بائبل کی تشریح

رومیوں 9:20

بائبل

متن

پولس رسول نے ابھی ابھی وہ اعتراض زبان پر لایا ہے جو ہر سوچنے والے قاری کے دل میں اُٹھتا ہے: ”اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ کس طرح ہم پر الزام لگا سکتا ہے جب ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں؟“ اور اب وہ اُس اعتراض کا جواب دلیل سے نہیں، بلکہ ایک جھٹکے سے دیتا ہے: ”یہ نہ کہیں۔ آپ انسان ہوتے ہوئے کون ہیں کہ اللہ کے ساتھ بحث مباحثہ کریں؟“ پھر وہ ایک تصویر سامنے رکھتا ہے جو کمہار کے چاک سے اُٹھائی گئی ہے: کیا مٹی کا بنا ہوا برتن پلٹ کر اپنے بنانے والے سے پوچھ سکتا ہے، ”تُو نے مجھے اِس طرح کیوں بنا دیا؟“ سوال کو خاموش نہیں کیا جاتا، بلکہ سوال کرنے والے کی جگہ یاد دلائی جاتی ہے۔

مرکزی نکتہ

یہ آیت ہمیں اُس بنیادی خلیج پر لا کھڑا کرتی ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے: خالق اور مخلوق کا فرق۔ پولس یہ نہیں کہہ رہا کہ خدا طاقتور ہے اِس لئے چپ رہو؛ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ہم وہ ہستی ہی نہیں جو خدا کو کٹہرے میں کھڑا کر سکے، کیونکہ ہمارا وجود خود اُسی کے ہاتھ کی پیداوار ہے۔ جس لمحے مٹی عدالت لگاتی ہے، وہ اپنی ہی حقیقت کو بھول جاتی ہے۔ مگر دھیان رکھیں کہ یہ بےرحم جبر کا منظر نہیں۔ اگلی آیات میں وہی کمہار ”بڑے صبر و تحمل“ سے برداشت کرتا ہے اور اپنا جلال اُن برتنوں پر اُنڈیلتا ہے ”جن پر اُس کا فضل ہے“۔ یعنی جس اختیار کے آگے ہم خاموش ہوتے ہیں، وہ اختیار بالآخر رحم کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ یہی انجیل کا دل ہے: نجات ہماری کارکردگی کا صلہ نہیں بلکہ خدا کی آزاد مہربانی کا تحفہ، اور اِسی لئے ناقابلِ شکست۔

نجات کا سلسلہ

کمہار اور مٹی کی تصویر پولس نے خود ایجاد نہیں کی؛ وہ اسے انبیا سے اُٹھاتا ہے، اور اُس سے بھی پیچھے پیدایش کے باغ سے۔ عبرانی میں وہ فعل جو خدا کے آدم بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے، یاصر، بالکل وہی لفظ ہے جو کمہار کے چاک پر مٹی کو شکل دینے کے لئے برتا جاتا ہے۔ یعنی انسان کی پہلی پہچان ہی یہ ہے: وہ گھڑا گیا ہے۔ یرمیاہ کو خدا کمہار کے گھر بھیجتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ ایک بگڑا ہوا برتن دوبارہ گوندھا جا سکتا ہے، اور یہ تصویر وہاں دھمکی اور اُمید دونوں ہے۔ پولس اِسی دھاگے کو مسیح تک کھینچتا ہے: باب کے آخر میں وہی کمہار صیون میں ایک پتھر رکھتا ہے، ”ایک چٹان جو ٹھیس لگنے کا سبب ہو گی“۔ خدا کے اختیار کا آخری اظہار جبر نہیں، مصلوب مسیح ہے۔

آئینہ

”تُو نے مجھے اِس طرح کیوں بنا دیا؟“ یہ کوئی فلسفیانہ جملہ نہیں؛ یہ وہ سوال ہے جو رات کو چھت کو تکتے ہوئے نکلتا ہے۔ کیوں یہ جسم، جو تھکتا ہے اور اب دوا کے بغیر نہیں چلتا؟ کیوں یہ خاندان، یہ قرض، یہ مزاج جو غصے میں جلدی پھسل جاتا ہے؟ کیوں وہ بچہ جس کی نشوونما دوسروں جیسی نہیں؟ پولس اِن زخموں کا مذاق نہیں اُڑاتا، مگر وہ ہمیں ایک بات یاد دلاتا ہے: شکایت اور الزام میں فرق ہے۔ شکایت کمہار کے ہاتھوں میں رہ کر کی جاتی ہے؛ الزام چاک سے اُتر کر لگایا جاتا ہے۔ آج ایک پرچی پر اپنا اصل ”کیوں“ پورا جملہ بنا کر لکھیں، پھر اُسے بلند آواز سے خدا کے سامنے پڑھ کر یہ ایک جملہ جوڑ دیں: ”تُو کمہار ہے، مَیں مٹی ہوں، مَیں تیرے ہاتھ میں رہتا ہوں۔“

مشکل سوال

کیا پولس سوال سے بچ نہیں رہا؟ ابراہیم نے سدوم کے لئے خدا سے سودا کیا، موسیٰ نے اُس سے بحث کی، ایوب نے چیخ کر جواب مانگا، اور اُن میں سے کسی کو یوں خاموش نہیں کرایا گیا۔ تو یہاں مخاطب کو کیوں؟ فرق شاید لہجے میں ہے: ابراہیم خدا کے انصاف کی اپیل کرتا ہے، جبکہ آیت 19 کا بولنے والا اپنے گناہ کی ذمہ داری خدا کے سر ڈال رہا ہے۔ پہلا ایمان کی التجا ہے، دوسرا بہانہ۔ پھر بھی وہ کانٹا رہ جاتا ہے جو آیت 22 میں چبھتا ہے: ”ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے“ برتن۔ پولس اِس کی تشریح نہیں کرتا، صرف اتنا کہتا ہے کہ خدا نے اُنہیں ”بڑے صبر و تحمل سے“ برداشت کیا۔ یہ جواب نہیں ہے؛ یہ ایک دروازہ ہے جو بند نہیں کیا گیا۔

پہلے سامعین

روم کی کلیسیا میں یہودی اور غیریہودی ایمان دار ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے، اور اُن کے درمیان تناؤ تھا۔ یہودی ایمان دار ابھی ابھی جلاوطنی سے لوٹے تھے اور یہ سن رہے تھے کہ ”وہ سب حقیقی اسرائیلی نہیں ہیں جو اسرائیلی قوم سے ہیں“، یعنی نسب کوئی ضمانت نہیں۔ غیریہودی سن رہے تھے کہ اُنہیں بھی چُنا گیا، مگر اِسی دلیل کے تحت جو اُن کے اپنے فخر کو بھی توڑ دیتی ہے۔ عزت اور شرم کی اُس ثقافت میں ”آپ کون ہیں؟“ محض سوال نہیں، مقام کا تعین تھا۔ اور کمہار کی تصویر اُن کے لئے مجرد نہیں تھی؛ ہر گلی میں چاک گھومتا تھا، ہر گھر میں مٹی کے برتن تھے، سستے اور جلد ٹوٹنے والے، پھر بھی ہاتھ سے بنے ہوئے۔

مرکزی کردار

یہاں مرکز میں کمہار ہے، مگر غور کریں کہ وہ کیسا کمہار ہے۔ وہ دور سے حکم نہیں دیتا؛ اُس کے ہاتھ مٹی میں ہیں۔ وہ ”غضب نازل کرنا“ چاہتا تھا، مگر اُس نے صبر کیا۔ اور یہ بات اُس شخص کی زبان سے نکل رہی ہے جس نے تین آیتیں پہلے لکھا تھا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے لئے ”ملعون اور مسیح سے جدا ہونے کے لئے بھی تیار“ ہے۔ یہ ٹھنڈے دل کا منطقی نظام نہیں؛ یہ ایک روتے ہوئے آدمی کی گواہی ہے کہ خدا کا اختیار آخرکار رحم کی طرف جھکا ہوا ہے۔ جو خدا یہاں خاموش کراتا ہے، وہی باب کے آخر میں وعدہ کرتا ہے: ”جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے شرمندہ نہیں کیا جائے گا۔“

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سی بات ہے جس کے بارے میں آپ نے کبھی کھل کر خدا سے نہیں کہا، ”تُو نے مجھے اِس طرح کیوں بنا دیا؟“ اور آپ اُسے کیوں دباتے رہے ہیں؟

اگر آپ کا چنا جانا آپ کی کارکردگی پر مبنی نہیں، تو اِس ہفتے آپ کے کس خوف یا کس فخر کی بنیاد ہل جانی چاہئے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Romans 9:20 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

رومیوں 9:20 کا کیا مطلب ہے؟
پولس رسول نے ابھی ابھی وہ اعتراض زبان پر لایا ہے جو ہر سوچنے والے قاری کے دل میں اُٹھتا ہے: ”اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ کس طرح ہم پر الزام لگا سکتا ہے جب ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں؟“ اور اب وہ اُس اعتراض کا جواب دلیل سے نہیں، بلکہ ایک جھٹکے سے دیتا ہے: ”یہ نہ کہیں۔ آپ انسان ہوتے ہوئے کون ہیں کہ اللہ کے ساتھ بحث مباحثہ کریں؟“ پھر وہ ایک تصویر سامنے رکھتا ہے جو کمہار کے چاک سے اُٹھائی گئی ہے: کیا مٹی کا بنا ہوا برتن پلٹ کر اپنے بنانے والے سے پوچھ سکتا ہے، ”تُو نے مجھے اِس طرح کیوں بنا دیا؟“ سوال کو خاموش نہیں کیا جاتا، بلکہ سوال کرنے والے کی جگہ یاد دلائی جاتی ہے۔
رومیوں 9:20 کس بارے میں ہے؟
کمہار اور مٹی کی تصویر پولس نے خود ایجاد نہیں کی؛ وہ اسے انبیا سے اُٹھاتا ہے، اور اُس سے بھی پیچھے پیدایش کے باغ سے۔ عبرانی میں وہ فعل جو خدا کے آدم بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے، یاصر، بالکل وہی لفظ ہے جو کمہار کے چاک پر مٹی کو شکل دینے کے لئے برتا جاتا ہے۔ یعنی انسان کی پہلی پہچان ہی یہ ہے: وہ گھڑا گیا ہے۔ یرمیاہ کو خدا کمہار کے گھر بھیجتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ ایک بگڑا ہوا برتن دوبارہ گوندھا جا سکتا ہے، اور یہ تصویر وہاں دھمکی اور اُمید دونوں ہے۔ پولس اِسی دھاگے کو مسیح تک کھینچتا ہے: باب کے آخر میں وہی کمہار صیون میں ایک پتھر رکھتا ہے، ”ایک چٹان جو ٹھیس لگنے کا سبب ہو گی“۔ خدا کے اختیار کا آخری اظہار جبر نہیں، مصلوب مسیح ہے۔
رومیوں 9:20 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کیا پولس سوال سے بچ نہیں رہا؟ ابراہیم نے سدوم کے لئے خدا سے سودا کیا، موسیٰ نے اُس سے بحث کی، ایوب نے چیخ کر جواب مانگا، اور اُن میں سے کسی کو یوں خاموش نہیں کرایا گیا۔ تو یہاں مخاطب کو کیوں؟ فرق شاید لہجے میں ہے: ابراہیم خدا کے انصاف کی اپیل کرتا ہے، جبکہ آیت 19 کا بولنے والا اپنے گناہ کی ذمہ داری خدا کے سر ڈال رہا ہے۔ پہلا ایمان کی التجا ہے، دوسرا بہانہ۔ پھر بھی وہ کانٹا رہ جاتا ہے جو آیت 22 میں چبھتا ہے: ”ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے“ برتن۔ پولس اِس کی تشریح نہیں کرتا، صرف اتنا کہتا ہے کہ خدا نے اُنہیں ”بڑے صبر و تحمل سے“ برداشت کیا۔ یہ جواب نہیں ہے؛ یہ ایک دروازہ ہے جو بند نہیں کیا گیا۔
رومیوں 9:20 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہاں مرکز میں کمہار ہے، مگر غور کریں کہ وہ کیسا کمہار ہے۔ وہ دور سے حکم نہیں دیتا؛ اُس کے ہاتھ مٹی میں ہیں۔ وہ ”غضب نازل کرنا“ چاہتا تھا، مگر اُس نے صبر کیا۔ اور یہ بات اُس شخص کی زبان سے نکل رہی ہے جس نے تین آیتیں پہلے لکھا تھا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے لئے ”ملعون اور مسیح سے جدا ہونے کے لئے بھی تیار“ ہے۔ یہ ٹھنڈے دل کا منطقی نظام نہیں؛ یہ ایک روتے ہوئے آدمی کی گواہی ہے کہ خدا کا اختیار آخرکار رحم کی طرف جھکا ہوا ہے۔ جو خدا یہاں خاموش کراتا ہے، وہی باب کے آخر میں وعدہ کرتا ہے: ”جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے شرمندہ نہیں کیا جائے گا۔“
رومیوں 9:20 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر آپ کا چنا جانا آپ کی کارکردگی پر مبنی نہیں، تو اِس ہفتے آپ کے کس خوف یا کس فخر کی بنیاد ہل جانی چاہئے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Romans 9 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 6

اے خدا، جب حالات الجھے ہوئے لگتے ہیں تو میرا دل سوال کرتا ہے کہ کیا تیرا وعدہ ٹوٹ گیا۔ مجھے یاد دلا کہ تیرا کلام کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ میں خاندان یا نام پر نہیں، تیرے فضل اور بلاہٹ پر بھروسہ کرنا چاہتا ہوں۔ میرے بےصبر دل کو تھام لے۔

دعا ادارتی کو آیت 23

اے رحیم خدا، میں مٹی کا ایک معمولی برتن ہوں، پھر بھی تُو نے مجھے اپنی رحمت کے لیے چُنا۔ میری کمزوریوں کے باوجود اپنے جلال کی دولت مجھ میں دکھا، تاکہ لوگ مجھے نہیں بلکہ تیری بھلائی کو دیکھیں۔ مجھے اِس محبت کے لائق بنا جو تُو نے پہلے ہی مجھ پر نچھاور کر دی۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟