بائبل کی تشریح

۱-کُرِنتِھیوں 12

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

پولسؔ روحانی نعمتوں کا موضوع کسی پُرجوش تجربے سے نہیں بلکہ ایک کسوٹی سے شروع کرتے ہیں: زبان سے کیا نکلتا ہے۔ ”روح القدس کی ہدایت سے بولنے والے کے سوا کوئی نہیں کہے گا، ’عیسیٰ خداوند ہے۔‘“ اِس کے بعد وہ کرنتھس کی جماعت کو تین بار یاد دلاتے ہیں کہ نعمتیں مختلف ہیں مگر روح، خداوند اور خدا ایک ہی ہے، اور یہ عطیے اپنی بڑائی کے لئے نہیں بلکہ ”تاکہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں“ دیئے گئے ہیں۔ پھر وہ جسم کا استعارہ کھولتے ہیں: پاؤں، کان، آنکھ، ہاتھ، اور خاص طور پر وہ اعضا جو کمزور اور کم قدر لگتے ہیں۔ باب کا اختتام ایک نامکمل جملے پر ہوتا ہے جو محبت کے باب کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

مرکزی نکتہ

آیات 4 تا 6 میں تین بار ”ایک ہی“ آتا ہے: ایک روح، ایک خداوند، ایک خدا۔ یہ تثلیث کے بارے میں کوئی خشک عقیدہ نہیں بلکہ جماعت کا نقشہ ہے۔ جو خدا اپنی ذات میں تین ہوتے ہوئے ایک ہے، وہی ایک جماعت بناتا ہے جو بہت سے اعضا رکھتی ہے۔ یونانی میں ”نعمت“ کا لفظ خاریسما ہے، جو براہِ راست خاریس یعنی فضل سے نکلتا ہے۔ یعنی آپ کی خدمت آپ کی قابلیت کا صلہ نہیں، فضل کا عطیہ ہے۔ اِسی لئے پولسؔ لکھتے ہیں: ”وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کیا نعمت ملنی ہے۔“ نجات میں بھی وہی خدا کام کرتا ہے جو تخلیق میں کام کرتا ہے: ”اللہ نے جسم کے مختلف اعضا بنا کر ہر ایک کو وہاں لگایا جہاں وہ چاہتا تھا۔“ خالق اور نجات دہندہ ایک ہی ہاتھ سے ترتیب دیتا ہے۔

تانا بانا

پیدائش میں خدا مٹی سے ایک بدن بناتے ہیں اور اُس میں اپنا دم پھونکتے ہیں۔ یہاں وہی عمل دوبارہ ہوتا ہے، مگر اِس بار ایک اجتماعی بدن پر: ”بپتسمے سے ہم سب کو ایک ہی روح کی معرفت ایک ہی بدن میں شامل کیا گیا ہے، ہم سب کو ایک ہی روح پلایا گیا ہے۔“ یہ عہد کا وہی وعدہ ہے جو یوایل 2 میں دیا گیا تھا کہ خدا اپنا روح ہر بشر پر نازل کرے گا، اور جو پنتیکُست میں پورا ہوا۔ مگر غور کیجئے کہ پولسؔ اِس بدن کو ”مسیح کا بدن“ کہتے ہیں۔ جو بدن مصلوب ہوا اور جی اُٹھا، وہ اب دنیا میں ایک نئی انسانیت کی صورت میں موجود ہے، جہاں ”یہودی یا یونانی، غلام یا آزاد“ کی دیواریں گر چکی ہیں۔ بادشاہی کی پہلی جھلک یہی ہے۔

آئینہ

یہ باب دو گناہوں کو بےنقاب کرتا ہے، اور دونوں شریف نظر آتے ہیں۔ پہلا حسرت ہے: ”مَیں ہاتھ نہیں ہوں اِس لئے بدن کا حصہ نہیں۔“ آپ کرسیاں لگاتے ہیں، وہ منبر پر کھڑا ہوتا ہے، اور آپ اندر ہی اندر خود کو غیرحاضر شمار کرنے لگتے ہیں۔ پولسؔ کا جواب سخت ہے: آپ کا خود کو نکال دینا آپ کو باہر نہیں کرتا۔ دوسرا گناہ زیادہ خطرناک ہے: ”مجھے تیری ضرورت نہیں۔“ یہ جملہ ہم کبھی زبان سے نہیں کہتے، مگر ہم اُسے وقت کی تقسیم سے کہتے ہیں، اُس بزرگ بہن کو جو اب صرف دعا کر سکتی ہے، اُس نوجوان کو جس کے سوال ہمیں ناپختہ لگتے ہیں، اُس معذور بچے کو جسے ہم اجلاس میں شمار نہیں کرتے۔ خدا اُسے شمار کرتے ہیں۔

اصل سامعین

کرنتھس ایک ایسا شہر تھا جہاں عزت سب کچھ تھی: کس کا سرپرست کون ہے، کون کھانے کی میز پر اوپر بیٹھتا ہے، کس کی تقریر زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اِن لوگوں کا مذہبی ماضی بھی جوش و خروش سے بھرا تھا؛ پولسؔ اُسے یاد دلاتے ہیں: ”آپ کو بار بار بہکایا اور گونگے بُتوں کی طرف کھینچا جاتا تھا۔“ اُن کے لئے وجدانی آواز میں بولنا کوئی نئی بات نہ تھی، اِسی لئے غیرزبانیں اُن کی نظر میں روحانی درجے کا نشان بن گئی تھیں۔ اب سوچئے کہ آیت 13 اُس غلام کے کانوں میں کیسی گونجی ہوگی جو دن بھر کسی اور کی ملکیت تھا، اور شام کو یہ سنتا تھا کہ اُسے اُسی روح نے اُسی بدن میں شامل کیا ہے جس میں اُس کا مالک ہے۔

ایک باریک نکتہ

آیت 23 پر لوگ عموماً شرمندگی سے نظر پھیر لیتے ہیں: ”وہ اعضا جنہیں ہم شرم سے چھپا کر رکھتے ہیں اُن ہی کا ہم زیادہ احترام کرتے ہیں۔“ پولسؔ ایک روزمرہ عادت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے چہرے کو ڈھانپتے نہیں، مگر جسم کے پوشیدہ حصوں کو ہم پوری احتیاط سے ڈھانپتے اور محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ محض شرم نہیں، یہ ایک قسم کی عزت افزائی ہے۔ اور پھر وہ اِس عادت کو خدا کے کام سے جوڑ دیتے ہیں: ”اللہ نے جسم کو اِس طرح ترتیب دیا کہ اُس نے کم قدر اعضا کو زیادہ عزت دار ٹھہرایا۔“ یہی صلیب کا منطق ہے۔ جو خدا کمزور کو بلند کرتا ہے، وہی خود کمزوری میں ظاہر ہوا۔ پاکیزگی یہاں پرہیزگاری کا مظاہرہ نہیں بلکہ کمزور کی حفاظت ہے۔

مشکل سوال

اگر ”وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کیا نعمت ملنی ہے“، تو آخری آیت میں یہ حکم کیوں: ”آپ اُن نعمتوں کی تلاش میں رہیں جو افضل ہیں“؟ اور اُس سے بھی زیادہ چبھنے والا سوال: اگر ایک ہی روح یہ سب تقسیم کرتا ہے، تو کیوں ہماری جماعتیں اِس قدر بٹی ہوئی ہیں، اور کیوں شفا کی دعا اکثر بےجواب لگتی ہے؟ پولسؔ خود آیت 30 میں تسلیم کرتے ہیں کہ سب کو شفا دینے کی نعمت حاصل نہیں۔ یعنی بدن میں محرومی بھی شامل ہے۔ ہمیں دونوں سچائیوں کو ساتھ رکھنا سیکھنا ہوگا: خدا کی خودمختار تقسیم، اور ہماری سنجیدہ طلب۔ اور جہاں جواب نہیں آتا، وہاں آیت 26 باقی رہتی ہے: ”اگر ایک عضو دُکھ میں ہو تو اُس کے ساتھ دیگر تمام اعضا بھی دُکھ محسوس کرتے ہیں۔“ یہ شفا نہیں، مگر یہ تنہائی کا خاتمہ ہے۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کی جماعت میں وہ کون ہے جس سے آپ نے عملاً، الفاظ کے بغیر، یہ کہہ دیا ہے: ”مجھے تیری ضرورت نہیں“؟

اگر آپ کی نعمت فضل کا عطیہ ہے اور آپ کی قابلیت کا صلہ نہیں، تو اِس ہفتے آپ اُسے کس طرح مختلف انداز سے استعمال کریں گے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

1 Corinthians 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

۱-کُرِنتِھیوں 12 کا کیا مطلب ہے؟
پولسؔ روحانی نعمتوں کا موضوع کسی پُرجوش تجربے سے نہیں بلکہ ایک کسوٹی سے شروع کرتے ہیں: زبان سے کیا نکلتا ہے۔ ”روح القدس کی ہدایت سے بولنے والے کے سوا کوئی نہیں کہے گا، ’عیسیٰ خداوند ہے۔‘“ اِس کے بعد وہ کرنتھس کی جماعت کو تین بار یاد دلاتے ہیں کہ نعمتیں مختلف ہیں مگر روح، خداوند اور خدا ایک ہی ہے، اور یہ عطیے اپنی بڑائی کے لئے نہیں بلکہ ”تاکہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں“ دیئے گئے ہیں۔ پھر وہ جسم کا استعارہ کھولتے ہیں: پاؤں، کان، آنکھ، ہاتھ، اور خاص طور پر وہ اعضا جو کمزور اور کم قدر لگتے ہیں۔ باب کا اختتام ایک نامکمل جملے پر ہوتا ہے جو محبت کے باب کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 12 کس بارے میں ہے؟
پیدائش میں خدا مٹی سے ایک بدن بناتے ہیں اور اُس میں اپنا دم پھونکتے ہیں۔ یہاں وہی عمل دوبارہ ہوتا ہے، مگر اِس بار ایک اجتماعی بدن پر: ”بپتسمے سے ہم سب کو ایک ہی روح کی معرفت ایک ہی بدن میں شامل کیا گیا ہے، ہم سب کو ایک ہی روح پلایا گیا ہے۔“ یہ عہد کا وہی وعدہ ہے جو یوایل 2 میں دیا گیا تھا کہ خدا اپنا روح ہر بشر پر نازل کرے گا، اور جو پنتیکُست میں پورا ہوا۔ مگر غور کیجئے کہ پولسؔ اِس بدن کو ”مسیح کا بدن“ کہتے ہیں۔ جو بدن مصلوب ہوا اور جی اُٹھا، وہ اب دنیا میں ایک نئی انسانیت کی صورت میں موجود ہے، جہاں ”یہودی یا یونانی، غلام یا آزاد“ کی دیواریں گر چکی ہیں۔ بادشاہی کی پہلی جھلک یہی ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کرنتھس ایک ایسا شہر تھا جہاں عزت سب کچھ تھی: کس کا سرپرست کون ہے، کون کھانے کی میز پر اوپر بیٹھتا ہے، کس کی تقریر زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اِن لوگوں کا مذہبی ماضی بھی جوش و خروش سے بھرا تھا؛ پولسؔ اُسے یاد دلاتے ہیں: ”آپ کو بار بار بہکایا اور گونگے بُتوں کی طرف کھینچا جاتا تھا۔“ اُن کے لئے وجدانی آواز میں بولنا کوئی نئی بات نہ تھی، اِسی لئے غیرزبانیں اُن کی نظر میں روحانی درجے کا نشان بن گئی تھیں۔ اب سوچئے کہ آیت 13 اُس غلام کے کانوں میں کیسی گونجی ہوگی جو دن بھر کسی اور کی ملکیت تھا، اور شام کو یہ سنتا تھا کہ اُسے اُسی روح نے اُسی بدن میں شامل کیا ہے جس میں اُس کا مالک ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اگر ”وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کیا نعمت ملنی ہے“، تو آخری آیت میں یہ حکم کیوں: ”آپ اُن نعمتوں کی تلاش میں رہیں جو افضل ہیں“؟ اور اُس سے بھی زیادہ چبھنے والا سوال: اگر ایک ہی روح یہ سب تقسیم کرتا ہے، تو کیوں ہماری جماعتیں اِس قدر بٹی ہوئی ہیں، اور کیوں شفا کی دعا اکثر بےجواب لگتی ہے؟ پولسؔ خود آیت 30 میں تسلیم کرتے ہیں کہ سب کو شفا دینے کی نعمت حاصل نہیں۔ یعنی بدن میں محرومی بھی شامل ہے۔ ہمیں دونوں سچائیوں کو ساتھ رکھنا سیکھنا ہوگا: خدا کی خودمختار تقسیم، اور ہماری سنجیدہ طلب۔ اور جہاں جواب نہیں آتا، وہاں آیت 26 باقی رہتی ہے: ”اگر ایک عضو دُکھ میں ہو تو اُس کے ساتھ دیگر تمام اعضا بھی دُکھ محسوس کرتے ہیں۔“ یہ شفا نہیں، مگر یہ تنہائی کا خاتمہ ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر آپ کی نعمت فضل کا عطیہ ہے اور آپ کی قابلیت کا صلہ نہیں، تو اِس ہفتے آپ اُسے کس طرح مختلف انداز سے استعمال کریں گے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی 1 Corinthians 12 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 25

خدا نے بدن کو یوں جوڑا کہ کمزور نظر آنے والے حصے کو زیادہ عزت ملے، ”تاکہ بدن میں پھوٹ نہ پڑے بلکہ اُس کے تمام اعضا مل کر ایک دوسرے کی فکر کریں۔“ غور کریں، اتحاد کی حفاظت نعروں سے نہیں بلکہ فکر کرنے سے ہوتی ہے۔ کلیسیا میں وہ کون ہے جسے آپ نے کافی عرصے سے نظرانداز کیا ہے؟ شاید آپ کی ایک فون کال بدن کو ٹوٹنے سے بچا لے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 8

پولس نے دو الگ الگ صلاحیتیں گنوائیں، مگر دونوں کے پیچھے ایک ہی نام دہرایا: "ایک کو روح کے وسیلے سے حکمت کی بات کرنے کی صلاحیت ملتی ہے، دوسرے کو اُسی روح کی معرفت سے علم کی باتیں کرنے کی۔" یعنی جو تجھ میں ہے وہ تیری کمائی نہیں، تحفہ ہے۔ اور جو دوسرے میں ہے، وہ بھی اُسی ہاتھ سے آیا ہے۔ پھر حسد کس بات کا؟

شکرگزاری ادارتی کو آیت 20

خداوند، تیرا شکر کہ "بہت سے اعضا ہیں، لیکن بدن ایک ہی ہے۔" شکر کہ تُو نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا بلکہ اپنی کلیسیا کے جسم میں جگہ دی، جہاں کوئی میرے لیے دعا کرتا ہے، کوئی حوصلہ دیتا ہے اور کوئی خاموشی سے میرا بوجھ اُٹھا لیتا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 23

جو حصے دیکھنے میں خوب صورت نہیں لگتے اُنہیں ہم زیادہ خوب صورت بنا دیتے ہیں۔" سوچیں، ہم روز صبح اُن اعضا کو ڈھانپتے اور سنوارتے ہیں جنہیں کوئی نہیں دیکھتا۔ یہی پولس کلیسیا سے چاہتا ہے۔ وہ بہن جو آخری صف میں بیٹھتی ہے، وہ بھائی جو چپ چاپ کرسیاں لگاتا ہے، اُنہیں زیادہ عزت ملنی چاہیے، کم نہیں۔ آج آپ کس کو خاص کر کے نام لے کر شکریہ کہیں گے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟