دل میں خدا کی نرم پہچان
دل کی پہچان
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے Luke 24:32, Luke 17:2, یرمیاہ 31:34 and Matthew 1:18-19.
☀ صبح کا لمحہ
پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”کیا ہمارے دل جوش سے نہ بھر گئے تھے جب وہ راستے میں ہم سے باتیں کرتے کرتے ہمیں صحیفوں کا مطلب سمجھا رہا تھا؟“
Luke 24:32
کیا آج بھی خدا میرے ساتھ چل رہا ہے، یا میں بس اکیلا ہی یہ راستہ طے کر رہا ہوں؟
یروشلیم سے عمواس تک کا راستہ کوئی سات میل کا تھا، شام ڈھلتے وقت طے کیا جانے والا سفر۔ دو شاگرد تھکے ہوئے، اداس، الجھن میں تھے۔ تین دن پہلے جس پر انہوں نے سب کچھ داؤ پر لگایا تھا، وہ مصلوب ہو چکا تھا۔ وہ باتیں کرتے، سوال اٹھاتے، شاید اپنے جوتوں کی مٹی اور شام کی ٹھنڈی ہوا میں اپنا غم چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے چل رہے تھے۔ اور عین اسی گرد آلود، تھکا دینے والے راستے پر، یسوع خود ان کے ساتھ چلنے لگے۔ انہوں نے اسے پہچانا نہیں۔
یہی بات دل کو چھو جاتی ہے۔ وہ لمحہ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم اکیلے چل رہے ہیں، وہی لمحہ ہو سکتا ہے جب خدا سب سے قریب ہو۔ دل کا جلنا پہچان سے پہلے آتا ہے، احساس اکثر سمجھ سے آگے دوڑتا ہے۔
آج کا دن بھی ایک راستہ ہے، گھر سے کام تک، ایک کام سے دوسرے تک۔ شاید آج آپ کو بھی لگے کہ آپ تنہا چل رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ خدا کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا میں راستے میں رکنے کو تیار ہوں۔
آج
آج جب آپ گھر سے نکلیں، راستے کے پہلے پانچ منٹ موبائل نہ دیکھیں۔ خاموشی سے چلتے ہوئے آہستہ سے کہیں، یسوع، کیا آپ میرے ساتھ چل رہے ہیں، اور پھر دل کی اس گرمی کو محسوس کرنے کی کوشش کریں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
اگر وہ اِن چھوٹوں میں سے کسی کو گناہ کرنے پر اُکسائے تو اُس کے لئے بہتر ہے کہ اُس کے گلے میں بڑی چکّی کا پاٹ باندھا جائے اور اُسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔
Luke 17:2
دفتر کی کینٹین میں آپ نے نئے انٹرن کے سامنے باس کا مذاق اڑایا، سب ہنسے، آپ کو اچھا لگا۔ لیکن انٹرن نے دیکھ لیا کہ یہاں باس کی عزت کرنا ضروری نہیں۔ وہ بات سیکھ گیا۔ آپ نے دوپہر کے دس منٹ میں اسے کچھ سکھا دیا جو شام تک اس کے ساتھ رہے گا۔
جس چکی کے پاٹ کی بات یسوع کر رہے ہیں وہ ہاتھ سے چلنے والا چھوٹا پاٹ نہیں تھا جو گھر کی عورتیں روز استعمال کرتیں۔ یہ وہ بڑا بھاری پاٹ تھا جسے گدھا گھما کر اناج پیستا تھا، پورے گاؤں کی روزی روٹی اسی پر چلتی تھی۔ ایسا پاٹ اتنا بھاری ہوتا کہ ایک آدمی اسے اٹھا بھی نہ سکے۔
یسوع نے جان بوجھ کر سب سے بھاری پتھر چنا۔ اگر یہ گلے میں باندھا جائے اور سمندر میں پھینکا جائے تو بچنے کا کوئی موقع نہیں رہتا، فوراً تہہ میں جانا پڑتا ہے۔ یہی بات ہے جو یسوع کہنا چاہتے ہیں، کسی چھوٹے کو گرا دینے سے بہتر ہے کہ یہ فوری انجام ہو۔
آپ کے ارد گرد کوئی نہ کوئی چھوٹا ہے، نیا ملازم، کم عمر ساتھی، چھوٹا بھائی، جو آپ کو دیکھ کر سیکھ رہا ہے کہ ٹھیک کیا ہے اور غلط کیا۔ آپ کا لہجہ، آپ کا مذاق، آپ کا رویہ، یہ سب اس کے لیے معیار بن رہا ہے۔
آج
آج دوپہر دفتر یا گھر میں اس ایک جونیئر یا چھوٹے ساتھی کے پاس جائیں اور کوئی ایک سچی، حوصلہ بڑھانے والی بات کہیں، خاص طور پر اگر آج صبح آپ نے اس کے سامنے کسی کی تضحیک کی تھی۔
◐ دوپہر کا لمحہ
اُس وقت سے اِس کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کوئی اپنے پڑوسی یا بھائی کو تعلیم دے کر کہے، ’رب کو جان لو۔‘ کیونکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب مجھے جانیں گے۔ کیونکہ مَیں اُن کا قصور معاف کروں گا اور آئندہ اُن کے گناہوں کو یاد نہیں کروں گا۔“ یہ رب کا فرمان ہے۔
یرمیاہ 31:34
دنیا یہ مان کر چلتی ہے کہ جاننا یعنی معلومات اکٹھی کرنا۔ کسی کا نام، اس کی تاریخ پیدائش، اس کی پسند ناپسند جان لو تو سمجھا جاتا ہے کہ تم اسے جانتے ہو۔ مگر عبرانی زبان کا وہی لفظ جو یہاں خدا کے جاننے کے لیے استعمال ہوا، پیدائش میں آدم اور حوا کی مباشرت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ محض دماغ کی سرگرمی نہیں، پورے وجود کا ملاپ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یرمیاہ کا یہ وعدہ اتنا گہرا ہے۔ خدا کسی اور کو سکھانے کی ضرورت نہیں رہنے کا وعدہ نہیں کر رہا کہ لوگ مزید سوالات کے جوابات ازبر کر لیں گے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ ایک دن یہ جاننا اتنا اندرونی، اتنا قریبی ہو جائے گا جتنا دو جسموں کا ایک ہونا۔
یہاں ایک کانٹا بھی ہے۔ اگر یہ وعدہ پورا ہونا باقی ہے تو آج ہمارا جاننا ادھورا ہے۔ ہم خدا کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، آیات، عقیدے، دعائیں، مگر کیا ہم اسے اس طرح جانتے ہیں جیسے کوئی اپنے پیارے کو جانتا ہے، اس کی خاموشی، اس کی چال، اس کا سانس لینا؟
یہ دوپہر کا وقت ہے جب تھکن معلومات کو کھا جاتی ہے مگر تعلق باقی رہ جاتا ہے۔ شاید آج کا سوال یہ نہیں کہ تم خدا کے بارے میں کیا جانتے ہو، بلکہ یہ کہ کیا تم نے آج اسے وقت دیا جیسے کسی قریبی کو دیا جاتا ہے۔
آج
آج کسی ایک شخص کا نام لکھو جسے تم صرف حقائق کی حد تک جانتے ہو، اور اسے ایک ایسا سوال بھیجو جو حقیقی تعلق کی طرف لے جائے، نہ کہ محض اطلاع کی۔
☾ شام کا لمحہ
عیسیٰ مسیح کی پیدائش یوں ہوئی: اُس وقت اُس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو چکی تھی کہ وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔ ابھی اُن کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اُس کا منگیتر یوسف راست باز تھا، وہ علانیہ مریم کو بدنام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اِس لئے اُس نے خاموشی سے یہ رشتہ توڑنے کا ارادہ کر لیا۔
Matthew 1:18-19
منگنی توڑنا، اُس زمانے میں، طلاق جتنا سنگین معاملہ تھا۔
یہودی رواج میں منگنی، یعنی وہ وقت جو شادی سے پہلے آتا تھا، محض ایک وعدہ نہیں تھا۔ یہ قانونی طور پر پابند کرنے والا بندھن تھا۔ لڑکا اور لڑکی ابھی ایک گھر میں نہیں رہتے تھے، مگر وہ ایک دوسرے کے لیے پہلے ہی شوہر اور بیوی کہلاتے تھے۔ اِسی لیے متی یوسف کو مریم کا "شوہر" کہتا ہے، حالانکہ وہ ابھی ساتھ نہیں آئے تھے۔ یہ بندھن لڑکی کی عزت اور حیثیت کی حفاظت کرتا تھا، اور صرف باقاعدہ طلاق کے ذریعے ہی توڑا جا سکتا تھا۔
یوسف کے سامنے یہی قانون تھا، اور وہ اِس سے باہر نکل کر کوئی راستہ نہیں چاہتا تھا۔ وہ راستباز تھا، اور اِسی رواج کے اندر رہتے ہوئے نرمی کا راستہ چنتا ہے۔ یہیں خدا دکھائی دیتا ہے، کسی چمتکار کے شور میں نہیں بلکہ ایک عام آدمی کی خاموش وفاداری میں، جو ایک بندھن کو عزت دیتا ہے جسے وہ پوری طرح سمجھ بھی نہیں پاتا۔
آج رات، اُس وعدے کے بارے میں سوچیں جو آپ تھامے ہوئے ہیں مگر ابھی پورا ہوتے نہیں دیکھ پا رہے۔ یوسف نے بھی ابھی کچھ نہیں دیکھا تھا، صرف تھاما رکھا تھا۔
آج
آج رات سونے سے پہلے ایک کاغذ پر وہ وعدہ لکھیں جو آپ نے کسی سے کیا ہے مگر ابھی پورا نہیں ہوا، اور اللہ کے سامنے اونچی آواز میں وہ الفاظ دہرائیں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
32پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”کیا ہمارے دل جوش سے نہ بھر گئے تھے جب وہ راستے میں ہم سے باتیں کرتے کرتے ہمیں صحیفوں کا مطلب سمجھا رہا تھا؟“
2اگر وہ اِن چھوٹوں میں سے کسی کو گناہ کرنے پر اُکسائے تو اُس کے لئے بہتر ہے کہ اُس کے گلے میں بڑی چکّی کا پاٹ باندھا جائے اور اُسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔
34اُس وقت سے اِس کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کوئی اپنے پڑوسی یا بھائی کو تعلیم دے کر کہے، ’رب کو جان لو۔‘ کیونکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب مجھے جانیں گے۔ کیونکہ مَیں اُن کا قصور معاف کروں گا اور آئندہ اُن کے گناہوں کو یاد نہیں کروں گا۔“ یہ رب کا فرمان ہے۔
18عیسیٰ مسیح کی پیدائش یوں ہوئی: اُس وقت اُس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو چکی تھی کہ وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔ ابھی اُن کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
19اُس کا منگیتر یوسف راست باز تھا، وہ علانیہ مریم کو بدنام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اِس لئے اُس نے خاموشی سے یہ رشتہ توڑنے کا ارادہ کر لیا۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں