رومیوں 1
متن
پولس اپنے آپ کو روم کے لوگوں سے "مسیح عیسیٰ کا غلام" کہہ کر متعارف کراتا ہے، پھر فوراً اُس خوش خبری کا ذکر کرتا ہے جس کا وعدہ خدا نے نبیوں کی معرفت پہلے ہی کر رکھا تھا: داؤد کی نسل سے پیدا ہونے والا فرزند، جو مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے قدرت کے ساتھ اللہ کا فرزند ٹھہرا۔ اِس کے بعد وہ اپنی آرزو بیان کرتا ہے کہ روم آ کر اُن کے ایمان سے حوصلہ پائے اور دے، اور پھر پورے خط کا بنیادی اعلان کرتا ہے: وہ خوش خبری سے شرماتا نہیں، کیونکہ یہ نجات دینے والی خدا کی قدرت ہے۔ باب کا دوسرا حصہ اچانک تاریک ہو جاتا ہے: انسان نے خالق کو جان کر بھی اُس کا شکر ادا نہ کیا، اور خدا نے اُنہیں اُن کی اپنی خواہشوں کے حوالے کر دیا۔
مرکزی نکتہ
اِس باب میں تین بار "ظاہر" ہونے کی بات ہے: خوش خبری میں اللہ کی راست بازی ظاہر ہوتی ہے، آسمان پر سے اللہ کا غضب ظاہر ہوتا ہے، اور خدا کی ازلی قدرت مخلوقات میں ظاہر ہے۔ یعنی خدا چھپا ہوا نہیں؛ مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان "سچائی کو اپنی ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں"۔ اور غضب یہاں کوئی آسمانی غصے کا دھماکا نہیں۔ پولس اُسے تین بار ایک ہی فعل سے بیان کرتا ہے: خدا نے "چھوڑ دیا"۔ گناہ کی سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ خدا انسان کو وہی دے دے جو وہ ضد سے مانگتا رہا ہے۔ یہ بات اِس لیے تباہ کن نہیں کہ پولس پہلے ہی آیت 16 میں دوا کا نام لے چکا ہے۔ تشخیص صرف اُس شخص کے منہ سے سہنے لائق ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں علاج ہو۔
سنہری دھاگا
غور کیجیے کہ پولس خوش خبری کی تعریف کسی نظریے سے نہیں بلکہ ایک شخص سے کرتا ہے: "یہ پیغام اُس کے فرزند عیسیٰ کے بارے میں ہے۔" اور وہ اُسے زمین سے جوڑتا ہے: داؤد کی نسل۔ یہ اشارہ اُس قدیم وعدے کی طرف ہے جو خدا نے دوسرا سموئیل 7 میں داؤد سے کیا تھا کہ اُس کی نسل کا تخت ہمیشہ قائم رہے گا۔ صدیوں تک وہ وعدہ ادھورا لٹکا رہا؛ قیامت نے اُس پر مہر لگا دی۔ اِسی طرح آیت 17 میں پولس حبقوق نبی کا فقرہ اٹھاتا ہے، "راست باز ایمان ہی سے جیتا رہے گا"، جو اصل میں بابل کے حملے کے سائے میں لکھا گیا تھا۔ پولس کہہ رہا ہے: جو اصول اُس اندھیرے وقت میں زندگی کا راستہ تھا، وہی اب مسیح میں پورا ہوا ہے۔ انجیل کوئی نیا مذہب نہیں؛ یہ پرانے وعدے کا جسم پکڑ لینا ہے۔
آئینہ
آیت 21 کا الزام ملحد ہونا نہیں ہے۔ یہ ہے: "نہ اُس کا شکر ادا کیا"۔ یہ آپ کی اور میری زبان کا مقدمہ ہے۔ تنخواہ آئی اور ہم نے اپنی محنت کو داد دی۔ رپورٹ صاف آئی اور ہم نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا، خدا کا نہیں۔ بچہ سلامت گھر پہنچا اور ہم نے سکھ کا سانس لیا، سجدہ نہیں کیا۔ ناشکری کوئی چھوٹی کمزوری نہیں، پولس کے نزدیک یہی وہ دراڑ ہے جہاں سے پورا دل تاریک ہوتا ہے۔ اور آیات 29 تا 31 کی فہرست پڑھیے: حسد، چغلی، کینہ وری، شیخی۔ یہ بت پرست مندروں کی نہیں، ہمارے واٹس ایپ گروپوں اور کلیسیائی کمیٹیوں کی لغت ہے۔ آج ہی دس منٹ نکالیے: کاغذ پر پچھلے چوبیس گھنٹوں کی تین ٹھوس نعمتیں لکھیے اور تینوں پر بلند آواز میں خدا کا نام لے کر شکر ادا کیجیے۔
پس منظر
یہ خط غالباً 57 عیسوی کے آس پاس کُرِنتھس سے لکھا گیا، ایک ایسی کلیسیا کو جسے پولس نے نہ قائم کیا تھا نہ کبھی دیکھا تھا۔ روم میں سمراٹ کلودیوس نے کچھ سال پہلے یہودیوں کو شہر بدر کیا تھا؛ جب وہ لوٹے تو جماعت غیریہودی اکثریت کی ہو چکی تھی، اور دونوں گروہوں میں خاموش کشیدگی تھی۔ اِسی لیے پولس بار بار کہتا ہے "پہلے یہودیوں کو، پھر غیریہودیوں کو"۔ دوسری بات: روم عزت اور شرم کی ثقافت کا مرکز تھا۔ اِس شہر میں یہ اعلان کرنا کہ ایک مصلوب یہودی ہی خداوند ہے، سماجی خودکشی تھی۔ "مَیں تو خوش خبری کے سبب سے شرماتا نہیں" کوئی جذباتی نعرہ نہیں، یہ سلطنت کے دارالحکومت کے منہ پر کہی گئی بات ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، اور اُس کی دو حرکتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں: وہ ظاہر کرتا ہے، اور وہ چھوڑ دیتا ہے۔ یونانی فعل پَیرَاڈیڈومی، یعنی "حوالے کر دینا"، تین بار دہرایا گیا ہے۔ یہ خدا کی سب سے سنجیدہ کارروائی ہے: وہ انسان کی آزادی کو زبردستی نہیں توڑتا، وہ اُسے اُس کے اپنے انتخاب کے حوالے کر دیتا ہے۔ مگر سب سے حیران کن بات آیت 25 میں ہے۔ بت پرستی کے بیان کے عین بیچ میں پولس رک کر کہتا ہے، "جس کی تعریف ابد تک ہوتی رہے، آمین"۔ وہ خالق کا ذکر کرتے ہوئے اُسے برکت دیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انسان کی بغاوت کا بیان بھی اُس کے منہ میں حمد بن جاتا ہے۔
سوال
آیات 26 اور 27 آج سب سے زیادہ چبھتی ہیں، اور اُنہیں نرم کرنا بےایمانی ہوگی۔ مگر پولس کا نشانہ سمجھنا ضروری ہے۔ وہ یہ فہرست اِس لیے نہیں گنوا رہا کہ سننے والے سر ہلا کر کہیں "ہاں، وہ لوگ ایسے ہی ہیں"۔ اگلے ہی باب میں وہ انگلی گھما کر اُسی پڑھنے والے کی طرف کرے گا: تُو بھی وہی کرتا ہے۔ یہ باب آئینہ ہے، ہتھیار نہیں۔ پھر بھی سوال باقی رہتا ہے: اگر خدا لوگوں کو "چھوڑ دیتا" ہے، تو کیا کوئی واپسی کا راستہ ہے؟ متن یہاں دروازہ کھلا چھوڑتا ہے، اور اِسی خط میں آگے چل کر پولس وہی فعل دوبارہ استعمال کرے گا، مگر الٹے رخ: خدا نے اپنے فرزند کو ہم سب کے لیے حوالے کر دیا۔ جو خدا باغی کو اُس کی مرضی کے حوالے کرتا ہے، وہی خدا اپنے بیٹے کو ہماری جگہ حوالے کرتا ہے۔ یہ جواب ہر سوال نہیں سلجھاتا، مگر اندھیرے کی سمت بدل دیتا ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا شعبہ ہے جہاں آپ خدا کو جانتے تو ہیں مگر عملاً شکر ادا نہیں کرتے، اور وہاں آپ کی سوچ آہستہ آہستہ کس طرف جا رہی ہے؟
روم 1 پڑھتے ہوئے آپ کا دل خود بخود کس کی طرف اشارہ کرتا ہے، دوسروں کی طرف یا اپنی طرف، اور اِس ردِعمل سے آپ کو اپنے بارے میں کیا پتا چلتا ہے؟
Romans 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 1 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 1 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ناانصافی سے بےپروا نہیں۔ تیرا غضب آسمان پر سے ظاہر ہوتا ہے، اِس لئے ظلم کا آخری لفظ نہیں ہوتا۔ شکر کہ سچائی کو دبایا تو جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، اور تیری پاکیزگی ہمیں تیری رحمت کی طرف دوڑاتی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
