مرقس 11
متن
زیتون کے پہاڑ کی ڈھلان پر، بیت فگے اور بیت عنیاہ کے قریب، عیسیٰ دو شاگردوں کو ایک جوان گدھا کھولنے بھیجتے ہیں، اور اُس پر سوار ہو کر یروشلم میں داخل ہوتے ہیں جبکہ ہجوم کپڑے اور ہری شاخیں بچھاتا ہوا نعرے لگاتا ہے، ”ہوشعنا! مبارک ہے وہ جو رب کے نام سے آتا ہے۔“ وہ بیت المُقدّس میں جا کر خاموشی سے ”اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر سب کچھ“ دیکھتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ اگلے دن راستے میں وہ ایک بےپھل انجیر کے درخت پر لعنت بھیجتے ہیں، پھر ہیکل میں خرید و فروخت کی میزیں اُلٹ دیتے ہیں۔ تیسرے دن سوکھا ہوا درخت ایمان، دعا اور معافی کی تعلیم کا موقع بنتا ہے، اور راہنما امام آ کر پوچھتے ہیں: آپ یہ سب کس اختیار سے کر رہے ہیں؟
اصل مرکز
یہ باب بادشاہ کی اپنے ہی گھر میں آمد کی کہانی ہے، اور اُس گھر کا معائنہ ہے۔ ملاکی نبی نے کہا تھا کہ خداوند اچانک اپنی ہیکل میں آئے گا؛ مرقس دکھاتا ہے کہ وہ آ گیا، مگر جس گھوڑے پر نہیں، جس تلوار کے ساتھ نہیں، اور جس استقبال کی توقع تھی وہ چوبیس گھنٹے بھی نہ ٹھہرا۔ درخت اور ہیکل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں: دُور سے پتوں کی شان، قریب سے پھل ندارد۔ خدا رسم کی چمک سے مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ ثمر مانگتا ہے، اور ثمر کی تعریف عیسیٰ خود دیتے ہیں: ایسی دعا جو تمام قوموں کے لئے کھلی ہو، ایسا ایمان جو خدا کی قدرت پر بھروسا کرے، اور ایسا دل جو معاف کرے۔ جہاں یہ نہیں، وہاں عمارت کی عظمت بچاؤ نہیں کر سکتی۔ نجات کسی مقدّس پتھر میں نہیں، بلکہ اُس شخص میں ہے جو اُن پتھروں کے درمیان کھڑا ہے اور اختیار کے سوال کا جواب دینے سے انکار کرتا ہے، کیونکہ اختیار ثابت نہیں کیا جاتا، وہ استعمال ہوتا ہے۔
سلسلۂ نجات
گدھا اتفاق نہیں تھا۔ زکریاہ نبی نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ صیون کا بادشاہ حلیم ہو کر، گدھے پر سوار ہو کر آئے گا، اور ہر پڑھا لکھا یہودی یہ آیت جانتا تھا۔ جو شخص گھوڑے پر آتا ہے وہ جنگ لانے آتا ہے؛ جو گدھے پر آتا ہے وہ کہتا ہے کہ جنگ ختم ہو چکی۔ یہی وہ دھاگا ہے جو سارے کلام میں سے گزرتا ہے: خدا اپنے لوگوں کے پاس اُس طرح نہیں آتا جس طرح طاقتور لوگ آتے ہیں۔ اور انجیر کا درخت؟ نبیوں نے بار بار اسرائیل کو انگور کے باغ اور انجیر کے درخت سے تشبیہ دی تھی، جس سے خدا پھل کی اُمید رکھتا ہے۔ عیسیٰ کوئی نئی بات نہیں کہہ رہے؛ وہ ایک پرانا مقدمہ اپنے جسم میں لے کر شہر میں داخل ہو رہے ہیں، اور اُس مقدمے کا فیصلہ آخرکار خود اپنے اوپر لیں گے۔
آئینہ
ہم سب پتوں کے کاروبار میں ماہر ہیں۔ آپ کی الماری میں تین ترجمے ہیں، آپ اتوار کو حاضر ہوتے ہیں، شاید گروپ کی قیادت بھی کرتے ہیں؛ دُور سے دیکھنے والا کہے گا، یہ درخت پھل دار ہے۔ مگر عیسیٰ قریب آتے ہیں، اور قریب سے دیکھنا اُن کی عادت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کتنا جانتے ہیں، بلکہ یہ کہ گھر میں، دفتر میں، پیسے کے معاملے میں کیا نکلتا ہے۔ اور غور کریں کہ عیسیٰ نے ہیکل کی صفائی کے فوراً بعد کس چیز کا ذکر کیا: ”اگر تمہیں کسی سے شکایت ہو تو پہلے اُسے معاف کرو۔“ یعنی سب سے پہلا کوڑا کرکٹ جو خدا کے گھر سے نکلنا چاہئے وہ آپ کے دل میں پڑی ہوئی وہ پرانی رنجش ہے جسے آپ نے مقدّس نام دے رکھا ہے۔ میزیں صرف اُس صحن میں نہیں اُلٹتیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کا عیسیٰ بےچین کر دینے والا ہے۔ وہ بھوکے ہیں، اور بھوک اُنہیں انسان بناتی ہے۔ وہ ایک درخت پر لعنت بھیجتے ہیں حالانکہ مرقس صاف لکھتا ہے کہ ”انجیر کا موسم نہیں تھا“، اور یہ جملہ ہمیں کھٹکتا ہے، جیسے کوئی ناانصافی ہوئی ہو۔ مگر مرقس یہ فقرہ جان بوجھ کر رکھتا ہے: یہ درخت کا مقدمہ ہے ہی نہیں، یہ ایک عملی نبوّت ہے، اُسی طرح جیسے پرانے نبی مٹکے توڑتے اور رسّیاں باندھتے تھے۔ پھر وہی شخص ہیکل میں غصے سے میزیں اُلٹتا ہے اور اُسی شام خاموشی سے شہر سے نکل جاتا ہے۔ نہ وہ ہجوم کے نعروں سے بہکتے ہیں، نہ اماموں کے سوال سے ڈرتے ہیں۔ اُن کا اختیار کسی سند کا محتاج نہیں؛ وہ اُسے استعمال کرتے ہیں اور بحث سے انکار کر دیتے ہیں۔
ایک تفصیل
آیت 11 پر رُکیں: ”وہ بیت المُقدّس میں گیا اور اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر سب کچھ دیکھنے کے بعد چلا گیا۔“ کوئی تقریر نہیں، کوئی کوڑا نہیں، صرف دیکھنا۔ باقی انجیل نویس یہ لمحہ چھوڑ دیتے ہیں، مرقس اِسے سنبھال کر رکھتا ہے۔ ذرا تصویر بنائیے: شام ڈھل رہی ہے، صحن خالی ہو رہے ہیں، ہجوم کے نعرے دم توڑ چکے ہیں، اور ایک گلیلی آدمی ستونوں کے درمیان کھڑا ہر چیز کا جائزہ لے رہا ہے، جیسے کوئی مالک برسوں بعد اپنی جائیداد میں لوٹا ہو۔ اگلے دن کا غصہ اچانک نہیں پھوٹتا؛ اُس کے پیچھے ایک پوری رات کی خاموش نظر ہے۔ خدا کا فیصلہ کبھی جلد بازی نہیں ہوتا۔ وہ پہلے دیکھتا ہے، پوری طرح دیکھتا ہے، پھر بولتا ہے۔
پس منظر
یہ فسح کا ہفتہ ہے۔ یروشلم، جس کی عام آبادی چالیس ہزار کے قریب تھی، اِن دنوں لاکھوں زائرین سے پھٹ رہا ہے۔ ہوا میں دھوئیں، خون اور جانوروں کی بو ہے؛ گلیوں میں گدھوں اور مینڈھوں کی ریل پیل۔ اُسی وقت رومی گورنر پیلاطس قیصریہ سے فوجی دستے لے کر شہر میں داخل ہو چکا ہے، کیونکہ فسح آزادی کی عید ہے اور آزادی کی عیدوں پر بغاوتیں پھوٹتی ہیں۔ ”ہوشعنا“ کا اصل عبرانی مطلب ہے ”اب بچا!“ یہ صرف حمد نہیں، فریاد ہے، اور داؤد کی بادشاہی کا ذکر رومی کانوں کے لئے دھماکہ خیز تھا۔ ہیکل کا وہ حصہ جہاں میزیں اُلٹیں، غیریہودیوں کا صحن تھا، وہی واحد جگہ جہاں قوموں کے لوگ دعا کر سکتے تھے۔ اور راہنما امام؟ وہ رومی رضامندی سے تخت پر بیٹھی ایک دولت مند اقلیت تھے، جو عوام سے ڈرتے تھے اور اپنی جگہ کھونے سے زیادہ ڈرتے تھے۔
غور و فکر کے لئے
اگر عیسیٰ آج شام خاموشی سے آپ کی زندگی کے صحنوں میں ”نظر دوڑا کر سب کچھ“ دیکھیں، تو کون سی میز اگلی صبح اُلٹنی پڑے گی؟
آپ کی عبادت میں کہاں پتے ہیں اور کہاں پھل، اور آپ یہ فرق کس سے پوچھ کر معلوم کریں گے؟
Mark 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 11 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 11 کس بارے میں ہے؟
مرقس 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یسوع نے صرف خرید و فروخت نہیں روکی، اُس نے یہ بھی نہ ہونے دیا کہ کوئی سامان اُٹھا کر بیت المُقدّس میں سے گزرے۔ لوگوں نے خدا کے گھر کو راستہ بنا لیا تھا، وقت بچانے کا شارٹ کٹ۔ سوچ، کیا میری دعا بھی ایسی ہی گزرگاہ بن گئی ہے؟ کہ میں رُکتا نہیں، بس گزرتا ہوں۔ وہ تجھے اپنی حضوری میں ٹھہرنے کے لئے بلاتا ہے۔
اگلی صبح وہ ادھر سے گزرے تو دیکھا کہ انجیر کا درخت جڑوں تک سوکھ گیا ہے۔"
غور کریں، وہ اوپر سے نہیں بلکہ جڑوں سے سوکھا۔ اُس پر پتے تو خوب تھے، مگر پھل ایک بھی نہیں۔ یسوع نے وہی دیکھا جو نیچے چھپا تھا۔
آپ کی زندگی کے پتے سب کو نظر آتے ہیں۔ مگر جڑ کیسی ہے؟ کیا وہ اب بھی اُس چشمے سے جُڑی ہے، یا صرف عادت باقی رہ گئی ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
