بائبل کی تشریح

امثال 31

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

باب کا آغاز ایک ماں کی آواز سے ہوتا ہے۔ مسّا کا بادشاہ لموایل تخت پر ہے، مگر جو تعلیم ہم پڑھتے ہیں وہ درباری مشیروں کی نہیں، اُس کی ماں کی ہے: شراب اور شہوت سے ہوشیار، اور اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے۔ پھر اچانک منظر بدل جاتا ہے اور ایک نظم شروع ہوتی ہے، عبرانی حروفِ تہجی کی ترتیب میں، جو ایک ایسی عورت کی تعریف کرتی ہے جو کھیت خریدتی ہے، جہازوں کی طرح دُور سے روٹی لاتی ہے، غریبوں کے لئے مٹھی کھولتی ہے، اور جس کا چراغ رات کو بھی نہیں بجھتا۔ آخری سطر میں سب خوبیاں ایک جملے میں سمٹ جاتی ہیں: ”جو عورت اللہ کا خوف مانے وہ قابلِ تعریف ہے۔“

مرکزی بات

”مَیں تجھے کیا بتاؤں؟“ یہ سوال ایک ایسی ماں کے منہ سے نکلتا ہے جسے سب کچھ کہنا ہے۔ اور جو وہ کہتی ہے، وہ حیران کن ہے: بادشاہت کا پیمانہ فتح یا دولت نہیں بلکہ یہ ہے کہ بےزبان کو زبان ملی یا نہیں۔ آیت 8 میں شاہی منہ کھلتا ہے، آیت 20 میں گھریلو مٹھی کھلتی ہے۔ دونوں آدھے حصے ایک ہی لکیر پر چلتے ہیں۔ عبرانی میں اُس عورت کو ”اِشّت خَیِل“ کہا گیا ہے، یعنی طاقت یا فوجی قوت والی عورت؛ اُردو کا ”سُگھڑ“ اِس کی گرج کم کر دیتا ہے۔ حکمت یہاں خیال نہیں، گوشت پوست ہے: آٹا، اُون، کھیت، کمربند۔ خدا کا خوف کتابوں میں نہیں، صبح سویرے جاگنے میں دکھتا ہے۔

وہ دھاگا جو سب کو جوڑتا ہے

امثال کا آغاز ایک عورت کی پکار سے ہوتا ہے: حکمت گلیوں میں آواز دیتی ہے (امثال 8)، اور نوجوان سے کہتی ہے کہ اُسے اپنا لے۔ اب کتاب اُسی آواز کے مجسم ہو جانے پر ختم ہوتی ہے۔ یہ نظم محض ایک بیوی کی فہرستِ خوبیاں نہیں، بلکہ وہ تصویر ہے کہ خدا کے خوف میں جینا کیسا دکھتا ہے۔ اور یہاں پرانے عہدنامے کی ایک آہستہ سی پیش گوئی سنائی دیتی ہے: حکمت آخرکار ایک شخص کی شکل اختیار کرے گی۔ وہ جس نے اپنا منہ اُن کے لئے کھولا جو بول نہیں سکتے، جس کا چراغ گتسمنی کی رات میں نہ بجھا، جو موتیوں سے زیادہ قیمتی تھا اور پھر بھی بیچ دیا گیا۔ تشبیہ کو زبردستی نہ کھینچیں؛ مگر اِس نظم کی مہک مسیح کی طرف جاتی ہے۔

آئینہ

یہ نظم اُس سوال پر ہاتھ رکھتی ہے جس سے ہم بچتے ہیں: میرے گھر میں وہ محنت کون کرتا ہے جسے کوئی نہیں گنتا؟ کس کا چراغ رات کو جلتا رہا تاکہ آپ آرام سے سو سکیں؟ آیت 31 حکم ہے، مشورہ نہیں: ”اُسے اُس کی محنت کا اجر دو!“ اور ساتھ ہی یہ باب ہماری اُس پوشیدہ خواہش کو بھی بےنقاب کرتا ہے کہ تعریف خود ہمیں ملے۔ آیت 23 میں شوہر شہر کے دروازے پر عزت پاتا ہے، مگر نظم جانتی ہے کہ وہ عزت کس کی کمائی ہوئی ہے۔ آج ہی، دس منٹ کے اندر: اُس عورت کا نام لیں جس کی اَن دیکھی محنت پر آپ کی زندگی ٹکی ہے، اور اُس کے تین مخصوص کام گن کر، اُس کے سامنے یا پیغام میں، اُس کی تعریف کریں۔

سوال

کیا یہ نظم عورتوں کے لئے ایک ایسا پیمانہ نہیں جس کے نیچے وہ دب جائیں؟ کھیت خریدنا، نوکرانیاں رکھنا، ارغوانی لباس پہننا: یہ ایک خوشحال گھر کی تصویر ہے، اور دنیا کی اکثر عورتوں کے پاس خریدنے کو کھیت نہیں۔ نظم اِس کا جواب نہیں دیتی۔ مگر ایک بات توجہ طلب ہے: یہ نظم حکم نہیں، تعریف کا گیت ہے؛ یہ کہتی نہیں ”ایسی بن جاؤ“ بلکہ ”ایسی عورت کو اُس کا اجر دو“۔ اور آیت 30 تمام کارناموں کو ایک ہی جڑ پر لا کھڑا کرتی ہے: خدا کا خوف۔ پھر بھی ایک خلا رہ جاتا ہے جسے بھرنا بےایمانی ہوگی۔ وہ ”حکمت سے بات کرتی“ ہے، لیکن ہم اُس کا ایک جملہ بھی نہیں سنتے۔ اُس کی آواز اِس نظم میں خاموش ہے۔ کیوں؟ متن چپ ہے۔

دوسرے مقامات کی گونج

امثال 1:7 میں کتاب کا دروازہ کھلتا ہے: خدا کا خوف علم کا آغاز ہے۔ اکتیس باب بعد وہی جملہ دروازہ بند کرتا ہے، مگر اب نظریہ نہیں، ایک زندہ عورت کی صورت میں۔ کتاب خوفِ خدا سے شروع ہو کر خوفِ خدا پر ختم ہوتی ہے، اور درمیان میں آٹا، سَن اور کمربند ہیں۔ نیا عہدنامہ اِس گونج کو آگے بڑھاتا ہے: 1 پطرس 3 میں وہی تضاد ملتا ہے جو آیت 30 میں ہے، باہر کی سجاوٹ اور دل کی پوشیدہ زینت کے درمیان۔ ”دل فریبی، دھوکا اور حُسن پل بھر کا ہے۔“ یہ جملہ تلخ ہے، اور اِسے میٹھا کرنے کی ضرورت نہیں؛ ہر آئینہ ہمیں یہی بتاتا ہے، صرف زیادہ آہستگی سے۔

پہلے سننے والے

اِس نظم کے پہلے سامعین غالباً نوجوان مرد تھے، جنہیں حروفِ تہجی کی ترتیب میں یہ گیت یاد کرایا جاتا تھا، جیسے بچے پہاڑے یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں عورت کی قانونی حیثیت محدود تھی، اِس لئے ایک عورت کو کھیت خریدتے، کاروبار کا نفع ناپتے، اور سوداگروں سے سودا کرتے دیکھنا اُن کے لئے معمولی بات نہ تھی۔ ”شہر کا دروازہ“ عدالت اور عزت کی جگہ تھی؛ وہیں مرد فیصلے کرتے تھے۔ اور یہ نظم آخر میں اُسی دروازے پر ایک عورت کے کاموں کو اُس کی گواہی کے طور پر کھڑا کر دیتی ہے۔ اُن کے کانوں میں یہ محض گھریلو نصیحت نہیں تھی بلکہ ایک عوامی اعلان: جو خدا سے ڈرتی ہے، اُس کی ستائش شہر کے چوک میں ہوگی۔

غور و فکر کے سوالات

جس گھر یا جماعت میں آپ رہتے ہیں، وہاں کس کا چراغ رات کو جلتا رہتا ہے، اور اُس کی محنت کا اجر اب تک کیوں نہیں دیا گیا؟

آیت 8 کہتی ہے ”اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے۔“ آپ کے دائرے میں وہ کون ہے جس کی جگہ بولنے کا اختیار صرف آپ کے پاس ہے، اور آپ کیا سوچ کر خاموش رہتے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Proverbs 31 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

امثال 31 کا کیا مطلب ہے؟
باب کا آغاز ایک ماں کی آواز سے ہوتا ہے۔ مسّا کا بادشاہ لموایل تخت پر ہے، مگر جو تعلیم ہم پڑھتے ہیں وہ درباری مشیروں کی نہیں، اُس کی ماں کی ہے: شراب اور شہوت سے ہوشیار، اور اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے۔ پھر اچانک منظر بدل جاتا ہے اور ایک نظم شروع ہوتی ہے، عبرانی حروفِ تہجی کی ترتیب میں، جو ایک ایسی عورت کی تعریف کرتی ہے جو کھیت خریدتی ہے، جہازوں کی طرح دُور سے روٹی لاتی ہے، غریبوں کے لئے مٹھی کھولتی ہے، اور جس کا چراغ رات کو بھی نہیں بجھتا۔ آخری سطر میں سب خوبیاں ایک جملے میں سمٹ جاتی ہیں: ”جو عورت اللہ کا خوف مانے وہ قابلِ تعریف ہے۔“
امثال 31 کس بارے میں ہے؟
امثال کا آغاز ایک عورت کی پکار سے ہوتا ہے: حکمت گلیوں میں آواز دیتی ہے (امثال 8)، اور نوجوان سے کہتی ہے کہ اُسے اپنا لے۔ اب کتاب اُسی آواز کے مجسم ہو جانے پر ختم ہوتی ہے۔ یہ نظم محض ایک بیوی کی فہرستِ خوبیاں نہیں، بلکہ وہ تصویر ہے کہ خدا کے خوف میں جینا کیسا دکھتا ہے۔ اور یہاں پرانے عہدنامے کی ایک آہستہ سی پیش گوئی سنائی دیتی ہے: حکمت آخرکار ایک شخص کی شکل اختیار کرے گی۔ وہ جس نے اپنا منہ اُن کے لئے کھولا جو بول نہیں سکتے، جس کا چراغ گتسمنی کی رات میں نہ بجھا، جو موتیوں سے زیادہ قیمتی تھا اور پھر بھی بیچ دیا گیا۔ تشبیہ کو زبردستی نہ کھینچیں؛ مگر اِس نظم کی مہک مسیح کی طرف جاتی ہے۔
امثال 31 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کیا یہ نظم عورتوں کے لئے ایک ایسا پیمانہ نہیں جس کے نیچے وہ دب جائیں؟ کھیت خریدنا، نوکرانیاں رکھنا، ارغوانی لباس پہننا: یہ ایک خوشحال گھر کی تصویر ہے، اور دنیا کی اکثر عورتوں کے پاس خریدنے کو کھیت نہیں۔ نظم اِس کا جواب نہیں دیتی۔ مگر ایک بات توجہ طلب ہے: یہ نظم حکم نہیں، تعریف کا گیت ہے؛ یہ کہتی نہیں ”ایسی بن جاؤ“ بلکہ ”ایسی عورت کو اُس کا اجر دو“۔ اور آیت 30 تمام کارناموں کو ایک ہی جڑ پر لا کھڑا کرتی ہے: خدا کا خوف۔ پھر بھی ایک خلا رہ جاتا ہے جسے بھرنا بےایمانی ہوگی۔ وہ ”حکمت سے بات کرتی“ ہے، لیکن ہم اُس کا ایک جملہ بھی نہیں سنتے۔ اُس کی آواز اِس نظم میں خاموش ہے۔ کیوں؟ متن چپ ہے۔
امثال 31 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِس نظم کے پہلے سامعین غالباً نوجوان مرد تھے، جنہیں حروفِ تہجی کی ترتیب میں یہ گیت یاد کرایا جاتا تھا، جیسے بچے پہاڑے یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں عورت کی قانونی حیثیت محدود تھی، اِس لئے ایک عورت کو کھیت خریدتے، کاروبار کا نفع ناپتے، اور سوداگروں سے سودا کرتے دیکھنا اُن کے لئے معمولی بات نہ تھی۔ ”شہر کا دروازہ“ عدالت اور عزت کی جگہ تھی؛ وہیں مرد فیصلے کرتے تھے۔ اور یہ نظم آخر میں اُسی دروازے پر ایک عورت کے کاموں کو اُس کی گواہی کے طور پر کھڑا کر دیتی ہے۔ اُن کے کانوں میں یہ محض گھریلو نصیحت نہیں تھی بلکہ ایک عوامی اعلان: جو خدا سے ڈرتی ہے، اُس کی ستائش شہر کے چوک میں ہوگی۔
امثال 31 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آیت 8 کہتی ہے ”اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے۔“ آپ کے دائرے میں وہ کون ہے جس کی جگہ بولنے کا اختیار صرف آپ کے پاس ہے، اور آپ کیا سوچ کر خاموش رہتے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Proverbs 31 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 8

ایک ماں اپنے بیٹے بادشاہ کو یہی سکھاتی ہے: "اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے، اُن سب کے حق میں جو ضرورت مند ہیں۔" تخت اِس لئے نہیں ملا کہ اپنی بات منوائی جائے بلکہ اِس لئے کہ بےآواز لوگوں کی آواز بنی جائے۔ سوچ، تیرے آس پاس کون ہے جس کے حق میں کوئی نہیں بولتا؟ تیری خاموشی بھی ایک فیصلہ ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟