زبور 110
متن
داؤد ایک ایسا اعلان سنتا ہے جو عدالت کے دربار سے آتا ہے: ”رب نے میرے رب سے کہا، ’میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔‘“ اِس کے بعد یہ زبور دو تصویریں جوڑ دیتا ہے جو اسرائیل میں کبھی ایک شخص میں جمع نہیں ہوئی تھیں: ایک بادشاہ جس کی سلطنت صیون سے پھیلتی ہے اور جس کی قوم ”خوشی سے“ اُس کے پیچھے چلتی ہے، اور ایک امام جسے خدا نے قَسم کھا کر مقرر کیا، ”تُو ابد تک امام ہے، ایسا امام جیسا مَلِک صدق تھا۔“ آخری آیات میں یہ بادشاہ میدانِ جنگ میں قوموں کی عدالت کرتا ہے، اور تھکن کے باوجود راستے کی ندی سے پانی پی کر سر اُٹھائے آگے بڑھتا ہے۔
مرکزی بات
یہاں خدا کی بادشاہی کسی انسانی کوشش سے نہیں بنتی، بلکہ ایک تخت نشینی کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ ”میرے دہنے ہاتھ بیٹھ“ کا مطلب ہے: کام مکمل ہے، اب حکمرانی شروع ہے۔ اور غور کیجیے کہ دشمنوں کو زیر کرنے کا کام خود رب اپنے ذمے لیتا ہے؛ بادشاہ بیٹھتا ہے، خدا فتح دیتا ہے۔ یہی فضل کا ڈھانچہ ہے۔ دوسری طرف آیت 4 میں قَسم آتی ہے، اور عہد کی زبان میں قَسم وہ چیز ہے جو خدا اپنی ذات پر باندھ لیتا ہے: ”اِس سے پچھتائے گا نہیں۔“ کہانت اب موروثی نہیں، ابدی ہے۔ تخت اور قربان گاہ، اقتدار اور شفاعت، ایک ہی شخص میں جمع ہو جاتے ہیں، اور وہیں سے وہ عدالت بھی آتی ہے جس کی تصویر آیت 6 میں بےرحم حد تک واضح ہے۔
مشترکہ دھاگہ
اسرائیل میں تخت اور کہانت جان بوجھ کر الگ رکھے گئے تھے۔ بادشاہ یہوداہ کے قبیلے سے، امام لاوی کے، اور جس بادشاہ نے یہ حد پار کرنے کی کوشش کی اُسے سزا ملی۔ اِسی لیے آیت 4 ایک دراڑ ہے: خدا قَسم کھا کر ایک ایسے شخص کو امام ٹھہراتا ہے جو تخت پر بیٹھا ہے، اور وہ بھی لاوی کے نظام سے باہر، ملکِ صدق کی طرز پر، یعنی اُس پُراسرار شخصیت کی طرز پر جو ابرہام کے زمانے میں سالم کا بادشاہ اور خدا تعالیٰ کا کاہن تھا۔ داؤد کے خاندان میں ایسا کوئی پیدا نہ ہوا۔ یہ زبور اِس لیے ہمیشہ ہوا میں لٹکا رہا، ایک نامکمل وعدہ، یہاں تک کہ وہ آیا جو خود قربانی بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ نئے عہدنامے میں یہ زبور سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی عبارت ہے؛ یسوع نے خود فریسیوں سے پوچھا کہ داؤد اپنی اولاد کو ”میرا رب“ کیوں کہتا ہے، اور کسی کے پاس جواب نہ تھا۔
آئینہ
یہ زبور اُس خواہش کو بےنقاب کرتا ہے جو ہم میں سے اکثر پالتے ہیں: کہ ہم خود اپنے دشمنوں کا حساب چکائیں۔ وہ ساتھی جس نے دفتر میں آپ کا کام اپنے نام کر لیا، وہ رشتہ دار جس کی زبان نے خاندان کو کاٹ دیا، وہ بیماری جو آپ کے جسم کے اندر بیٹھی ہے، وہ قرض جو ہر مہینے سر اُٹھاتا ہے۔ ہم منصوبے بناتے ہیں، جواب تیار کرتے ہیں، راتوں کو دلائل دہراتے ہیں۔ آیت 1 اِس ساری مشقت کے سامنے ایک عجیب حکم رکھتی ہے: بیٹھ جا۔ مغلوب کرنا خدا کا کام ہے۔ یہ سستی کی دعوت نہیں، اعتماد کی ہے؛ اور ساتھ ہی ایک تنبیہ بھی، کیونکہ جو عدالت آیت 6 میں آتی ہے وہ ہمارے اپنے دلوں پر بھی گزر سکتی ہے۔ آج ایک کاغذ پر اُس شخص یا صورتِ حال کا نام لکھیے جس سے آپ لڑ رہے ہیں، آیت 1 بلند آواز میں پڑھیے، اور وہ کاغذ تہہ کر کے رکھ دیجیے۔
مرکزی کردار
اِس زبور کا اصل کردار وہ ”میرا رب“ ہے جسے دہنے ہاتھ بٹھایا جاتا ہے، مگر اُس کی تصویر دو رُخی ہے اور دونوں رُخ ہمیں بےچین کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ بیٹھا ہے، مطمئن، باوقار، انتظار کرتا ہوا؛ دوسری طرف وہ میدان میں ہے، گرد آلود، تھکا ہوا، ”راستے میں وہ ندی سے پانی پی لے گا۔“ یہ آخری آیت پورے زبور کی سب سے انسانی سطر ہے: فاتح کو پیاس لگتی ہے۔ وہ کوئی دُور بیٹھا دیوتا نہیں جو محفوظ فاصلے سے حکم چلاتا ہے، بلکہ وہ خود راستے پر چلتا ہے، جھک کر پانی پیتا ہے، اور پھر سر اُٹھاتا ہے۔ مسیح کے صلیب تک کے سفر اور پھر اُس کے جی اُٹھنے کو جاننے والے قاری کے لیے یہ تصویر اچانک بہت قریب آ جاتی ہے۔
بین المتون
پیدائش 14 میں ملکِ صدق محض چند آیات کے لیے نمودار ہوتا ہے، روٹی اور مَے لے کر، نہ باپ کا ذکر، نہ نسب نامہ، نہ موت کی خبر؛ پھر وہ غائب ہو جاتا ہے۔ عبرانیوں 7 اِسی خاموشی کو پکڑتا ہے اور دلیل دیتا ہے کہ ایسی کہانت وقت اور نسب سے بندھی ہوئی نہیں، اِس لیے ابدی ہے، اور یسوع کی شفاعت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ غور کیجیے کہ یہ زبور خود اپنی تشریح کا دروازہ کھولتا ہے: قَسم کا ذکر، ”اِس سے پچھتائے گا نہیں“، بتاتا ہے کہ یہ معاہدہ منسوخ ہونے والا نہیں۔ لاوی کے امام مرتے رہے اور بدلتے رہے؛ یہ امام نہ بدلتا ہے نہ مرتا ہے۔
پس منظر
یہ زبور غالباً کسی شاہی تقریب کے لیے لکھا گیا، شاید تخت نشینی کے موقع پر، جب نیا بادشاہ صیون میں خدا کے نام پر حکومت سنبھالتا تھا۔ قدیم مشرقِ قریب میں ”دہنے ہاتھ بیٹھنا“ محض عزت کی بات نہیں تھی؛ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے ولی عہد بادشاہ کے اختیار سے حکم چلاتا تھا۔ ”پاؤں کی چوکی“ بھی روزمرّہ کی تصویر تھی: فاتح بادشاہ مفتوح کی گردن پر پاؤں رکھتا تھا۔ اسرائیل ایک چھوٹی سی قوم تھی، بڑی سلطنتوں کے درمیان گھری ہوئی، اور یہ دعویٰ کہ اُس کے بادشاہ کی سلطنت قوموں تک پھیلے گی، سیاسی طور پر مضحکہ خیز لگتا تھا۔ یہی تناؤ زبور کو زندہ رکھتا ہے: ایک کمزور تخت، اور ایک ایسا وعدہ جو اُس تخت سے کہیں بڑا ہے۔
غور و فکر
آیت 1 کہتی ہے کہ دشمنوں کو زیر کرنا خدا کا کام ہے۔ آپ کی زندگی میں کون سی لڑائی ہے جو آپ نے اب بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھی ہے؟
آیت 4 کی قَسم ایک ایسے امام کی بات کرتی ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ آپ کے ایمان میں کون سی بات بدل جائے گی اگر آپ یقین کریں کہ کوئی اِس وقت آپ کے لیے شفاعت کر رہا ہے؟
Psalms 110 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 110 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 110 کس بارے میں ہے؟
زبور 110 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 110 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 110 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 110 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
