بائبل کی تشریح

رومیوں 8:38

بائبل

متن

پولس رسول اپنی دلیل کو ایک ذاتی گواہی کے ساتھ ختم کرتے ہیں: ”مجھے یقین ہے کہ ہمیں اُس کی محبت سے کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔“ پھر وہ ایک فہرست گناتے ہیں، جوڑوں کی صورت میں، جیسے کوئی کائنات کے چاروں کونے ناپ رہا ہو: نہ موت اور نہ زندگی، نہ فرشتے اور نہ حکمران، نہ حال اور نہ مستقبل، نہ طاقتیں۔ یہ وہ سب قوتیں ہیں جن سے قدیم دنیا کا انسان سب سے زیادہ ڈرتا تھا، اور پولس ایک ایک کر کے اُنہیں مسترد کرتے ہیں۔ آیت ۳۵ کا سوال ”کون ہمیں مسیح کی محبت سے جدا کرے گا؟“ یہاں جواب پا لیتا ہے: کوئی نہیں، نہ آسمان پر، نہ زمین پر، نہ وقت کے کسی کنارے پر۔

بنیادی بات

غور کیجیے کہ پولس یہ نہیں کہتے کہ ہمیں دُکھ نہیں پہنچے گا۔ چند آیتیں پہلے وہ زبور ۴۴ سے وہ تلخ سطر نقل کرتے ہیں: ”تیری خاطر ہمیں دن بھر موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“ وہ زبور شکایت کا گیت ہے، ایک ایسی قوم کی پکار جو وفادار رہی مگر پھر بھی کچلی گئی۔ پولس اُس شکایت کو مٹاتے نہیں، اُسے اپنے یقین کی بنیاد میں چن دیتے ہیں۔ یہی اِس آیت کا دل ہے: محبت سے جدائی کا سوال حالات سے طے نہیں ہوتا بلکہ اُس فیصلے سے جو خدا نے صلیب پر کیا (آیت ۳۲)۔ یونانی میں ”مجھے یقین ہے“ ایک ایسا فعل ہے (پیپیسمائی) جو کہتا ہے: مجھے قائل کر دیا گیا ہے۔ یہ خود پیدا کی ہوئی ہمت نہیں، کسی اَور کے کام کا نتیجہ ہے۔

مشترکہ دھاگا

آیت ۳۸ کا یقین آیت ۳۲ کے فقرے پر ٹِکا ہے: ”اُس نے اپنے فرزند کو بھی دریغ نہ کیا۔“ یہ الفاظ اتفاقیہ نہیں۔ پیدایش ۲۲ میں موریاہ کے پہاڑ پر فرشتہ ابراہیم سے یہی بات کہتا ہے کہ تُو نے اپنے بیٹے، اپنے اکلوتے کو مجھ سے دریغ نہ کیا۔ پولس وہی تعبیر اُٹھا کر خدا پر لگا دیتے ہیں۔ ابراہیم کا ہاتھ روک لیا گیا تھا؛ باپ کا ہاتھ نہیں روکا گیا۔ گویا جو قربانی موریاہ پر ادھوری رہ گئی، وہ گلگتا پر پوری ہوئی۔ اِسی لیے پولس یہ نہیں کہتے کہ اُنہیں اپنے جذبات پر بھروسا ہے۔ اُن کے یقین کی جڑ تاریخ کے ایک واقعے میں ہے: خدا نے وہ دے دیا جو سب سے مہنگا تھا، اِس لیے باقی سب کچھ دینے سے وہ کیوں ہچکچائے گا؟

آئینہ

آپ کے ڈر کی فہرست شاید پولس کی فہرست جیسی نہ ہو، مگر ہوتی ضرور ہے۔ ”نہ حال“: وہ رپورٹ جو ہسپتال سے آنے والی ہے، وہ ای میل جو باس نے ابھی تک نہیں بھیجی، وہ بیٹا جو فون نہیں اُٹھاتا۔ ”نہ مستقبل“: بڑھاپا، پیسہ، بچوں کا ایمان، وہ سوال کہ میرے بعد کیا ہو گا۔ ”نہ طاقتیں“: وہ نظام، وہ برادری، وہ دباؤ جس کے سامنے آپ خود کو چیونٹی محسوس کرتے ہیں۔ پولس اِن میں سے کسی کا انکار نہیں کرتے، وہ صرف اُن کی حد باندھ دیتے ہیں۔ یہ سب آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؛ آپ کو مسیح سے چھین نہیں سکتے۔ آج ایک کاغذ لیجیے اور اپنے چار سب سے بڑے ڈر پولس کی طرح جوڑوں میں لکھیے، پھر ہر جوڑے سے پہلے بلند آواز میں ”نہ“ کہہ کر آیت ۳۸ کا جملہ اپنے الفاظ کے ساتھ پڑھیے۔

ایک باریک نکتہ

فہرست کو دوبارہ پڑھیے: ”نہ حال اور نہ مستقبل۔“ ماضی کہاں ہے؟ پولس اُسے چھوڑ دیتے ہیں، اور یہ بھول نہیں۔ ماضی کا فیصلہ اِس باب کی پہلی سطر میں ہو چکا: ”اب جو مسیح عیسیٰ میں ہیں اُنہیں مجرم نہیں ٹھہرایا جاتا۔“ آیت ۳۳ میں الزام لگانے والا خاموش کرا دیا گیا ہے۔ گویا باب کا آغاز آپ کے گزرے ہوئے کل سے نمٹتا ہے اور اختتام آپ کے آنے والے کل سے۔ جو لوگ اپنی پرانی شرمندگی کو رات کے وقت بار بار چباتے ہیں، اُن کے لیے یہ خاموشی خود ایک اعلان ہے: وہ باب بند ہو چکا، اب صرف حال اور مستقبل باقی ہیں، اور اُن دونوں پر بھی ”نہ“ لکھ دیا گیا ہے۔

مرکزی کردار

یہاں اصل کردار پولس نہیں، وہ خدا ہے جس کی محبت ناپی جا رہی ہے۔ اور غور کیجیے کہ یہ محبت جذباتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہے: وہ چنتا ہے، بلاتا ہے، راست باز ٹھہراتا ہے، جلال بخشتا ہے (آیت ۳۰)۔ اُس نے اپنے بیٹے کو ”دشمن کے حوالے“ کر دیا اور پھر اُسے زندہ کر کے اپنے دہنے ہاتھ بٹھا دیا، جہاں وہ ہماری شفاعت کرتا ہے۔ یعنی یہ باپ نہ صرف ماضی میں کچھ کر چکا ہے بلکہ اِس لمحے بھی کام میں مصروف ہے۔ ایسی محبت کو ہمارے ایمان کے اُتار چڑھاؤ ہلا نہیں سکتے، کیونکہ وہ ہماری گرفت پر نہیں، اُس کی گرفت پر کھڑی ہے۔ باندھنے والی رسّی ہمارے ہاتھ میں نہیں۔

پہلے سننے والے

روم کی کلیسیا شہنشاہ کے شہر میں رہتی تھی۔ ”حکمران“ اُن کے لیے کوئی فلسفیانہ تصور نہ تھا بلکہ وہ عدالت تھی جو کسی بھی دن اُنہیں طلب کر سکتی تھی؛ ”تلوار“ (آیت ۳۵) اُس دور میں سزائے موت کا سرکاری آلہ تھا، اور چند سال بعد نیرو کے تحت یہ لفظ اُن کے لیے حقیقت بن گیا۔ ساتھ ہی وہ ایسی دنیا میں سانس لیتے تھے جہاں لوگ ستاروں، تقدیر اور روحانی طاقتوں سے ڈرتے تھے؛ ”نشیب اور فراز“ ستارہ شناسی کی زبان میں کسی سیارے کے بلند اور پست مقام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ پولس گویا اُن کے خوف کی پوری مردم شماری کرتے ہیں اور ہر نام کے آگے ایک لفظ لکھ دیتے ہیں: ”نہ۔“

غور و فکر کے سوالات

پولس کی فہرست میں ماضی شامل نہیں۔ آپ کے دل میں وہ کون سی پرانی بات ہے جسے آپ اب تک آیت ۱ کے فیصلے کے حوالے نہیں کر سکے؟

اگر آپ کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ کوئی طاقت آپ کو مسیح سے جدا نہیں کر سکتی، تو اِس ہفتے کا کون سا فیصلہ آپ خوف کے بجائے اِس یقین کی بنیاد پر لیں گے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Romans 8:38 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

رومیوں 8:38 کا کیا مطلب ہے؟
پولس رسول اپنی دلیل کو ایک ذاتی گواہی کے ساتھ ختم کرتے ہیں: ”مجھے یقین ہے کہ ہمیں اُس کی محبت سے کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔“ پھر وہ ایک فہرست گناتے ہیں، جوڑوں کی صورت میں، جیسے کوئی کائنات کے چاروں کونے ناپ رہا ہو: نہ موت اور نہ زندگی، نہ فرشتے اور نہ حکمران، نہ حال اور نہ مستقبل، نہ طاقتیں۔ یہ وہ سب قوتیں ہیں جن سے قدیم دنیا کا انسان سب سے زیادہ ڈرتا تھا، اور پولس ایک ایک کر کے اُنہیں مسترد کرتے ہیں۔ آیت ۳۵ کا سوال ”کون ہمیں مسیح کی محبت سے جدا کرے گا؟“ یہاں جواب پا لیتا ہے: کوئی نہیں، نہ آسمان پر، نہ زمین پر، نہ وقت کے کسی کنارے پر۔
رومیوں 8:38 کس بارے میں ہے؟
آیت ۳۸ کا یقین آیت ۳۲ کے فقرے پر ٹِکا ہے: ”اُس نے اپنے فرزند کو بھی دریغ نہ کیا۔“ یہ الفاظ اتفاقیہ نہیں۔ پیدایش ۲۲ میں موریاہ کے پہاڑ پر فرشتہ ابراہیم سے یہی بات کہتا ہے کہ تُو نے اپنے بیٹے، اپنے اکلوتے کو مجھ سے دریغ نہ کیا۔ پولس وہی تعبیر اُٹھا کر خدا پر لگا دیتے ہیں۔ ابراہیم کا ہاتھ روک لیا گیا تھا؛ باپ کا ہاتھ نہیں روکا گیا۔ گویا جو قربانی موریاہ پر ادھوری رہ گئی، وہ گلگتا پر پوری ہوئی۔ اِسی لیے پولس یہ نہیں کہتے کہ اُنہیں اپنے جذبات پر بھروسا ہے۔ اُن کے یقین کی جڑ تاریخ کے ایک واقعے میں ہے: خدا نے وہ دے دیا جو سب سے مہنگا تھا، اِس لیے باقی سب کچھ دینے سے وہ کیوں ہچکچائے گا؟
رومیوں 8:38 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
فہرست کو دوبارہ پڑھیے: ”نہ حال اور نہ مستقبل۔“ ماضی کہاں ہے؟ پولس اُسے چھوڑ دیتے ہیں، اور یہ بھول نہیں۔ ماضی کا فیصلہ اِس باب کی پہلی سطر میں ہو چکا: ”اب جو مسیح عیسیٰ میں ہیں اُنہیں مجرم نہیں ٹھہرایا جاتا۔“ آیت ۳۳ میں الزام لگانے والا خاموش کرا دیا گیا ہے۔ گویا باب کا آغاز آپ کے گزرے ہوئے کل سے نمٹتا ہے اور اختتام آپ کے آنے والے کل سے۔ جو لوگ اپنی پرانی شرمندگی کو رات کے وقت بار بار چباتے ہیں، اُن کے لیے یہ خاموشی خود ایک اعلان ہے: وہ باب بند ہو چکا، اب صرف حال اور مستقبل باقی ہیں، اور اُن دونوں پر بھی ”نہ“ لکھ دیا گیا ہے۔
رومیوں 8:38 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
روم کی کلیسیا شہنشاہ کے شہر میں رہتی تھی۔ ”حکمران“ اُن کے لیے کوئی فلسفیانہ تصور نہ تھا بلکہ وہ عدالت تھی جو کسی بھی دن اُنہیں طلب کر سکتی تھی؛ ”تلوار“ (آیت ۳۵) اُس دور میں سزائے موت کا سرکاری آلہ تھا، اور چند سال بعد نیرو کے تحت یہ لفظ اُن کے لیے حقیقت بن گیا۔ ساتھ ہی وہ ایسی دنیا میں سانس لیتے تھے جہاں لوگ ستاروں، تقدیر اور روحانی طاقتوں سے ڈرتے تھے؛ ”نشیب اور فراز“ ستارہ شناسی کی زبان میں کسی سیارے کے بلند اور پست مقام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ پولس گویا اُن کے خوف کی پوری مردم شماری کرتے ہیں اور ہر نام کے آگے ایک لفظ لکھ دیتے ہیں: ”نہ۔“
رومیوں 8:38 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر آپ کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ کوئی طاقت آپ کو مسیح سے جدا نہیں کر سکتی، تو اِس ہفتے کا کون سا فیصلہ آپ خوف کے بجائے اِس یقین کی بنیاد پر لیں گے؟

Romans 8 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟