رومیوں 11
متن
پولس ایک سوال سے شروع کرتے ہیں جو اُن کے دل کو چیرتا ہے: کیا اللہ نے اپنی قوم کو رد کر دیا ہے؟ جواب دو ٹوک ہے، ”ہرگز نہیں!“ اور پھر وہ ایک لمبا، پیچیدہ راستہ چلتے ہیں: الیاس کے زمانے کا بچا ہوا حصہ، اسرائیل کی بےحسی، غیریہودیوں کا زیتون کے درخت میں پیوند ہونا، اور آخر میں ایک ”بھید“ کہ پورا اسرائیل نجات پائے گا۔ باب کا اختتام دلیل سے نہیں بلکہ سجدے سے ہوتا ہے: ”واہ! اللہ کی دولت، حکمت اور علم کیا ہی گہرا ہے۔“
مرکزی بات
الیاس کہتے ہیں، ”مَیں اکیلا ہی بچا ہوں“، اور اللہ جواب دیتے ہیں کہ سات ہزار مرد بچا لئے گئے ہیں۔ غور کریں: نبی کو اُن کا علم نہیں تھا۔ وہ اپنے دور کی روحانی حالت کا حساب لگا رہا تھا اور غلط نکلا، کیونکہ اللہ کا کام اُس کی نظر سے باہر بھی چل رہا تھا۔ یہی اِس باب کا مرکز ہے۔ فضل ہماری گنتی کے تابع نہیں۔ ”اور چونکہ یہ اللہ کے فضل سے ہوا ہے اِس لئے یہ اُن کی اپنی کوششوں سے نہیں ہوا۔ ورنہ فضل فضل ہی نہ رہتا۔“ پولس کوئی نظام نہیں بنا رہے؛ وہ اُس خدا کی وفاداری کے سامنے کھڑے ہیں جو اپنے بُلاوے سے پیچھے نہیں ہٹتا، خواہ انسان ہٹ جائے۔
بنیادی سلسلہ
زیتون کا درخت ایک ہی ہے۔ یہ بات ہمارے سوچنے کے انداز کو توڑ دیتی ہے، کیونکہ ہم عموماً دو الگ کہانیاں تصور کرتے ہیں: پرانی قوم اور نئی کلیسیا۔ پولس ایسا نہیں کہتے۔ جڑ وہی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا عہد ہے، اور غیریہودی ایمان دار اُس جڑ سے ”رس اور تقویت“ پاتے ہیں۔ مسیح اِس درخت کے باہر سے نہیں آتے؛ وہ صیون سے آنے والا چھڑانے والا ہیں جو ”بےدینی کو یعقوب سے ہٹا دے گا“۔ نجات کی پوری کہانی اِسی ایک جڑ سے پھوٹتی ہے، اور صلیب اُس عہد کا انکار نہیں بلکہ اُس کی تکمیل ہے۔ اِس لئے ہماری مسیحی شناخت کسی نئی ابتدا پر نہیں، ایک قدیم وفا پر ٹکی ہے۔
آئینہ
”اپنے آپ پر فخر نہ کریں بلکہ خوف رکھیں۔“ یہ جملہ ہمیں بےچین کرنے کے لئے لکھا گیا ہے۔ ہم سب اپنے ایمان کو کسی نہ کسی طرح اپنی کامیابی سمجھنے لگتے ہیں: میں نے صحیح چرچ چنا، میں نے بائبل پڑھی، میرے بچے ایمان میں ہیں اور اُس پڑوسی کے نہیں۔ جہاں کہیں ہم دوسروں کی روحانی حالت پر رائے دیتے ہوئے اندر سے ہلکا سا سکون محسوس کرتے ہیں، وہاں شاخ اپنی جڑ کو بھول رہی ہے۔ پولس یاد دلاتے ہیں: ”آپ جڑ کو قائم نہیں رکھتے بلکہ جڑ آپ کو۔“ آج ایک کام کریں: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس کے بارے میں آپ نے دل میں فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ایمان سے دُور ہے، اور اُس نام کے ساتھ بلند آواز میں کہیں، ”اللہ ایسا کرنے پر قادر ہے۔“
ایک باریک بات
آیت 24 میں ایک عجیب فقرہ ہے: اللہ نے جنگلی شاخ کو ”قدرتی قوانین کے خلاف“ اصل درخت پر لگایا۔ کوئی باغبان ایسا نہیں کرتا۔ عام طور پر اچھی شاخ کو جنگلی درخت پر لگایا جاتا ہے تاکہ پھل بہتر ہو۔ پولس جان بوجھ کر تصویر اُلٹ دیتے ہیں، کیونکہ اللہ کا کام باغبانی کے اصولوں سے نہیں بلکہ اُس کے رحم سے چلتا ہے۔ اور پھر وہ دلیل دیتے ہیں: اگر اُس نے ناممکن کام کیا، تو ٹوٹی ہوئی اصل شاخوں کو واپس لگانا اُس کے لئے ”کتنی زیادہ آسانی سے“ ہو گا۔ یہاں رُک جائیں۔ آپ کی زندگی میں جو چیز ٹوٹ کر الگ پڑی ہے، اُس کے بارے میں یہ جملہ کیا کہتا ہے؟
کلام کی گونج
آیت 32 غیر معمولی ہے: ”اُس نے سب کو نافرمانی کے قیدی بنا دیا ہے تاکہ سب پر رحم کرے۔“ یہی منطق رومیوں 3 میں پہلے آ چکی ہے، جہاں پولس ثابت کرتے ہیں کہ کوئی راست باز نہیں، نہ یہودی نہ غیریہودی؛ وہاں سب کا مجرم ٹھہرنا فضل کا دروازہ کھولتا ہے۔ اور آیت 33 کی حیرت ایوب کی کتاب کے آخری بابوں کی گونج ہے، جہاں ایوب کے تمام سوالوں کا جواب دلیل نہیں بلکہ خدا کی عظمت کا مشاہدہ ہے۔ دونوں جگہ نتیجہ ایک ہی ہے: انسان کی سمجھ کی حد وہ دیوار نہیں جہاں ایمان ٹوٹتا ہے، بلکہ وہ چوکھٹ ہے جہاں عبادت شروع ہوتی ہے۔
سوال
آیت 26 کا مطلب کیا ہے؟ ”پورا اسرائیل نجات پائے گا“ کہنے والا وہی شخص ہے جو دو آیات پہلے بےحسی اور ٹوٹی شاخوں کی بات کر رہا تھا۔ کیا اِس کا مطلب ہر یہودی ہے؟ ایک بڑی تعداد؟ ایمان لانے والوں کی جماعت؟ صدیوں سے سنجیدہ قاری اِس پر بحث کرتے آئے ہیں، اور ایمانداری یہ ہے کہ ہم کہیں: پولس خود اِسے ”بھید“ کہتے ہیں۔ بھید وہ چیز نہیں جسے ہم حل کر لیں بلکہ وہ جسے اللہ نے اُتنا ہی کھولا جتنا ہمارے لئے ضروری تھا۔ اور یاد رکھیں کہ پولس نے یہ بھید ہمیں معلومات دینے کے لئے نہیں بتایا، بلکہ اِس لئے ”کیونکہ یہ آپ کو اپنے آپ کو دانا سمجھنے سے باز رکھے گا“۔ جہاں ہم وضاحت مانگتے ہیں، وہاں کلام ہمیں عاجزی دیتا ہے۔ یہ سستی تسلی نہیں؛ یہ اُس خدا کے سامنے خاموشی ہے جس کی راہوں کا کھوج کوئی نہیں لگا سکتا۔
غور و فکر
الیاس کی طرح آپ نے کہاں یہ فرض کر لیا ہے کہ آپ ”اکیلے ہی بچے“ ہیں، اور اللہ کے وہ سات ہزار کون ہو سکتے ہیں جو آپ کی نظر سے چھپے ہیں؟
آپ کے ایمان میں کون سی بات ایسی ہے جسے آپ خاموشی سے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اور اگر وہ واقعی جڑ کا رس ہے تو آپ کا رویہ کیسے بدلے گا؟
Romans 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 11 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 11 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں بالکل اکیلا رہ گیا ہوں، جیسے ایلیاہ نے تیرے سامنے اپنا دل کھولا تھا۔ میرا ڈر اور تھکن تجھ سے چھپی نہیں۔ مجھے یاد دلا کہ تو نے اپنے لوگ رکھے ہیں اور میں تنہا نہیں۔ تیری موجودگی میرا سہارا ہو۔
غرض جو کچھ اسرائیل ڈھونڈتا رہا وہ اُس نے نہیں پایا۔“ سوچیں، اِتنی محنت، اِتنی کوشش، اور پھر بھی خالی ہاتھ۔ کیونکہ وہ راستبازی کو کمانا چاہتے تھے، اور خدا اُسے مفت دینا چاہتا تھا۔ کہیں آپ بھی تو خدا کی قبولیت کو اپنی نیکی سے خریدنے کی کوشش میں تھکے ہوئے نہیں؟ جو چیز آپ ڈھونڈ رہے ہیں، وہ مسیح آپ کے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ بس ہاتھ کھولنا سیکھیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
