احبار کی کتاب کا تعارف: پاکیزگی، قربانی اور کفارہ
تعارف
ہر سال جنوری میں ہزاروں مسیحی ایک عزم کے ساتھ بائبل کھولتے ہیں: اِس بار پوری پڑھوں گا۔ پیدایش کے قصے دل کو باندھ لیتے ہیں، خروج میں فرعون، سمندر اور کوہِ سینا کا ڈراما سانس روک دیتا ہے، اور پھر اچانک صفحہ پلٹتا ہے اور لکھا ہوتا ہے کہ بچھڑے کا خون مذبح کی چاروں طرف چھڑکا جائے، گُردے اور جگر کی جھلّی جلائی جائے، اور کوڑھی کو سات دن باہر رہنا پڑے۔ یہیں پر اکثر لوگوں کا منصوبہ دم توڑ دیتا ہے۔ احبار کو ہم چھوڑ دیتے ہیں، جیسے کسی پرانے گھر کا بند کمرہ۔
مگر اِس بند کمرے میں وہ خزانہ رکھا ہے جس کے بغیر صلیب کی زبان ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ اِس صفحے پر ہم دیکھیں گے کہ احبار کس نے، کب اور کن حالات میں لکھی، اُس کی ساخت کیا ہے، اُس کے بڑے موضوعات کون سے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ کتاب خون اور پاکیزگی کی زبان میں دراصل کیا پیغام سنا رہی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
احبار کو عموماً "قوانین کی فہرست" کہہ کر پڑھا جاتا ہے۔ ہم اِسے ایک کھلے سوال کے جواب کے طور پر پڑھیں گے۔ خروج کی آخری آیت میں خدا کا جلال خیمے میں اُتر آیا، مگر موسیٰ اندر داخل نہ ہو سکا۔ کہانی ایک بند دروازے پر ختم ہوتی ہے۔ اور احبار کا پہلا لفظ ہے: "اور خداوند نے موسیٰ کو بلا کر خیمۂ اجتماع میں سے اُس سے کہا۔" یعنی خدا نے دروازہ بند نہیں کیا، بلکہ آواز دی۔ اِس زاویے سے احبار پابندیوں کا دفتر نہیں، بلکہ دعوت نامہ ہے: ایک قدوس خدا اپنے گندے، بھٹکنے والے لوگوں کے عین بیچ کیسے بس سکتا ہے۔ پاکیزگی یہاں فاصلے کا نام نہیں؛ پاکیزگی قربت کی زبان ہے۔
بائبل احبار کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
احبار اپنی بات خود کھول کر بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب نہ تو اخلاقیات کا فلسفہ ہے اور نہ مذہبی رسوم کا عجائب گھر؛ یہ اُس خدا کی آواز ہے جو اپنے لوگوں کے درمیان خیمہ لگا چکا ہے اور اب بتا رہا ہے کہ اُس کے پڑوس میں زندگی کیسی دکھائی دیتی ہے۔
سب سے پہلے یہ کتاب قربانی کے دل میں لے جاتی ہے۔ پہلے ہی باب میں قربانی لانے والے کو حکم ملتا ہے: "اور وہ اپنا ہاتھ سوختنی قربانی کے سر پر رکھے اور وہ اُس کی طرف سے مقبول ہو گی تاکہ اُس کے لیے کفارہ ہو" (احبار 1:4)۔ یہ آیت چھوٹی ہے مگر اِس میں پوری خوشخبری کا بیج ہے۔ ہاتھ رکھنا محض ایک رسم نہیں تھی؛ یہ شناخت کا اعلان تھا کہ یہ جانور میری جگہ کھڑا ہے۔ "مقبول" ہونے کا لفظ بتاتا ہے کہ قبولیت کمائی نہیں جاتی، منتقل کی جاتی ہے۔ گنہگار جانور پر ہاتھ رکھتا ہے اور جانور کی موت گنہگار کی زندگی بن جاتی ہے۔
اِسی اصول کی تہہ میں احبار 17:11 رکھی ہے، جو شاید پوری کتاب کی مرکزی آیت ہے: "کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے اور میں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ کے لیے اُسے تم کو دیا ہے، کیونکہ جان ہونے کے سبب سے خون ہی کفارہ دیتا ہے۔" غور کیجیے، خون کوئی جادوئی مادہ نہیں؛ خون زندگی کی علامت ہے۔ اور دوسری بات اور بھی حیرت انگیز ہے: "میں نے... اُسے تم کو دیا ہے۔" کفارے کا انتظام انسان کی ایجاد نہیں، خدا کا تحفہ ہے۔ لوگ خدا کو راضی کرنے کے لیے خون نہیں بہاتے؛ خدا خود راستہ کھول کر دیتا ہے۔
دوسرا بڑا بیان پاکیزگی کا ہے۔ "اِس لیے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ پس تم اپنے آپ کو پاک کرو اور پاک بنو کیونکہ میں پاک ہوں" (احبار 11:44)۔ یہاں وجہ پہلے آتی ہے اور حکم بعد میں۔ تم پاک بنو اِس لیے نہیں کہ خدا تم سے خوش ہو جائے، بلکہ اِس لیے کہ وہ پہلے ہی تمہارا خدا بن چکا ہے۔ یہی بات احبار 20:26 میں اور کھل جاتی ہے: "اور تم میرے لیے پاک ہو گے کیونکہ میں خداوند پاک ہوں اور میں نے تم کو اور قوموں سے جدا کیا ہے تاکہ تم میرے ہی رہو۔" جدائی کا مقصد تنہائی نہیں بلکہ تعلق ہے: "تاکہ تم میرے ہی رہو"۔
تیسرا بیان کفارے کے عظیم دن کا ہے۔ سال میں ایک بار سب کچھ رُک جاتا تھا اور سردار کاہن پردے کے پیچھے جاتا تھا۔ اُس دن کا مقصد یوں بیان ہوا: "کیونکہ اُسی دن تمہارے لیے کفارہ دیا جائے گا تاکہ تم پاک ہو جاؤ، سو تم خداوند کے حضور اپنے سب گناہوں سے پاک ٹھہرو گے" (احبار 16:30)۔ یہ جملہ ایک ایسی صفائی کا وعدہ کرتا ہے جو کسی انسانی کوشش سے نہیں بلکہ ایک مقررہ دن اور ایک مقررہ بدل سے آتی ہے۔
اور چوتھا بیان، جسے بہت سے قاری احبار میں دیکھ کر چونک جاتے ہیں، محبت کا ہے: "تو انتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی اولاد سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔ میں خداوند ہوں" (احبار 19:18)۔ وہی کتاب جو مذبح کے خون کی تفصیل دیتی ہے، وہی پڑوسی کے دل میں دبی رنجش کو بھی گناہ کہتی ہے۔ احبار میں عبادت گاہ اور گلی ایک ہی حکم کے نیچے ہیں۔
یہ چاروں دھارے ایک ہی نقطے پر ملتے ہیں: خدا اپنے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، اور وہ خود ہی اُس قربت کی قیمت ادا کرنے کا بندوبست کرتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
احبار سینا کے دامن میں شروع ہوتی ہے، لیکن اُس کی گونج پوری بائبل میں سنائی دیتی ہے۔ پرانے عہدنامے میں یہ کتاب اسرائیل کی عبادت کی بنیاد بن گئی۔ یسوع کے زمانے تک ہیکل میں جو کچھ ہوتا تھا، اُس کا نقشہ احبار ہی سے لیا گیا تھا۔ انبیا نے بھی اِسی کتاب کی زبان استعمال کی: جب یسعیاہ نے خداوند کو بلند تخت پر دیکھا تو فرشتے "قدوس، قدوس، قدوس" پکار رہے تھے، اور نبی کے ہونٹ ایک انگارے سے پاک کیے گئے۔ یہ احبار کی ہی منطق ہے، پاکیزگی کے حضور میں ناپاکی کا سامنا اور پھر خدا کی طرف سے صفائی۔
مگر پرانا عہدنامہ ایک بے چینی بھی پیدا کرتا ہے۔ ہر سال وہی دن، وہی بکرا، وہی خون۔ مذبح کبھی خالی نہ ہوا۔ کاہن کبھی بیٹھ نہ سکا۔ یہ نظام کام کرتا تھا، مگر ختم نہیں ہوتا تھا۔ اور یہی بے چینی نئے عہدنامے میں پوری ہوتی ہے۔
عبرانیوں کا خط احبار کی تفسیر ہے۔ وہاں صاف لکھا ہے: "اور تقریباً سب چیزیں شریعت کے مطابق خون سے پاک کی جاتی ہیں اور بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی" (عبرانیوں 9:22)۔ یہ آیت احبار 17:11 کی بازگشت ہے، مگر اب ایک نئے مرکز کے ساتھ۔ مسیح آیا، سردار کاہن اور قربانی دونوں بن کر؛ وہ بکروں اور بچھڑوں کے خون سے نہیں بلکہ اپنے ہی خون کے ساتھ مقدِس میں داخل ہوا اور ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا۔ کاہن کا بیٹھ جانا ہی خوشخبری ہے۔
کفارے کا دن مسیح کی صلیب میں پورا ہوا۔ احبار 16 میں دو بکرے تھے: ایک ذبح ہوتا تھا، دوسرے کے سر پر سردار کاہن ہاتھ رکھ کر قوم کے گناہ اقرار کرتا اور اُسے ویرانے میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایک نے سزا اٹھائی، دوسرے نے گناہ کو دور لے جانے کی تصویر دکھائی۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی زبان پر یہ دونوں تصویریں ایک ہو گئیں جب اُس نے کہا کہ دیکھو یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اٹھا لے جاتا ہے۔
پاکیزگی کا حکم بھی منسوخ نہیں ہوا، بلکہ منتقل ہو گیا۔ پطرس نے احبار 11:44 کو لے کر کلیسیا پر لاگو کیا اور لکھا کہ "پاک ہو کیونکہ میں پاک ہوں"۔ اب خیمہ کپڑے اور کھونٹیوں کا نہیں، بلکہ وہ جماعت ہے جس میں روحُ القدس بستا ہے۔ اور احبار 19:18 کو خود خداوند یسوع مسیح نے شریعت کے دو بڑے حکموں میں سے دوسرا قرار دیا: "اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔" پولس رسول نے بھی لکھا کہ محبت شریعت کی تکمیل ہے۔
یوں وہ سلسلہ جو خیمۂ اجتماع کے بند دروازے سے شروع ہوا تھا، مکاشفہ کے آخری ابواب میں ایک کھلے شہر پر ختم ہوتا ہے جہاں کوئی ہیکل نہیں، کیونکہ خدا اور برّہ خود اُس کی ہیکل ہیں۔ احبار کا وعدہ، "میں تمہارے درمیان چلا پھرا کروں گا"، آخرکار ہمیشہ کے لیے پورا ہوتا ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
عبرانی بائبل میں اِس کتاب کا نام "وئیقرا" ہے، یعنی "اور اُس نے بلایا"، کیونکہ کتاب کا آغاز اِسی لفظ سے ہوتا ہے۔ "احبار" یا انگریزی "لیوی ٹیکس" نام یونانی ترجمے سے آیا، جس کا مطلب ہے "لاویوں سے متعلق"۔ دونوں نام مل کر کتاب کا مزاج بتا دیتے ہیں: ایک خدا جو بلاتا ہے، اور ایک کاہنانہ نظام جو اُس بلاوے کو ممکن بناتا ہے۔
روایتی اور کتابی گواہی موسیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کتاب میں بار بار یہ فقرہ آتا ہے کہ "خداوند نے موسیٰ سے کہا"، اور خداوند یسوع مسیح نے خود کوڑھی کو حکم دیا کہ جا کر کاہن کو دکھا اور وہ نذر گزران جو موسیٰ نے مقرر کی۔ تاریخی لحاظ سے کتاب کا مواد سینا کے سفر سے جڑا ہے۔ اگر بادشاہوں کی پہلی کتاب کے زمانی اشارے کو بنیاد بنائیں تو خروج تقریباً پندرہویں صدی قبلِ مسیح میں ہوا اور یہ احکام اُسی دور میں دیے گئے؛ بعض محققین تیرہویں صدی قبلِ مسیح کو ترجیح دیتے ہیں۔ تحریری شکل میں یہ مواد کاہنوں کے ہاتھوں محفوظ اور مرتب ہوتا رہا، مگر اُس کی جڑ موسیٰ اور سینا ہی میں ہے۔
حالات کا نقشہ سادہ ہے۔ قوم مصر سے نکل چکی ہے، سینا کے سامنے خیمہ زن ہے، اور مسکن ابھی ابھی کھڑا ہوا ہے۔ خروج 40 اور گنتی 1 کے درمیان تقریباً ایک مہینے کا وقفہ ہے؛ احبار اِسی ایک مہینے کی کتاب ہے۔ کوئی سفر نہیں، کوئی جنگ نہیں۔ صرف ایک پہاڑ، ایک خیمہ اور ایک آواز۔
کتاب کی ساخت تقریباً دو بڑے حصوں میں بٹتی ہے، اور درمیان میں ایک چوٹی ہے۔ پہلے سات ابواب قربانیوں کا دستور ہیں: سوختنی قربانی جو مکمل سپردگی کی تصویر ہے، نذر کی قربانی جو شکرگزاری کا ہدیہ ہے، سلامتی کی قربانی جو خدا کے حضور دعوتِ طعام بن جاتی ہے، اور خطا اور جرم کی قربانیاں جو گناہ کی آلودگی اور اُس کے نقصان دونوں سے نمٹتی ہیں۔ ابواب آٹھ سے دس کاہنوں کی مخصوصیت کا بیان ہیں، اور یہیں ندب اور ابیہو کا دل دہلا دینے والا واقعہ آتا ہے جنہوں نے "اوپری آگ" پیش کی اور مارے گئے۔ یہ باب یاد دلاتا ہے کہ قربت سستی چیز نہیں۔
ابواب گیارہ سے پندرہ پاک اور ناپاک کے قواعد ہیں: خوراک، ولادت، جلدی بیماریاں، جسمانی رطوبتیں۔ اِن ابواب کا مقصد صفائی ستھرائی کا سبق نہیں بلکہ ایک زندہ تمثیل ہے کہ زندگی اور موت، صحت اور بگاڑ آپس میں خلط ملط نہیں ہو سکتے۔ پھر سولہواں باب آتا ہے، کفارے کا دن، پوری کتاب کا دل اور پوری توریت کا مرکزی نقطہ۔ اِس سے پہلے سب کچھ اِسی کی طرف بڑھتا ہے اور اِس کے بعد سب کچھ اِسی سے نکلتا ہے۔
ابواب سترہ سے چھبیس کو عام طور پر "پاکیزگی کا ضابطہ" کہا جاتا ہے۔ یہاں بات مذبح سے نکل کر گھر، کھیت، بازار اور بستر تک پہنچ جاتی ہے: خون کی حرمت، جنسی اخلاقیات، مزدور کی اجرت وقت پر دینا، بہرے کو نہ کوسنا، اندھے کے آگے ٹھوکر نہ رکھنا، بوڑھوں کا ادب، پردیسی سے اپنے جیسی محبت، سود خوری سے پرہیز۔ تئیسواں باب سال بھر کے مقررہ پرووں کا کیلنڈر ہے، پچیسواں باب سبت کے سال اور یوبلی کا قانون دیتا ہے جس میں قرض معاف اور زمین واپس ہوتی ہے، اور چھبیسواں باب برکت اور لعنت کی صورت میں عہد کی شرائط رکھ دیتا ہے۔ ستائیسواں باب منتوں اور ہدیوں پر ایک ضمیمہ ہے۔
اِن سب کے اوپر ایک جملہ بار بار گونجتا ہے، تقریباً پچاس مرتبہ: "میں خداوند ہوں"۔ احبار کا بنیادی موضوع یہی ہے۔ احکام کی وجہ کوئی ثقافتی رواج نہیں بلکہ خدا کی ذات ہے۔ اور یہی وجہ کتاب کو ہر دور کے لیے زندہ رکھتی ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
اگر کسی کو پوری احبار کا نچوڑ تین آیتوں میں دینا ہو تو میں یہ تین چنوں گا۔
پہلی، احبار 17:11۔ "کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے اور میں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ کے لیے اُسے تم کو دیا ہے، کیونکہ جان ہونے کے سبب سے خون ہی کفارہ دیتا ہے۔" یہ آیت گناہ کی سنجیدگی کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ گناہ کوئی حساب کتاب کی غلطی نہیں جسے معافی مانگ کر درست کر لیا جائے؛ وہ زندگی کو توڑتا ہے، اور ٹوٹی ہوئی زندگی کے بدلے زندگی ہی دی جا سکتی ہے۔ مگر آیت کا سب سے میٹھا حصہ یہ ہے کہ یہ بندوبست خدا نے خود دیا۔ کفارہ خدا کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی انسانی ترکیب نہیں، بلکہ خدا کی محبت کا تحفہ ہے۔
دوسری، احبار 16:30۔ "کیونکہ اُسی دن تمہارے لیے کفارہ دیا جائے گا تاکہ تم پاک ہو جاؤ، سو تم خداوند کے حضور اپنے سب گناہوں سے پاک ٹھہرو گے۔" یہاں دو لفظ قیمتی ہیں: "سب" اور "خداوند کے حضور"۔ کفارے کے دن کوئی گناہ چھوٹ کر باقی نہیں رہتا تھا، حتیٰ کہ وہ بھی جو کسی کو یاد نہ رہے ہوں۔ اور صفائی کا پیمانہ لوگوں کی رائے نہیں بلکہ خدا کی نظر ہے۔ جو شخص اپنے ماضی کے کسی گناہ کے سائے میں جیتا ہے، اُس کے لیے یہ آیت مذبح سے اٹھتی ہوئی تازہ ہوا ہے۔ اور مسیح میں یہ دن سال میں ایک بار نہیں، ایک بار ہمیشہ کے لیے آ چکا ہے۔
تیسری، احبار 20:26۔ "اور تم میرے لیے پاک ہو گے کیونکہ میں خداوند پاک ہوں اور میں نے تم کو اور قوموں سے جدا کیا ہے تاکہ تم میرے ہی رہو۔" یہ آیت پاکیزگی کی غلط تعریف کو جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے۔ مقدس ہونے کا مطلب خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا نہیں، نہ ہی دنیا سے ڈر کر چھپ جانا۔ اِس کا مطلب ہے مالک کا بدل جانا: تم کسی اور کے نہیں، میرے ہو۔ پاکیزگی ملکیت کا نشان ہے، اور ملکیت کا یہ دعویٰ محبت سے بھرا ہوا ہے۔
اِن تینوں کے ساتھ احبار 1:4 کو رکھیے، جہاں ہاتھ رکھنے سے قبولیت منتقل ہوتی ہے، اور احبار 19:18 کو، جہاں وہی قبولیت پڑوسی کے ساتھ برتاؤ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ پانچ آیتیں مل کر پوری کتاب کا نقشہ بنا دیتی ہیں۔
احبار پڑھنے کا عملی رہنما
احبار کو پڑھنے کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ اِسے خروج کے فوراً بعد پڑھا جائے، الگ تھلگ نہیں۔ خروج 40 کی آخری آیتیں پڑھیے، جہاں جلال خیمے کو بھر دیتا ہے اور موسیٰ اندر نہیں جا سکتا، اور پھر احبار 1:1 پڑھیے۔ جب آپ یہ دیکھ لیں گے کہ کتاب کا آغاز ایک بلاوے سے ہوتا ہے تو باقی تفصیلیں بوجھ نہیں رہیں گی۔
چار ہفتوں کا ایک سادہ منصوبہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ پہلے ہفتے میں ابواب ایک سے سات پڑھیے، مگر تفصیل میں الجھنے کے بجائے ہر قربانی کے بارے میں ایک سوال پوچھیے: یہ قربانی خدا کے ساتھ تعلق کا کون سا پہلو دکھا رہی ہے، سپردگی، شکرگزاری، صلح یا معافی؟ دوسرے ہفتے میں ابواب آٹھ سے پندرہ پڑھیے اور خاص طور پر دسویں باب پر ٹھہریے۔ ندب اور ابیہو کا واقعہ آپ کو جھنجھوڑے گا، اور اچھا ہے کہ جھنجھوڑے۔ تیسرے ہفتے میں صرف سولہواں باب لیجیے اور اُس کے ساتھ عبرانیوں 9 اور 10 پڑھیے؛ یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ چوتھے ہفتے میں ابواب سترہ سے ستائیس پڑھیے اور انیسویں باب کو دو بار پڑھیے، کیونکہ وہاں آپ کو مزدور کی اجرت، بوڑھے کا ادب اور پڑوسی سے محبت ایک ہی سانس میں ملیں گے۔
تین عادتیں پڑھائی کو بدل دیتی ہیں۔ پہلی، ہر بار جب "میں خداوند ہوں" آئے، رک کر دہرائیے؛ یہی کتاب کا دھڑکتا دل ہے۔ دوسری، جو حصے ثقافتی طور پر اجنبی لگیں اُن کے بارے میں پوچھیے کہ یہاں زندگی اور موت کی کون سی حد کھینچی جا رہی ہے۔ تیسری، ہر باب کے بعد ایک جملہ لکھیے کہ یہ مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے۔ مشکل ابواب میں مایوس نہ ہوں؛ احبار کو سمجھنے والے بھی اِس میں سوالات رکھتے ہیں۔ ایک اچھی تفسیر یا کسی سمجھدار ساتھی کے ساتھ پڑھنا بوجھ کو آدھا کر دیتا ہے۔
آئینہ
آپ نے شاید کبھی احبار کو اپنی زندگی سے دور سمجھا ہو، مگر ذرا سوچیے۔ کیا آپ کے اندر بھی کوئی ایسا گوشہ ہے جسے آپ خدا کے سامنے لانے سے کتراتے ہیں؟ وہ عادت جسے آپ "بس ایسے ہی" کہہ کر ٹال دیتے ہیں، وہ کاروباری لین دین جس میں آپ جانتے ہیں کہ ترازو جھکا ہوا ہے، وہ رشتہ جس میں آپ نے معافی مانگنے سے انکار کر رکھا ہے؟ احبار آپ کو شرمندہ کرنے نہیں آئی۔ وہ آپ کو یہ بتانے آئی ہے کہ خدا نے اُس گوشے کو دیکھ لیا ہے اور پھر بھی آپ کو مذبح کی طرف بلایا ہے۔
احبار 19 آپ کے دفتر میں گھس آتی ہے جب وہ کہتی ہے کہ مزدور کی مزدوری رات بھر تمہارے پاس نہ رہے۔ وہ آپ کے واٹس ایپ گروپ میں آ بیٹھتی ہے جب وہ چغلی اور جھوٹی گواہی کو منع کرتی ہے۔ وہ آپ کے دل کی اُس پرانی رنجش پر ہاتھ رکھتی ہے جسے آپ نے پچھلے دس سال سے سنبھال رکھا ہے، اور کہتی ہے: کینہ نہ رکھنا، بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔ یہ کتاب جسم کے بارے میں بھی بات کرتی ہے، پیسے کے بارے میں بھی، وقت کے بارے میں بھی۔ یوبلی کا قانون اُس شخص کے لیے ایک چیلنج ہے جو قرض دے کر دوسروں پر گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
اور یہی کتاب آزاد بھی کرتی ہے۔ اگر آپ برسوں سے یہ سوچ کر جی رہے ہیں کہ میرے ماضی کے بعد خدا مجھے قبول نہیں کر سکتا، تو احبار 1:4 آپ سے کہتی ہے کہ قبولیت آپ کی کارکردگی سے نہیں آتی، بلکہ اُس بدل سے جس پر آپ ہاتھ رکھتے ہیں۔ آپ کے لیے وہ بدل اب کوئی بچھڑا نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح ہے۔ سردار کاہن اب ہر سال واپس نہیں جاتا؛ کام ختم ہو چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کافی پاک ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ اُس آواز پر لبیک کہیں گے جو آج بھی خیمے میں سے بلا رہی ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو احبار سمجھانا مشکل نہیں، بس زبان بدلنی ہوتی ہے۔ آپ یوں شروع کر سکتے ہیں: ایک بہت بڑا، بہت اچھا بادشاہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔ اُس نے اُن کے بیچ اپنا خیمہ لگایا۔ مگر بادشاہ بالکل صاف اور بالکل سچا تھا، اور لوگ گندے اور بھولے بھٹکے تھے۔ تو بادشاہ نے کہا، میں دروازہ بند نہیں کروں گا؛ میں تمہیں بتاؤں گا کہ میرے پاس کیسے آنا ہے۔ اِس لیے احبار میں اتنے سارے قاعدے ہیں، ناراضگی کی وجہ سے نہیں بلکہ قربت کی وجہ سے۔
پھر قربانی کی بات سادگی سے کی جا سکتی ہے: جب کسی نے کوئی غلط کام کیا تو وہ ایک جانور لاتا تھا، اُس کے سر پر ہاتھ رکھتا تھا، اور کہتا تھا کہ یہ میری جگہ ہے۔ اور آخر میں خداوند یسوع مسیح آئے، جو ہمارے لیے ہماری جگہ کھڑے ہو گئے، تاکہ اب ہمیں کوئی جانور لانے کی ضرورت نہ رہے۔ چھوٹے بچوں کو خون کی تفصیلات میں لے جانے کی ضرورت نہیں؛ اُن کے لیے "یسوع نے ہماری جگہ لے لی" کافی گہرا سچ ہے۔
عمر کے مطابق بات کرنا بہت فرق ڈالتا ہے۔ تین سے چھ سال کے بچوں کے لیے خیمے اور بلاوے کی تصویر، سات سے بارہ سال کے لیے کفارے کے دن اور دو بکروں کی کہانی، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے پاکیزگی، شناخت اور عبرانیوں کے خط کا ربط۔ فیتھ نیٹ ورک پر اِن تینوں عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں، تاکہ آپ اپنے بچے کی سمجھ کے مطابق صحیح قدم چن سکیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
احبار کی کتاب کس نے لکھی؟
روایتی اور کتابی گواہی موسیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کتاب کے اندر درجنوں بار یہ فقرہ آتا ہے کہ خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل سے یہ کہہ، اور خداوند یسوع مسیح نے بھی احبار کے احکام کو "موسیٰ کا حکم" کہا جب اُنہوں نے شفا پانے والے کوڑھی کو کاہن کے پاس بھیجا۔ کاہنوں نے اِس مواد کو نسل در نسل محفوظ رکھا اور مرتب کیا، مگر اِس کی جڑ سینا کے دامن میں دیے گئے اُن احکام میں ہے جو خدا نے موسیٰ کے ذریعے اپنی قوم کو دیے۔
احبار کب لکھی گئی اور اُس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
احبار کا مواد اُس وقت کا ہے جب اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد کوہِ سینا کے سامنے خیمہ زن تھا اور مسکن ابھی ابھی کھڑا ہوا تھا۔ خروج کی آخری آیتوں اور گنتی کے پہلے باب کے درمیان تقریباً ایک مہینے کا وقفہ ہے، اور پوری احبار اِسی وقفے میں آتی ہے۔ زمانے کے بارے میں ایک مضبوط رائے پندرہویں صدی قبلِ مسیح کی ہے، جبکہ بعض محققین تیرہویں صدی قبلِ مسیح کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاریخ جو بھی ہو، منظر وہی رہتا ہے: ایک پہاڑ، ایک خیمہ اور خدا کی آواز۔
احبار کا مطلب کیا ہے اور اِس کتاب کا نام یہی کیوں ہے؟
عبرانی بائبل میں اِس کتاب کا نام اُس کے پہلے لفظ "وئیقرا" سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "اور اُس نے بلایا"۔ یونانی ترجمے میں اِسے "لیوی ٹیکن" یعنی لاویوں سے متعلق کہا گیا، کیونکہ کتاب کا بڑا حصہ کاہنوں اور لاویوں کی خدمت سے جڑا ہے؛ اُردو میں یہی نام "احبار" یعنی عالموں اور کاہنوں سے متعلق کتاب بن گیا۔ دونوں نام مل کر پوری کتاب کا خلاصہ دے دیتے ہیں: ایک خدا جو قریب آنے کے لیے بلاتا ہے، اور ایک انتظام جو اُس قربت کو ممکن بناتا ہے۔
کیا احبار کے احکام آج بھی مسیحیوں پر لاگو ہوتے ہیں؟
احبار کے قربانی اور کاہنانہ احکام خداوند یسوع مسیح میں پورے ہو چکے ہیں، اِس لیے کلیسیا اب نہ جانور ذبح کرتی ہے نہ مذبح پر خون چھڑکتی ہے؛ عبرانیوں کا خط یہی سکھاتا ہے۔ پاک اور ناپاک خوراک کے قواعد بھی نئے عہد میں اٹھا لیے گئے، جیسا کہ خداوند کے الفاظ اور پطرس کی رؤیا سے ظاہر ہے۔ مگر جو اخلاقی اصول خدا کی ذات پر مبنی ہیں، جیسے پڑوسی سے محبت، مزدور کے ساتھ انصاف، سچائی اور جنسی پاکیزگی، وہ آج بھی قائم ہیں اور نئے عہدنامے میں دہرائے گئے ہیں۔
احبار میں خون پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے؟
احبار 17:11 خود اِس کا جواب دیتی ہے: جسم کی جان خون میں ہے، اور خدا نے اُسے مذبح پر کفارے کے لیے دیا ہے۔ خون یہاں کسی جادوئی طاقت کی علامت نہیں بلکہ زندگی کی نمائندگی ہے۔ گناہ زندگی کو توڑتا ہے، اِس لیے ٹوٹی ہوئی زندگی کے بدلے زندگی ہی پیش کی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ بندوبست انسان کی ایجاد نہیں؛ خدا کہتا ہے کہ "میں نے... اُسے تم کو دیا ہے"۔ یعنی کفارہ خدا کے غضب کو خریدنے کی کوشش نہیں بلکہ اُس کی رحمت کا تحفہ ہے۔
کفارے کا دن کیا تھا اور اُس کا مسیح سے کیا تعلق ہے؟
کفارے کا دن سال میں ایک بار آتا تھا، جب سردار کاہن پردے کے پیچھے پاک ترین مقام میں داخل ہوتا اور پوری قوم کے گناہوں کے لیے خون پیش کرتا تھا۔ احبار 16:30 کے مطابق اُس دن لوگ خداوند کے حضور اپنے سب گناہوں سے پاک ٹھہرتے تھے۔ دو بکرے استعمال ہوتے تھے: ایک ذبح ہوتا اور دوسرا گناہ لے کر ویرانے میں چھوڑ دیا جاتا۔ یہ دونوں تصویریں خداوند یسوع مسیح میں پوری ہوئیں، جو خود سردار کاہن بھی ہیں اور قربانی بھی، اور جنہوں نے ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے یہ کام مکمل کر دیا۔
احبار میں کتنی قسم کی قربانیاں بیان ہوئی ہیں؟
پہلے سات ابواب میں پانچ بڑی قربانیاں بیان ہوتی ہیں۔ سوختنی قربانی پوری جلائی جاتی تھی اور مکمل سپردگی کی علامت تھی۔ نذر کی قربانی آٹے اور تیل کی تھی اور محنت کے پھل کی شکرگزاری ظاہر کرتی تھی۔ سلامتی کی قربانی میں کچھ حصہ پیش کرنے والا اور اُس کا گھرانا خدا کے حضور کھاتا تھا، گویا میز پر صلح کی خوشی۔ خطا کی قربانی ناپاکی اور انجانے گناہ سے صفائی کے لیے تھی، اور جرم کی قربانی اُس نقصان کے ازالے کے لیے جو گناہ سے کسی دوسرے کو پہنچا ہو۔
احبار 11:44 میں "پاک بنو" کا کیا مطلب ہے؟
"پاک" کا بنیادی مفہوم اخلاقی بے عیبی سے پہلے "الگ کیا ہوا" ہے۔ احبار 11:44 کہتی ہے کہ تم اپنے آپ کو پاک کرو اور پاک بنو کیونکہ میں پاک ہوں، یعنی تمہاری زندگی کا نمونہ تمہارے خدا کی ذات ہے۔ یہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے یا دنیا سے الگ تھلگ ہو جانے کی دعوت نہیں، بلکہ ایک نئی وابستگی کا اعلان ہے، جیسا کہ احبار 20:26 میں لکھا ہے: "تاکہ تم میرے ہی رہو"۔ پاکیزگی خدا کی قربت کا نتیجہ ہے، اُسے خریدنے کی قیمت نہیں۔
پاک اور ناپاک جانوروں کے قواعد کا مقصد کیا تھا؟
اِن قواعد کا مقصد نہ محض صحت و صفائی تھا اور نہ اتفاقی ثقافتی پسند ناپسند۔ یہ ایک روزانہ کی عملی یاددہانی تھی کہ خدا نے اپنی قوم کو دوسری قوموں سے جدا کیا ہے؛ کھانے کی میز بھی گواہی دیتی تھی کہ یہ لوگ کسی اور کی ملکیت ہیں۔ ساتھ ہی یہ تمیزیں زندگی اور موت، ترتیب اور بگاڑ کے درمیان حدیں کھینچتی تھیں، اور اسرائیل کو سکھاتی تھیں کہ ہر چیز کو خدا کی نظر سے دیکھنا سیکھے۔ نئے عہد میں یہ دیوار مسیح میں گرا دی گئی۔
احبار 19:18 اور خداوند یسوع مسیح کی تعلیم میں کیا ربط ہے؟
احبار 19:18 میں لکھا ہے: "تو انتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی اولاد سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔ میں خداوند ہوں۔" جب خداوند یسوع مسیح سے پوچھا گیا کہ شریعت میں سب سے بڑا حکم کون سا ہے، تو اُنہوں نے خدا سے محبت کے بعد یہی آیت دہرائی۔ یعنی جسے لوگ "صرف رسومات کی کتاب" سمجھتے ہیں، اُسی میں سے مسیح نے محبت کا دوسرا بڑا حکم نکالا۔ نیک سامری کی تمثیل بھی دراصل اِسی آیت کی تفسیر ہے کہ ہمسایہ کون ہے۔
ندب اور ابیہو کے ساتھ ایسا سخت سلوک کیوں ہوا؟
احبار 10 میں ہارون کے دو بیٹوں نے خداوند کے حضور وہ آگ پیش کی جس کا حکم نہیں دیا گیا تھا، اور آگ نے اُنہیں بھسم کر دیا۔ یہ واقعہ کاہنوں کی مخصوصیت کے فوراً بعد آتا ہے، یعنی اُس وقت جب خدا کی قربت کی سنجیدگی سب سے زیادہ واضح تھی۔ سبق یہ ہے کہ خدا کے پاس آنا ہماری مرضی کی شرطوں پر نہیں ہوتا؛ وہی راستہ بتاتا ہے اور وہی اُسے کھولتا ہے۔ یہی باب ہمیں مسیح کی قدر کرنا سکھاتا ہے، جس کے ذریعے اب ہم دلیری سے حاضر ہو سکتے ہیں۔
احبار بائبل کی ترتیب میں کہاں فٹ بیٹھتی ہے؟
احبار توریت کی پانچ کتابوں میں عین درمیان میں ہے۔ پیدایش دنیا اور عہد کا آغاز بیان کرتی ہے، خروج چھٹکارے اور خیمے کی تعمیر پر ختم ہوتی ہے، احبار بتاتی ہے کہ چھٹکارا پانے والے لوگ خدا کے پڑوس میں کیسے جیتے ہیں، گنتی اُنہیں سفر پر لے جاتی ہے اور استثنا نئی نسل کے لیے عہد کی تجدید کرتی ہے۔ نئے عہدنامے میں عبرانیوں کا خط احبار کے بغیر سمجھ ہی نہیں آتا، اور پطرس اور پولس دونوں اِس کتاب کے الفاظ لے کر کلیسیا پر لاگو کرتے ہیں۔
اختتام میں
احبار کو ہم نے قوانین کی فہرست کے طور پر نہیں، بلکہ ایک بلاوے کے طور پر پڑھا۔ خروج ایک بند دروازے پر ختم ہوا تھا، اور احبار پہلے ہی لفظ میں وہ دروازہ کھول دیتی ہے: خداوند نے موسیٰ کو بلایا۔ اُس کے بعد جو کچھ آتا ہے، قربانیاں، کاہن، پاکیزگی کے قاعدے، کفارے کا دن، پڑوسی سے محبت کا حکم، سب ایک ہی مقصد کی خدمت کرتے ہیں: ایک قدوس خدا اپنے لوگوں کے عین بیچ رہ سکے اور وہ لوگ زندہ بچ سکیں۔ خدا کی پاکیزگی ہمیں دور نہیں، قریب بلاتی ہے۔
اور یہی بلاوا صلیب پر اپنی انتہا کو پہنچا۔ جس خون کی بات احبار 17:11 کرتی ہے، اُس کی اصل تکمیل عبرانیوں 9:22 کے بعد کے ابواب میں ملتی ہے، جہاں مسیح نے اپنے ہی خون سے ہمیشہ کا فدیہ حاصل کیا۔ اب آپ کو کوئی جانور لے کر مذبح تک جانے کی ضرورت نہیں، مگر ہاتھ رکھنے کی ضرورت اب بھی ہے؛ ایمان کا ہاتھ، اُس برّہ پر جو آپ کی جگہ کھڑا ہوا۔
اگلا قدم سادہ ہے۔ احبار 16 کو ایک بار آہستہ پڑھیے، پھر عبرانیوں 9 اور 10 کو۔ دونوں کو ساتھ رکھ کر دیکھیے کہ خدا نے صدیوں سے کیا تیاری کر رکھی تھی۔ اور جب آپ "میں خداوند ہوں" پڑھیں، تو اُسے اپنے نام کے ساتھ سنیے۔
