زبور 18
متن
داؤد ساؤل اور باقی تمام دشمنوں سے بچ نکلنے کے بعد ایک ہی جملے سے شروع کرتا ہے: "اے رب میری قوت، مَیں تجھے پیار کرتا ہوں۔" پھر وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے: موت کے رسّے، پاتال کے پھندے، وہ لمحہ جب پانی گلے تک آ چکا تھا اور اُس نے چیخ کر پکارا۔ اور خدا خاموش نہ رہا؛ زمین لرزی، آسمان جھکا، اولے اور بجلی برسی، اور "بلندیوں پر سے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس نے مجھے پکڑ لیا"۔ باقی زبور اِسی نجات کے دو رُخ کھولتا ہے: ایک طرف داؤد کا اپنی راست بازی اور صاف ہاتھوں کا دعویٰ، دوسری طرف جنگ کے میدان کی بےرحم زبان جس میں دشمن گرد کی طرح اُڑا دیئے جاتے ہیں۔ آخر میں سب کچھ ایک اقرار پر آ ٹھہرتا ہے: "رب زندہ ہے! میری چٹان کی تمجید ہو!"
مرکزی نکتہ
اِس زبور کا دل یہ ہے کہ نجات دینے والا خدا کوئی غیرجانبدار طاقت نہیں بلکہ ایک ایسا خدا ہے جو حرکت میں آتا ہے۔ داؤد چاہتا تو کہہ سکتا تھا کہ حالات بدل گئے، ساؤل مر گیا، سیاست نے پلٹا کھایا؛ مگر وہ کہتا ہے کہ آسمان جھکا اور ہاتھ نیچے آیا۔ یہی فرق ایمان اور خوش قسمتی میں ہے۔ اور یہ بات محض تسلی نہیں، اِس کے اخلاقی نتائج ہیں: اگر بچانے والا رب ہے تو میری زندگی کا محور اپنی حفاظت کا انتظام کرنا نہیں رہتا۔ آیت 27 اِسے بےرحمی سے کھول دیتی ہے: "تُو پست حالوں کو نجات دیتا اور مغرور آنکھوں کو پست کرتا ہے۔" یعنی وہی خدا جو تنگ جگہ سے نکالتا ہے، اُسی راستے پر مغرور کو نیچے لاتا ہے۔ نجات اور تادیب ایک ہی ہاتھ سے آتی ہیں، اور یہ ہاتھ آج بھی حرکت میں ہے۔
کلام کا مشترکہ دھاگا
زبور کا اختتام اتفاقی نہیں: "رب اپنے بادشاہ کو بڑی نجات دیتا ہے، وہ اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ داؤد اور اُس کی اولاد پر ہمیشہ تک مہربان رہے گا۔" یہ آخری آیت زبور کو ایک فرد کی یادداشت سے نکال کر عہد کے وعدے میں رکھ دیتی ہے۔ داؤد کی کہانی ایک نمونہ بن جاتی ہے: مسح کیا ہوا بادشاہ موت کے رسّوں میں جکڑا جاتا ہے، پکارتا ہے، اور خدا اُسے گہرے پانی سے کھینچ نکالتا ہے۔ یہی نمونہ صلیب اور قبر پر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، جہاں ایک اور مسح کیا ہوا شخص چیخا اور سنا گیا، اور جہاں زمین واقعی لرز اُٹھی۔ فرق یہ ہے کہ مسیح نے اپنے دشمنوں کو پاؤں تلے روندنے کے بجائے اُن کے لئے معافی مانگی، اور یوں اُس نجات کو کھول دیا جس کا داؤد صرف ایک پیش خیمہ تھا۔
آئینہ
یہ زبور آپ سے ایک سیدھا سوال پوچھتا ہے: جب گلے تک پانی آتا ہے، آپ کس کو پکارتے ہیں؟ ملازمت خطرے میں ہو تو ہم فوراً رابطے کھنگالتے ہیں؛ پیسہ کم پڑے تو دوسری نوکری ڈھونڈتے ہیں؛ کوئی ہمارے خلاف بات کرے تو ہم اپنی صفائی کا مقدمہ تیار کرتے ہیں۔ اِن میں سے کوئی بات گناہ نہیں، مگر داؤد جسے "چٹان، قلعہ، بلند حصار" کہتا ہے، ہم اکثر اپنے بینک بیلنس، اپنی قابلیت یا اپنی اچھی ساکھ کو بنا لیتے ہیں۔ اور آیت 27 وہیں چبھتی ہے: مغرور آنکھیں پست کی جاتی ہیں۔ خود کفالت اور ایمان بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں جب تک سب ٹھیک چل رہا ہو۔
آج دس منٹ نکالیں: ایک کاغذ پر وہ ایک ٹھوس چیز لکھیں جس کے بل بوتے پر آپ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں (رقم، عہدہ، وہ ایک رشتہ)۔ اُس کے نیچے لکھیں: "رب میری چٹان"۔ پھر دونوں جملے بلند آواز میں پڑھیں اور کاغذ پھاڑ دیں۔
ایک باریکی
آیت 35 جنگ کے شور میں ایک عجیب جملہ رکھتی ہے: "تیری نرمی نے مجھے بڑا بنا دیا ہے۔" عبرانی لفظ عَنَوَہ کا مطلب جھک جانا، فروتنی، نرمی ہے۔ ڈھال، دہنا ہاتھ، پیتل کی کمان، اور پھر یہ: بادشاہ کی عظمت اُس کی طاقت سے نہیں بلکہ خدا کے جھک جانے سے پیدا ہوئی۔ جو خدا آسمان جھکا کر نازل ہوا (آیت 9)، وہی داؤد کی طرف جھکا اور اُسے اُٹھایا۔ اِس ایک جملے کے بغیر یہ زبور فتح کا نعرہ رہ جاتا؛ اِس کے ساتھ یہ گواہی بن جاتا ہے۔ اور اِس کا اخلاقی نتیجہ سیدھا ہے: جو بڑائی خدا کی نرمی سے ملی ہو، اُسے سختی سے سنبھالنا ممکن نہیں۔ جو باپ، مالک یا رہنما یہ بھول جائے، وہ اپنی طاقت اُن پر آزمانے لگتا ہے جو جواب نہیں دے سکتے۔
کلام کے ساتھ کلام
یہی گیت تقریباً لفظ بہ لفظ ۲-سموئیل ۲۲ میں بھی درج ہے، وہاں داؤد کی زندگی کے اختتام پر۔ یعنی ایک ہی آدمی نے یہ الفاظ ایک سے زیادہ بار، مختلف عمروں میں دہرائے؛ گواہی کوئی جذباتی لمحہ نہیں تھی بلکہ ایک عادت۔ اور نئے عہد نامے میں پولس رومیوں ۱۵ میں اِسی زبور کی آیت 49 کا حوالہ دیتا ہے ("مَیں اقوام میں تیری حمد و ثنا کروں گا") تاکہ ثابت کرے کہ غیریہودی بھی خدا کی حمد میں شامل ہیں۔ داؤد نے یہ جملہ فتح یافتہ قوموں کے سامنے لکھا تھا؛ پولس اُسے اُن قوموں کے لئے پڑھتا ہے جو اب دشمن نہیں بلکہ بھائی ہیں۔ زبور کا دائرہ کھلتا ہے، اور ہمارا "دشمن" کا تصور بھی۔
ایک مشکل سوال
آیت 20 سے 24 تک داؤد اپنی راست بازی اور صاف ہاتھوں کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہی داؤد جو بعد میں بت سبع اور اوریاہ کے معاملے میں گرا۔ کیا یہ خود فریبی ہے؟ نہیں، مگر یہ بےگناہی کا دعویٰ بھی نہیں۔ داؤد اُس مخصوص جھگڑے کی بات کر رہا ہے: ساؤل کے خلاف اُس نے ہاتھ نہیں اُٹھایا، تخت زبردستی نہیں چھینا۔ اِس معاملے میں اُس کے ہاتھ واقعی صاف تھے۔ مگر آیات 37 سے 42 کی زبان اِس سے بھی مشکل ہے: دشمن گرد کی طرح اُڑائے اور کچرے کی طرح پھینکے جاتے ہیں۔ ہم اِسے میٹھا نہیں کر سکتے۔ صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ زبور خود انتقام کو خدا کے ہاتھ میں رکھتا ہے ("وہی خدا ہے جو میرا انتقام لیتا")، اور یہ کہ صلیب کے اِس طرف کھڑے ہو کر ہم یہ الفاظ اپنے پڑوسی کے خلاف نہیں دہرا سکتے۔ کچھ حصہ ایسا ہے جسے ہم سمجھنے سے پہلے مسیح کے حوالے کر دیتے ہیں۔
غور و فکر کے سوالات
پچھلی بار جب آپ واقعی تنگ جگہ میں پھنسے تھے، آپ نے سب سے پہلے کس کو فون کیا، اور یہ آپ کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
آپ کی زندگی میں کون سا شخص یا کون سا گروہ ہے جس کے لئے آپ خاموشی سے آیات 37 سے 42 والی دعا کرتے ہیں، اور مسیح اُس دعا کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟
Psalms 18 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 18 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 18 کس بارے میں ہے؟
زبور 18 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 18 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 18 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 18 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
