غزلُ الغزلات 5
متن
باب کا آغاز دولہا کی مطمئن آواز سے ہوتا ہے: وہ اپنے باغ میں داخل ہو چکا ہے، مُر اور شہد اور مَے اُس کے حصے میں آ گئی ہے، اور وہ مہمانوں کو محبت سے سرشار ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر منظر بدل جاتا ہے: دُلھن نیم خوابی میں دستک سنتی ہے، اُٹھنے میں دیر کرتی ہے، اور جب دروازہ کھولتی ہے تو محبوب جا چکا ہے۔ وہ رات کے شہر میں اُسے ڈھونڈتی ہے، چوکیدار اُسے مارتے اور اُس کی چادر چھین لیتے ہیں۔ آخر میں یروشلم کی بیٹیوں کے سوال پر وہ سر سے پاؤں تک اپنے محبوب کا حُسن بیان کرتی ہے: سونا، ہاتھی دانت، مرمر، دیودار، اور آخری لفظ: "میرا محبوب، میرا دوست۔"
اصل بات
یہ باب محبت کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے جو قبضے میں نہیں آتی۔ دُلھن کا محبوب اُس کا ہے، اِس میں کوئی شک نہیں؛ مگر وہ اُسے اپنے وقت اور اپنی سہولت کے مطابق حاضر نہیں کر سکتی۔ "مَیں اپنا لباس اُتار چکی ہوں" ایک معقول عذر ہے، اور معقول عذر ہی سب سے خطرناک ہوتے ہیں۔ خدا کے ساتھ تعلق میں بھی یہی سچائی کام کرتی ہے: عہد کی وفاداری اور احساس کی موجودگی ایک چیز نہیں۔ خدا اپنے وعدے سے نہیں پھرتے، لیکن وہ اپنی موجودگی کے تجربے کو ہماری آسانی کے تابع بھی نہیں کرتے۔ اور یہی خلا محبت کو گہرا کرتا ہے: تلاش کے بغیر محبوب صرف ایک آسائش رہ جاتا، تلاش میں وہ زندگی بن جاتا ہے۔
سلسلۂ کلام
اسرائیل کے انبیا نے خدا اور اُس کی قوم کے رشتے کو بار بار شادی کی زبان میں بیان کیا، اور یسوع مسیح نے خود کو دولہا کہا۔ اِس پس منظر میں باب پانچ کی رات محض ایک نجی کہانی نہیں رہتی۔ ہوسیع کی کتاب میں خدا اپنی بےوفا دُلھن کو بیابان میں لے جاتے ہیں تاکہ وہاں اُس سے دل کی بات کریں؛ محبت کا راستہ ویرانی سے گزرتا ہے۔ اور مسیح کی کہانی میں یہ سب سے گہرا ہو جاتا ہے: وہ دولہا جو رات کو باہر اوس میں کھڑا رہا، آخرکار باہر ہی مصلوب ہوا، بند دروازوں کے پیچھے سوئی ہوئی محبوبہ کے لیے۔ غزلُ الغزلات میں محبوب چلا جاتا ہے؛ انجیل میں محبوب مر جاتا ہے، اور پھر واپس آتا ہے۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں وہ رات جب دعا صرف چھت سے ٹکراتی ہے۔ یا وہ مہینے جب کلام پڑھنا فرض تو رہا مگر مزہ نہیں رہا، اور آپ سوچتے ہیں کہ کیا میں نے کہیں دیر کر دی۔ اِس باب کی دُلھن آپ کے سامنے شرمندہ نہیں ہوتی؛ وہ اُٹھ کر شہر میں نکل جاتی ہے، مار کھاتی ہے، اور پھر بھی محبوب کا حُسن بیان کرتی ہے۔ یہ سب سے سخت بات ہے: وہ اُس کی غیرحاضری میں اُس کی تعریف کرتی ہے۔ ہم عام طور پر اُلٹا کرتے ہیں، احساس جاتا ہے تو زبان بھی خاموش ہو جاتی ہے۔ آج ایک کام کریں: قلم لے کر تین جملے لکھیں جن میں آپ خداوند یسوع کے بارے میں وہ کہیں جو آپ اِس وقت محسوس نہیں کر رہے مگر سچ جانتے ہیں، اور اُنہیں بلند آواز سے پڑھیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کی مرکزی آواز دُلھن کی ہے، اور وہ حیرت انگیز حد تک زندہ کردار ہے۔ وہ سست ہے اور دیوانی بھی؛ آرام چاہتی ہے اور پھر آرام کو جوتے کی طرح اُتار پھینکتی ہے۔ "تب میرا دل تڑپ اُٹھا" اُس کا اصل چہرہ ہے: جسم بستر میں، دل دروازے پر۔ اُس کی محبت میں غلطی بھی ہے اور غیرت بھی۔ وہ اپنے زخموں کو چھپاتی نہیں، اور نہ اپنی بیماری کو: "مَیں محبت کے مارے بیمار ہو گئی ہوں۔" ایسا انسان جو خدا کے سامنے اپنی نیم دلی بھی مان لے اور اپنی پیاس بھی، وہ اُس مقدس سے زیادہ قریب ہے جو صرف بےعیب رہنا چاہتا ہے۔ ایمان کی صحت کی علامت کبھی کبھی بےقراری ہوتی ہے۔
پس منظر
یہ گیت قدیم اسرائیل کی شادی کی شاعری کی دنیا سے آتے ہیں، جہاں باغ، مُر، بلسان اور شہد دولت اور زرخیزی کی زبان تھے۔ رات کا شہر ایک خطرناک جگہ تھی: فصیل کے چوکیدار نظمِ عامّہ کے محافظ تھے، اور رات کو اکیلی گھومنے والی عورت اُن کی نظر میں مشکوک تھی۔ اُنہوں نے اُسے مارا اور اُس کی چادر چھین لی، یعنی اُس کی عزت پر ہاتھ ڈالا۔ یہ تفصیل بتاتی ہے کہ محبت کی قیمت صرف جذباتی نہیں، سماجی بھی تھی۔ اور یروشلم کی بیٹیاں، جو سوال کرتی ہیں "تیرے محبوب کی کیا خاصیت ہے؟"، ایک کورس کی طرح ہیں جو ہمارے اپنے سوالات پوچھتی ہیں: کیا واقعی یہ سب اِس ایک شخص کے لیے ضروری ہے؟
ایک تفصیل
سب سے خوبصورت لفظ آخر میں آتا ہے۔ سولہ آیتوں کی شاعری میں محبوب سونے کا سر، مرمر کی رانیں، دیودار جیسا حُلیہ ہے؛ ایک شاندار، تقریباً مندر جیسا مجسمہ۔ اور پھر وہ کہتی ہے: "یہ ہے میرا محبوب، میرا دوست۔" شکوہ کے بعد قربت۔ عبرانی میں یہ لفظ (رِعی) سنگت، ہم راہی کے لیے ہے۔ سارا سونا اور ہاتھی دانت اِس ایک سادہ لفظ پر آ کر ٹھہر جاتا ہے۔ ہم خدا کی عظمت کے بارے میں بہت کچھ کہ سکتے ہیں، اور کہنا بھی چاہیے؛ لیکن جو ایمان صرف عظمت پر ختم ہو جائے وہ ادھورا ہے۔ اصل معجزہ یہ ہے کہ وہ عظیم ہستی ہمیں دوست کہنے دیتی ہے، اور خود بھی کہتی ہے۔
غور و فکر
کون سا "معقول عذر" آج آپ کے اور خدا کے درمیان دروازے کی کنڈی بنا ہوا ہے؟
جب خداوند کی موجودگی کا احساس نہ ہو، تب آپ کی زبان پر اُن کے بارے میں کیا باقی رہتا ہے؟
Song of Solomon 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
غزلُ الغزلات 5 کا کیا مطلب ہے؟
غزلُ الغزلات 5 کس بارے میں ہے؟
غزلُ الغزلات 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
غزلُ الغزلات 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
غزلُ الغزلات 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Song of Solomon 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
دُلھن اپنے محبوب کی تعریف اُس وقت کر رہی ہے جب وہ اُس کے پاس نہیں ہے۔ "اُس کے ہونٹ سوسن کے پھول ہیں جن سے مُر ٹپکتا ہے۔" اُسے اُس کی باتیں یاد ہیں، اور وہ یاد اب بھی خوشبو دیتی ہے۔ سوچ، تُو جن لوگوں سے محبت کرتا ہے، اُن کی غیرحاضری میں تیرے لب اُن کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ محبت پیٹھ پیچھے بھی وہی بولتی ہے جو منہ پر۔
میرے محبوب نے اپنا ہاتھ دروازے کے سوراخ میں سے اندر ڈالا تو میرا دل تڑپ اُٹھا۔“ وہ بستر پر لیٹی تھی، سُستی میں، اُٹھنے کو تیار نہیں۔ مگر ایک جھلک، ایک ہاتھ، اور سارا وجود بےچین ہو گیا۔ کبھی کبھی خدا پورا دروازہ نہیں کھولتا، بس ایک اشارہ دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تُو اُٹھے گا یا دیر کر دے گا؟
دُلھن اپنے محبوب کو ڈھونڈتی پھر رہی ہے، اُسے پا نہیں سکی، اور پھر بھی کہتی ہے، "اُس کے ہاتھ سونے کی سلاخیں ہیں جن میں پکھراج جڑے ہوئے ہیں۔" جدائی کے وقت بھی وہ اُس کی خوبیاں گنتی ہے۔ سوچ، جب مسیح خاموش لگے تو تیرے ہونٹوں پر شکایت آتی ہے یا اُس کی تعریف؟ محبت اُسی کو یاد رکھتی ہے جو اُس نے دیکھا تھا، نہ کہ اُس کو جو محسوس نہیں ہو رہا۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو اپنے باغ میں آتا اور ہمارے چھوٹے سے مُر اور شہد کو قبول فرماتا ہے۔ تیری میز پر کمی نہیں، تُو ہمیں کہتا ہے، ”کھاؤ اور پیو!“ اِس فراخدلی اور محبت بھری دعوت کے لئے دل سے تیرا ممنون ہوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
