امثال 27
متن
یہ باب کوئی کہانی نہیں سناتا بلکہ زندگی کے دروازے پر کھڑا ہو کر ایک کے بعد ایک سوال پوچھتا ہے: تُو کل کے بارے میں کیوں شیخی مارتا ہے؟ تیری تعریف تیرے اپنے ہونٹ کیوں کرتے ہیں؟ جو دوست تجھے ضرب لگاتا ہے، کیا تُو اُسے اُس سے بہتر نہیں سمجھتا جو تجھے بوسے دیتا ہے؟ آخر میں یہ گلّے کی طرف مُڑتا ہے اور کہتا ہے: "احتیاط سے اپنی بھیڑبکریوں کی حالت پر دھیان دے، اپنے ریوڑوں پر خوب توجہ دے۔" یعنی بڑے بڑے دعووں سے ہٹ کر روزمرہ کی وفاداری کی طرف۔
مرکزی بات
حکمت کی کتاب یہاں خدا کا ذکر تقریباً نہیں کرتی، اور یہی اِس کی گہرائی ہے۔ امثال کا دعویٰ یہ ہے کہ خدا نے دنیا کو ایک ترتیب میں بنایا ہے، اور جو شخص اُس ترتیب کے خلاف چلتا ہے وہ خدا سے نہیں، اپنی ہی زندگی سے ٹکراتا ہے۔ کل پر شیخی مارنا صرف بداخلاقی نہیں، حقیقت سے انکار ہے: انسان وقت کا مالک نہیں۔ آنکھوں کا کبھی سیر نہ ہونا کوئی معاشی مسئلہ نہیں، ایک روحانی تشخیص ہے؛ متن اِسے موت اور پاتال کے ساتھ ایک ہی صف میں رکھتا ہے۔ خدا یہاں قانون دینے والا منصف سے زیادہ وہ کاریگر ہے جس نے زندگی کو ایسا بُنا ہے کہ تکبر اور لالچ اپنے اندر ہی اپنی سزا رکھتے ہیں۔
سلسلۂ کلام
آیت ۶ کا عبرانی لفظ جو "ملامت" کے لیے استعمال ہوتا ہے، توکَحَت، عدالت کی زبان سے آتا ہے: کسی کو اُس کے منہ پر سچ بتانا۔ امثال کہتی ہے کہ یہ محبت کی علامت ہے، چھپی ہوئی خاموش محبت سے بہتر۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر خداوند یسوع مسیح چلتے ہیں: وہ اپنے شاگردوں کی خوشامد نہیں کرتے، پطرس کو اُس کے انکار سے پہلے ہی خبردار کرتے ہیں، اور باغ میں اُنہیں ایک بوسہ دھوکے کے طور پر ملتا ہے۔ "نفرت کرنے والے کے متعدد بوسوں سے خبردار رہ" یہوداہ کے عمل میں مجسم ہو جاتا ہے۔ اور جو چرواہا اپنے ریوڑ کی حالت پر دھیان دیتا ہے، وہ تصویر اُس اچھے چرواہے تک جاتی ہے جو بھیڑوں کو نام لے کر جانتا ہے۔
آئینہ
یہ باب اُس چیز پر ہاتھ رکھتا ہے جسے ہم بڑی مہارت سے چھپاتے ہیں: اپنی تعریف خود کرنے کی عادت۔ آج یہ منبر سے نہیں، پروفائل سے ہوتی ہے؛ ہم کامیابی کی خبر اِس انداز میں سناتے ہیں کہ سننے والا مجبور ہو جائے کہ واہ کہے۔ آیت ۲ اِس پر کوئی رعایت نہیں دیتی۔ پھر آیت ۱۰ آتی ہے اور پوچھتی ہے کہ وہ دوستیاں کہاں گئیں جو آپ نے مصروفیت کے نام پر خاموشی سے مرنے دیں، وہ لوگ جو آپ کے والد کے دوست تھے اور اب صرف جنازوں میں یاد آتے ہیں۔ اور آیت ۲۳ آپ کے کام پر انگلی رکھتی ہے: بڑے منصوبے بنانا آسان ہے، اپنے "ریوڑ" یعنی بچوں، ماتحتوں، گھر کے حساب کتاب پر ہفتہ وار نظر رکھنا مشکل۔ دولت ہمیشہ قائم نہیں رہتی؛ وفاداری رہتی ہے۔
آج ہی اُس ایک شخص کا نام سوچیں جس نے کبھی آپ کو منہ پر سچ بتایا اور آپ کو بُرا لگا تھا۔ اُسے ابھی پیغام بھیجیں: "آپ نے مجھے جو سخت بات کہی تھی، وہ ٹھیک تھی۔ شکریہ۔"
بین المتون
یعقوب اپنے خط کے چوتھے باب میں اُن تاجروں کو جھنجھوڑتا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم آج یا کل فلاں شہر جا کر ایک سال تجارت کریں گے، اور وہ اُنہیں یاد دلاتا ہے کہ کل کیا ہو گا تم نہیں جانتے؛ یہ امثال ۲۷ کی پہلی آیت کی تقریباً لفظی بازگشت ہے، صرف اِس اضافے کے ساتھ کہ مسیحی اپنی ناواقفیت کو "اگر خداوند چاہے" کے الفاظ میں بدلتا ہے۔ اور گلتیوں کے دوسرے باب میں پولس رسول پطرس کو سب کے سامنے روکتا ہے؛ یہ کوئی بےادبی نہیں بلکہ آیت ۵ کا عملی نمونہ ہے: کھلی ملامت اُس مہذب خاموشی سے بہتر ہے جو کلیسیا کو اندر سے سڑنے دیتی ہے۔
پس منظر
یہ الفاظ اُن لوگوں نے سنے جن کی معیشت بینک میں نہیں، چراگاہ میں تھی۔ تاج اور خزانے بادشاہوں کے پاس تھے اور ہر نسل دیکھتی تھی کہ وہ کتنی جلدی ہاتھ بدلتے ہیں؛ مگر بکریوں کا دودھ، بھیڑوں کی اُون اور کاٹی ہوئی گھاس وہ دولت تھی جو محنت کے ساتھ دوبارہ اُگتی تھی۔ جب اُنہوں نے سنا کہ "قریب کا پڑوسی دُور کے بھائی سے بہتر ہے" تو یہ نصیحت نہیں، بقا کی بات تھی: ایسے معاشرے میں جہاں خاندان ہی تحفظ تھا، یہ کہنا کہ ایک وفادار ہمسایہ خون کے رشتے سے زیادہ کام آتا ہے، تقریباً باغیانہ تھا۔ اور آیت ۱۵ کی ٹپکتی چھت اُن کے لیے استعارہ نہیں، مٹی کی چھت کا حقیقی تجربہ تھی۔
سوال
آیت ۲۲ کھٹکتی ہے: احمق کو اُوکھلی اور موسل سے کوٹا بھی جائے توبھی اُس کی حماقت دُور نہیں ہوتی۔ تو کیا بعض لوگ ناقابلِ اصلاح ہیں؟ امثال یہاں نہ کوئی وعدہ دیتی ہے نہ امید کی گنجائش کھولتی ہے، اور یہ خاموشی جان بوجھ کر ہے۔ تجربہ اِس کی تصدیق کرتا ہے: ہم سب کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جسے تکلیف بھی نہیں بدل سکی۔ انجیل اِس دروازے کو زبردستی نہیں کھولتی؛ وہ صرف یہ کہتی ہے کہ جو انسان کے لیے ناممکن ہے وہ خدا کے لیے ممکن ہے۔ مگر یہ آیت ہمیں ایک بات سے روکتی ہے: یہ سمجھنے سے کہ کافی دباؤ، کافی تنقید یا کافی سزا کسی کا دل بدل دے گی۔ دل بدلنا ہمارا کام نہیں، اور یہی ہماری عاجزی کی جگہ ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون ہے جسے آپ نے کھلی ملامت کا حق دے رکھا ہے، اور اگر کوئی نہیں تو کیوں نہیں؟
آپ کا "ریوڑ" کون سا ہے جس کی حالت پر آپ نے پچھلے مہینے میں ایک بار بھی غور سے نظر نہیں ڈالی؟
Proverbs 27 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
امثال 27 کا کیا مطلب ہے؟
امثال 27 کس بارے میں ہے؟
امثال 27 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
امثال 27 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
امثال 27 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Proverbs 27 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو جانتا ہے کہ میرے دل میں کبھی غصہ سیلاب کی طرح اُٹھتا ہے اور حسد خاموشی سے جڑ پکڑ لیتا ہے۔ مجھے اِن سے بچا، کیونکہ میں اکیلا اِن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میرے دل کو ایسا بنا دے جو دوسروں کی خوشی میں خوش ہو سکے۔
اے خدا، تُو جانتا ہے کہ کچھ بوجھ پتھر اور ریت سے بھی زیادہ بھاری لگتے ہیں۔ جب کسی کی باتیں اور بے جا غصہ میرے دل کو تھکا دیتے ہیں، مجھے صبر دے اور ایسا نرم مزاج بخش کہ میں خود کسی اور کے لیے بوجھ نہ بنوں۔ میرا سہارا تُو ہی ہے۔
میرے بیٹے، دانش مند ہو کر میرے دل کو خوش کر، پھر مَیں اُسے جواب دے سکوں گا جو مجھے طعنہ دیتا ہے۔“ باپ کہہ رہا ہے کہ طعنہ دینے والوں کے سامنے میرا دفاع میری باتیں نہیں، تیری زندگی ہو گی۔ سوچ، تیرے روزمرہ کے فیصلے کسی کے دل کو خوشی دیتے ہیں یا شرمندگی؟ آسمانی باپ بھی تیری دانائی میں اپنی عزت دیکھتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
