متی 28
متن
ہفتے کا سبت گزر چکا ہے اور اتوار کی پَو پھٹتے ہی دو عورتیں قبر کی طرف نکلتی ہیں۔ زلزلہ، ایک فرشتہ، لُڑھکا ہوا پتھر، اور بے حس و حرکت پہرے دار۔ پیغام مختصر ہے: ”وہ یہاں نہیں ہے۔ وہ جی اُٹھا ہے۔“ عورتیں ڈر اور خوشی کے ملے جلے عالم میں دوڑتی ہیں، راستے میں خود خداوند اُن سے ملتا ہے۔ اُسی وقت شہر میں راہنما امام پہرے داروں کو بھاری رشوت دے کر ایک جھوٹی کہانی خرید رہے ہیں۔ آخر میں گلیل کے پہاڑ پر گیارہ شاگرد ہیں، سجدہ بھی ہے اور شک بھی، اور اُن کے سامنے ایک حکم: جاؤ، تمام قوموں کو شاگرد بناؤ۔
مرکزی بات
قیامت صرف ایک خوشخبری نہیں، ایک اقتدارِ اعلیٰ کا اعلان ہے۔ ”آسمان اور زمین کا کُل اختیار مجھے دے دیا گیا ہے۔“ یہ جملہ کسی مذہبی گوشے کی بات نہیں کرتا؛ یہ دفتر، بازار، گھر، سیاست، جسم اور وقت، سب پر دعویٰ ہے۔ اور غور کیجیے کہ اِس اختیار سے کیا نکلتا ہے: حکم نہیں کہ مخالفوں کو کچل دو، بلکہ یہ کہ جاؤ اور لوگوں کو شاگرد بناؤ۔ اور شاگردی کی تعریف بھی خود دی گئی ہے: ”اُنہیں یہ سکھاؤ کہ وہ اُن تمام احکام کے مطابق زندگی گزاریں جو مَیں نے تمہیں دیئے ہیں۔“ یعنی ایمان کا ثبوت اطاعت میں ڈھلی زندگی ہے، نہ کہ صرف ایک درست عقیدہ۔ اور اِس بوجھ کے نیچے ایک وعدہ رکھا گیا ہے: ”مَیں دنیا کے اختتام تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“
سلسلہ
”تمام قوموں“ کوئی نیا خیال نہیں۔ ابرہام سے وعدہ ہوا تھا کہ اُس کے وسیلے سے زمین کے سب گھرانے برکت پائیں گے، اور صدیوں تک اسرائیل اِس وعدے کو سنبھالے ہوئے تھا بغیر یہ جانے کہ یہ کیسے پورا ہوگا۔ یہاں پہاڑ پر وہ دروازہ کھلتا ہے۔ اور دانی ایل نے رات کے رویا میں ”ابنِ آدم“ کو دیکھا تھا جسے سلطنت اور اختیار دیا گیا تاکہ سب قومیں اُس کی خدمت کریں؛ متی جان بوجھ کر وہی الفاظ استعمال کرتا ہے، ”کُل اختیار مجھے دے دیا گیا ہے“۔ میں یہ دو حوالے اِس لیے دیتا ہوں کہ آپ دیکھ سکیں: یہ آخری باب کوئی خوش کن اختتام نہیں بلکہ اُس پرانی کہانی کا وہ موڑ ہے جس کا انتظار تھا۔
آئینہ
سب سے تکلیف دہ منظر قبر پر نہیں، شہر میں ہے۔ راہنما امام میٹنگ بلاتے ہیں اور ”پہرے داروں کو رشوت کی بڑی رقم دینے کا فیصلہ“ کرتے ہیں۔ سچائی کو دبانے کے لیے کوئی تلوار نہیں اُٹھائی گئی، صرف پیسہ اور ایک یقین دہانی: ”تم کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔“ یہی طریقہ آج بھی چلتا ہے۔ وہ رپورٹ جس میں ایک عدد ذرا سا گھما دیا گیا کیونکہ اِس سے بونس بڑھتا ہے۔ وہ میٹنگ جس میں آپ خاموش رہے حالانکہ آپ جانتے تھے کہ کس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ وہ خاندانی جھگڑا جس میں آپ نے ایک ایسا تاثر چھوڑا جو مکمل سچ نہیں تھا، مگر اُس نے آپ کو بے قصور دکھایا۔ ہر بار قیمت وہی ہوتی ہے: تھوڑا سا آرام، تھوڑی سی عزت، تھوڑی سی حفاظت۔ جی اُٹھے مسیح کے سامنے یہ سودے ننگے ہو جاتے ہیں، کیونکہ اُسی کے پاس کُل اختیار ہے، آپ کے باس کے پاس نہیں۔
آج ہی ایک ایسی بات چنیں جو آپ نے کسی کے سامنے آدھی سچی چھوڑ دی تھی، اور دس منٹ کے اندر اُس شخص کو ایک پیغام بھیج کر اُسے درست کر دیں، بغیر صفائی پیش کیے۔
سوال
سب سے مضبوط گواہ پہرے دار تھے۔ اُنہوں نے زلزلہ محسوس کیا، فرشتہ دیکھا، خالی قبر دیکھی، اور وہ ”لرزتے لرزتے مُردہ سے ہو گئے“۔ پھر بھی اُنہوں نے وہ سب بیچ ڈالا۔ یہاں ایک تلخ حقیقت کھلتی ہے: دیکھ لینا ایمان پیدا نہیں کرتا۔ ثبوت دل کو نہیں بدلتا اگر دل پہلے ہی کسی اور چیز کا خریدار ہو۔ متی اِسے آسان نہیں کرتا اور نہ ہی بتاتا ہے کہ اُن آدمیوں کا آخر کیا ہوا۔ ہم اکثر سوچتے ہیں، کاش خدا کوئی ناقابلِ انکار نشان دکھا دے، تو سب مان لیں گے۔ یہ باب اُس خیال کو توڑ دیتا ہے۔ نشان دیا گیا تھا؛ اُس کی قیمت لگا کر اُسے دفن کر دیا گیا۔ یہ راز ہماری سمجھ سے باہر ہے، مگر اِس سے ہماری ذمہ داری کم نہیں ہوتی، بڑھ جاتی ہے۔
ایک باریکی
آٹھویں آیت میں ایک عجیب جملہ ہے: عورتیں ”سہمی ہوئی لیکن بڑی خوش تھیں“۔ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ ایمان جب اصلی ہو تو خوف ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں دونوں ساتھ ساتھ دوڑ رہے ہیں۔ یہی اُن لوگوں کا حال ہے جو واقعی خدا کے کام میں قدم رکھتے ہیں: پیٹ میں گرہ اور سینے میں خوشی، ایک ہی وقت میں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پہاڑ پر ”کچھ شک میں پڑ گئے“ کے باوجود حکم سب کو ملتا ہے۔ خداوند نے پہلے اُن کے اندرونی حالات درست کرنے کا انتظار نہیں کیا۔ اگر آپ کسی ذمہ داری سے اِس لیے بھاگ رہے ہیں کہ آپ کے اندر ابھی مکمل یقین نہیں، تو یہ آیت آپ سے یہ بہانہ چھین لیتی ہے۔
پس منظر
جمعے کی شام جلدی میں تدفین ہوئی تھی، سبت نے سب کچھ روک دیا، اور اتوار کی صبح پہلا ممکنہ وقت تھا۔ قبر پر پہرہ خود اماموں کی درخواست پر پیلاطس نے بٹھایا تھا، یعنی سرکاری طاقت اُن کے ساتھ تھی؛ اُن کے پاس پیسہ بھی تھا اور گورنر تک رسائی بھی، ”ہم اُسے سمجھا لیں گے“۔ اِس کے مقابل خدا نے پہلی گواہی دو عورتوں کے سپرد کی، جن کی گواہی اُس زمانے کی عدالتوں میں وزن نہیں رکھتی تھی۔ اور ملاقات کی جگہ یروشلم کا ہیکل نہیں بلکہ گلیل کا ایک پہاڑ ہے، رومی سلطنت کا ایک دیہاتی کونہ۔ وہیں سے ”تمام قوموں“ کا حکم نکلتا ہے۔ خدا کا اختیار ہمیشہ مرکز سے نہیں، اکثر حاشیے سے کام کرتا ہے۔
غور و فکر
کس جگہ آپ نے خاموشی یا آدھے سچ کے بدلے سکون خریدا ہے، اور اُس کی اصل قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
اگر ”کُل اختیار“ واقعی مسیح کا ہے، تو آپ کے اس ہفتے کے کیلنڈر اور بجٹ میں کون سی ایک چیز بدلنی چاہیے؟
Matthew 28 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 28 کا کیا مطلب ہے؟
متی 28 کس بارے میں ہے؟
متی 28 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 28 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 28 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 28 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پہاڑ پر کھڑے شاگردوں میں سے کچھ شک میں تھے، اور عیسیٰ اُنہی کے پاس آیا۔ اُس نے پہلے کام نہیں سونپا بلکہ اپنا اختیار بتایا: ”مجھے آسمان اور زمین کا پورا اختیار دیا گیا ہے۔“ سوچ، تیری زندگی کا وہ کونا جہاں تُو بےبس محسوس کرتا ہے، کیا وہ آسمان اور زمین سے باہر ہے؟ تیرا شک اُس کے اختیار کو کم نہیں کرتا۔
خداوند، شکر ہے کہ جی اُٹھنے کے بعد تُو نے سب سے پہلے اُن عورتوں کو راستے میں جا ملا اور کہا، "سلام!" تیرا یہ سلام آج بھی میرے ڈر کو دور کرتا ہے۔ شکر کہ تُو زندہ ہے اور میں تیرے قدموں میں گر کر تجھے سجدہ کر سکتا ہوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
