اللہ کی مرضی میں پھلنا پھولنا
سپردگی اور زندگی
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے Psalm 92:12-13, Luke 18:18-19, Luke 22:42 and اعمال 7:55-56.
☀ صبح کا لمحہ
راست باز کھجور کے درخت کی طرح پھلے پھولے گا، وہ لبنان کے دیودار کے درخت کی طرح بڑھے گا۔ جو پودے رب کی سکونت گاہ میں لگائے گئے ہیں وہ ہمارے خدا کی بارگاہوں میں پھلیں پھولیں گے۔
Psalm 92:12-13
جس نے یہ گیت لکھا وہ سبت کے دن گا رہا تھا، مگر اس کے پیچھے ایک پوری رات کی تھکن تھی۔ اس نے دیکھا تھا کہ شریر لوگ کیسے تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں، گھاس کی طرح جو صبح اگتی اور شام کو مرجھا جاتی ہے۔ تو اس نے نظر اٹھائی اور ایک دوسرے درخت کو دیکھا۔
لبنان کے دیودار پہاڑوں پر اگتے تھے، سینکڑوں سال تک، آہستہ آہستہ۔ ان کی جڑیں گہری چٹانوں میں اترتی تھیں اور ان کی لکڑی اتنی مضبوط اور خوشبودار تھی کہ سلیمان بادشاہ نے ہیکل بنانے کے لیے یہی لکڑی لبنان سے منگوائی۔ کوئی اور درخت اتنے وقت تک کھڑا نہیں رہتا تھا۔
گھاس اور دیودار دونوں ہرے ہوتے ہیں، مگر ایک رات بھر میں اور دوسرا نسلوں میں بنتا ہے۔ زبور نویس نے یہی کہا، راست باز بھی گھاس کی طرح فوراً نہیں بلکہ دیودار کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، کیونکہ وہ خدا کے گھر میں لگایا گیا ہے۔
آج اگر کچھ جلدی نظر نہ آئے تو یہ ناکامی نہیں۔ جو جڑیں خدا کی موجودگی میں اتر رہی ہیں وہ کسی آندھی سے نہیں اکھڑتیں، چاہے ابھی اوپر کچھ دکھائی نہ دے۔
آج
آج ایک کاغذ پر دو لفظ لکھیں، ایک طرف وہ فکر جو گھاس کی طرح آج ہی حل چاہتی ہے، دوسری طرف وہ ایک بات جس میں آپ برسوں کی جڑیں مانگتے ہیں۔ دوسرے لفظ کے لیے چپکے سے ایک دعا کہہ دیں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
کسی راہنما نے اُس سے پوچھا، ”نیک اُستاد، مَیں کیا کروں تاکہ میراث میں ابدی زندگی پاؤں؟“ عیسیٰ نے جواب دیا، ”تُو مجھے نیک کیوں کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں سوائے ایک کے اور وہ ہے اللہ۔
Luke 18:18-19
کسی نے آج صبح آپ سے کہا ہوگا، 'آپ نے بہت اچھا کیا' اور آپ نے بس مسکرا کر جواب دیا، بغیر سوچے سمجھے۔ لفظ نکل گیا اور بات آگے بڑھ گئی۔
ایک حاکم یسوع کے پاس دوڑا آیا، گھٹنے ٹیک کر بولا، 'اے نیک استاد، ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہونے کے لیے مَیں کیا کروں؟' سوال سچا تھا، لہجہ عاجزی کا تھا۔ لیکن یسوع نے پہلے جواب نہیں دیا، پہلے لفظ پر رک گئے۔
اُس زمانے میں کسی استاد کو 'نیک' کہہ کر پکارنا عام بات نہیں تھی۔ یہ لفظ خدا کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔ یسوع نے یہ محسوس کیا اور پوچھا، 'آپ مجھے نیک کیوں کہتے ہیں؟' یہ سوال انکار نہیں تھا، یہ آئینہ تھا۔ حاکم کے منہ سے نکلا ہوا لفظ اچانک بھاری ہو گیا۔
یہ سوال اُس وقت بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا اُس دن تھا۔ ہم کتنی آسانی سے کسی کو 'بہترین' کہہ دیتے ہیں، کسی کام کو 'نیک' قرار دے دیتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ہم اصل میں کیا کہہ رہے ہیں۔ یسوع کا سوال رکنے کو کہتا ہے، لفظ کو تولنے کو کہتا ہے۔
آج
آج دفتر یا گھر میں جو پہلا لفظ آپ کسی کی تعریف میں بولیں، اُسے ایک کاغذ پر لکھ لیں اور تین لمحے رُک کر خود سے پوچھیں، کیا یہ واقعی سچ ہے جو مَیں کہہ رہا ہوں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
”اے باپ، اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔ لیکن میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔“
Luke 22:42
پھر بھی۔ یہی وہ لفظ ہے جس پر پوری دعا ٹک جاتی ہے۔ اس سے پہلے ایک سچی درخواست ہے، اس پیالے کو ہٹا دے، اور اس کے بعد ایک ہتھیار ڈالنا جو شکست نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ یہ دو باتیں ایک ساتھ رہتی ہیں، بغیر اس کے کہ ایک دوسری کو جھوٹا ثابت کرے۔
یہ دعا باغ میں مانگی گئی، اس رات جب سب کچھ قریب آ رہا تھا۔ یسوع نہیں کہتے کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں، نہ ہی کہتے ہیں کہ مجھے پروا نہیں۔ وہ کھل کر مانگتے ہیں کہ یہ پیالہ ہٹا دیا جائے۔ یہی وہ جرات ہے جو ہم اکثر اپنی دعاؤں سے نکال دیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ خدا سے صاف صاف مانگنا بے ادبی ہے۔
مگر دعا وہیں نہیں رکتی۔ باپ کی مرضی کو اپنی خواہش سے بڑا تسلیم کرنا، یہ وہ جگہ ہے جہاں اعتماد سب سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتا ہے، بالکل اس لمحے میں جب سب کچھ تاریک لگ رہا ہو۔
آج تمہارا پیالہ کچھ اور ہو سکتا ہے، ایک بیماری، ایک رشتہ جو ٹوٹ رہا ہے، ایک فیصلہ جس سے تم ڈرتے ہو۔ اسے نام دینا، اور پھر وہی دو لفظ کہنا جو یسوع نے کہے۔
آج
آج کسی خاموش لمحے میں بلند آواز سے کہو، اے باپ، اگر تیری مرضی ہو تو یہ ہٹا دے، پھر بھی میری نہیں بلکہ تیری مرضی ہو۔
☾ شام کا لمحہ
لیکن ستفنس روح القدس سے معمور اپنی نظر اُٹھا کر آسمان کی طرف تکنے لگا۔ وہاں اُسے اللہ کا جلال نظر آیا، اور عیسیٰ اللہ کے دہنے ہاتھ کھڑا تھا۔ اُس نے کہا، ”دیکھو، مجھے آسمان کھلا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور ابنِ آدم اللہ کے دہنے ہاتھ کھڑا ہے!“
اعمال 7:55-56
پتھر ہاتھوں میں اُٹھے ہوئے تھے، گرد مٹی اُڑ رہی تھی، اور ہجوم کا غصیلا شور ہر طرف گونج رہا تھا۔ اُس شور کے عین درمیان ایک چہرہ تھا جو نیچے نہیں، اوپر دیکھ رہا تھا۔
استفنس پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ اُسے شہر سے باہر گھسیٹا گیا، اور اب وہ لمحہ آ چکا تھا جب لوگ اُسے سنگسار کرنے والے تھے۔ ایسے وقت میں خوف نیچے جھکا دیتا ہے، آنکھیں بند کر دیتا ہے۔ مگر استفنس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اور جو اُس نے دیکھا وہ عجیب ہے۔ باقی پورے صحیفے میں یسوع تخت پر بیٹھا ہوا بیان ہوا ہے، خدا کے دہنے ہاتھ۔ مگر یہاں وہ کھڑا ہے۔ جیسے کوئی اپنے عزیز کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ موت کے اُس تنگ لمحے میں مسیح خود اپنے گواہ کو دیکھنے، اُسے وصول کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔
آج کا دن جو بھی لے کر آیا ہو، تھکن، اذیت، یا بے وفائی جیسا کوئی احساس، استفنس کا یہ لمحہ ہمیں بتاتا ہے کہ سب سے مشکل گھڑی میں بھی ایک نظر اوپر کی طرف ممکن ہے۔ اور وہ نظر خالی نہیں جاتی۔ کوئی دیکھ رہا ہے، کوئی کھڑا ہے۔
آج
آج رات سونے سے پہلے کچھ دیر کھڑکی کے پاس جا کر آسمان کی طرف دیکھیں، صرف ایک منٹ کے لیے، اور آہستہ سے یہ الفاظ دہرائیں، میں آسمان کو کھلا دیکھتا ہوں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
12راست باز کھجور کے درخت کی طرح پھلے پھولے گا، وہ لبنان کے دیودار کے درخت کی طرح بڑھے گا۔
13جو پودے رب کی سکونت گاہ میں لگائے گئے ہیں وہ ہمارے خدا کی بارگاہوں میں پھلیں پھولیں گے۔
18کسی راہنما نے اُس سے پوچھا، ”نیک اُستاد، مَیں کیا کروں تاکہ میراث میں ابدی زندگی پاؤں؟“
19عیسیٰ نے جواب دیا، ”تُو مجھے نیک کیوں کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں سوائے ایک کے اور وہ ہے اللہ۔
42”اے باپ، اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔ لیکن میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔“
55لیکن ستفنس روح القدس سے معمور اپنی نظر اُٹھا کر آسمان کی طرف تکنے لگا۔ وہاں اُسے اللہ کا جلال نظر آیا، اور عیسیٰ اللہ کے دہنے ہاتھ کھڑا تھا۔
56اُس نے کہا، ”دیکھو، مجھے آسمان کھلا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور ابنِ آدم اللہ کے دہنے ہاتھ کھڑا ہے!“
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں