امثال 1:7
متن
امثال کی پوری کتاب ایک ہی جملے پر ٹکی ہے: "حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔" یہ کوئی نصیحت نہیں بلکہ ایک بنیاد ہے، ایک دروازہ جس سے گزرے بغیر باقی سب کچھ محض ہوشیاری رہ جاتا ہے۔ سلیمان پہلی چھ آیتوں میں بتاتا ہے کہ یہ امثال کس لیے ہیں: بصیرت، راستی، انصاف، دیانت داری، سادہ لوح کے لیے ہوشیاری اور نوجوان کے لیے تمیز۔ پھر ساتویں آیت میں وہ اچانک رُک کر شرط رکھ دیتا ہے۔ یہ سارا خزانہ صرف اُس کے ہاتھ آئے گا جو رب کے سامنے جھکنے کو تیار ہے۔ اور جملے کا دوسرا حصہ اتنا ہی تیکھا ہے: "صرف احمق حکمت اور تربیت کو حقیر جانتے ہیں۔" یعنی حماقت علم کی کمی نہیں، رویّے کی بیماری ہے، تربیت کو ناپسند کرنے کا فیصلہ۔
مرکزی بات
یہ آیت دعویٰ کرتی ہے کہ علم اخلاق سے پہلے نہیں آتا، اور اخلاق خدا سے پہلے نہیں آتا۔ "رب کا خوف" خوف زدگی نہیں؛ یہ اُس ہستی کے سامنے کھڑے ہونے کا شعور ہے جو حقیقت کا مالک ہے اور جس کے سامنے میں جوابدہ ہوں۔ عبرانی میں یہاں خدا کا عہدی نام استعمال ہوا ہے، یعنی وہ خدا جس نے اسرائیل سے وعدہ باندھا؛ گویا خوف کسی اجنبی طاقت کا نہیں بلکہ اُس ربّ کا جو اپنے لوگوں کو جانتا ہے۔ اِس لیے یہ خوف محبت کو ختم نہیں کرتا، اُسے سنجیدہ بناتا ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسان کا غرور ٹوٹتا ہے: میں دنیا کو اپنی عقل سے ناپ نہیں سکتا، مجھے سیکھنے والا بننا پڑے گا۔ حکمت کوئی ہنر نہیں جو خرید لیا جائے؛ وہ ایک رشتے کا پھل ہے، اور اُس رشتے کی پہلی حرکت جھکنا ہے۔
مشترکہ دھاگا
امثال کا یہ دروازہ قرآنِ نجات کی پوری کہانی میں کھلتا ہے۔ تورات میں رب کا خوف ماننا اور اُس کے احکام پر چلنا ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں؛ اسرائیل کو سینا کے نیچے یہی سکھایا گیا کہ جوابدہی کے بغیر آزادی ضائع ہو جاتی ہے۔ ایوب کی کتاب پوری ایک تلاش ہے کہ حکمت کہاں ملے، اور آخر میں جواب یہی نکلتا ہے: خدا کا خوف ہی حکمت ہے۔ پھر اِسی باب میں حکمت خود بول اُٹھتی ہے، "حکمت گلی میں زور سے آواز دیتی، چوکوں میں بلند آواز سے پکارتی ہے۔" یہ پکارنے والی حکمت نئے عہدنامے میں ایک چہرہ اختیار کر لیتی ہے: مسیح، جس میں پولس کے مطابق حکمت اور علم کے سارے خزانے پوشیدہ ہیں۔ جو آیت سات میں جھکنے کا تقاضا ہے، وہ انجیل میں صلیب کے سامنے جھکنے کی صورت لے لیتا ہے۔
آئینہ
آپ شاید رب سے ڈرتے نہیں، مگر کچھ اور چیزوں سے ضرور ڈرتے ہیں: کارکردگی کی رپورٹ، لوگوں کی رائے، پیسے کا حساب جو مہینے کے آخر میں پورا نہیں ہوتا۔ خوف ختم نہیں ہوتا، صرف جگہ بدلتا ہے۔ اور آیت کا دوسرا حصہ اُس جگہ چبھتا ہے جہاں ہم سب حساس ہیں: تربیت یعنی اصلاح، سرزنش، وہ بات جو کوئی ہمیں منہ پر کہہ دے۔ آپ کے بیوی یا شوہر نے، کسی ساتھی نے، کسی بڑے نے پچھلے مہینے آپ کو کچھ کہا تھا اور آپ نے اندر ہی اندر اُسے رد کر دیا۔ امثال کہتی ہے یہ عقل مندی نہیں، حماقت کی ابتدا ہے۔ آج ہی وہ ایک جملہ کاغذ پر لکھیے جو کسی نے آپ کو تنبیہ کے طور پر کہا تھا اور آپ نے جھٹک دیا تھا، اور اُسے لکھ کر دعا میں رب کے سامنے رکھ دیجیے۔
سیاق و سباق
سلیمان کا دربار ایک بین الاقوامی دنیا میں سانس لیتا تھا۔ مصر اور بابل میں صدیوں سے ایسے مجموعے لکھے جا رہے تھے جن میں تجربہ کار استاد نوجوان درباری اہلکاروں کو زبان، معاملہ فہمی، ضبطِ نفس اور دیانت سکھاتے تھے۔ امثال کی ساخت اُسی دنیا کی ہے: "میرے بیٹے" کا انداز، باپ اور ماں کی تربیت، گلیوں اور شہر کے دروازوں کا منظر جہاں مقدمے نمٹتے اور سودے طے ہوتے تھے۔ مگر اسرائیل کی حکمت ایک فیصلہ کن نکتے پر الگ ہو جاتی ہے۔ دوسری قومیں کامیابی کو حکمت کا پیمانہ بناتی تھیں؛ یہاں پیمانہ ایک ہستی ہے۔ باب کے آگے کا منظر بھی یہی ہے: نوجوان کو گلی میں کھڑے ایسے ساتھی ملتے ہیں جو لُوٹ کے مال کی برابر تقسیم کا وعدہ کرتے ہیں۔ حکمت کا پہلا امتحان کتاب میں نہیں، گلی میں ہوتا ہے۔
بین المتونیت
زبور ایک سو گیارہ لفظ بہ لفظ یہی بات دہراتا ہے کہ حکمت کی ابتدا رب کا خوف ہے، مگر وہاں یہ مندر کی عبادت کے بیچ کہا گیا ہے: خوف اور حمد ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ واعظ کی کتاب اِسی جملے پر ختم ہوتی ہے، لیکن تب جب لکھنے والا ہر چیز کو بےفائدہ قرار دے چکا ہے؛ یعنی یہ خوف تب بھی قائم رہتا ہے جب زندگی کا حساب برابر نہ بیٹھے۔ اور یہیں تناؤ کھڑا ہوتا ہے: امثال کا صاف اصول کہ "جو میری سنے وہ سکون سے بسے گا" ایوب کی کہانی میں ٹوٹتا نظر آتا ہے، جہاں ایک خدا ترس آدمی سب کچھ کھو بیٹھتا ہے۔ کلام اِس تناؤ کو چھپاتا نہیں۔ اور یوحنا کا یہ کہنا کہ کامل محبت خوف کو نکال دیتی ہے اِس آیت کو منسوخ نہیں کرتا؛ وہ سزا کی دہشت ختم کرتا ہے، جوابدہی کی عزت نہیں۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا اصل کردار وہ رب ہے جو ایک ہی وقت میں خوف کے لائق اور تلاش کے قابل ہے۔ وہ چھپا ہوا دیوتا نہیں جس کا مزاج بھانپنا پڑے؛ وہ گلیوں میں چلّا رہا ہے، "جہاں سب سے زیادہ شور شرابہ ہے وہاں وہ چلّاچلّا کر بولتی" ہے۔ یہ خدا چپ نہیں، اصرار کرنے والا ہے۔ مگر باب کے آخر میں اُس کی آواز ایسی سخت ہو جاتی ہے کہ ہم جھجک جاتے ہیں: "جب تم پر آفت آئے گی تو مَیں قہقہہ لگاؤں گی۔" یہ بےرحمی نہیں، یہ اُس استاد کا لہجہ ہے جس نے بار بار ہاتھ بڑھایا اور بار بار انکار سنا۔ خدا کا صبر لامحدود پیشکش نہیں رکھتا؛ ایک وقت آتا ہے جب انسان اپنے ہی انتخاب کا پھل کھاتا ہے۔ اور یہی اُس کی سنجیدگی ہے: وہ ہمیں اتنا اہم سمجھتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کو حقیقی نتیجہ دیتا ہے۔
غور و فکر
کیا میرا خدا کے بارے میں تصور اتنا نرم ہو چکا ہے کہ اُس کے سامنے جوابدہی کا احساس باقی نہیں رہا، اور اِس کا اثر میرے روزمرہ فیصلوں پر کہاں دکھائی دیتا ہے؟
پچھلی بار کسی نے مجھے کب اصلاح کی بات کہی، اور میں نے اُسے سنا یا اپنے دفاع میں فوراً دلیل تیار کر لی؟
Proverbs 1:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
امثال 1:7 کا کیا مطلب ہے؟
امثال 1:7 کس بارے میں ہے؟
امثال 1:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
امثال 1:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
امثال 1:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Proverbs 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو نے کتنی بار مجھے پکارا اور میں نے سنی اَن سنی کر دی۔ معاف کر کہ میں اپنی مرضی میں اتنا مگن رہا کہ تیرا بڑھا ہوا ہاتھ بھی نظر نہ آیا۔ آج میرا دل نرم کر، مجھے سننے والے کان دے، اور جب تُو بلائے تو میں دیر نہ کروں۔
حکمت گلی کوچوں میں پکارتی رہی، اور لوگ گزرتے رہے۔ پھر مصیبت آئی تو وہی لوگ چلّانے لگے، لیکن لکھا ہے، ”اُس وقت وہ مجھے آواز دیں گے، لیکن مَیں جواب نہیں دوں گی، وہ مجھے ڈھونڈیں گے پر پائیں گی نہیں۔“ یہ سختی نہیں، یہ حقیقت ہے: جس آواز کو ہم بار بار ٹالتے ہیں، اُسے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ آج خدا تجھ سے کس بات میں بات کر رہا ہے جسے تُو ”بعد میں“ کہہ کر ٹال رہا ہے؟
حکمت گلیوں میں پکارتی ہے اور ایک ہی سوال دہراتی ہے: "اے سادہ لوح لوگو، تم کب تک اپنی سادہ لوحی سے محبت رکھو گے؟" غور کریں، حکمت یہ نہیں کہتی کہ تم نادان ہو، بلکہ یہ کہ تم اپنی نادانی سے محبت رکھتے ہو۔ کبھی ہم سچائی سے اِس لئے نہیں بھاگتے کہ وہ سمجھ نہیں آتی، بلکہ اِس لئے کہ وہ ہمیں بدل دے گی۔ آپ کس چیز کو جانے نہیں دینا چاہتے؟
یہی اُن سب کا انجام ہے جو ناجائز نفع کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ناجائز نفع اپنے مالک کی جان چھین لیتا ہے۔“ غور کر، لالچ کہتا ہے کہ میں تجھے کچھ دوں گا، مگر آخر میں وہ تجھ ہی سے لے لیتا ہے۔ جو پیسہ تُو نے کسی کی حق تلفی سے کمایا، وہ تیری جیب میں تو آ جاتا ہے، لیکن تیری نیند، تیرا سکون اور تیرا ضمیر ساتھ لے جاتا ہے۔ آج ایمانداری سے کمائی ہوئی تھوڑی سی روٹی زیادہ میٹھی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں