ پطرس کی کشتی وہی ہیکل بن جاتی ہے: پہلے گھٹنے ٹوٹتے ہیں، پھر بلاہٹ آتی ہے۔ ترتیب کبھی اُلٹی نہیں ہوتی؛ خدا پہلے آدمی کو درست نہیں کرتا کہ پھر بلائے، وہ بلاتے ہوئے درست کرتا ہے۔ دوسری گونج احبار کی اُن ہدایات سے آتی ہے جہاں کوڑھی کو خود پکارنا پڑتا تھا کہ میں ناپاک ہوں، تاکہ لوگ ہٹ جائیں۔ لوقا اِسی پس منظر میں ایک ہی فقرہ رکھتا ہے جو سب کچھ پلٹ دیتا ہے: ”عیسیٰ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چھوا۔“ چھونے سے یسوع ناپاک نہیں ہوئے؛ ناپاکی پاک ہو گئی۔
لوقا 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا لکھ رہا ہے اُن لوگوں کے لئے جو زیادہ تر یہودی نہیں تھے، رومی دنیا میں رہتے تھے، اور جن کے لئے تھیُفِلُس کی طرح سوال یہ تھا: کیا یہ خبر بھروسے کے قابل ہے؟ وہ محصول کی چوکی کا مطلب فوراً سمجھتے تھے، وہاں بیٹھا آدمی اپنی قوم سے پیسہ نچوڑ کر قابض حکومت کو دیتا تھا؛ اُس کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھنا محض بےتکلفی نہیں، سماجی طور پر اپنی عزت داؤ پر لگانا تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مچھیرے مفلس نہیں، ساجھے دار تھے، اور ”سب کچھ چھوڑ کر“ کا مطلب کشتیاں، جال اور کاروبار چھوڑنا تھا۔ اُنہوں نے جو سنا وہ یہ تھا: یہ خداوند حاشیے پر بیٹھے لوگوں کو نہ صرف معاف کرتا ہے، اُنہیں کام پر بھی لگاتا ہے۔
لوقا 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
پطرس نے دُور ہٹنے کی درخواست کی اور بلاہٹ پائی۔ کس بات کی وجہ سے آپ خود کو خدا کے کام کے لئے نااہل سمجھتے ہیں، اور اگر ”مت ڈر“ آج آپ سے کہا جائے تو پہلا قدم کیا ہوگا؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Luke 5 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 4

رات بھر کی ناکامی کے بعد پطرس جال دھو رہا تھا، یعنی کام ختم، اُمید ختم۔ اور عین اُسی لمحے یسوع کہتے ہیں، ”اب کشتی کو گہرے پانی میں لے جاؤ اور وہاں مچھلیاں پکڑنے کے لئے اپنے جالوں کو پانی میں ڈال دو۔“ وہ تجھے کنارے پر تسلی نہیں دیتے، گہرائی میں بلاتے ہیں۔ جو جال تُو نے تھک کر سمیٹ لیا ہے، کیا اُسے ایک بار پھر کھولنے کا حوصلہ ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟