مسیح ہمارا سچا راہنما
راہنمائی اور پیروی
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے Matthew 27:57-58, Matthew 16:15, John 10:4 اور Exodus 15:13.
☀ صبح کا لمحہ
جب شام ہونے کو تھی تو ارمتیہ کا ایک دولت مند آدمی بنام یوسف آیا۔ وہ بھی عیسیٰ کا شاگرد تھا۔ اُس نے پیلاطس کے پاس جا کر عیسیٰ کی لاش مانگی، اور پیلاطس نے حکم دیا کہ وہ اُسے دے دی جائے۔
Matthew 27:57-58
یوسف نے مدتوں تک اپنے دل میں یسوع کی پیروی چھپائے رکھی تھی، مجلس کے دوسرے لوگوں کے درمیان خاموش رہ کر، یہاں تک کہ وہ شام آ گئی جب صلیب پر سب کچھ ختم ہو چکا تھا، اور وہ سیدھا اُس پیلاطس کے دربار میں جا پہنچا جس نے ابھی ابھی موت کا حکم دیا تھا۔
یہ کوئی معمولی درخواست نہ تھی۔ ایک امیر اور باعزت آدمی اپنا نام ایک سزا یافتہ مجرم کی لاش کے ساتھ جوڑ رہا تھا، وہ بھی ایسے وقت جب شام ہو چکی تھی اور سبت کا دن شروع ہونے والا تھا۔ یہودی رواج کے مطابق لاش کو رات بھر لٹکا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اور سبت سے پہلے دفن ہونا ضروری تھا۔ وقت کم تھا، مگر یوسف رکا نہیں۔
آج اتوار ہے، خداوند کا دن، آرام اور عبادت کا دن۔ یوسف کی یہ خاموش مگر دلیرانہ خدمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آرام کمزوری نہیں بلکہ اُس جگہ سے جنم لیتا ہے جہاں ہم اپنے خداوند کے لیے کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ اُس نے اپنا وقار، اپنی عزت، سب کچھ داؤ پر لگا کر یسوع کے جسم کو عزت دی۔
جو لوگ خاموشی سے خدا کے پیچھے چلتے رہتے ہیں، اُن کی زندگی میں بھی ایسی گھڑی آ سکتی ہے جب ایمان کو کھلے عام دکھانا پڑے۔ یسوع دیکھتا ہے جب کوئی اپنی حفاظت کو چھوڑ کر آگے بڑھتا ہے، اور وہ لمحہ ضائع نہیں جاتا۔
آج
آج عبادت کے دوران کسی ایک شخص کو، جو اکیلا بیٹھا ہو یا پیچھے کی صف میں ہو، سلام کرنے جاؤ اور اُس کے پاس جا کر بیٹھو۔ یہ چھوٹا سا قدم، یوسف کے قدم کی طرح، کسی کو عزت اور سہارا دینے کے لیے کافی ہے۔
✦ دوپہر کا لمحہ
اُس نے پوچھا، ”لیکن تمہارے نزدیک مَیں کون ہوں؟“
Matthew 16:15
کیا تم واقعی جانتے ہو کہ تمہارا یسوع کون ہے، یا تم نے بس دوسروں کی باتیں دہرانا سیکھ لیا ہے؟
یہ سوال قیصریہ فلپی کے قریب پوچھا گیا، ایک ایسی جگہ جہاں چٹانوں میں دیوتاؤں کے لیے بنے بت خانے تھے، جہاں لوگ یونانی دیوتا پان کی پوجا کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں یسوع نے پہلے پوچھا کہ لوگ اسے کیا کہتے ہیں۔ شاگردوں نے جواب دیا، کوئی یوحنا بپتسمہ دینے والا، کوئی ایلیاہ، کوئی یرمیاہ یا کوئی اور نبی۔ یہ سب عزت کی باتیں تھیں، مگر سب دوسروں کی رائے تھیں۔ پھر یسوع نے رخ بدلا اور سیدھا پوچھا، تم کیا کہتے ہو۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں مذہبی علم ختم ہوتا ہے اور ایمان شروع ہوتا ہے۔ یسوع عام رائے سے مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ ہر ایک سے ذاتی جواب مانگتا ہے۔
یہ سوال آج بھی کلیسیا کے بیچ بیٹھتا ہے۔ ہم سب کچھ سیکھ سکتے ہیں، آیتیں یاد کر سکتے ہیں، مگر یہ سوال ہمیں تنہا کھڑا کر دیتا ہے۔ کوئی دوسرا میری جگہ جواب نہیں دے سکتا۔
آج
آج چرچ جانے سے پہلے، گھر میں بلند آواز سے کہیں، تو مسیح ہے، زندہ خدا کا بیٹا۔ پھر عبادت کے دوران اپنی کلیسیا کے ساتھ اسی اقرار کو دل سے دہرائیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
اپنے پورے گلے کو باہر نکالنے کے بعد وہ اُن کے آگے آگے چلنے لگتا ہے اور بھیڑیں اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہیں، کیونکہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔
John 10:4
تم کتنی آوازوں کے پیچھے چل چکے ہو، یہ سوچے بغیر کہ وہ تمہیں کہاں لے جا رہی ہیں؟
اُس زمین میں رات کو کئی ریوڑ اکثر ایک ہی باڑے میں اکٹھے بند کیے جاتے تھے، کیونکہ باڑا مشترکہ ہوتا تھا۔ صبح جب ہر چرواہا اپنی مخصوص آواز سے پکارتا، تو اپنے ریوڑ کی بھیڑیں ہی اُس کے پیچھے چل پڑتیں، باقی ساکت کھڑی رہتیں۔ کوئی رسی نہیں، کوئی زنجیر نہیں، صرف ایک پہچانی ہوئی آواز۔ اور چرواہا آگے چلتا، نہ کہ پیچھے سے ہانکتا، کیونکہ بھیڑ کو ہانکا نہیں جاتا، وہ بلائی جاتی ہے۔
یہ پہچان ایک رات میں نہیں بنتی۔ مہینوں، برسوں کی قربت سے بھیڑ چرواہے کی چال، اُس کی سیٹی، اُس کے بلانے کا انداز سیکھ لیتی ہے۔ پہچان رشتے سے آتی ہے، وقت سے آتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ یسوع بول رہا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا تمہارے کان اتنے مانوس ہیں کہ اُسے باقی شور سے الگ پہچان سکیں، وہ شور جو جلدی، خوف، یا دوسروں کی توقع کی صورت میں آتا ہے۔ یہ پہچان بنانے میں وقت لگتا ہے، اور کبھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ آج کون سی آواز سچی ہے۔
آج
آج گرجا جانے سے پہلے دروازے پر رک کر، آہستہ آواز میں خود کو سنائی دے سکے اتنی بلند آواز میں کہو، یسوع، مجھے تیری آواز پہچاننی ہے۔
☾ شام کا لمحہ
اپنی شفقت سے تُو نے عوضانہ دے کر اپنی قوم کو چھٹکارا دیا اور اُس کی راہنمائی کی ہے، اپنی قدرت سے تُو نے اُسے اپنی مُقدّس سکونت گاہ تک پہنچایا ہے۔
Exodus 15:13
رات کا سکوت آہستہ آہستہ اس کمرے میں اتر رہا ہے، اور دن بھر کی آوازیں ایک ایک کر کے خاموش ہو رہی ہیں۔
یہ گیت اس رات گایا گیا جب بنی اسرائیل نے سمندر کے پار اپنی جان بچتی دیکھی اور فرعون کا لشکر پانی میں ڈوب گیا۔ موسیٰ اور قوم نے مل کر یہ گیت گایا، یہ کتابِ مقدس کا پہلا درج گیت ہے۔ تھوڑی دیر بعد مریم نے دف لے کر عورتوں کو رقص میں لے کر یہی گیت دہرایا۔ یہ کوئی منظم عبادت نہ تھی، یہ خوف اور حیرت سے چھوٹنے والی بے ساختہ تعریف تھی۔
گیت کی چال دیکھیں: پہلے وہ گزرے ہوئے کام کو یاد کرتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ نگاہ آگے کی طرف اٹھتی ہے۔ جو خدا نے کل کیا اسی پر بھروسا کر کے وہ آنے والے راستے کے لیے الفاظ پاتے ہیں، یہ یقین کہ وہی ہاتھ جو سمندر سے نکال لایا وہی ہاتھ آگے بھی تھامے رکھے گا۔
آج اتوار ہے، خداوند کا دن، جس میں ہم جمع ہو کر یہی کرتے ہیں، گزرے ہوئے کے لیے شکر اور آگے کے لیے بھروسا۔ یہ گیت آپ کے اپنے دن کا بھی گیت بن سکتا ہے، ایک چھوٹی سی تعریف جو خوف کے پار سے نکلی ہو۔
آج
آج رات سونے سے پہلے ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھ دیں جس سے خدا نے اس ہفتے آپ کو نکالا، اور پھر اسے آہستہ آواز میں خدا کے سامنے کہہ دیں، جیسے اپنا ہی چھوٹا سا گیت۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
57جب شام ہونے کو تھی تو ارمتیہ کا ایک دولت مند آدمی بنام یوسف آیا۔ وہ بھی عیسیٰ کا شاگرد تھا۔
58اُس نے پیلاطس کے پاس جا کر عیسیٰ کی لاش مانگی، اور پیلاطس نے حکم دیا کہ وہ اُسے دے دی جائے۔
15اُس نے پوچھا، ”لیکن تمہارے نزدیک مَیں کون ہوں؟“
4اپنے پورے گلے کو باہر نکالنے کے بعد وہ اُن کے آگے آگے چلنے لگتا ہے اور بھیڑیں اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہیں، کیونکہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔
13اپنی شفقت سے تُو نے عوضانہ دے کر اپنی قوم کو چھٹکارا دیا اور اُس کی راہنمائی کی ہے، اپنی قدرت سے تُو نے اُسے اپنی مُقدّس سکونت گاہ تک پہنچایا ہے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں