بائبل کی تشریح

امثال 24

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

"جنہیں موت کے حوالے کیا جا رہا ہے اُنہیں چھڑا" — باب چوبیس کے بیچوں بیچ یہ حکم ایسے کھڑا ہے جیسے ہموار کھیت میں اچانک کوئی چٹان۔ اِس کے چاروں طرف ایک دانش مند باپ اپنے بیٹے کو سمجھا رہا ہے: شریروں سے حسد نہ کر، حکمت سے گھر بنا، مصیبت کے دن ڈھیلا نہ پڑ، دشمن کے گرنے پر دل میں جشن نہ منا، رب اور بادشاہ کا خوف مان۔ پھر "دانش مندوں کی مزید کہاوتیں" جُڑ جاتی ہیں: عدالت میں جانب داری بُری بات ہے، جھوٹی گواہی نہ دے، بدلہ لینے کی بات زبان پر نہ لا۔ اور آخر میں سُست آدمی کا اُجڑا ہوا باغ ایک خاموش تنبیہ بن کر سامنے آ جاتا ہے۔

اصل بات

اِس باب کی حکمت کوئی غیر جانب دار ہنر نہیں۔ آیت 12 پردہ اُٹھا دیتی ہے: "جو دل کی جانچ پڑتال کرتا ہے وہ بات سمجھتا ہے۔" یعنی زندگی کسی خالی جگہ میں نہیں گزرتی بلکہ ایک جانچنے والی نگاہ کے سامنے۔ اِسی لیے لاعلمی کا بہانہ یہاں نہیں چلتا؛ "ہمیں تو اِس کے بارے میں علم نہیں تھا" کہنا خود ایک مجرمانہ فیصلہ ہے۔ اور پھر دو مستقبل آمنے سامنے رکھ دیے جاتے ہیں: ایک طرف "تیرا مستقبل اچھا ہو گا"، دوسری طرف "بےدینوں کا چراغ بجھ جائے گا"۔ مگر فرق بےعیبی کا نہیں۔ راست باز بھی سات بار گرتا ہے؛ فرق یہ ہے کہ وہ ہر بار دوبارہ اُٹھایا جاتا ہے۔ یہی فضل کی ابتدائی جھلک ہے۔

وہ ڈور جو سب کو جوڑتی ہے

آیت 3 کہتی ہے: "حکمت گھر کو تعمیر کرتی ہے۔" امثال میں حکمت بار بار ایک شخصیت کی طرح بولتی ہے، اور نیا عہدنامہ مسیح کو خدا کی حکمت کہہ کر پکارتا ہے، وہی جو اپنا گھر یعنی خدا کا گھرانہ تعمیر کرتے ہیں۔ پھر آیت 11 پر غور کریں: جو لوگ "قصائی کی طرف ڈگمگاتے ہوئے" جا رہے ہیں، اُنہیں چھڑانے کا حکم ہے۔ انسانی تاریخ میں صرف ایک ہی ہستی ایسی تھی جو یہ بہانہ نہیں بنا سکتی تھی کہ "مجھے علم نہیں تھا"؛ اور اُس نے چھڑانے کا کام یوں کیا کہ خود قصائی کی طرف چل دیا۔ یہ زبردستی کی تمثیل نہیں، ایک نمونہ ہے: سات بار گر کر اُٹھنے والے راست باز کی تصویر اُس ایک راست باز میں اپنی انتہا کو پہنچتی ہے جو موت میں گرا اور تیسرے دن اُٹھ کھڑا ہوا۔

آئینہ

یہ باب آپ کی اُن خواہشوں کو بےنقاب کرتا ہے جو آپ دوسروں کے سامنے نہیں رکھتے۔ دفتر میں وہ بےایمان ساتھی جو آپ سے آگے نکل گیا، اور آپ کے دل میں حسد کی ہلکی سی جلن (آیت 1)۔ وہ رشتہ دار جس کا کاروبار بیٹھ گیا، اور آپ کی زبان پر ہمدردی مگر سینے میں چپکے سے اطمینان (آیت 17)۔ وہ پڑوسی جس کے بارے میں آپ نے ایک جملہ ایسا کہہ دیا جو بالکل درست نہیں تھا، مگر کام آ گیا (آیت 28)۔ اور وہ کام جسے آپ ٹالتے جا رہے ہیں، "تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے دے" کہتے ہوئے، جبکہ چاردیواری آہستہ آہستہ گر رہی ہے۔ آج ہی اُس شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس کی ناکامی پر آپ کے دل نے چپکے سے جشن منایا تھا، اور بلند آواز سے اُس کی برکت کے لیے دعا کریں۔

مشکل سوال

آیت 24 کھٹکتی ہے: "جو قصوروار سے کہے، 'تُو بےقصور ہے' اُس پر قومیں لعنت بھیجیں گی۔" مگر انجیل تو یہی اعلان کرتی ہے کہ خدا بےدین کو راست باز ٹھہراتا ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں؟ جواب کو سستا نہ کیجیے۔ خدا قصوروار سے یہ نہیں کہتے کہ "تُو بےقصور ہے"؛ صلیب پر قصور کا نام لیا گیا، گنا گیا، تولا گیا، اور پھر کسی اور کے کندھوں پر رکھ دیا گیا۔ انجیل عام معافی نہیں، بدل ہے۔ پھر بھی ایک گرہ باقی رہتی ہے: وہ منصف جسے لازماً سزا سنانی ہے، بری کرتے وقت بھی منصف کیسے رہتا ہے؟ کلام اِس کی پوری میکانکی وضاحت نہیں دیتا۔ یہاں ہمیں خاموش ہو کر صرف صلیب کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

کلام کی گواہی

آیت 29 کا جملہ، "جس طرح اُس نے میرے ساتھ کیا اُسی طرح مَیں اُس کے ساتھ کروں گا"، تقریباً لفظ بہ لفظ پولس رسول کے پاس دوبارہ سنائی دیتا ہے جب وہ رومیوں میں لکھتے ہیں کہ بدی کے بدلے بدی نہ کرو اور انتقام خدا پر چھوڑ دو۔ امثال جسے عقل مندی کہتی ہے، انجیل اُسے مسیح کی شکل دیتی ہے۔ اور آیت 16 کا فقرہ، کہ راست باز سات بار گر کر بھی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے، میکاہ نبی کی اُس دعا سے گونجتا ہے جہاں گرا ہوا بندہ دشمن سے کہتا ہے کہ میرے گرنے پر خوش نہ ہو، کیونکہ خداوند ہی مجھے اُٹھائے گا۔ اُٹھنا ہمیشہ کسی اور کے ہاتھ کا کام ہے۔

پہلے سننے والے

یہ الفاظ پہلے اُن نوجوانوں نے سنے جنہیں شہر کے دروازے میں، یعنی عدالت اور معاملات کی جگہ میں، ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ اُن کے لیے "عدالت میں جانب داری" کوئی اصولی بحث نہیں تھی بلکہ روزمرہ کا لالچ: ایک تحفہ، ایک رشتہ داری، اور فیصلہ بدل جاتا تھا۔ "رب اور بادشاہ کا خوف مان" اُس دنیا میں کہا گیا جہاں بغاوت کی سزا فوری اور بےرحم تھی۔ اور آیت 27، "پہلے باہر کا کام مکمل کر کے اپنے کھیتوں کو تیار کر، پھر ہی اپنا گھر تعمیر کر"، اُس جوان کے لیے بالکل ٹھوس ہدایت تھی جو شادی کرنے اور گھر بسانے جا رہا تھا: پہلے روزی کی بنیاد، پھر چھت۔ یہ حکمت مٹی، فصل اور بھوک سے نکلی تھی، کتابی نہیں تھی۔

غور و فکر

آیت 12 کے مطابق لاعلمی کوئی عذر نہیں۔ اِس وقت آپ کس کے بارے میں "مجھے تو پتا نہیں تھا" کہہ کر خود کو تسلی دے رہے ہیں؟

اگر راست باز کی پہچان یہ نہیں کہ وہ گرتا نہیں بلکہ یہ کہ وہ اُٹھایا جاتا ہے، تو آپ اپنے پچھلے گرنے کو کس نظر سے دیکھیں گے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Proverbs 24 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

امثال 24 کا کیا مطلب ہے؟
"جنہیں موت کے حوالے کیا جا رہا ہے اُنہیں چھڑا" — باب چوبیس کے بیچوں بیچ یہ حکم ایسے کھڑا ہے جیسے ہموار کھیت میں اچانک کوئی چٹان۔ اِس کے چاروں طرف ایک دانش مند باپ اپنے بیٹے کو سمجھا رہا ہے: شریروں سے حسد نہ کر، حکمت سے گھر بنا، مصیبت کے دن ڈھیلا نہ پڑ، دشمن کے گرنے پر دل میں جشن نہ منا، رب اور بادشاہ کا خوف مان۔ پھر "دانش مندوں کی مزید کہاوتیں" جُڑ جاتی ہیں: عدالت میں جانب داری بُری بات ہے، جھوٹی گواہی نہ دے، بدلہ لینے کی بات زبان پر نہ لا۔ اور آخر میں سُست آدمی کا اُجڑا ہوا باغ ایک خاموش تنبیہ بن کر سامنے آ جاتا ہے۔
امثال 24 کس بارے میں ہے؟
آیت 3 کہتی ہے: "حکمت گھر کو تعمیر کرتی ہے۔" امثال میں حکمت بار بار ایک شخصیت کی طرح بولتی ہے، اور نیا عہدنامہ مسیح کو خدا کی حکمت کہہ کر پکارتا ہے، وہی جو اپنا گھر یعنی خدا کا گھرانہ تعمیر کرتے ہیں۔ پھر آیت 11 پر غور کریں: جو لوگ "قصائی کی طرف ڈگمگاتے ہوئے" جا رہے ہیں، اُنہیں چھڑانے کا حکم ہے۔ انسانی تاریخ میں صرف ایک ہی ہستی ایسی تھی جو یہ بہانہ نہیں بنا سکتی تھی کہ "مجھے علم نہیں تھا"؛ اور اُس نے چھڑانے کا کام یوں کیا کہ خود قصائی کی طرف چل دیا۔ یہ زبردستی کی تمثیل نہیں، ایک نمونہ ہے: سات بار گر کر اُٹھنے والے راست باز کی تصویر اُس ایک راست باز میں اپنی انتہا کو پہنچتی ہے جو موت میں گرا اور تیسرے دن اُٹھ کھڑا ہوا۔
امثال 24 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آیت 24 کھٹکتی ہے: "جو قصوروار سے کہے، 'تُو بےقصور ہے' اُس پر قومیں لعنت بھیجیں گی۔" مگر انجیل تو یہی اعلان کرتی ہے کہ خدا بےدین کو راست باز ٹھہراتا ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں؟ جواب کو سستا نہ کیجیے۔ خدا قصوروار سے یہ نہیں کہتے کہ "تُو بےقصور ہے"؛ صلیب پر قصور کا نام لیا گیا، گنا گیا، تولا گیا، اور پھر کسی اور کے کندھوں پر رکھ دیا گیا۔ انجیل عام معافی نہیں، بدل ہے۔ پھر بھی ایک گرہ باقی رہتی ہے: وہ منصف جسے لازماً سزا سنانی ہے، بری کرتے وقت بھی منصف کیسے رہتا ہے؟ کلام اِس کی پوری میکانکی وضاحت نہیں دیتا۔ یہاں ہمیں خاموش ہو کر صرف صلیب کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
امثال 24 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ الفاظ پہلے اُن نوجوانوں نے سنے جنہیں شہر کے دروازے میں، یعنی عدالت اور معاملات کی جگہ میں، ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ اُن کے لیے "عدالت میں جانب داری" کوئی اصولی بحث نہیں تھی بلکہ روزمرہ کا لالچ: ایک تحفہ، ایک رشتہ داری، اور فیصلہ بدل جاتا تھا۔ "رب اور بادشاہ کا خوف مان" اُس دنیا میں کہا گیا جہاں بغاوت کی سزا فوری اور بےرحم تھی۔ اور آیت 27، "پہلے باہر کا کام مکمل کر کے اپنے کھیتوں کو تیار کر، پھر ہی اپنا گھر تعمیر کر"، اُس جوان کے لیے بالکل ٹھوس ہدایت تھی جو شادی کرنے اور گھر بسانے جا رہا تھا: پہلے روزی کی بنیاد، پھر چھت۔ یہ حکمت مٹی، فصل اور بھوک سے نکلی تھی، کتابی نہیں تھی۔
امثال 24 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر راست باز کی پہچان یہ نہیں کہ وہ گرتا نہیں بلکہ یہ کہ وہ اُٹھایا جاتا ہے، تو آپ اپنے پچھلے گرنے کو کس نظر سے دیکھیں گے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Proverbs 24 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 34

سست آدمی کا کھیت ایک ہی رات میں کانٹوں سے نہیں بھرا۔ وہ تو روز تھوڑی دیر سوتا رہا، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔ مگر نتیجہ اچانک آیا، "تیری غریبی ڈاکو کی طرح تجھ پر آ جائے گی۔" ٹالنا بےضرر لگتا ہے، لیکن جو کام تُو آج نہیں کرتا، وہ کل تجھ سے حساب مانگتا ہے۔ تیری زندگی میں کون سی دیوار خاموشی سے گر رہی ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں