متی 2
متن
ہیرودیس بادشاہ کے دنوں میں یسوع بیت لحم میں پیدا ہوتا ہے، اور مشرق سے آئے ہوئے کچھ غیریہودی عالِم یروشلم میں پوچھتے پھرتے ہیں: ”یہودیوں کا وہ بادشاہ کہاں ہے جو حال ہی میں پیدا ہوا ہے؟“ ہیرودیس گھبرا جاتا ہے، اماموں اور علما سے مسیح کی جائے پیدائش دریافت کرتا ہے، اور مجوسیوں کو خفیہ طور پر بیت لحم بھیجتا ہے، بظاہر سجدہ کرنے کے لئے، دراصل قتل کرنے کے لئے۔ عالِم بچے کو پا کر اوندھے منہ گر کر سجدہ کرتے ہیں اور سونا، لُبان اور مُر پیش کرتے ہیں، مگر خواب میں آگاہی پا کر دوسرے راستے سے لوٹ جاتے ہیں۔ اِس کے بعد یوسف بچے اور مریم کو لے کر مصر بھاگتا ہے، ہیرودیس بیت لحم کے بچوں کو قتل کروا دیتا ہے، اور ہیرودیس کی موت کے بعد یہ خاندان لوٹ کر ناصرت میں آباد ہو جاتا ہے۔
بنیادی بات
یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نجات کسی خواب یا تصور کی دنیا میں نہیں، بلکہ اصل سیاست، اصل خوف اور اصل خون کے درمیان زمین پر اُترتی ہے۔ خدا کا بادشاہ آتا ہے، اور دنیا کا بادشاہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ مقابلہ ہے: ”ہیرودیس بادشاہ پورے یروشلم سمیت گھبرا گیا۔“ تخت پر بیٹھا آدمی ایک دودھ پیتے بچے سے کانپتا ہے، کیونکہ اقتدار ہمیشہ اُس اختیار سے ڈرتا ہے جو اُس کا مرہونِ منت نہیں۔ اور اِس کے بالمقابل وہ لوگ ہیں جن سے کوئی توقع نہ تھی: پردیسی، غیرقوم کے ستارہ شناس، جو اوندھے منہ گرتے ہیں۔ یہاں انجیل کا پورا مزاج پہلے ہی نظر آ جاتا ہے، کہ مسیح طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ کمزوری کے ذریعے بادشاہی کرتا ہے، اور اُسے پہچاننا علم کا نہیں، جھک جانے کا معاملہ ہے۔
مرکزی دھاگا
متی اِس ایک باب میں چار مرتبہ نبیوں کا حوالہ دیتا ہے، اور غور کریں کہ کن حوالوں کا: بیت لحم سے نکلنے والا گلہ بان حکمران، مصر سے بُلایا گیا فرزند، رامہ میں روتی راخل، اور ناصری کہلانے والا۔ یہ اتفاقی جمع نہیں۔ متی ہمیں دکھا رہا ہے کہ یہ بچہ اسرائیل کی پوری کہانی اپنے جسم پر دوبارہ جی رہا ہے۔ ہوسیع نبی کے ہاں ”مَیں نے اپنے فرزند کو مصر سے بُلایا“ قوم کے بارے میں کہا گیا تھا؛ متی اُسے ایک بچے پر لاگو کرتا ہے، کیونکہ اب ایک ہی سچا فرزند ہے جو وہ فرمانبرداری پیش کرے گا جو قوم نہ کر سکی۔ اور پس منظر میں موسیٰ کھڑا ہے: ایک بادشاہ جو نوزائیدہ لڑکوں کو مروا دیتا ہے، اور ایک بچہ جو بچ نکلتا ہے تاکہ آگے چل کر اپنی قوم کو رِہا کرے۔ داؤد کا گاؤں، مصر کی جلاوطنی، ماتم، اور پھر واپسی: نجات کا سارا نقشہ اِس ایک خاندان کے سفر میں سمٹ آیا ہے۔
آئینہ
ہیرودیس کا خوف ہمارے خوف سے مختلف نہیں، صرف اُس کے پاس فوج تھی۔ ہم بھی اُس اختیار سے گھبراتے ہیں جو ہماری منظوری کا محتاج نہیں۔ آپ کے کیلنڈر پر، آپ کی تنخواہ پر، آپ کے بچوں کے مستقبل پر، آپ کی عزت پر کون بادشاہ ہے؟ ہم عموماً مسیح کو رد نہیں کرتے، ہم ہیرودیس کی چال چلتے ہیں: زبان سے کہتے ہیں ”مَیں بھی جا کر اُسے سجدہ کروں“، اور دل میں چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے انتظامات میں دخل نہ دے۔ اِس کے مقابل مجوسی ہیں، جنہوں نے مہینوں کا سفر، خرچ اور رسوائی برداشت کی اور آخر میں زمین پر منہ کے بل گر گئے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جس کے چھن جانے کا آپ کو سب سے زیادہ ڈر ہے، اور اُسے ہاتھ میں لے کر گھٹنوں پر جھک کر بلند آواز سے کہیں: ”خداوند یسوع، آپ اِس پر بھی بادشاہ ہیں۔“
ایک باریک نکتہ
اِس باب میں لفظ ”سجدہ“ تین بار آتا ہے، اور ہر بار مختلف دل کے ساتھ۔ مجوسی کہتے ہیں، ”ہم اُسے سجدہ کرنے آئے ہیں۔“ ہیرودیس وہی الفاظ دہراتا ہے، ”تاکہ مَیں بھی جا کر اُسے سجدہ کروں“، جبکہ اُس کا اصل ارادہ قتل ہے۔ اور پھر آیت 11 میں یہ لفظ عمل بن جاتا ہے: ”اوندھے منہ گر کر اُسے سجدہ کیا۔“ ایک ہی لفظ، تین بار: نیت، جھوٹ، اور حقیقت۔ متی خاموشی سے ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ عبادت کی زبان سیکھنا آسان ہے اور عبادت کرنا مہنگا۔ اور تحفوں میں شامل مُر یاد رہے: وہ خوشبو جو دفن کے وقت کام آتی ہے۔ گہوارے پر جھکنے والے نہ جانتے تھے کہ وہ اُس بادشاہ کے قدموں میں اُس کی قبر کی خوشبو رکھ آئے ہیں۔
مشکل سوال
یوسف کو خواب میں خبردار کیا گیا۔ بیت لحم کی باقی ماؤں کو نہیں۔ ایک بچہ بچا لیا گیا، باقی کٹ گئے، اور متی اِس کا کوئی جواز پیش نہیں کرتا۔ وہ یرمیاہ کا وہ فقرہ نقل کرتا ہے جو کھلا زخم ہے: راخل ”تسلی قبول نہیں کر رہی، کیونکہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔“ کوئی وضاحت نہیں، کوئی ”مگر خدا کا مقصد یہ تھا“ نہیں۔ اگر آپ نے کبھی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر آسمان سے حساب مانگا ہے، تو یہ آیت آپ کی طرف سے بولتی ہے، اور بائبل اُسے سنسر نہیں کرتی۔ ہمارے پاس صرف ایک بات ہے، اور وہ نعرہ نہیں بلکہ اشارہ ہے: جو بچہ اُس رات تلوار سے بچ نکلا، وہ تیس سال بعد خود تلوار کے آگے کھڑا ہو گیا اور ہٹا نہیں۔ خدا نے ماتم کو مٹایا نہیں؛ وہ اُس میں شامل ہو گیا۔
پس منظر
ہیرودیس روم کا مقرر کردہ ”یہودیوں کا بادشاہ“ تھا، ایسا حاکم جس نے اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں کو بھی تخت کے شک میں مروا دیا تھا۔ اُس کے کان میں ”حال ہی میں پیدا ہونے والا بادشاہ“ کے الفاظ موت کی گھنٹی تھے۔ بیت لحم چند سو نفوس کا گاؤں تھا، لہٰذا اُس فرمان کا شکار غالباً دو درجن بچے ہوئے: تاریخ کے لئے معمولی خبر، ماؤں کے لئے قیامت۔ مجوسی غالباً مشرق کے شاہی دربار کے ستارہ شناس تھے، غیرقوم، شریعت سے ناواقف، مگر اُن کے تحفے شاہی خراج کی زبان بولتے ہیں۔ مصر صدیوں سے جلاوطنوں کی پناہ گاہ اور بڑی یہودی آبادی کا مرکز تھا۔ اور ناصرت؟ گلیل کا ایک غیرمعروف قصبہ، جہاں سے کسی بھلائی کی توقع کوئی نہ رکھتا تھا۔ بادشاہ کا پتا وہی نکلا جو کسی کے حساب میں نہ تھا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ ایسا ہے جہاں آپ زبان سے ”سجدہ“ کہتے ہیں مگر عملاً ہیرودیس کی طرح اپنا تخت بچا رہے ہیں؟
متی راخل کے رونے کو بغیر تسلی کے نقل کرتا ہے۔ آپ اپنی زندگی کے کس نامکمل غم کو خدا کے سامنے بغیر جلدی کے جواب کے رکھنے کو تیار ہیں؟
Matthew 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 2 کا کیا مطلب ہے؟
متی 2 کس بارے میں ہے؟
متی 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Matthew 2 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
