جب انتظار مشکل ہو جائے
انتظار اور بھروسہ
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے متی 26:36, Psalm 42:5, Deuteronomy 26:2 and 2 توارِیخ 20:12.
☀ صبح کا لمحہ
عیسیٰ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک باغ میں پہنچا جس کا نام گتسمنی تھا۔ اُس نے اُن سے کہا، ”یہاں بیٹھ کر میرا انتظار کرو۔ مَیں دعا کرنے کے لئے آگے جاتا ہوں۔“
متی 26:36
گتسمنی۔ یہ لفظ عبرانی زبان میں دراصل ایک آلے کا نام ہے، تیل کا کولہو۔ زیتون کے باغ میں ایک بھاری پتھر رکھا جاتا تھا جس کے نیچے زیتون رکھ کر کچلے جاتے، اور تب ہی ان کا تیل نکلتا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی نام نہیں تھا، یہ باغ زیتون کے درختوں سے بھرا تھا، یروشلم کی دیوار سے باہر، زیتون کے پہاڑ کی ڈھلان پر، جہاں یسوع اکثر آتے تھے۔
اُس رات یسوع اپنے شاگردوں کو یہیں لے آئے۔ انہیں کہا کہ بیٹھ کر جاگیں، اور خود تھوڑا آگے جا کر منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔ ان کی روح موت تک غمگین تھی۔ جس جگہ زیتون کچلے جاتے تھے، وہیں مسیح بھی بوجھ تلے دبے گئے۔
یہ نام یونہی نہیں رہ گیا۔ جہاں دباؤ ہوتا ہے، وہیں تیل نکلتا ہے۔ یسوع نے یہ دباؤ ہمارے لیے سہا، اور اسی لیے آج ہمیں تسلی کا تیل میسر ہے۔
آج ہفتے کی صبح، گھر میں آرام کا دن، پھر بھی کوئی بوجھ دل پر ہو سکتا ہے، کوئی پریشانی جو رات بھر ساتھ رہی۔ یاد رکھیں، مسیح اس جگہ سے گزر چکے ہیں جہاں دباؤ انسان کو زمین پر گرا دیتا ہے۔ وہ اس راستے سے اجنبی نہیں۔
آج
آج صبح دس منٹ نکالیں، گھر کے باہر یا کسی درخت کے نیچے کھڑے ہو جائیں، اور اونچی آواز میں کہیں، "نہ جو میں چاہتا ہوں بلکہ جو تُو چاہتا ہے۔" اپنے دل کا بوجھ لفظوں میں کہہ دیں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔
Psalm 42:5
غور کریں کہ زبورنویس کس سے بات کر رہا ہے۔ وہ خدا سے دعا نہیں کر رہا، وہ اپنی ہی جان سے مخاطب ہے۔ گویا وہ خود کو دو حصوں میں بانٹ کر اپنے آپ سے سوال کرتا ہے۔ یہ چھوٹی سی بات بہت کچھ کھول دیتی ہے۔
عبرانی میں جس لفظ کا ترجمہ یہاں جان یا روح کیا جاتا ہے وہ دراصل پورے جیتے جاگتے انسان کو ظاہر کرتا ہے۔ پیدائش میں جب خدا نے آدم میں سانس پھونکی تو وہ ایک زندہ جان بن گیا، یعنی پورا انسان، گوشت اور سانس اور خواہش سمیت ایک اکائی۔ یہ کوئی الگ سے جسم کے اندر چھپا ہوا باریک حصہ نہیں جو مر کر نکل جائے۔ یہ خود انسان ہے، بھوکا، پیاسا، تھکا، تڑپتا ہوا پورا وجود۔
یہی وجہ ہے کہ زبور 42 کا شاعر کہہ سکتا ہے کہ اس کی جان تڑپتی ہے، بے چین ہے، نیچے گر گئی ہے۔ یہ محض جذبات کی بات نہیں، یہ پورے انسان کی حالت ہے، جسم اور دل اور روح سب مل کر۔ اور وہی پورا انسان خود سے کہتا ہے کہ امید رکھ۔
آج
ہفتے کی اس دوپہر، جب کام کی مصروفیت تھوڑی ڈھیلی پڑتی ہے، اپنی اسی جان سے بات کرنے کا وقت نکالیں۔ آج ایک پل کے لیے خاموش بیٹھیں اور اونچی آواز میں خود سے پوچھیں، میری جان، تو کیوں بے چین ہے؟ پھر جواب میں اونچی آواز میں کہیں کہ خدا پر امید رکھوں گا۔
◐ دوپہر کا لمحہ
تو جو بھی فصل تُو کاٹے گا اُس کے پہلے پھل میں سے کچھ ٹوکرے میں رکھ کر اُس جگہ لے جا جو رب تیرا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔
Deuteronomy 26:2
اگر آدھی فصل خراب ہو جائے، تو جو میں نے پہلے ہی دے دیا، وہ کس کھاتے میں جائے گا؟ یہ سوال اُس کسان کے دل میں بھی ہوگا جو اناج کا سب سے پہلا پھل ٹوکرے میں اٹھا کر اُس جگہ کی طرف چلا جہاں خدا نے اپنا نام رکھنے کو چُنا تھا، جبکہ باقی کھیت ابھی کاٹی نہیں گئی تھی۔
یہ رسم فصل مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ پہلا پھل، پہلا اناج، سب سے پہلے پک کر تیار ہونے والا حصہ، وہی اٹھا کر گھر سے نکل جانا تھا۔ کسان کو معلوم نہیں تھا کہ باقی فصل کیسی نکلے گی، بارش رہے گی یا رُک جائے گی۔ پھر بھی پہلا حصہ پہلے ہی راستے میں تھا۔
یہ رسم اُس لالچ سے بچاتی تھی جو ہر کسان کے دل میں رہتا ہے، پہلے گودام بھرو، پھر جو بچے وہ دے دو۔ یہاں ترتیب اُلٹ تھی۔ پہلے دو، پھر دیکھو کیا بچتا ہے۔ یہ اعتماد کا امتحان نہیں، اعتماد کی تربیت تھی۔
اور یہ کسان کے دل کو ایک بات ہر سال یاد کراتی تھی، یہ زمین اُس نے خود نہیں کمائی تھی۔ جو زمین آج اناج دے رہی تھی، وہ عطا تھی، محنت کا نتیجہ نہیں۔
ہفتے کے دن، گھر میں آرام کرتے ہوئے، یہ سوال اب ہمارا بھی ہے۔ ہفتہ شروع ہونے سے پہلے، نتیجہ معلوم ہونے سے پہلے، کیا کچھ پہلے دینے کو تیار ہیں، یا ہر فیصلہ باقی بچ جانے والی چیز پر رکھتے ہیں؟
آج
آج وقت کا ایک گھنٹہ یا کوئی چھوٹی رقم الگ کر کے لکھ رکھیں کہ یہ کل اتوار کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، اِس سے پہلے کہ ہفتے کا باقی حصہ بتائے کہ کیا بچا ہے۔
☾ شام کا لمحہ
اے ہمارے خدا، کیا تُو اُن کی عدالت نہیں کرے گا؟ کیونکہ اِس بڑے لشکر کے مقابلے میں ہم میں کوئی طاقت نہیں جو ہمارے خلاف آیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کریں، لیکن ہماری آنکھیں تجھ پر ہیں۔
2 توارِیخ 20:12
ایک بادشاہ کے منہ سے یہ الفاظ شکست کا اعلان لگتے ہیں، "ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کریں۔"
یہوشافط کے سامنے تین قومیں اکٹھی ہو کر یہوداہ پر چڑھ آئی تھیں۔ اُس کے پاس نہ وہ فوجی طاقت تھی، نہ کوئی تیار منصوبہ۔ اُس نے جو کیا وہ عجیب تھا، اُس نے پورے یہوداہ کو بلایا، روزہ رکھا، اور سب کو ہیکل کے صحن میں جمع کر کے خدا کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ یہ کمزوری کا اقرار تھا، بغیر کسی شرمندگی کے۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ میرے پاس ایک حل ہے، اُس نے کہا کہ ہماری آنکھیں تجھ پر ہیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ یہوشافط نے اپنا دن، اپنی بے بسی، اپنا خوف، سب کچھ خدا کے سامنے رکھ دیا، اور پھر خاموش کھڑا رہ کر دیکھا کہ خدا کیا کرتا ہے۔
آج کی رات بھی ایسی ہو سکتی ہے کہ تمہارے اندر کوئی سوال، کوئی الجھن، کوئی کل کی فکر رکھی ہو جس کا جواب تمہارے پاس نہیں۔ یہوشافط کی طرح وہ کمزوری چھپانے کی ضرورت نہیں۔ بس اعتراف کرنا کافی ہے، اور نظریں اُس کی طرف موڑ دینا۔
آج
ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھ دو جس کا جواب تمہارے پاس نہیں، شاید کل کے لیے، شاید کسی رشتے کے لیے۔ پھر بلند آواز سے کہو، "میری آنکھیں تجھ پر ہیں،" اور کاغذ کو کسی محفوظ جگہ رکھ دو۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
36عیسیٰ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک باغ میں پہنچا جس کا نام گتسمنی تھا۔ اُس نے اُن سے کہا، ”یہاں بیٹھ کر میرا انتظار کرو۔ مَیں دعا کرنے کے لئے آگے جاتا ہوں۔“
5اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔
2تو جو بھی فصل تُو کاٹے گا اُس کے پہلے پھل میں سے کچھ ٹوکرے میں رکھ کر اُس جگہ لے جا جو رب تیرا خدا اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں