مرقس 13:16
متن
دوپہر کی دھوپ ہے، کھیت کے کنارے ایک چادر تہہ کر کے رکھی ہے، اُسی جگہ جہاں کسان نے صبح کام شروع کرتے وقت اُسے اُتار کر رکھ دیا تھا۔ رات کو وہی چادر اُس کا بستر بنے گی؛ سردی میں وہی اُس کی پناہ ہے۔ اور خداوند یسوع فرماتے ہیں: اُس وقت جب بےحرمتی اور تباہی کا باعث وہاں کھڑا نظر آئے جہاں اُسے نہیں ہونا چاہئے، تو ”جو کھیت میں ہو وہ اپنی چادر ساتھ لے جانے کے لئے واپس نہ جائے۔“ چند سو قدم پیچھے مُڑنا بھی منع ہے۔ نہ سامان، نہ حساب کتاب، نہ آخری نظر۔ صرف بھاگنا۔ یہ حکم اِتنا سادہ ہے کہ کاٹتا ہے۔
مرکزی نکتہ
یہ آیت ہمیں خدا کے فیصلے کی رفتار سے واقف کراتی ہے۔ ہم عموماً سوچتے ہیں کہ عدالت آہستہ آہستہ آتی ہے، مہلت کے ساتھ، سامان باندھنے کی گنجائش کے ساتھ۔ خداوند یسوع اِس خیال کو توڑ دیتے ہیں: ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب صرف نجات باقی رہ جاتی ہے اور ملکیت ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ چادر کوئی عیاشی نہیں تھی؛ شریعت میں لکھا تھا کہ غریب کی چادر رہن رکھ لو تو سورج غروب ہونے سے پہلے واپس کر دو، کیونکہ اُسی میں وہ سوتا ہے۔ یعنی مسیح اُس چیز کو چھوڑنے کا حکم دے رہے ہیں جس پر آدمی کا واجبی حق ہے۔ بادشاہی کی منطق یہی ہے: جان بچانے والا خدا ہے، چادر نہیں۔ اور جو اپنی محفوظ چیزوں کے لئے پیچھے مُڑتا ہے، وہ اُنہی کے ساتھ کھو جاتا ہے۔
سلسلۂ نجات
بائبل میں بھاگنے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ لوط کے خاندان کو سدوم سے نکالا گیا اور کہا گیا کہ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا؛ اُس کی بیوی مُڑی اور وہیں کی ہو رہی۔ اسرائیل مصر سے نکلا تو روٹی میں خمیر اُٹھنے کا وقت بھی نہ ملا، کیونکہ نجات ہمیشہ جلدی میں پہنی جاتی ہے۔ یسوع اِس آیت میں اُسی پرانے دھاگے کو پکڑتے ہیں: خدا کے لوگ ہمیشہ وہی ہیں جو کسی گرتی ہوئی چیز کے اندر سے نکال لئے گئے۔ اور یہی مسیح کا اپنا راستہ بھی ہے۔ چند دن بعد وہ خود سب کچھ پیچھے چھوڑ دیں گے، حتیٰ کہ صلیب پر اپنے کپڑے بھی، جو سپاہیوں نے بانٹ لئے۔ جو ہمیں چادر چھوڑنے کو کہتا ہے، اُس نے پہلے خود سب کچھ کھو دیا تاکہ ہمیں بچا سکے۔
آئینہ
سوال یہ نہیں کہ آپ کیا مانتے ہیں، بلکہ یہ کہ آپ کس چیز کے لئے پیچھے مُڑیں گے۔ وہ فائل جس میں مکان کے کاغذات ہیں۔ وہ نوکری جس کے لئے آپ نے پندرہ سال دیئے اور اب اُسے چھوڑنے کا خیال بھی جسمانی تکلیف دیتا ہے۔ وہ عزت جو محلے میں بنی ہے۔ وہ رشتہ جس کے ٹوٹنے کا ڈر آپ کو ایسی باتوں پر خاموش رکھتا ہے جن پر بولنا چاہئے۔ چادر بری چیز نہیں تھی، یہی تو مشکل ہے۔ اُس کسان کا حق تھا۔ آپ کی چیزوں پر بھی آپ کا حق ہے۔ مگر مسیح کے پیچھے چلنے میں کبھی کبھی حق چھوڑنا پڑتا ہے، اور جو لمحہ بھر ہچکچاتا ہے وہ اکثر واپس نہیں آتا۔ آج ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جس کے لئے آپ سب کچھ چھوڑ کر پیچھے مُڑ جائیں گے، اور اُس کاغذ کو ہاتھ میں لے کر بلند آواز میں خدا کے حوالے کر دیں۔
پہلے سامعین
مرقس کی انجیل اُن لوگوں تک پہنچی جو جنگ کی بو سونگھ رہے تھے۔ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں یہودیہ سلگ رہا تھا، رومی فوجیں بڑھ رہی تھیں، اور یروشلم میں مسیح کے پیروکار ایک ناممکن سوال کے سامنے کھڑے تھے: کیا مقدّس شہر کو چھوڑنا بےوفائی ہے؟ ہر مذہبی جبلت کہتی تھی کہ ہیکل کے شہر میں ٹھہرو، وہیں خدا بچائے گا۔ یسوع کا حکم اِس کے بالکل الٹ تھا: بھاگو، پہاڑوں کی طرف، اور سامان کی فکر مت کرو۔ روایت کہتی ہے کہ وہ سچ مچ نکل گئے۔ اُن کے لئے یہ آیت پیشین گوئی نہیں، ہدایت نامہ تھی؛ ایسی بات جو دل کو ہلا دیتی ہے کیونکہ اُس میں مذہبی جذبات سے زیادہ اطاعت کی قیمت مانگی گئی ہے۔
کلام کی گونج
اِس آیت کی سب سے قریبی گونج اُس کے ساتھ والی آیت میں ہے: ”جو اپنے گھر کی چھت پر ہو وہ نہ اُترے، نہ کچھ ساتھ لے جانے کے لئے گھر میں داخل ہو جائے۔“ دو تصویریں، دو دنیائیں: ایک آدمی شہر میں، اپنے گھر کی چھت پر آرام کرتا ہوا؛ دوسرا باہر کھیت میں، پسینے میں۔ امیر اور غریب، اندر اور باہر، دونوں کے لئے ایک ہی حکم۔ عدالت طبقاتی فرق نہیں کرتی۔ اور اِس کے فوراً بعد یسوع کا لہجہ نرم پڑ جاتا ہے: ”اُن خواتین پر افسوس جو اُن دنوں میں حاملہ ہوں“۔ جو تیز بھاگ نہیں سکتیں، اُن کے لئے مسیح کے دل میں درد ہے۔ یہ سختی بےرحمی نہیں؛ یہ ایک ایسے چرواہے کی آواز ہے جو جانتا ہے کہ کون سست رفتار ہے۔
ایک باریک بات
غور کیجئے کہ فعل کون سا ہے: ”واپس نہ جائے“۔ خطرہ آگے نہیں، پیچھے ہے۔ کھیت میں کھڑے آدمی کو ابھی تک کسی نے چھوا بھی نہیں؛ اُسے صرف رُخ بدلنا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان مارا جاتا ہے: خطرے سے نہیں، اپنی واپسی سے۔ چادر شاید بیس قدم دور ہے۔ بیس قدم۔ کون سا نقصان ہے؟ مگر مسیح جانتے ہیں کہ دل کیسے کام کرتا ہے: جو ایک بار مُڑا، وہ پھر کھڑا ہو کر سوچے گا، پھر گھر تک جائے گا، پھر کچھ اور اُٹھائے گا۔ ایمان اکثر بڑے انکار سے نہیں، ایک چھوٹی سی واپسی سے ٹوٹتا ہے۔ چوکس رہنا، جس کا حکم اِسی باب کے آخر میں بار بار آتا ہے، بنیادی طور پر ایک ہی بات ہے: آگے دیکھتے رہنا۔
غور و فکر کے سوالات
اگر آج آپ کو دس منٹ میں گھر چھوڑنا پڑے، تو وہ کون سی ایک چیز ہے جس کے بغیر آپ کو جانا سب سے مشکل لگے گا، اور یہ اُس کے بارے میں کیا بتاتا ہے جس پر آپ کی سلامتی ٹکی ہوئی ہے؟
آپ کی زندگی میں وہ چھوٹی سی ”واپسی“ کون سی ہے جو بار بار آپ کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے، اور آپ اِس ہفتے اُس سے مُنہ موڑنے کے لئے کیا ایک قدم اُٹھا سکتے ہیں؟
Mark 13:16 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 13:16 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 13:16 کس بارے میں ہے؟
مرقس 13:16 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 13:16 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 13:16 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 13 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے باپ، وہ دن اور وہ گھڑی صرف تُو ہی جانتا ہے۔ مجھے سب کچھ جاننے کی خواہش سے آزاد کر دے اور اتنا بھروسا دے کہ نامعلوم کل بھی تیرے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ آج کے دن کو وفاداری سے جینے میں میری مدد کر، جاگتا ہوا، ڈرتا ہوا نہیں۔
اے خدا، مجھے جاگتے رہنا سکھا۔ میں اکثر اپنی مصروفیت میں تیری آواز کھو دیتا ہوں۔ وقت تیرے ہاتھ میں ہے، اور مجھے نہیں معلوم کب تو آئے گا، اس لیے میرا دل ہر روز تیرے لیے تیار رکھ۔ آج بھی مجھے ہوشیار اور اُمید سے بھرا رکھ۔
یسوع نے تباہی کی خبروں کو ایک عجیب نام دیا: ”یہ سب کچھ پیدائش کے دردِ زہ کی ابتدا ہی ہو گا۔“ دردِ زہ کا مطلب ہے کہ کچھ مر نہیں رہا بلکہ کچھ جنم لے رہا ہے۔ جب تُو خبریں دیکھ کر ڈر جاتا ہے، یاد رکھ کہ تیرا خدا اِس شور کے بیچ بھی کچھ نیا پیدا کر رہا ہے۔ کیا تُو اِتنا انتظار کر سکے گا کہ اُسے دیکھ لے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں