زبور 42:1
متن
زبور کی سرخی ہمیں بتاتی ہے کہ یہ گیت کس کا ہے اور کس کے لئے ہے: ”قورح کی اولاد کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔“ یعنی یہ کوئی نجی آہ نہیں جو کسی ڈائری کے کونے میں لکھی گئی ہو، بلکہ ایک ایسا نغمہ ہے جو جماعت کے سامنے گایا جانا تھا۔ اور پھر پہلی ہی سطر میں ایک منظر کھلتا ہے: خشک زمین پر ایک ہرنی، جو ندیوں کے تازہ پانی کے لئے تڑپتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بالکل اِسی طرح اُس کی جان خدا کے لئے تڑپتی ہے۔ ایک ہی جملے میں پیاس، بےقراری اور رُخ، تینوں چیزیں جمع ہو گئی ہیں۔ آگے چل کر یہی جان روتی، سوال کرتی اور اپنے آپ کو تسلی دیتی نظر آئے گی، مگر شروعات یہاں سے ہوتی ہے: ایک ایسی طلب جو جسمانی پیاس جتنی حقیقی ہے۔
اصل نکتہ
اِس ایک آیت میں انسان کے بارے میں ایک بنیادی بات کہی گئی ہے: ہماری روح کوئی خودکفیل چیز نہیں۔ جس طرح ہرنی کا بدن پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اُسی طرح انسان کی جان خدا کے بغیر محض بےچین نہیں ہوتی بلکہ مرنے لگتی ہے۔ شاعر یہ نہیں کہتا کہ وہ سکون، معنی یا مذہبی تجربے کا پیاسا ہے؛ اگلی آیت میں وہ صاف کرتا ہے کہ اُس کی جان ”زندہ خدا کی پیاسی ہے“۔ فرق اہم ہے۔ ہماری تمنائیں اکثر خدا کی نعمتوں پر رُک جاتی ہیں، مگر یہاں طلب کا نشانہ خود ذاتِ الٰہی ہے۔ اور غور کیجئے: یہ تڑپ ایمان کی کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ فضل کا کام ہے۔ جو خدا کو نہیں جانتا، وہ اُس کی کمی محسوس بھی نہیں کرتا۔ خالی پن کا احساس ہی اِس بات کا ثبوت ہے کہ کسی نے پہلے ہمیں چھوا ہے، اور یہی خالی پن آگے چل کر مسیح میں بھرا جانے کا انتظار کرتا ہے۔
سلسلۂ نجات کی ڈور
خشک زمین پر ہانپتی ہوئی ہرنی کی یہ تصویر پرانے عہدنامے میں ادھوری رہ جاتی ہے۔ شاعر پیاسا ہے، مگر کنواں اُس کی پہنچ سے باہر ہے؛ وہ ہیکل سے دور ہے اور بار بار پوچھتا ہے، ”مَیں کب جا کر اللہ کا چہرہ دیکھوں گا؟“ صدیوں بعد ایک اَور آواز عید کے دن یروشلم میں بلند ہوئی: اگر کوئی پیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پیئے (یوحنا ۷:۳۷)۔ خداوند یسوع مسیح نے یہ نہیں کہا کہ وہ پانی کی طرف راستہ بتائیں گے؛ اُنہوں نے خود کو چشمہ ٹھہرایا۔ اور ڈور یہیں ختم نہیں ہوتی۔ گتسمنی میں وہی مسیح فرماتے ہیں کہ میری جان نہایت غمگین ہے (متی ۲۶:۳۸)، جو اِسی زبور کی پانچویں آیت کی گونج ہے۔ یعنی مسیح نے پہلے اِس زبور کو اپنی جان پر برداشت کیا، تب ہماری پیاس بجھانے کے قابل ٹھہرے۔ نجات کا منصوبہ یہی ہے: وہ ہماری تشنگی میں اُترے تاکہ ہم اُن کی سیرابی میں شریک ہوں۔
آئینہ
پیاس بےوقوف نہیں ہوتی، مگر وہ جلد باز ہوتی ہے۔ جو بھی نزدیک ہو، ہم وہی پی لیتے ہیں۔ رات کو کام کے بعد فون کی روشنی، بچوں کی کامیابی سے ملنے والی عزت، بینک اکاؤنٹ کا وہ ہندسہ جسے دیکھ کر سانس ذرا آسان ہو جاتی ہے، یا کسی کی تعریف جو ہمیں دو دن تک زندہ رکھتی ہے۔ اِن میں سے کوئی بھی گناہ نہیں، مگر اِن میں سے کوئی بھی چشمہ نہیں۔ یہ زبور آپ سے یہ نہیں پوچھتا کہ آپ پیاسے ہیں یا نہیں؛ وہ پوچھتا ہے کہ آپ کس ندی پر جھکے ہوئے ہیں۔ اور اکثر ہم اِس لئے خدا کو نہیں ڈھونڈتے کہ ہم کھوکھلے پن سے ڈرتے ہیں، حالانکہ وہی کھوکھلا پن دعوت ہے۔
آج ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیے جس کی طرف آپ اِس ہفتے سب سے زیادہ بھاگے ہیں، پھر بلند آواز سے یہ آیت پڑھ کر وہ کاغذ خدا کے سامنے رکھ دیجئے۔
ایک باریک بات
عبرانی میں جس لفظ کا ترجمہ ”جان“ ہوا ہے وہ ہے نفش، اور اُس کا بنیادی مطلب گلا یا سانس کی نالی ہے۔ یہ محض شاعرانہ اتفاق نہیں۔ جب شاعر کہتا ہے ”میری جان تیرے لئے تڑپتی ہے“، تو وہ اپنی روح کے کسی مبہم اندرونی حصے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ اُس جگہ کی جہاں سے پانی اُترتا ہے اور جہاں سُوکھ سب سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔ ہرنی کا ہانپتا ہوا گلا اور انسان کی ترستی ہوئی جان ایک ہی لفظ میں مل جاتے ہیں۔ اِس سے تصویر بدل جاتی ہے: خدا کی طلب کوئی نفیس، دماغی خواہش نہیں، بلکہ بدن کی سطح پر محسوس ہونے والی ضرورت ہے، ویسی ہی سچی جیسی دوپہر کی دھوپ میں پانی کی۔
پس منظر
سرخی ”قورح کی اولاد“ کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی وہ خاندان جو ہیکل میں گلوکار اور دربان تھے۔ یہ نکتہ ساری نظم پر روشنی ڈالتا ہے: یہ آدمی کوئی عام عبادت گزار نہیں، وہ عبادت کا پیشہ ور تھا۔ اور اب وہ وہاں سے کٹ چکا ہے۔ چھٹی آیت میں وہ ”یردن کے ملک“ اور ”حرمون کے پہاڑی سلسلے“ کا ذکر کرتا ہے، یعنی ملک کے شمالی کنارے پر، یروشلم سے دور۔ چوتھی آیت میں وہ اُن جلوسوں کو یاد کرتا ہے جن میں وہ خود ہجوم کے بیچ نعرے لگاتا تھا۔ اُس دنیا میں ہیکل سے دوری کا مطلب صرف جغرافیائی فاصلہ نہ تھا بلکہ سماجی شرمندگی بھی: دشمن پورا دن طعنہ دیتے ہیں، ”تیرا خدا کہاں ہے؟“ پہلی آیت کی پیاس اِسی جلاوطنی کی مٹی سے اُگتی ہے۔
مرکزی کردار
یہ شخص ایک ایسا مومن ہے جو نہ خدا کو چھوڑتا ہے اور نہ اپنے دُکھ کو چھپاتا ہے۔ اُس کی خوبی یہ نہیں کہ وہ مضبوط ہے، بلکہ یہ کہ وہ اپنی کمزوری کے ساتھ کہیں اَور نہیں جاتا۔ وہ اپنی جان سے مخاطب ہوتا ہے، اُسے ڈانٹتا بھی ہے اور سمجھاتا بھی: ”اللہ کے انتظار میں رہ۔“ یہ ایمان کی وہ قسم ہے جو محسوسات پر نہیں، یاد پر کھڑی ہے۔ ساتھ ہی وہ خدا سے شکایت کرنے سے نہیں جھجکتا: ”تُو مجھے کیوں بھول گیا ہے؟“ یہی دو چیزیں ایک ساتھ رکھنا اِس زبور کی سب سے بڑی تعلیم ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر آگے چل کر خداوند یسوع مسیح خود چلے، تاکہ ہماری آہ بھی باپ کے کان تک پہنچے۔
غور و فکر کے سوالات
اِس ہفتے آپ کی جان جس چیز کے لئے سب سے زیادہ ”تڑپتی“ رہی، کیا وہ واقعی آپ کی پیاس بجھا سکتی ہے، یا صرف وقتی طور پر بھگو دیتی ہے؟
اگر مسیح نے خود گتسمنی میں اِس زبور کا غم اُٹھایا، تو آپ کے موجودہ خالی پن کے بارے میں وہ کیا جانتے ہیں جو کوئی اَور نہیں جانتا؟
Psalms 42:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 42:1 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 42:1 کس بارے میں ہے؟
زبور 42:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 42:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 42:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Psalms 42 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ جب لوگ طعنہ دیتے ہیں، ”تیرا خدا کہاں ہے؟“ تو مَیں خاموش رہنے کے بجائے اپنا دُکھ تیرے سامنے اُنڈیل سکتا ہوں۔ تُو میری ٹوٹی ہڈیوں کی کراہ سنتا ہے اور اُس وقت بھی میرے ساتھ ہے جب میری آنکھیں تجھے نہیں دیکھ پاتیں۔ تیری قربت کا شکریہ۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں