یوایل 2
متن
صیون کی دیوار پر نرسنگا گونجتا ہے، وہی آواز جو دشمن کی فوج نظر آنے پر بجائی جاتی تھی۔ مگر اِس بار آنے والا لشکر انسانوں کا نہیں: ٹڈیوں کا ایک ایسا بادل جو سورج کو ڈھانپ لیتا ہے، فصیلوں پر چڑھتا ہے اور کھڑکیوں سے گھروں میں گھس آتا ہے۔ اِس تباہی کے عین بیچ خدا کی آواز آتی ہے، ”اب بھی تم توبہ کر سکتے ہو“، اور جب قوم روزہ رکھ کر جمع ہوتی ہے تو کلام پلٹ جاتا ہے: اناج، مَے، بارش، بحالی، اور آخر میں ہر انسان پر روح کا نزول اور یہ وعدہ کہ جو بھی رب کا نام لے گا نجات پائے گا۔
مرکزی بات
یہاں سب سے تکلیف دہ جملہ گیارھویں آیت میں ہے: ”رب خود اپنی فوج کے آگے آگے گرجتا رہتا ہے۔“ ٹڈیاں محض قدرتی آفت نہیں، وہ خدا کا لشکر ہیں۔ یوایل اُس آسان تسلی کو چھین لیتا ہے جو ہم مصیبت کے وقت ڈھونڈتے ہیں، کہ خدا کا اِس سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اِسی سختی میں ایک عجیب رحمت چھپی ہے۔ اگر یہ محض اندھا اتفاق ہوتا تو کسی سے کچھ کہنا بےکار تھا۔ چونکہ اِس کے پیچھے خدا کھڑا ہے، اِس لیے پکارنے کا کوئی مطلب ہے۔ فوج کا سالار اور توبہ کی دعوت دینے والا ایک ہی ہستی ہے۔ یہی اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔
سلسلۂ کلام
اٹھائیسویں آیت پہلی صدی کے یروشلم میں پھٹ پڑی۔ پنتِکُست کے دن پطرس نے ہجوم کے سامنے یہی الفاظ دہرائے اور کہا: جو تم دیکھ رہے ہو، یہ وہی ہے۔ غور کیجیے کہ یوایل کے ہاں روح صرف نبیوں یا کاہنوں پر نہیں اُترتی بلکہ ”خادموں اور خادماؤں پر بھی“، یعنی اُن پر جن کے پاس قدیم دنیا میں کوئی مذہبی رتبہ نہ تھا۔ اور آخری آیت، ”جو بھی رب کا نام لے گا نجات پائے گا“، وہی جملہ ہے جسے پولس رومیوں میں غیریہودیوں پر لاگو کرتا ہے۔ ٹڈیوں سے شروع ہونے والی کتاب اُس دروازے پر ختم ہوتی ہے جو ساری دنیا کے لیے کھلتا ہے، اور مسیح ہی وہ نام ہے جو پکارا جاتا ہے۔
آئینہ
”اپنے کپڑوں کو مت پھاڑو بلکہ اپنے دل کو۔“ گریبان چاک کرنا نظر آتا تھا، سب دیکھتے تھے، محلے میں بات پھیل جاتی تھی۔ ہمارے پاس بھی ایسے چاک گریبان ہیں: عبادت میں آنسو جو گھر پہنچتے ہی خشک ہو جاتے ہیں، معافی کا وہ پیغام جو رشتہ بحال کیے بغیر بھیجا جاتا ہے، حساب کی وہ درستی جو صرف اُس وقت ہوتی ہے جب پکڑے جانے کا خطرہ ہو۔ اور پچیسویں آیت اُن سالوں پر ہاتھ رکھتی ہے جو واقعی کھائے گئے: وہ دہائی جو غصے میں گزری، وہ کاروبار جو ڈوب گیا، وہ صحت جو لوٹ کر نہیں آئی۔ خدا اُن برسوں کو جھٹلاتا نہیں۔ وہ کہتا ہے، مَیں واپس کروں گا۔
سوال
”کون جانے، شاید وہ اِس بار بھی پچھتا کر اپنے پیچھے برکت چھوڑ جائے۔“ یہ نبی کی زبان سے نکلا ہوا سب سے دیانت دار جملہ ہے، اور سب سے بےچین کرنے والا بھی۔ کوئی ضمانت نہیں دی جا رہی۔ توبہ کوئی سکہ نہیں جو ڈالنے پر برکت نکال دے۔ اور دوسری طرف وہ لفظ کھٹکتا ہے کہ خدا ”پچھتاتا ہے“: کیا وہ اپنا ارادہ بدلتا ہے؟ کلام یہاں ہمیں ایک ایسے خدا کے سامنے کھڑا کرتا ہے جو پتھر کی مورت نہیں، جو رشتے میں جیتا ہے اور جواب دیتا ہے۔ اِس تناؤ کو حل کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ ”کون جانے“ کے ساتھ گھٹنے ٹیکنا سیکھنا ہی ایمان ہے، سودے بازی نہیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، اور اُس کی تصویر آسان نہیں۔ پہلی گیارہ آیتوں میں وہ ایک ایسے سپہ سالار کی طرح ہے جس کے لشکر سے زمین کانپتی اور آسمان تھرتھراتا ہے۔ پھر، بغیر کسی وقفے کے، وہی آواز نرم پڑ جاتی ہے: ”پورے دل سے میرے پاس واپس آؤ!“ تیرھویں آیت میں یوایل اُس قدیم اقرار کو دہراتا ہے جو اسرائیل صدیوں سے جانتا تھا، کہ وہ مہربان، رحیم، تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔ اور اٹھارھویں آیت میں ایک اور پہلو کھلتا ہے: ”رب اپنے ملک کے لئے غیرت کھا کر“۔ یہ بےتعلق حاکم نہیں بلکہ وہ خدا ہے جس کی عزت اپنی قوم کی عزت سے بندھی ہوئی ہے۔
ایک باریک بات
سولھویں آیت میں ایک تفصیل ہے جسے پہلی صدی کا کوئی سننے والا نظرانداز نہ کر سکتا: ”دُولھا اور دُلھن بھی اپنے اپنے عروسی کمروں سے نکل کر آئیں۔“ شریعت میں نیا دُولھا ایک سال تک جنگ سے بھی مستثنیٰ تھا۔ شادی کا ہفتہ مقدس تھا، ناقابلِ مداخلت، خوشی کا وہ جزیرہ جسے کوئی نہیں چھو سکتا تھا۔ اب اُسے بھی توڑا جا رہا ہے۔ حجلۂ عروسی سے نکل کر ماتم کی صف میں کھڑا ہونا، شیرخوار بچوں سمیت پوری قوم کا جمع ہونا: یہ بتاتا ہے کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا، ”میں ابھی مصروف ہوں، میری زندگی کا اچھا وقت چل رہا ہے۔“ توبہ کے لیے کوئی استثنا نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”عروسی کمرہ“ ہے، یعنی وہ گوشہ جسے آپ خدا کی پکار سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں؟
”کون جانے، شاید“ کے ساتھ دعا کرنا آپ کے لیے کیسا ہے: کیا آپ بغیر ضمانت کے بھی خدا کے پاس واپس آ سکتے ہیں؟
Joel 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوایل 2 کا کیا مطلب ہے؟
یوایل 2 کس بارے میں ہے؟
یوایل 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوایل 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوایل 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Joel 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خدا پہلے اپنا روح اُنڈیلنے کا وعدہ کرتا ہے، اور اُس کے فوراً بعد کہتا ہے، ”مَیں آسمان و زمین پر معجزانہ نشان ظاہر کروں گا، خون، آگ اور دھوئیں کے بادل۔“ برکت اور ہلچل ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ شاید تیری زندگی میں بھی دونوں اکٹھے آئے ہیں۔ دھواں نظر آ رہا ہو تو یاد رکھ، یہ خدا کی غیرحاضری کی نہیں، اُس کے قریب آنے کی نشانی ہے۔
ٹڈیاں ہیں، مگر یوایل انہیں یوں دیکھتا ہے: ”وہ گھوڑوں جیسے لگتے ہیں، فوجی گھوڑوں کی طرح دوڑتے ہیں۔“ ننھا سا کیڑا، اور پورا لشکر۔ جب خدا بولتا ہے تو چھوٹی چیزیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ شاید تیری زندگی میں بھی کوئی چھوٹی سی بات تجھے للکار رہی ہے۔ اُسے نظرانداز نہ کر، وہ تجھے خدا کی طرف لوٹانے آئی ہے۔
یہ دیکھ کر قومیں پیچ و تاب کھانے لگتی ہیں، ہر چہرہ ماند پڑ جاتا ہے۔“ چہرے کا رنگ اُڑ جانا سب سے سچی گواہی ہے، زبان جھوٹ بول سکتی ہے مگر چہرہ نہیں۔ یوایل اِس خوف کو چھپانے کو نہیں کہتا۔ وہ چند آیتوں بعد کہتا ہے کہ اپنے دل پھاڑ کر خدا کے پاس لوٹ آؤ۔ آج تیرے چہرے پر جو پریشانی لکھی ہے، اُسے سنبھالنے کی کوشش چھوڑ دے۔ اُسی حالت میں اُس کے سامنے بیٹھ جا۔
ٹڈیوں کا غول پہاڑوں پر سے اُچھلتا ہے اور آواز رتھوں اور بھڑکتی آگ جیسی ہوتی ہے، ”وہ زبردست قوم ہیں جو لڑنے کے لئے صف آرا ہو گئی ہے۔“ یوایل یہ شور اِس لئے سنا رہا ہے کہ تُو وقت رہتے جاگ جائے۔ کیا تیری زندگی میں بھی کوئی آواز دُور سے آ رہی ہے جسے تُو اَن سنی کر رہا ہے؟ خدا شور کو قریب آنے دیتا ہے تاکہ تُو لوٹ آئے، نہ کہ تباہ ہو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
