زبور 127
متن
زبور ۱۲۷ ایک مختصر مگر کاٹ دار گیت ہے۔ اِس کی ابتدا دو تصویروں سے ہوتی ہے: ایک گھر جو بنایا جا رہا ہے، اور ایک شہر جس کی پہرے داری ہو رہی ہے۔ دونوں صورتوں میں شاعر ایک ہی فیصلہ سناتا ہے، "اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے تو اُس پر کام کرنے والوں کی محنت عبث ہے۔" پھر وہ ہماری روزمرہ کی بھاگ دوڑ پر اُنگلی رکھتا ہے: صبح سویرے اُٹھنا، دن بھر مشقت، رات گئے تھک کر سو جانا، اور اِس سارے چکر کو بھی "عبث" کہتا ہے، کیونکہ خدا اپنے پیاروں کی ضروریات اُن کے سوتے میں پوری کر دیتا ہے۔ آخری تین آیتوں میں منظر بدل جاتا ہے: اولاد کوئی حادثہ یا بوجھ نہیں بلکہ رب کی طرف سے میراث اور اجر ہے، جوانی کے بیٹے سورمے کے ترکش میں تیروں کی مانند، اور وہ آدمی مبارک ہے جو شہر کے دروازے پر اِن کے ساتھ کھڑا ہو کر شرمندہ نہیں ہوتا۔
بنیادی بات
اِس زبور کا مرکز ایک لفظ ہے: عبث۔ یہ تین بار آتا ہے اور ہر بار انسان کی سب سے معزز سرگرمیوں پر گرتا ہے: تعمیر، حفاظت، اور محنت سے روزی کمانا۔ شاعر یہ نہیں کہہ رہا کہ کام کرنا بےکار ہے، ورنہ وہ اپنے ہی الفاظ کی نفی کرتا۔ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ کام کا نتیجہ کبھی بھی مزدور کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ یہاں تخلیق اور فضل ایک ہی نقطے پر ملتے ہیں: جیسے دنیا کو وجود میں لانا خدا کا کام تھا اور کسی نے اُس کی مدد نہیں کی، ویسے ہی ہر گھر، ہر شہر، ہر نسل بالآخر اُسی کے ہاتھ کا کام ہے۔ ہم شریک ہیں، خالق نہیں۔ اِسی لیے نیند اِس زبور میں ایمان کی علامت بن جاتی ہے۔ سونا وہ واحد کام ہے جو انسان کچھ کیے بغیر کرتا ہے؛ وہ لمحہ جب آپ کائنات کو اپنے بغیر چلنے دیتے ہیں۔ خدا اپنے پیاروں کو یہی سکھاتا ہے: عہد کے رشتے میں برکت اجرت نہیں، تحفہ ہے۔
مشترکہ دھاگا
عنوان میں سلیمان کا نام اتفاق نہیں۔ وہی آدمی جس نے یروشلم میں ہیکل تعمیر کی، یعنی وہ "گھر" جس کے لیے اُس کا باپ داؤد ترستا رہا، یہاں گا رہا ہے کہ گھر بنانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ۲-سموئیل ۷ میں یہی الٹ پھیر ہوتا ہے: داؤد خدا کے لیے گھر بنانا چاہتا ہے، اور خدا جواب دیتے ہیں کہ نہیں، میں تیرا گھر بناؤں گا، تیری نسل قائم کروں گا۔ عہد کی پوری کہانی اِسی جملے پر کھڑی ہے۔ اور یہی دھاگا سیدھا مسیح تک جاتا ہے، جس نے پطرس سے کہا کہ کلیسیا تُو نہیں، میں تعمیر کروں گا۔ نجات اِسی زبور کی منطق ہے: جو گھر ہم اپنے پسینے سے کھڑا کرتے ہیں وہ عبث ہے؛ جو گھر خدا اپنے بیٹے کے ذریعے بناتے ہیں وہ قائم رہتا ہے۔
آئینہ
یہ زبور اُس بےچینی کو ننگا کرتا ہے جو ہمیں صبح چار بجے جگا دیتی ہے: قرض، بچوں کا مستقبل، دفتر کی سیاست، والدین کی بیماری، وہ منصوبہ جو صرف آپ کے کندھوں پر ٹکا لگتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے تھوڑی دیر اور جاگ کر پہرا نہ دیا تو سب بکھر جائے گا۔ زبور اِس محنت کی مذمت نہیں کرتا، اُس کے گھمنڈ کی کرتا ہے۔ نیند اِس لیے کڑوی لگتی ہے کہ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ناگزیر نہیں۔ اور یہی خوشخبری ہے: آپ کے سونے کے دوران بھی خدا کام کر رہے ہیں۔ آج رات سونے سے پہلے ایک کاغذ پر وہ ایک ذمہ داری لکھیں جو آپ کو جگائے رکھتی ہے، اُس کے نیچے لکھیں "اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے"، کاغذ بند کر کے رکھ دیں اور سو جائیں۔
مرکزی کردار
اِس گیت کا اصل کردار مزدور یا باپ نہیں، رب ہے۔ وہ معمار ہے، وہ پہرے دار ہے، وہ دینے والا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ہمارے کام کو ختم نہیں کرتا، اُسے اپنے کام کے اندر رکھ لیتا ہے: مزدور پھر بھی گارا اُٹھاتے ہیں، پہرے دار پھر بھی دیوار پر کھڑے ہیں۔ خدا کو ہماری ضرورت نہیں، مگر وہ ہمیں شامل کرنا پسند کرتا ہے۔ اور اُس کا مزاج مالک جیسا نہیں بلکہ باپ جیسا ہے: وہ "پیاروں" کو سوتے میں دیتا ہے، یعنی اُس وقت جب اُن کے ہاتھ کھلے اور بےبس ہوں۔ یہ فضل کی سب سے صاف تصویر ہے جو پرانے عہدنامے میں ملتی ہے: برکت کارکردگی کا صلہ نہیں، رشتے کا تحفہ ہے۔
پہلے سامعین
یہ "زیارت کا گیت" ہے، اُن زائرین کا گیت جو سال میں تین بار یروشلم کی چڑھائی چڑھتے تھے۔ ذرا سوچیے: عید پر جانے کا مطلب تھا اپنا گھر، اپنے کھیت اور اپنا مویشی پیچھے چھوڑ دینا، بغیر پہرے کے۔ راستے میں یہ گیت گاتے ہوئے وہ خود کو یاد دلاتے تھے کہ جو شہر وہ چھوڑ آئے ہیں اُس کا اصل پہرے دار کوئی اور ہے۔ جلاوطنی کے بعد کی نسل کے لیے یہ اور بھی تیز تھا: وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے کہ ہیکل اور فصیل انسانی محنت سے گرتی اور صرف خدا کے حکم سے دوبارہ اُٹھتی ہے۔ اور جس معاشرے میں بڑھاپے کا کوئی سہارا نہ تھا، وہاں بیٹوں کو "میراث" کہنا مالی حساب نہیں بلکہ عہد کی زبان تھی۔
ایک باریک نکتہ
"جو اللہ کو پیارے ہیں" میں جو عبرانی لفظ ہے، وہ ہے یدید، یعنی محبوب، دل کا پیارا۔ یہی لفظ اُس نام میں چھپا ہے جو نبی ناتن نے سلیمان کو دیا تھا: یدیدیاہ، "رب کا پیارا"۔ یعنی زبور کا عنوان اور یہ فقرہ ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ وہ بادشاہ جس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی تعمیراتی مشینری تھی، ہزاروں مزدور، لبنان کا دیودار، سونا، اپنی پہچان اِن میں سے کسی چیز میں نہیں بلکہ اِس میں پاتا ہے کہ خدا اُسے پیارا رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا معمار گاتا ہے کہ اصل بات معمار ہونا نہیں، محبوب ہونا ہے۔ آپ کا نام بھی اِسی فہرست میں لکھا جا سکتا ہے، اور اُس کے لیے آپ کو کچھ تعمیر نہیں کرنا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا "گھر" ہے جسے آپ اکیلے کھڑا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اُسے رب کے حوالے کرنے سے آپ کو کس چیز کا ڈر ہے؟
اگر برکت اجرت نہیں بلکہ تحفہ ہے، تو آپ کے کام کرنے کے انداز میں کل صبح عملاً کیا فرق پڑنا چاہیے؟
Psalms 127 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 127 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 127 کس بارے میں ہے؟
زبور 127 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 127 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 127 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 127 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں