مرقس 10
متن
یسوع مسیح یہودیہ کے علاقے میں پہنچتے ہیں اور وہاں فریسی اُنہیں پھنسانے کے لیے طلاق کا سوال اُٹھاتے ہیں؛ خداوند موسیٰ کی رعایت کے پیچھے جا کر تخلیق کی ابتدا تک پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں، ”جسے اللہ نے خود جوڑا ہے اُسے انسان جدا نہ کرے۔“ پھر وہ بچوں کو گلے لگاتے ہیں جنہیں شاگرد روک رہے تھے، ایک دولت مند آدمی کو اپنی ساری جائیداد بیچنے کی دعوت دیتے ہیں اور وہ منہ لٹکائے چلا جاتا ہے، اور یروشلم کی طرف بڑھتے ہوئے تیسری بار اپنی موت کا اعلان کرتے ہیں۔ یعقوب اور یوحنا تختِ جلال پر جگہ مانگتے ہیں، خداوند خدمت اور فدیہ کی بات کرتے ہیں، اور باب کے آخر میں ایک اندھا بھکاری اپنی چادر پھینک کر دیکھنے لگتا ہے اور اُن کے پیچھے چل پڑتا ہے۔
اصل بات
یہ پورا باب ایک ہی جملے کے گرد گھومتا ہے: ”ابنِ آدم بھی اِس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لئے کہ خدمت کرے اور اپنی جان فدیہ کے طور پر دے کر بہتوں کو چھڑائے۔“ باقی سب کچھ اِسی کی روشنی میں پڑھنا ہے۔ خدا کی بادشاہی کوئی ایسا نظام نہیں جس میں آپ اپنی نیکی، اپنی دولت یا اپنے رُتبے کے زور پر داخلہ خرید سکیں۔ شادی میں طاقتور فریق کو اپنی رعایتیں چھوڑنی پڑتی ہیں، مال دار کو اپنی حفاظت چھوڑنی پڑتی ہے، شاگردوں کو اپنی درجہ بندی چھوڑنی پڑتی ہے۔ اور جب شاگرد گھبرا کر پوچھتے ہیں، ”پھر کس کو نجات مل سکتی ہے؟“ تو جواب اخلاقی کوشش نہیں بلکہ فضل ہے: ”یہ انسان کے لئے تو ناممکن ہے، لیکن اللہ کے لئے نہیں۔“ یہی وجہ ہے کہ یہاں اخلاق کا تقاضا اتنا سخت ہو سکتا ہے؛ کیونکہ اُس کی بنیاد ہماری قوت نہیں، بلکہ وہ جان ہے جو فدیہ میں دی گئی۔
مشترکہ سلسلہ
غور کیجیے کہ خداوند طلاق کے سوال کا جواب دیتے وقت کہاں جاتے ہیں: شریعت کی دفعہ پر نہیں رُکتے بلکہ ”دنیا کی تخلیق کے وقت“ تک پیچھے جاتے ہیں۔ یہ اُن کے کام کا نمونہ ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی دنیا میں مرمت کرنے نہیں آئے بلکہ اُسے اُس کی اصل نیت پر بحال کرنے آئے، جہاں جوڑنے والا خود خدا ہے۔ اور دوسری طرف ”ابنِ آدم“ کا لقب، جو دانی ایل ۷ میں اُس شخصیت کا نام ہے جسے تخت اور بادشاہی دی جاتی ہے، یہاں تخت کے بجائے پیالے اور کوڑوں کی طرف بڑھتا ہے۔ بادشاہی واقعی آ رہی ہے، مگر صلیب کے راستے سے۔ نجات کا پورا سلسلہ اِسی ایک لفظ میں سمٹ آتا ہے: فدیہ، یعنی وہ قیمت جو کسی غلام کو آزاد کرانے کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ اسرائیل مصر سے چھڑایا گیا تھا؛ یہاں چھڑانے والا خود قیمت بن جاتا ہے۔
آئینہ
یہ باب اُن سب جگہوں پر انگلی رکھتا ہے جہاں ہم اپنی طاقت کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ شادی میں: کیا آپ اپنے حق جتاتے ہیں یا اُس عہد کی حفاظت کرتے ہیں جسے خدا نے باندھا؟ پیسے میں: وہ آدمی بُرا نہیں تھا، وہ دیانت دار تھا، بس اُس کی حفاظت اُس کی جائیداد میں تھی، اور جہاں آپ کی حفاظت ہے وہیں آپ کا خدا ہے۔ بچوں کے ساتھ: شاگرد اُنہیں ہٹا رہے تھے کیونکہ وہ ”اہم کام“ میں خلل تھے؛ ہم بھی اُن لوگوں کو ہٹاتے ہیں جو ہمارے شیڈول میں فٹ نہیں آتے، بوڑھے والدین، سست ماتحت، محلے کا وہ شخص جو ہمیشہ کچھ مانگتا ہے۔ اور دفتر یا کلیسیا میں: یعقوب اور یوحنا کی درخواست ہماری بھی ہے، بس ہم اُسے زیادہ شائستہ الفاظ میں کہتے ہیں۔
آج ہی اُس شخص کے پاس جائیے جس پر آپ کو اختیار حاصل ہے، اپنے بچے، بیوی یا شوہر، ملازم، اور اُن سے یسوع کا سوال پوچھیے: ”تم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لئے کروں؟“ پھر جواب سنیے، بغیر صفائی پیش کیے۔
مرکزی کردار
اِس باب میں مسیح کا چہرہ حیرت انگیز طور پر جذباتی ہے۔ وہ شاگردوں پر ”ناراض“ ہوتے ہیں، ایسا لفظ جو مرقس شاذ ہی استعمال کرتا ہے، اور وجہ یہ ہے کہ بچوں کو روکا جا رہا تھا۔ پھر دولت مند کے سامنے: ”عیسیٰ نے غور سے اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کے دل میں اُس کے لئے پیار اُبھر آیا۔“ محبت اور سخت ترین مطالبہ ایک ہی سانس میں۔ یہ ہمارے اُس تصور کو توڑ دیتا ہے جس میں نرمی کا مطلب تقاضا کم کرنا ہے۔ اور آخر میں وہ یروشلم کی طرف ”اُن کے آگے آگے“ چل رہے ہیں، تنہا، جانتے ہوئے کہ تھوک، کوڑے اور موت منتظر ہیں، جبکہ پیچھے چلنے والے سہمے ہوئے ہیں۔ خدمت کی تعلیم کسی کرسی سے نہیں دی جا رہی؛ وہ خود اُس راستے پر سب سے آگے ہیں۔
ایک تفصیل
”برتمائی نے اپنی چادر زمین پر پھینک دی۔“ یہ محض جوش کا اظہار نہیں۔ بھکاری کی چادر اُس کا اوڑھنا، اُس کا بستر اور اُس کا کاروباری اوزار تھی؛ وہی زمین پر بچھتی تھی تاکہ راہگیر سکے ڈالیں۔ ایک اندھے آدمی کے لیے اُسے پھینک دینے کا مطلب تھا کہ شاید وہ دوبارہ کبھی نہ ملے۔ اور یہی وہ کام ہے جو دولت مند آدمی نہ کر سکا۔ اُس کے پاس سب کچھ تھا اور وہ منہ لٹکا کر چلا گیا؛ اِس کے پاس ایک چادر تھی اور اُس نے وہ بھی چھوڑ دی، اور ”وہ عیسیٰ کے پیچھے چلنے لگا“۔ مرقس نے یہ دونوں واقعات جان بوجھ کر ایک ہی باب میں رکھے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا ہے، بلکہ یہ کہ آپ کے ہاتھ کس چیز پر بند ہیں۔
پس منظر
منظر یردن کے پار کا علاقہ ہے، ہیرودیس انتپاس کی حکومت کا حصہ، جہاں یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر طلاق اور دوسری شادی پر تنقید کی وجہ سے قلم ہوا تھا۔ طلاق کا سوال اِسی لیے ”پھنسانے کی غرض سے“ تھا: جواب دینا جان لیوا ہو سکتا تھا۔ اُس زمانے میں طلاق کا حق عملاً صرف مرد کے پاس تھا، اور بحث اِس پر تھی کہ کتنی معمولی وجہ کافی ہے۔ عورت کے لیے طلاق کا مطلب اکثر غربت تھی۔ خداوند طاقتور فریق سے اُس کا ہتھیار چھین لیتے ہیں۔ اِسی طرح بچے، جن کی معاشرے میں کوئی قانونی حیثیت نہ تھی، اور ایک اندھا بھکاری، یریحو سے یروشلم جانے والی زائرین کی سڑک کے کنارے: یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے پاس سودے بازی کے لیے کچھ نہیں۔ اور بادشاہی اُنہی کی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
میری زندگی میں وہ ”چادر“ کیا ہے جو مجھے تحفظ دیتی ہے، اور جسے پھینکے بغیر میں یسوع کے پاس نہیں پہنچ سکتا؟
جن لوگوں پر مجھے اختیار حاصل ہے، وہ مجھے خادم کے طور پر جانتے ہیں یا صرف فیصلہ کرنے والے کے طور پر؟
Mark 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 10 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 10 کس بارے میں ہے؟
مرقس 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Mark 10 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
