سچے دل سے قربانی اور حفاظت
سچی قربانی
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے خروج 12:26-27, 1 سموئیل 25:32-33, 2 Samuel 24:24 and Matthew 18:6.
☀ صبح کا لمحہ
اور جب تمہارے بچے تم سے پوچھیں کہ ہم یہ عید کیوں مناتے ہیں تو اُن سے کہو، ’یہ فسح کی قربانی ہے جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کر رہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑ دیا تھا‘۔“ یہ سن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔
خروج 12:26-27
آج صبح ناشتے کی میز پر شاید کوئی چھوٹا بچہ پوچھے، ابو یہ ہم روز یہی دعا کیوں کرتے ہیں؟ یا کوئی ساتھی راستے میں پوچھ لے، آپ اتوار کو چرچ کیوں جاتے ہیں؟ ایسے سوال اکثر عجیب لگتے ہیں، جیسے کوئی معمول کی بات کو چیلنج کر رہا ہو۔
مصر میں اسرائیلیوں کو بھی ایک ایسا ہی معمول دیا گیا تھا۔ ہر گھرانہ ایک برّہ ذبح کرتا، اس کا خون دروازے کی چوکھٹ پر لگاتا، اور جلدی میں، سفر کے کپڑوں میں، وہ گوشت کھاتا۔ یہ کوئی آرام دہ عشائیہ نہیں تھا، یہ نکلنے کی تیاری تھی۔ خون نے گھر کو موت سے بچایا، اور یہ رسم نسل در نسل دہرائی جانی تھی، خاص اس لیے کہ بچے سوال پوچھیں گے۔ خدا نے اس رسم میں سوال کی جگہ پہلے سے رکھی تھی، کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اس کی نجات محض یاد نہ رہے بلکہ بار بار زبان سے کہی جائے۔
یہی چیز آج بھی سچ ہے۔ ہمارے گھروں میں، دفتروں میں، جب کوئی پوچھتا ہے کہ آپ یہ کیوں کرتے ہیں، تو وہ لمحہ ایک موقع ہے، خدا کی وفاداری کی کوئی خاص کہانی سنانے کا۔
آج
آج کسی ایک شخص کو، بچے، دوست یا ساتھی کارکن کو، خدا کی مدد کا کوئی ایک واضح واقعہ اپنی زندگی سے زبانی سنائیں، کوئی ایسا لمحہ جب اس نے آپ کو بچایا یا راستہ دکھایا۔
✦ دوپہر کا لمحہ
David said to Abigail, "Blessed be Yahweh, the God of Israel, who sent you today to meet me. Blessed is your discretion, and blessed are you, who have kept me today from bloodshed, and from avenging myself with my own hand."
1 سموئیل 25:32-33
دو سو روٹیاں، مے کے دو مشکیزے، پانچ بھنی بھیڑیں، کشمش اور انجیر کی ٹوکریاں گدھوں کی پیٹھ پر لدی ہیں، اور ابیجل خود جھک کر زمین کو چھو رہی ہے، اس مرد کے سامنے جو تلوار ہاتھ میں لے کر اس کے پورے گھرانے کو مٹانے آ رہا تھا۔
نابال نے حماقت کی تھی، داؤد کے آدمیوں کی بھوک کو حقیر جانا تھا۔ ابیجل نے شوہر سے پوچھا نہیں۔ اسے وقت نہیں تھا۔ اس نے دیکھا کہ کیا آنے والا ہے اور خود اٹھ کر راستے میں کھڑی ہو گئی۔ یہ کوئی نرم دلی کی بات نہیں تھی، یہ سمجھ داری تھی جس نے فوری فیصلہ لیا، خطرہ اٹھایا، اور خون بہنے سے پہلے راستہ بدل دیا۔
داؤد نے اسی چیز کی تعریف کی، اس کے چہرے کی نہیں، اس کی عقل کی۔ ایک عورت کی سمجھ نے کئی جانیں بچا لیں، اور خود داؤد کو بھی ایک ایسے کام سے بچا لیا جس پر وہ بعد میں شرمندہ ہوتا۔
آج کے دن میں بھی ایسے لمحے آتے ہیں جہاں غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور کوئی درمیان میں کھڑا ہونے کی جگہ ہے۔ سمجھ داری اکثر تیز فیصلے کی صورت میں آتی ہے، نہ کہ لمبی سوچ بچار میں۔
آج
اس وقت کسی ایسے تنازعے کو ذہن میں لائیں جو دفتر یا گھر میں سلگ رہا ہے، اور ابھی ایک چھوٹا، عملی قدم لکھ لیں جو اسے بھڑکنے سے پہلے ٹھنڈا کر سکے، پھر وہ قدم آج ہی اٹھا لیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
لیکن بادشاہ نے انکار کیا، ”نہیں، مَیں ضرور ہر چیز کی پوری قیمت ادا کروں گا۔ مَیں رب اپنے خدا کو ایسی کوئی بھسم ہونے والی قربانی پیش نہیں کروں گا جو مجھے مفت میں مل جائے۔“ چنانچہ داؤد نے بَیلوں سمیت گاہنے کی جگہ چاندی کے 50 سِکوں کے عوض خرید لی۔
2 Samuel 24:24
کیا میری معافی کی کوئی قیمت ہے، یا میں صرف الفاظ ادا کرتا ہوں جو مجھے کچھ نہیں لیتے؟
یروشلیم کے باہر ایک پہاڑی پر ارونہ کی گاہنے کی جگہ تھی، ایک کھلا، ہموار میدان جہاں بیل اناج کو روندتے، بھوسا ہوا میں اڑتا، دانے الگ ہوتے۔ یہ کوئی مقدس مقام نہ تھا، بس روزمرہ کے کام کی زمین، دھول اور پسینے کی بو والی جگہ جہاں کسان اپنی روٹی کے لیے مشقت کرتا تھا۔
لیکن اسی عام زمین پر یہوواہ کا فرشتہ کھڑا ہوا، اور وبا یروشلیم کو نگل رہی تھی۔ داؤد نے وہاں مذبح بنانے کا ارادہ کیا۔ ارونہ نے بیل، لکڑی، ہر چیز مفت دینے کی پیشکش کی، اسے تو صرف خوشی ہوتی۔
داؤد نے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ وہ چیز نہیں چڑھائے گا جو اسے کچھ نہ لے۔ چاندی کے پچاس سکے دے کر اس نے وہی گاہنے کی جگہ خریدی۔ یہی زمین بعد میں سلیمان کی ہیکل کی بنیاد بنی، وہ مقام جہاں نسل در نسل قربانیاں چڑھائی جاتیں۔
عبادت گاہ کی زمین کسی خواب سے نہیں آئی، وہ کسی کھیت مزدور کی روزی کی جگہ تھی، جس کی قیمت چکائی گئی۔ جو مجھے کچھ نہیں لیتا، وہ شاید میری زندگی کو بھی کچھ نہیں دے گا۔
آج
آج کسی ایک شخص کو یاد کرو جس سے تمہیں معافی مانگنی ہے، اور صرف 'معاف کرو' کہنے کے بجائے کوئی ٹھوس عمل کرو، وقت دو، کوئی چیز واپس کرو، یا کچھ ایسا دو جس کی تمہیں واقعی قیمت چکانی پڑے۔ فون اٹھاؤ اور یہ ابھی کرو۔
☾ شام کا لمحہ
لیکن جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے کسی کو گناہ کرنے پر اُکسائے اُس کے لئے بہتر ہے کہ اُس کے گلے میں بڑی چکّی کا پاٹ باندھ کر اُسے سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو دیا جائے۔
Matthew 18:6
ایک پتھر اتنا بھاری ہو سکتا ہے کہ اسے گلے میں ڈالنا موت کی دعوت بن جائے۔
ہر گھر میں ایک چھوٹی چکی ہوتی تھی، دو پتھروں کی جو ہاتھ سے گھمائے جاتے، روز کے آٹے کے لیے۔ مگر یسوع یہاں اس چھوٹے پتھر کی بات نہیں کر رہے۔ یونانی لفظ اس بڑی چکی کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے گدھا گھماتا تھا، اتنی بھاری کہ ایک انسان اکیلے اسے ہلا بھی نہ سکے۔ یسوع جان بوجھ کر سب سے بھاری چیز چنتے ہیں، تاکہ دکھا سکیں کہ کسی چھوٹے کو، کسی کمزور ایمان دار کو ٹھوکر دینا کتنا سنگین معاملہ ہے۔
دن بھر میں ہم کتنی آسانی سے کسی کو نیچا دکھا دیتے ہیں۔ تھکن میں ایک سخت لفظ، جلدی میں ایک نظرانداز، غصے میں ایک طنز۔ کوئی چھوٹا دل، شاید بچہ، شاید نیا ایمان دار، وہ لمحہ اٹھا کر چلا جاتا ہے۔ ہم اسے بھول جاتے ہیں، مگر وہ پتھر کہیں لٹک جاتا ہے۔
شام یہ لمحہ ہے کہ دن کا بوجھ گنیں، نہ کہ چھپائیں۔ اگر آج کسی کو دبایا، ٹوکا، یا نظرانداز کیا، تو اسے یسوع کے سامنے رکھ دیں۔ وہ بھاری پتھر سمندر میں نہیں، اس کے پاؤں میں ڈالنا ہے۔
آج
آج رات سونے سے پہلے، اس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جسے آج آپ نے ممکنہ طور پر دل شکستہ کیا یا نظرانداز کیا، اور اس کے لیے بلند آواز سے ایک مختصر دعا کریں، پھر موقع ملے تو کل صبح اسے ایک نرم پیغام بھیجنے کا ارادہ باندھ لیں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
26اور جب تمہارے بچے تم سے پوچھیں کہ ہم یہ عید کیوں مناتے ہیں
27تو اُن سے کہو، ’یہ فسح کی قربانی ہے جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کر رہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑ دیا تھا‘۔“ یہ سن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔
24لیکن بادشاہ نے انکار کیا، ”نہیں، مَیں ضرور ہر چیز کی پوری قیمت ادا کروں گا۔ مَیں رب اپنے خدا کو ایسی کوئی بھسم ہونے والی قربانی پیش نہیں کروں گا جو مجھے مفت میں مل جائے۔“ چنانچہ داؤد نے بَیلوں سمیت گاہنے کی جگہ چاندی کے 50 سِکوں کے عوض خرید لی۔
6لیکن جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے کسی کو گناہ کرنے پر اُکسائے اُس کے لئے بہتر ہے کہ اُس کے گلے میں بڑی چکّی کا پاٹ باندھ کر اُسے سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو دیا جائے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں