رومیوں 1:1
متن
پولس اپنا خط شروع کرتے ہوئے اپنا تعارف کراتا ہے: وہ مسیح عیسیٰ کا غلام ہے، رسول ہونے کے لیے بُلایا گیا ہے، اور اللہ کی خوش خبری کی منادی کے لیے الگ کیا گیا ہے۔ ایک ہی آیت میں تین پہچانیں: غلامی، بلاہٹ، اور مخصوصیت۔ یہ محض ادبی رسم نہیں، بلکہ پولس کی پوری زندگی کا نقشہ ہے، جسے وہ رومیوں کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ سمجھ لیں کہ جو لکھنے والا ہے، وہ کس کی ملکیت ہے، کس کے حکم پر چلتا ہے، اور کس کام کے لیے چھانٹا گیا ہے۔
مرکزی بات
آیت کے تین الفاظ ایک ترتیب رکھتے ہیں جسے نظرانداز کرنا آسان ہے۔ پہلے "غلام"، پھر "بُلایا گیا"، پھر "الگ کیا گیا"۔ پولس اپنی شناخت کی بنیاد اپنی قابلیت، نسب، یا تعلیم پر نہیں رکھتا، حالانکہ اُس کے پاس تینوں تھے۔ وہ اپنے آپ کو پہلے کسی کی ملکیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ اُس دنیا میں لکھا گیا جہاں غلام ہونا ذلت تھی، اور رسول ہونا اختیار۔ پولس دونوں کو ایک ہی سانس میں جوڑ دیتا ہے۔ اختیار غلامی سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اُس سے آزادی سے۔ یہاں مسیحی خدمت کی پوری الٰہیات کا بیج ہے: جو مسیح کا ہے، وہی دوسروں کے لیے کچھ کر سکتا ہے۔
بڑا سلسلہ
اللہ نے ہمیشہ لوگوں کو "الگ" کیا ہے۔ ابرہام کو اُس کے وطن سے، اسرائیل کو قوموں سے، لاویوں کو باقی قبیلوں سے، نبیوں کو عام زندگی سے۔ ہر بار مقصد ایک ہی رہا: ایک ذریعہ تیار کرنا جس کے وسیلے سے دنیا خدا کو جانے۔ پولس اُسی سلسلے میں کھڑا ہے، مگر ایک نئے موڑ پر۔ اب "الگ ہونا" کسی ایک قوم کے اندر نہیں، بلکہ قوموں کی طرف بھیجے جانے کے لیے ہے۔ اور مرکز میں مسیح ہے، وہ فرزند جو داؤد کی نسل سے آیا اور مُردوں میں سے جی اُٹھا (آیت 3-4)۔ پولس کی غلامی اُسی جی اُٹھے مالک کی غلامی ہے۔ پرانے عہد کی "مخصوصیت" یہاں مکمل ہو جاتی ہے: ایک شخص، مسیح کے لیے مخصوص، دنیا کے لیے بھیجا گیا۔
آئینہ
یہ آیت آپ کی ملکیت کے تصور پر ہاتھ رکھتی ہے۔ ہم مغربی تعلیم یافتہ لوگ "غلام" لفظ سے کتراتے ہیں، اور اِس کی جگہ "شراکت دار" یا "دوست" جیسے نرم الفاظ رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن پولس نے یہ لفظ چُنا۔ سوال یہ ہے: آپ کا وقت کس کا ہے؟ آپ کا کیریئر کس کے حکم پر چل رہا ہے؟ جب دفتر میں کوئی فیصلہ آپ کے اصولوں کو دبانے کو کہے، تو آپ کس کی سنتے ہیں؟ جب گھر میں تھکن کے بعد بچے آپ سے وقت مانگیں، تو آپ کس کے غلام کی طرح جواب دیتے ہیں، اپنی سہولت کے یا مسیح کے؟ پیسے، جسم، شہرت، سکون، ان سب پر کسی نہ کسی کی ملکیت لکھی ہوئی ہے۔ پولس کی آیت آپ سے پوچھتی ہے: آپ کے ماتھے پر کس کا نام ہے؟
آج ایک کام کیجیے: ایک کاغذ لیجیے، اُس پر لکھیے "آج کا دن مسیح کا ہے"، اور اُس کے نیچے ایک ایسا کام لکھیے جو آپ آج اپنی مرضی کے خلاف، مگر اُس کی مرضی کے مطابق کریں گے، اور شام سے پہلے کر ڈالیے۔
مرکزی کردار
پولس یہاں مرکز میں نہیں ہے، حالانکہ وہ اپنے بارے میں لکھ رہا ہے۔ یہ حیران کن ہے۔ آدمی جس نے کبھی سٹفنس کے قتل پر رضامندی دی تھی، جو کلیسیا کا ستانے والا تھا، اب اپنے آپ کو کسی کی ملکیت کہہ کر خوش ہے۔ یہ اُس شخص کا لہجہ ہے جس نے اپنی خودی کو کسی اور کے قدموں میں رکھ دیا اور اُس میں سکون پایا۔ اُس کی روحانی کیفیت میں تین چیزیں ایک ساتھ ہیں: عاجزی (میں غلام ہوں)، یقین (مجھے بُلایا گیا ہے)، اور واضح مقصد (مجھے الگ کیا گیا ہے)۔ زیادہ تر لوگ ان تینوں میں سے صرف ایک یا دو کو سنبھال پاتے ہیں۔ پولس تینوں کو ایک ہی جملے میں تھامے کھڑا ہے، اور یہی اُس کی طاقت کا راز ہے۔
سوال
اگر پولس کو بُلایا گیا، الگ کیا گیا، تو کیا سب کو ایسی مخصوص بلاہٹ ملتی ہے؟ اور اگر نہیں، تو مجھے کیسے پتا چلے کہ میں کس کام کے لیے "الگ" ہوں؟ یہ سوال آسان جواب نہیں رکھتا۔ ہر مسیحی رسول نہیں، اور ہر شخص کو آسمانی آواز نہیں سنائی دیتی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آیت 6 میں پولس رومیوں سے کہتا ہے کہ "آپ بھی عیسیٰ مسیح کے بُلائے ہوئے ہیں"۔ بلاہٹ ہر ایماندار کی ہے، اگرچہ اُس کی شکل مختلف ہے۔ شاید جواب یہاں ہے: خاص خدمت کا سراغ ڈھونڈنے سے پہلے، ملکیت کا سوال حل کرنا ہے۔ جب آپ واقعی کسی کے غلام بن جائیں، تو مالک آپ کو بتا دے گا کہ کہاں بھیجنا ہے۔
تفصیل
لفظ "الگ کیا گیا"، یونانی میں aphorismenos، اُسی جڑ سے آتا ہے جس سے فریسی۔ فریسی کا مطلب بھی "الگ کیا ہوا" ہے۔ پولس، جو کبھی فریسی تھا، اب بھی "الگ" ہے، لیکن ایک بالکل مختلف مقصد کے لیے۔ پہلے وہ قوموں سے دُور رہنے کے لیے الگ تھا؛ اب وہ قوموں تک پہنچنے کے لیے الگ ہے۔ یہ لفظ کی وہی کہانی ہے، مگر سمت الٹ چکی ہے۔ خدا اکثر ہماری پرانی پہچانوں کو ختم نہیں کرتا، اُنہیں الٹ دیتا ہے۔ آپ کی وہ خصوصیت جو کبھی دوسروں کو دُور رکھنے کے لیے تھی، مسیح میں دوسروں کو قریب لانے کا آلہ بن سکتی ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں کون سا حصہ ابھی تک "میرا اپنا" ہے، اور کیا آپ اُسے آج مسیح کی ملکیت میں دینے کو تیار ہیں؟
آپ کے ماضی کی کون سی "الگ ہونے" کی عادت خدا اب الٹ کر ایک نئے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے؟
Romans 1:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 1:1 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 1:1 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 1:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 1:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 1:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ناانصافی سے بےپروا نہیں۔ تیرا غضب آسمان پر سے ظاہر ہوتا ہے، اِس لئے ظلم کا آخری لفظ نہیں ہوتا۔ شکر کہ سچائی کو دبایا تو جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، اور تیری پاکیزگی ہمیں تیری رحمت کی طرف دوڑاتی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں