طِطُس 2
متن
کریتے کے ایک عام گھر میں جماعت بیٹھی ہے: چند بوڑھے مرد جن کی زندگی کا زیادہ حصہ گزر چکا، کچھ عمر رسیدہ خواتین، نئی بیاہی جوان عورتیں گودوں میں بچوں کے ساتھ، دو تین جوان لڑکے، اور دیوار کے ساتھ کھڑے وہ غلام جو مالک کی اجازت سے آئے ہیں۔ پولس ططس کو لکھتے ہیں کہ اِن سب سے الگ الگ بات کرو، ہر عمر اور ہر حالت کو اُس کا اپنا سبق دو۔ اور اِس ساری فہرست کے بیچ میں اچانک ایک جملہ آتا ہے جو سب کچھ اُٹھا لیتا ہے: "اللہ کا نجات بخش فضل تمام انسانوں پر ظاہر ہوا ہے۔" وہی فضل تربیت دیتا ہے، اور وہی اُس مبارک دن کے انتظار میں کھڑا رکھتا ہے۔
مرکزی بات
غور کریں کہ ترتیب کیا ہے۔ پہلے دس آیتیں فرائض کی ہیں، پھر گیارھویں آیت "کیونکہ" سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی یہ اخلاقی مطالبے کوئی سیڑھی نہیں جس پر چڑھ کر نجات ملتی ہو؛ یہ اُس فضل کا پھل ہیں جو پہلے ہی ظاہر ہو چکا۔ اور پولس ایک عجیب بات کہتے ہیں: فضل "ہمیں تربیت دے کر اِس قابل بنا دیتا ہے" کہ ہم انکار کر سکیں۔ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ فضل معاف کرتا ہے اور شریعت سکھاتی ہے۔ نہیں۔ یہاں فضل خود اُستاد ہے، سختی سے سکھانے والا اُستاد، جو ہاتھ پکڑ کر بےدینی سے دور کرتا ہے۔ خدا ہمیں صرف بری نہیں کرتا، وہ ہمیں نئے سرے سے پالتا ہے۔
وہ ایک دھاگا
آیت 14 پرانے عہدنامے کی گونج سے بھری ہے: "فدیہ دے کر ہمیں ہر طرح کی بےدینی سے چھڑا کر اپنے لئے ایک پاک اور مخصوص قوم بنائے۔" مصر سے نکالی گئی قوم کو خدا نے یہی کہا تھا کہ تم میری خاص ملکیت ہو گے (خروج 19)۔ فرق یہ ہے کہ اب فدیہ بھیڑ کا خون نہیں بلکہ مسیح کی اپنی جان ہے، اور غلامی مصر کی نہیں بلکہ ہماری اپنی خواہشات کی۔ اِس لئے کریتے کے وہ غلام، جو قانوناً کسی اور کی ملکیت تھے، حقیقت میں خدا کی مخصوص قوم کے شہری تھے۔ خروج ابھی جاری ہے، اور اُس کا انجام آیت 13 میں ہے: جس دن "ہمارے عظیم خدا اور نجات دہندہ عیسیٰ مسیح کا جلال ظاہر ہو جائے گا۔"
آئینہ
یہ باب اُن جگہوں پر ہاتھ رکھتا ہے جہاں کوئی نہیں دیکھتا۔ دفتر کا وہ سامان جو "سب لے جاتے ہیں"۔ وہ آدھا گھنٹہ جس کی تنخواہ آپ نے لی مگر کام نہیں کیا۔ بزرگی میں آنے والی وہ تلخی جو ہر نئی نسل پر تنقید بن جاتی ہے، اور وہ تنہائی جو کبھی غیبت میں اور کبھی گلاس میں پناہ ڈھونڈتی ہے۔ جوان ماں کے وہ دن جن میں دھلے کپڑوں اور ادھورے کاموں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور لگتا ہے یہ سب بےمعنی ہے۔ پولس کہتے ہیں: یہی جگہ ہے جہاں خدا کے کلام کی عزت یا بےعزتی ہوتی ہے۔ آپ کی گمنام وفاداری الٰہیات ہے، لکھی ہوئی نہیں، جیتی ہوئی۔
کلام کی گونج
پطرس نے اپنے خط میں بکھری ہوئی جماعتوں سے تقریباً یہی کہا: غیرقوموں کے درمیان اپنا چال چلن ایسا نیک رکھو کہ جو تم پر الزام لگاتے ہیں وہی تمہارے کاموں کو دیکھ کر خدا کی تمجید کریں۔ دونوں رسول ایک ہی دباؤ میں لکھ رہے ہیں: چھوٹی، بےاثر، مشتبہ جماعتیں ایک شکی سماج کے سامنے۔ اُن کا جواب یہ نہیں کہ اپنی صفائی پیش کرو، بلکہ یہ کہ اپنی زندگی کو دلیل بنا دو۔ اور اِس خط میں یہ دو بار کہا گیا ہے: مخالف "شرمندہ ہو جائیں گے" (آیت 8)، اور غلام تعلیم کو "دل کش بنا دیں گے" (آیت 10)۔ ایک منفی، ایک مثبت، دونوں کا میدان روزمرہ کا برتاؤ ہے۔
ایک باریک تفصیل
آیت 10 کا وہ لفظ جو یونانی میں کوسمیو ہے، یعنی زیور پہنانا، سجانا۔ اُسی سے ہمارا لفظ "کاسمیٹکس" آیا ہے۔ پولس اُن لوگوں سے کہتے ہیں جن کے پاس کوئی زیور نہیں، جن کا جسم بھی اپنا نہیں، کہ تم خدا کی تعلیم کو زیور پہناؤ گے۔ ایک غلام کی ایمانداری، ایک ایسی چیز واپس کر دینا جو کوئی نہ گنتا، خدا کے کلام کے گلے میں ہار بن جاتی ہے۔ سوچیں کہ اُس کمرے میں کھڑے آدمی نے یہ سن کر کیا محسوس کیا ہو گا۔ ساری عمر اُسے سامان سمجھا گیا تھا؛ اب اُسے بتایا جا رہا ہے کہ اُس کا کردار انجیل کو خوبصورت بناتا ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار وہ ہے جو دو بار "ظاہر" ہوتا ہے۔ پہلی بار فضل کے طور پر، خاموشی سے، ایک بچے کی صورت میں، تمام انسانوں کے لئے۔ دوسری بار جلال کے ساتھ، اُس مبارک دن پر۔ اور اِن دونوں کے درمیان آیت 14 کا وہ فقرہ ہے جو سب سے زیادہ چونکاتا ہے: "اپنے لئے۔" مسیح نے جان دی، مگر محض ہمیں سزا سے بچانے کے لئے نہیں، بلکہ ہمیں اپنے لئے حاصل کرنے کے لئے۔ یہ خدا کوئی بےتعلق منصف نہیں؛ یہ ایک ایسی محبت ہے جو قیمت دے کر اپنی ملکیت بناتی ہے اور پھر اُس ملکیت کو پاک اور سرگرم دیکھنا چاہتی ہے۔ اِسی لئے آیت 15 میں ططس سے کہا جاتا ہے: پورے اختیار کے ساتھ بولو۔ یہ اختیار مبلغ کا نہیں، اُس فدیے کا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ ایسا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا، اور جو اِس ہفتے خدا کی تعلیم کو "دل کش" یا بدنما بنا سکتا ہے؟
فضل کو اُستاد کے طور پر تسلیم کرنے کا مطلب کیا ہو گا: اِس وقت آپ کو کس ایک چیز کا "انکار" کرنا سیکھنا ہے، اور کیوں یہ سزا نہیں بلکہ تربیت ہے؟
Titus 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
طِطُس 2 کا کیا مطلب ہے؟
طِطُس 2 کس بارے میں ہے؟
طِطُس 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
طِطُس 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
طِطُس 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Titus 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، مجھے ایسی زندگی دے جو تیرے لائق ہو۔ میری زبان کو دوسروں کی بدگوئی سے بچا، اور میرے دل کو ہر اُس عادت سے آزاد کر جو مجھے قید کرتی ہے۔ جو کچھ تُو نے مجھے سکھایا ہے، وہ میں نرمی سے اگلی نسل تک پہنچا سکوں۔
پولس نے طیطس کو ایک ہی جملے میں تین کام سونپے: سکھانا، حوصلہ بڑھانا، اور اصلاح کرنا۔ اور پھر کہا، ”کوئی بھی تجھے حقیر نہ جانے۔“ یہ عزت عمر یا عہدے سے نہیں آتی، بلکہ اُس زندگی سے جو اپنی ہی تعلیم پر قائم ہو۔ جو بات تُو دوسروں سے کہتا ہے، کیا وہ تیرے گھر میں بھی نظر آتی ہے؟
غلاموں کو سکھا کہ وہ ہر بات میں اپنے مالکوں کے تابع رہ کر اُنہیں پسند آئیں۔ وہ جواب دیتے وقت بحث نہ کریں۔“ پولس اُس وقت کے سب سے کمزور لوگوں سے مخاطب ہے، اور اُنہیں چھوٹی سی بات یاد دلاتا ہے: زبان۔ نہ بڑے کارنامے، نہ اونچے عہدے، بس ہر جواب میں نرمی۔ کیا آج تیرا لہجہ بھی مسیح کی تعلیم کو خوبصورت بنا رہا ہے؟
اُس نے اپنے آپ کو ہمارے لئے قربان کر دیا تاکہ فدیہ دے کر ہمیں ہر طرح کی بےدینی سے چھڑائے اور ہمیں پاک صاف کر کے اپنی ملکیت بنائے۔" غور کریں، وہ آپ کو صرف آزاد کر کے چھوڑ نہیں دیتا۔ وہ آپ کو اپنے لئے لیتا ہے۔ جس چیز کی اِتنی بڑی قیمت ادا کی گئی ہو، وہ بےکار نہیں سمجھی جاتی۔ کیا آپ خود کو اُسی نظر سے دیکھتے ہیں جس نظر سے وہ آپ کو دیکھتا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
