خدا کے حضور سچائی اور سکون
سچائی اور عاجزی
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے پیدائش 32:30, Exodus 23:12, Luke 18:9-10 and Ruth 1:20-21.
☀ صبح کا لمحہ
Jacob called the name of the place Peniel, for, he said, I have seen God face to face, and my life is preserved.
پیدائش 32:30
دنیا مانتی ہے کہ صبح وہ شخص نکلتا ہے جو رات بھر آرام سے سویا ہو، جس کے قدموں میں کوئی لڑکھڑاہٹ نہ ہو۔ جو لنگڑاتا ہوا گھر سے نکلے، اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ مگر یعقوب کی کہانی اس خیال کو توڑ دیتی ہے۔
یبوک ندی کے کنارے، رات کی گہری تاریکی میں، جب یعقوب اپنے گھر والوں اور ریوڑ کو پار بھیج چکا تھا اور بالکل اکیلا رہ گیا تھا، ایک اجنبی اس سے لپٹ گیا۔ صبح تک کشتی ہوتی رہی، ریت پر پاؤں پھسلتے رہے، سانسیں اکھڑتی رہیں۔
جب فجر کی روشنی پھوٹنے لگی تو یعقوب نے اس مرد سے برکت مانگی اور اسی جگہ کا نام فنی ایل رکھا، یعنی خدا کا چہرہ، کیونکہ اس نے کہا کہ اس نے خدا کو آمنے سامنے دیکھا اور پھر بھی زندہ بچ گیا۔
مگر برکت کے ساتھ ایک نشان بھی ملا۔ کولہے کی ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ گئی اور یعقوب نے باقی زندگی لنگڑاتے ہوئے گزاری۔ وہی لنگڑاہٹ لیے وہ اپنے بھائی عیسو سے ملنے نکلا، جس سے ملنے کا خوف اسے ساری رات کھائے جا رہا تھا۔
یہ جگہ بتاتی ہے کہ خدا سے ملاقات ہمیشہ آرام دہ نہیں ہوتی، کبھی کبھار وہ ہمیں توڑ کر نئے سرے سے گھڑتا ہے۔ آج کا دن بھی ایسا ہو سکتا ہے، جہاں آپ اپنی کمزوری یا کسی ان کہی جدوجہد کے ساتھ گھر سے نکلیں، پھر بھی برکت یافتہ۔
آج
گھر سے نکلنے سے پہلے دروازے پر ایک لمحہ رکیں اور اونچی آواز میں کہیں، میں نے یہاں بھی خدا کا چہرہ دیکھا ہے، پھر لنگڑاتے ہوئے بھی قدم باہر رکھیں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
چھ دن اپنا کام کاج کرنا، لیکن ساتویں دن آرام کرنا۔ پھر تیرا بَیل اور تیرا گدھا بھی آرام کر سکیں گے، تیری لونڈی کا بیٹا اور تیرے ساتھ رہنے والا پردیسی بھی تازہ دم ہو جائیں گے۔
Exodus 23:12
ہاتھ کی بورڈ سے ہٹا لیں۔ کرسی پر تھوڑی دیر کے لیے پیٹھ سیدھی کریں اور سانس لیں۔ باقی سب انتظار کر سکتا ہے۔
یہ حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کی چھٹی کسی کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ غلام اپنے آپ کو آرام کا حکم نہیں دے سکتا تھا۔ بیل خود فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ آج ہل نہیں کھینچنا۔ یہ دونوں کسی کی ملکیت، کسی کے کام کا آلہ سمجھے جاتے تھے۔ پھر بھی خدا نے خود ان کا نام لے کر حکم دیا: تمہارا بیل، تمہارا غلام، تمہاری لونڈی کا بیٹا۔
قدیم دنیا میں یہ عجیب بات تھی۔ آرام عام طور پر طاقت والوں کا حق ہوتا تھا، کمزوروں کا نہیں۔ مگر یہاں وہی قانون جو مالک کو باندھتا ہے، نوکر اور جانور کو بھی تحفظ دیتا ہے۔ کام کی قیمت ادا کرنے والا خدا یہاں صاف نظر آتا ہے، ایسا خدا جو انسان کی قدر اس کی پیداوار سے نہیں ناپتا۔
آج دوپہر جب کام کا بوجھ سب سے بھاری محسوس ہو، یاد رکھیں کہ آپ کی قیمت اس بات سے نہیں بنتی کہ اگلے دو گھنٹوں میں کتنا کام نکلا۔ وہی خدا جس نے بیل کے لیے بھی آرام مانگا، آپ کے تھکے ہوئے ہاتھوں کو بھی دیکھ رہا ہے۔
آج
آج دوپہر کسی ایسے ساتھی کے پاس جائیں جو سب سے زیادہ مصروف دکھائی دے رہا ہے، اور اسے کہیں: پانچ منٹ کے لیے بیٹھ جاؤ، میں تمہاری جگہ یہ کام دیکھ لیتا ہوں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
بعض لوگ موجود تھے جو اپنی راست بازی پر بھروسا رکھتے اور دوسروں کو حقیر جانتے تھے۔ اُنہیں عیسیٰ نے یہ تمثیل سنائی، ”دو آدمی بیت المُقدّس میں دعا کرنے آئے۔ ایک فریسی تھا اور دوسرا ٹیکس لینے والا۔
Luke 18:9-10
ایک ٹیکس وصول کرنے والا شام کو اپنے گھر لوٹتا ہے، ہاتھ ابھی تک اس چاندی کی بو سے بھرے ہوئے ہیں جو اس نے اپنے ہی ہم وطنوں سے نچوڑی۔ کوئی فریسی اسے اپنی میز پر نہیں بٹھائے گا۔ یہی آدمی آج کی تمثیل میں مندر کی سیڑھیاں چڑھتا ہے۔
ایک بات جو آسانی سے نظرانداز ہو جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں نے ایک ہی سفر کیا۔ یروشلم کا مندر اونچائی پر تھا، وہاں تک پہنچنے کے لیے واقعی چڑھنا پڑتا تھا، پتھریلے زینے، ایک ہی راستہ، ایک ہی گھڑی کی دعا۔ فریسی اور محصول لینے والا دونوں اوپر گئے۔ جگہ ایک، نیت الگ۔
فرق مقام کا نہیں تھا، فرق اس کا تھا جو ہر ایک اپنے ساتھ اندر لے گیا۔ ایک اپنی فہرست لے گیا، جو وہ نہیں تھا اس کی فہرست۔ دوسرا خالی ہاتھ آیا، آنکھ تک اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔
یہاں تمثیل قاری پر مڑتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے متاثر ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ خاموشی سے دعا میں ہم کس کے قریب چلتے ہیں، جب ہم اپنے آپ کو کسی اور سے ناپ کر خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
آج
آج دوپہر کے بعد، ایک کاغذ پر وہ فقرہ لکھ دیں جو آپ اکثر اپنے دل میں دہراتے ہیں، "شکر ہے کہ میں اس جیسا نہیں"۔ اسے بلند آواز سے پڑھیں، پھر اسے کاٹ دیں اور صرف یہ الفاظ دہرائیں، "اے خدا، مجھ گنہگار پر رحم کر۔"
☾ شام کا لمحہ
نعومی نے جواب دیا، ”اب مجھے نعومی مت کہنا بلکہ مارہ، کیونکہ قادرِ مطلق نے مجھے سخت مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ یہاں سے جاتے وقت میرے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، لیکن اب رب مجھے خالی ہاتھ واپس لے آیا ہے۔ چنانچہ مجھے نعومی مت کہنا۔ رب نے خود میرے خلاف گواہی دی ہے، قادرِ مطلق نے مجھے اِس مصیبت میں ڈالا ہے۔“
Ruth 1:20-21
کیا آپ کبھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نام بدل دیا جائے، کیونکہ جو زندگی آپ آج جی رہے ہیں وہ اب اس نام سے میل نہیں کھاتی؟
نعومی کا نام عبرانی میں 'خوشگوار' یا 'میٹھی' کے معنی رکھتا تھا۔ مگر جب وہ موآب سے واپس بیت لحم آئی، اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کو کھو کر، خالی ہاتھ، تو اس نے کہا، مجھے مارہ کہو، یعنی کڑوی۔ وہ اپنے نام کو اپنی حقیقت کے مطابق بدلنا چاہتی تھی۔
یہ عجیب بات ہے کہ وہ اپنی تلخی کا الزام سیدھا اللہ پر رکھتی ہے، اور پھر بھی اسی کا نام لیتی ہے، یہوواہ۔ وہ شکایت کرتی ہے مگر چپ نہیں رہتی۔ وہ اپنا درد چھپاتی نہیں، نہ ہی اللہ سے منہ موڑتی ہے۔ وہ اسی کے سامنے اپنی خالی جھولی رکھ دیتی ہے۔
شام کے وقت ہم اکثر دن کو میٹھا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے اندر سے کچھ اور ہی محسوس ہو رہا ہو۔ مگر نعومی ہمیں سکھاتی ہے کہ جو نام ہمارے دل میں آج کا سچ بیان کرتا ہے، اسے اللہ کے سامنے کہہ دینا ہی عبادت ہے، چھپانا نہیں۔
آج
آج رات ایک لفظ لکھ لیں جو آپ کے آج کے دن کی اصل حالت بیان کرتا ہو، چاہے وہ 'تھکا ہوا' ہو، 'خالی' ہو یا 'کڑوا' ہو، اور وہ لفظ اللہ کے سامنے اونچی آواز میں بول دیں، جیسے نعومی نے بولا تھا۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
12چھ دن اپنا کام کاج کرنا، لیکن ساتویں دن آرام کرنا۔ پھر تیرا بَیل اور تیرا گدھا بھی آرام کر سکیں گے، تیری لونڈی کا بیٹا اور تیرے ساتھ رہنے والا پردیسی بھی تازہ دم ہو جائیں گے۔
9بعض لوگ موجود تھے جو اپنی راست بازی پر بھروسا رکھتے اور دوسروں کو حقیر جانتے تھے۔ اُنہیں عیسیٰ نے یہ تمثیل سنائی،
10”دو آدمی بیت المُقدّس میں دعا کرنے آئے۔ ایک فریسی تھا اور دوسرا ٹیکس لینے والا۔
20نعومی نے جواب دیا، ”اب مجھے نعومی مت کہنا بلکہ مارہ، کیونکہ قادرِ مطلق نے مجھے سخت مصیبت میں ڈال دیا ہے۔
21یہاں سے جاتے وقت میرے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، لیکن اب رب مجھے خالی ہاتھ واپس لے آیا ہے۔ چنانچہ مجھے نعومی مت کہنا۔ رب نے خود میرے خلاف گواہی دی ہے، قادرِ مطلق نے مجھے اِس مصیبت میں ڈالا ہے۔“
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں