رومیوں 9:23
متن
کمہار کی ورکشاپ کا منظر ابھی ہمارے سامنے ہے: گارے کا ایک ہی لوندا، ایک ہی ہاتھ، مگر مختلف برتن۔ پولس رسول اِس منظر کو آگے بڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا غضب فوراً نازل نہیں کیا بلکہ ”بڑے صبر و تحمل سے“ اُن برتنوں کو برداشت کیا جن پر اُس کا غضب آنا ہے۔ مگر اِس صبر کا مقصد کیا تھا؟ آیت 23 جواب دیتی ہے: ”اُس نے یہ اِس لئے کیا تاکہ اپنا جلال کثرت سے اُن برتنوں پر ظاہر کرے جن پر اُس کا فضل ہے اور جو پہلے سے جلال پانے کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔“ یعنی خدا کی تاخیر خالی خاموشی نہیں تھی؛ وہ جگہ بنا رہی تھی، تاکہ رحم کے برتنوں پر اُس کی شان کھل کر چمکے۔
مرکزی نکتہ
یہاں ایک لفظ سب کچھ بدل دیتا ہے: ”کثرت سے“۔ خدا اپنا جلال کم مقدار میں، ناپ تول کر، احتیاط سے نہیں بانٹتا؛ وہ اُسے اُنڈیل دیتا ہے۔ اور دھیان دیجئے کہ جملے کا رُخ کس طرف ہے۔ غضب کے برتنوں کا ذکر گزرتے ہوئے آتا ہے، مگر جملے کا وزن، اُس کا نشانہ، اُس کی منزل رحم کے برتن ہیں۔ خدا کے دل کی اصل حرکت سزا کی طرف نہیں بلکہ رحم کی طرف ہے۔ دوسری بات یہ کہ فعل مجہول ہے: ”تیار کئے گئے ہیں“۔ برتن نے خود کو نہیں گھڑا۔ آپ نے اپنے ایمان کو جنم نہیں دیا، اپنی نجات کو منصوبہ بند نہیں کیا۔ جو ہاتھ آپ کو تھامے ہوئے ہے وہ آپ سے پہلے کام کر رہا تھا، اور اُس کا مقصد ایک ہی ہے: جلال۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
غور کیجئے کہ پولس یہ بات کس مقام پر کہہ رہا ہے۔ باب 9 کا آغاز آنسوؤں سے ہوا تھا: ”مَیں دل میں اپنے یہودی ہم وطنوں کے لئے شدید غم اور مسلسل درد محسوس کرتا ہوں۔“ یعنی جب وہ برتنوں اور کمہار کی بات کرتا ہے تو وہ کسی ٹھنڈے فلسفے کی وضاحت نہیں کر رہا، وہ اپنے سگے رشتے داروں کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اور اِسی تناؤ میں وہ پوری کہانی کا دھاگا پکڑتا ہے: اسحاق، یعقوب، موسیٰ، فرعون، اور آخرکار آیت 24 میں ”ہم“۔ جلال پانے کے لئے تیار کئے گئے برتن کوئی مبہم مخلوق نہیں؛ وہ یہ ملے جلے، کمزور، یہودی اور غیریہودی جماعتیں ہیں جن میں مسیح نے اپنا کام شروع کیا۔ صلیب پر وہی ہوا جو یہاں لکھا ہے: خدا نے اپنے بیٹے پر غضب برداشت کیا تاکہ رحم کے برتنوں پر جلال اُنڈیل دے۔
آئینہ
یہ آیت ہماری سب سے گہری خودپسندی پر ہاتھ رکھتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نجات میں کم از کم ہمارا کچھ حصہ ہو: ایک درست فیصلہ، ایک مضبوط ایمان، ایک صاف کردار۔ اور جب زندگی ٹوٹتی ہے، جب نوکری ہاتھ سے نکلتی ہے، جب بچہ ایمان چھوڑ دیتا ہے، جب جسم بیماری میں ساتھ چھوڑ دیتا ہے، تو ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہم ناکارہ برتن ہیں۔ یہ آیت کہتی ہے: برتن اپنی تیاری کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اور نہ اپنی ناکامی کا۔ ساتھ ہی یہ ہمارے فیصلے کرنے کے شوق کو بھی توڑتی ہے؛ ہم جانتے ہی نہیں کہ کمہار کس لوندے سے کیا بنا رہا ہے۔ آج اپنی رسوئی سے ایک پیالی اُٹھائیے، اُسے ہاتھ میں تھام کر بلند آواز سے اُس ایک شخص کا نام لیجئے جسے آپ نے دل ہی دل میں ناقابلِ اصلاح قرار دے دیا ہے، اور اُس پر رحم کے لئے دعا کیجئے۔
کلام کی گونج
پولس خود اگلی ہی سانس میں ہوسیع نبی کو پکارتا ہے: ”مَیں اُسے ’میری قوم‘ کہوں گا جو میری قوم نہ تھی، اور اُسے ’میری پیاری‘ کہوں گا جو مجھے پیاری نہ تھی۔“ یہ حوالہ اتفاقی نہیں۔ ہوسیع کی کتاب میں یہ الفاظ بےوفا اسرائیل کے لئے تھے؛ پولس اُنہیں غیریہودیوں پر لاگو کرتا ہے۔ یعنی ”رحم کے برتن“ وہ ہیں جن کے پاس کوئی حق نہ تھا۔ دوسری گونج پولس کے اپنے خطوط سے آتی ہے، جہاں وہ ایمان داروں کو مٹی کے برتن کہتا ہے جن کے اندر خزانہ رکھا گیا ہے، تاکہ قدرت کی عظمت خدا کی ٹھہرے نہ کہ ہماری۔ دونوں جگہ ایک ہی منطق ہے: برتن کی قیمت اُس کے مواد سے نہیں، بلکہ اُس کے بھرنے والے سے ہے۔
پہلے سننے والے
رومہ کی کلیسیا میں یہ خط اونچی آواز میں پڑھا گیا، اور سننے والوں میں وہ غلام اور آزاد کئے گئے لوگ بھی بیٹھے تھے جن کے لئے ”برتن“ کوئی تجریدی تصویر نہ تھی۔ وہ روز مٹی کے برتن استعمال کرتے تھے، ٹوٹے ہوئے ٹکڑے گلیوں میں پھینکتے تھے۔ اُن کی اپنی حیثیت بھی سلطنت کی نظر میں ایسی ہی تھی: استعمال کی چیز، نام کے بغیر۔ اور اب اُنہیں بتایا جا رہا تھا کہ کائنات کا کمہار اُنہیں ”جلال پانے کے لئے“ تیار کر رہا ہے۔ ساتھ ہی یہودی ایمان داروں نے کچھ اَور سنا: یہ کہ خدا کے انتخاب نے اُن کی قوم کو رد نہیں کیا، بلکہ اُسی رحم کی بنیاد پر غیریہودیوں کو بھی شامل کر لیا جس پر ابراہیم کھڑا تھا۔
سوال
پھر بھی ایک کانٹا باقی رہتا ہے، اور ایمان داری یہ ہے کہ اُسے نکالا نہ جائے۔ اگر خدا کا جلال رحم کے برتنوں پر چمکتا ہے، تو کیا دوسرے برتن محض پس منظر ہیں؟ متن یہ نہیں کہتا کہ خدا نے اُنہیں ہلاکت کے لئے تیار کیا؛ یہاں فعل غیرمتعین ہے، جبکہ رحم کے برتنوں کے بارے میں صاف لکھا ہے کہ خدا نے اُنہیں پہلے سے تیار کیا۔ یہ توازن قصداً غیرمتوازن ہے۔ پولس اِس خلا کو منطق سے نہیں بھرتا، وہ اُسے آنسوؤں سے بھرتا ہے: ”کاش میرے بھائی اور خونی رشتے دار نجات پائیں!“ جو شخص اِس تعلیم کو بغیر درد کے بیان کر سکتا ہے، اُس نے اِسے پولس کے ساتھ نہیں پڑھا۔ یہاں ہمیں بھید کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوں گے، مگر خالی ہاتھ نہیں: اُس کمہار کے سامنے جس کے ہاتھوں میں صلیب کے نشان ہیں۔
غور و فکر
اگر آپ کو واقعی یقین ہو جائے کہ آپ نے خود کو تیار نہیں کیا، تو آپ کی کون سی کوشش یا پریشانی آج خاموش ہو جائے گی؟
آپ کی زندگی میں کون ہے جس کے بارے میں آپ نے فیصلہ سنا دیا ہے، اور کیا آپ پولس کی طرح اُس کے لئے درد محسوس کرنے کو تیار ہیں؟
Romans 9:23 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 9:23 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 9:23 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 9:23 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 9:23 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 9:23 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جب حالات الجھے ہوئے لگتے ہیں تو میرا دل سوال کرتا ہے کہ کیا تیرا وعدہ ٹوٹ گیا۔ مجھے یاد دلا کہ تیرا کلام کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ میں خاندان یا نام پر نہیں، تیرے فضل اور بلاہٹ پر بھروسہ کرنا چاہتا ہوں۔ میرے بےصبر دل کو تھام لے۔
اے رحیم خدا، میں مٹی کا ایک معمولی برتن ہوں، پھر بھی تُو نے مجھے اپنی رحمت کے لیے چُنا۔ میری کمزوریوں کے باوجود اپنے جلال کی دولت مجھ میں دکھا، تاکہ لوگ مجھے نہیں بلکہ تیری بھلائی کو دیکھیں۔ مجھے اِس محبت کے لائق بنا جو تُو نے پہلے ہی مجھ پر نچھاور کر دی۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں