حیرت، فرمانبرداری اور نجات کا سفر
حیرت اور نجات
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے یوحنا 5:8-9, لوقا 1:63, اعمال 18:26 and Isaiah 53:3.
☀ صبح کا لمحہ
عیسیٰ نے کہا، ”اُٹھ، اپنا بستر اُٹھا کر چل پھر!“ وہ آدمی فوراً بحال ہو گیا۔ اُس نے اپنا بستر اُٹھایا اور چلنے پھرنے لگا۔ یہ واقعہ سبت کے دن ہوا۔
یوحنا 5:8-9
جب تم برسوں سے ایک ہی جگہ پھنسے ہو اور دل میں بار بار یہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا کسی کو میری خبر بھی ہے، کیا میری باری کبھی آئے گی، تو تم اکیلے نہیں ہو۔
یروشلیم کے بیت حسدا تالاب کے پانچ برآمدوں میں بہت سے بیمار، اندھے، لنگڑے اور مفلوج لوگ پڑے رہتے تھے۔ لوگ مانتے تھے کہ جب پانی ہلتا ہے تو جو پہلے اترے وہ شفا پاتا ہے۔ وہاں ایک آدمی اڑتیس برس سے بیمار پڑا تھا، اتنے عرصے سے کہ شاید لوگ اسے پہچاننا بھی بھول چکے ہوں گے۔
اس ہجوم میں یسوع نے خاص اسی کو دیکھا۔ نہ اس کے رشتے داروں نے، نہ ارد گرد بیٹھے بیماروں نے، صرف یسوع نے۔ یسوع نے اسے تسلی کے الفاظ نہیں دیے، نہ یہ پوچھا کہ اتنے سال کیوں لگے، بس حکم دیا، اٹھ، اپنی چارپائی اٹھا اور چل۔
یہ معجزہ اس آدمی کی ہمت یا ایمان کے کسی بیان سے پہلے ہوا۔ وہ تو صرف اپنی حالت بتا سکا کہ اسے پانی تک پہنچانے والا کوئی نہیں۔ شفا یسوع کے حکم سے آئی، اس آدمی کی اپنی طاقت سے نہیں۔ اور یہ ہفتے کے دن ہوا، اسی دن جب اکثر لوگ آرام کرتے ہیں، یسوع نے اسے نئی زندگی میں کھڑا کیا۔
آج
آج کسی ایسے شخص کو فون کریں یا اس کے گھر جائیں جسے آپ جانتے ہیں کہ وہ اکثر اکیلا، بیمار یا گھر میں پڑا رہتا ہے، اور صرف اتنا کہیں کہ آپ نے اسے یاد کیا۔
✦ دوپہر کا لمحہ
جواب میں زکریاہ نے تختی منگوا کر اُس پر لکھا، ”اُس کا نام یحییٰ ہے۔“ یہ دیکھ کر سب حیران ہوئے۔
لوقا 1:63
تختی ہاتھ میں لرز رہی ہے۔ مہینوں سے زکریاہ کی زبان بند ہے، گھر میں سناٹا ہے، بات چیت صرف اشاروں سے ہوتی ہے۔ اب رشتہ دار بچے کا نام رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں، سب چاہتے ہیں وہ باپ کے نام پر ہو۔ لیکن زکریاہ تختی مانگتا ہے اور لکھتا ہے، یوحنا۔ وہی نام جو فرشتے نے مندر میں اسے بتایا تھا، جس وقت اس نے یقین نہیں کیا تھا۔
یہ خاموشی سزا نہیں تھی، یہ ایک نشانی تھی۔ زکریاہ نے شک کیا تھا کہ کیا بوڑھے سال اولاد دیکھ سکتے ہیں، اور اس شک کی قیمت یہ تھی کہ وہ مہینوں اپنی آواز سے محروم رہا۔ مگر غور کرو، اس خاموشی نے اسے بدل دیا۔ جب زبان کھلتی ہے تو پہلا لفظ شک کا نہیں، فرمانبرداری کا ہے۔ وہ وہی لکھتا ہے جو کہا گیا تھا۔
ہفتے کی اس دوپہر میں شاید تمہارے گھر میں بھی کوئی خاموشی ہے، ایک سوال جس کا جواب ابھی نہیں آیا، ایک انتظار جو لمبا ہو گیا ہے۔ زکریاہ کی کہانی یہ نہیں کہتی کہ شک مٹا دیا گیا، بلکہ یہ کہ خاموشی میں بھی خدا کا کلام قائم رہا، اور وقت آنے پر پورا ہوا۔
آج
آج کوئی ایک وعدہ یا نام جو تم نے دل میں رکھا ہوا ہے، کاغذ پر لکھ دو، جیسے زکریاہ نے لکھا، اور اسے گھر میں کسی ایسی جگہ رکھ دو جہاں شام کو دوبارہ نظر پڑے۔
◐ دوپہر کا لمحہ
اِفسس کے یہودی عبادت خانے میں وہ بڑی دلیری سے کلام کرنے لگا۔ یہ سن کر پرسکلہ اور اکوِلہ نے اُسے ایک طرف لے جا کر اُس کے سامنے اللہ کی راہ کو مزید تفصیل سے بیان کیا۔
اعمال 18:26
جس کو بہت لوگ سن رہے ہیں، اُسے اکیلے میں روکنا، یہی سب سے مشکل محبت ہے۔
اپلوس بولنے والا تھا، بہادر، پکّا، اور عبرانی صحیفوں کا جانکار۔ لوگ اُسے سن رہے تھے، شاید تعریف کر رہے تھے۔ مگر پرسکلہ اور اکوِلا نے کچھ ایسا سنا جو ادھورا تھا۔ انہوں نے اُسے بھری محفل میں شرمندہ نہیں کیا۔ اُسے الگ لے گئے۔ یہ فیصلہ سستا نہیں تھا۔ ایک گھر چھوڑ کر دوسرے شہر آئے دو کاری گر، ایک پڑھے لکھے، اثر رکھنے والے عالم کو درست کرنے کی جرأت کریں، یہ عجیب لگتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ لوقا یہاں پرسکلہ کا نام پہلے لکھتا ہے، اکوِلا سے پہلے۔ اُس زمانے میں یہ عام نہیں تھا۔ شاید یہ اشارہ ہے کہ یہ کام اُن دونوں کا مشترکہ کام تھا، اور پرسکلہ کی آواز وہاں وزن رکھتی تھی۔
یہاں کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی لڑائی نہیں۔ بس دو لوگ جو جانتے تھے کہ سچ کا پورا ہونا ضروری ہے، اور جنہوں نے اُسے مہربانی سے، نجی طور پر، کسی کو سکھایا۔
آج کا دن سب کچھ ٹھیک رکھنے کا موقع نہیں، مگر کسی ایک ناقص بات کو، محبت سے، نجی طور پر، درست کرنے کا موقع ضرور ہو سکتا ہے۔
آج
ایک شخص کو یاد کرو جسے تم نے کچھ غلط یا ادھورا کہتے سنا تھا۔ اُسے آج شام فون کر کے یا ملاقات میں، تنہائی میں، نرمی سے وہ بات سمجھاؤ جو تم نے دل میں رکھی تھی۔
☾ شام کا لمحہ
اُسے حقیر اور مردود سمجھا جاتا تھا۔ دُکھ اور بیماریاں اُس کی ساتھی رہیں، اور لوگ یہاں تک اُس کی تحقیر کرتے تھے کہ اُسے دیکھ کر اپنا منہ پھیر لیتے تھے۔ ہم اُس کی کچھ قدر نہیں کرتے تھے۔
Isaiah 53:3
ہفتے کی شام کھانے کی میز پر عجیب خاموشی ہے۔ بیٹا اپنے موبائل میں مگن ہے، شوہر کی نظریں پلیٹ پر جمی ہیں، کسی نے کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھا۔ ہر کوئی اپنے دن کا بوجھ لیے بیٹھا ہے، مگر کوئی کسی سے پوچھتا نہیں۔
یسعیاہ نبی نے یہ الفاظ اس وقت لکھے جب اسرائیل جلاوطنی کے کرب میں تھا، جب لوگ ایک ایسے نجات دہندہ کی تلاش میں تھے جو شان و شوکت سے آئے۔ مگر جس خادم کا ذکر یہاں ہے وہ کمزور، بیمار اور حقیر نظر آتا ہے۔ قدیم زمانے میں ایسے لوگوں سے، جو بیماری یا شرمندگی کا نشان لیے ہوتے، لوگ منہ پھیر لیتے تھے، جیسے کوڑھی سے دور رہا جاتا۔ یہی ردِعمل اس خادم کے ساتھ بھی ہوا، لوگوں نے اپنا منہ چھپا لیا۔
یہ وہی خادم ہے جسے کلیسیا نے ہمیشہ مسیح میں پہچانا ہے۔ جس چہرے سے ہم نے منہ موڑا، اسی نے ہمارا بوجھ اٹھایا۔
آج یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس کے چہرے سے نظریں چرا رہے ہیں، گھر میں، میز پر، کسی تھکے ہوئے چہرے سے۔ شاید آج رات کسی کی طرف دیکھنا ہی کافی ہو۔
آج
آج رات کھانے کی میز پر فون ایک طرف رکھ دیں اور گھر کے کسی ایک فرد کے چہرے کو غور سے دیکھ کر پوچھیں کہ اس کا دن کیسا گزرا، اور جو جواب ملے اسے پوری توجہ سے سنیں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
8عیسیٰ نے کہا، ”اُٹھ، اپنا بستر اُٹھا کر چل پھر!“
9وہ آدمی فوراً بحال ہو گیا۔ اُس نے اپنا بستر اُٹھایا اور چلنے پھرنے لگا۔ یہ واقعہ سبت کے دن ہوا۔
63جواب میں زکریاہ نے تختی منگوا کر اُس پر لکھا، ”اُس کا نام یحییٰ ہے۔“ یہ دیکھ کر سب حیران ہوئے۔
26اِفسس کے یہودی عبادت خانے میں وہ بڑی دلیری سے کلام کرنے لگا۔ یہ سن کر پرسکلہ اور اکوِلہ نے اُسے ایک طرف لے جا کر اُس کے سامنے اللہ کی راہ کو مزید تفصیل سے بیان کیا۔
3اُسے حقیر اور مردود سمجھا جاتا تھا۔ دُکھ اور بیماریاں اُس کی ساتھی رہیں، اور لوگ یہاں تک اُس کی تحقیر کرتے تھے کہ اُسے دیکھ کر اپنا منہ پھیر لیتے تھے۔ ہم اُس کی کچھ قدر نہیں کرتے تھے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں