۱-یوحنا 4
متن
یوحنا پہلے قارئین کو خبردار کرتا ہے کہ ہر روح پر بھروسا نہ کریں بلکہ اُنہیں پرکھیں: جو روح یہ اعتراف کرے کہ "عیسیٰ مسیح مجسم ہو کر آیا ہے" وہ خدا کی طرف سے ہے، باقی مخالفِ مسیح کی روح ہے۔ اِس کے بعد وہ سچائی کی پہچان کو محبت کی پہچان سے جوڑ دیتا ہے: خدا محبت ہے، اُس نے پہلے ہم سے محبت کی اور اپنے اکلوتے فرزند کو کفارہ بنا کر بھیجا۔ اِسی لئے ایک دوسرے سے محبت رکھنا اختیاری نہیں بلکہ لازم ہے۔ اور آخر میں وہ نہایت تیز جملہ لکھتا ہے: جو کہے کہ مَیں خدا سے محبت رکھتا ہوں مگر اپنے بھائی سے نفرت کرے، "وہ جھوٹا ہے"۔
مرکزی بات
غور کریں کہ یوحنا "اللہ محبت ہے" کو کسی جذباتی نعرے کے طور پر نہیں لکھتا۔ وہ فوراً اُس کی تعریف کرتا ہے: "یہی محبت ہے، یہ نہیں کہ ہم نے اللہ سے محبت کی بلکہ یہ کہ اُس نے ہم سے محبت کر کے اپنے فرزند کو بھیج دیا تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے کفارہ دے۔" یعنی محبت کا پیمانہ ہمارا احساس نہیں، صلیب ہے۔ اِس سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ پہلی: خدا کی محبت پہل کرنے والی محبت ہے، وہ ہماری لیاقت کا جواب نہیں۔ دوسری: چونکہ وہ محبت قیمت ادا کرنے تک گئی، ہماری محبت بھی وہاں تک جانی چاہئے جہاں قیمت لگتی ہے۔ ورنہ ہم لفظ رکھتے ہیں، محبت نہیں۔
سلسلۂ نجات
پرانے عہدنامے میں خدا کی محبت ہمیشہ عمل کے ذریعے ظاہر ہوئی: اسرائیل کو مصر سے نکالنا، عہد باندھنا، بے وفائی کے بعد بھی واپس بلانا۔ کبھی کسی نے خدا کو دیکھا نہیں؛ موسیٰ نے بھی صرف پیٹھ دیکھی۔ یوحنا اِسی حقیقت کو دہراتا ہے، "کسی نے بھی اللہ کو نہیں دیکھا"، لیکن پھر ایک حیرت انگیز موڑ لیتا ہے: "لیکن جب ہم ایک دوسرے کو پیار کرتے ہیں تو اللہ ہمارے اندر بستا ہے"۔ جو خدا نظر نہ آنے والا تھا، وہ مسیح کے مجسم ہونے میں دکھائی دیا، اور اب اپنی جماعت کی باہمی محبت میں دکھائی دیتا ہے۔ نجات کی کہانی اِس طرح آگے بڑھتی ہے: خدا نے جسم لیا، اور اب اُس کی محبت اُس کے لوگوں کے ہاتھوں اور بجٹ اور وقت میں جسم لیتی ہے۔
آئینہ
یہ آیت 20 آپ اور مجھ پر ہاتھ رکھتی ہے۔ ہم نفرت کو نفرت کہنا پسند نہیں کرتے؛ ہم اُسے "فاصلہ"، "احتیاط"، "میرا حق" کہتے ہیں۔ وہ بھائی جس کا نام واٹس ایپ پر آتا ہے تو ہم پیغام دیکھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ رشتہ دار جس کے ساتھ جائیداد کا جھگڑا ہے اور جس کے لئے دعا سے ہم عرصے سے کترا رہے ہیں۔ دفتر کا وہ ساتھی جس کی ناکامی سے ہمیں خفیہ سکون ملتا ہے۔ یوحنا اِن سب پر ایک لفظ لگاتا ہے: جھوٹ۔ اور آیت 18 دوسری گرہ کھولتی ہے: ہماری بہت سی سختی دراصل خوف ہے، سزا کا ڈر، بے عزتی کا ڈر، لُٹ جانے کا ڈر۔ کامل محبت ہی اُسے بھگاتی ہے۔
آج ہی کریں: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس سے آپ کا دل کھنچتا ہے، اور اُس نام کے ساتھ زور سے یہ جملہ کہیں، "اے خدا، آپ نے مجھ سے پہلے محبت کی، اِس لئے مَیں اِس بھائی سے نفرت نہیں رکھوں گا۔"
دیگر صحائف کی گواہی
یسوع کی وہ بات یاد کریں جو اُنہوں نے آخری رات فرمائی: اِسی سے سب جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو، اگر تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ یوحنا اُسی حکم کی تفسیر لکھ رہا ہے، اِسی لئے وہ آیت 21 میں صاف کہتا ہے، "جو حکم مسیح نے ہمیں دیا ہے وہ یہ ہے"۔ دوسری گونج یعقوب کے خط سے آتی ہے، جہاں بغیر عمل کے ایمان کو مُردہ کہا گیا ہے۔ دونوں خطوں میں ایک ہی اصول ہے: دعوے کو ناپنے کا پیمانہ باہر ہے، اندر نہیں۔ فرق صرف زور کا ہے۔ یعقوب کہتا ہے ایمان عمل سے پرکھا جاتا ہے؛ یوحنا کہتا ہے خدا کی معرفت محبت سے پرکھی جاتی ہے۔
پہلے سننے والے
یہ خط ایسی جماعتوں کو لکھا گیا جو ابھی ابھی ٹوٹ چکی تھیں۔ کچھ لوگ نکل گئے تھے اور یہ سکھا رہے تھے کہ روحانی علم اصل چیز ہے، جسم اہم نہیں، اِس لئے مسیح کا واقعی گوشت پوست میں آنا ضروری نہیں۔ ایسی تعلیم کا اخلاقی نتیجہ سیدھا تھا: اگر جسم اہم نہیں تو بھوکے بھائی کا پیٹ بھی اہم نہیں۔ اِسی لئے یوحنا مجسم ہونے کے اقرار کو اور بھائی سے محبت کو ایک ہی سانس میں جوڑتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لئے یہ الفاظ تسلی تھے، "جو آپ میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دنیا میں ہے"، کیونکہ اُنہیں لگ رہا تھا کہ سچائی ہار گئی ہے: اکثریت اُدھر گئی، دنیا اُن کی سنتی ہے۔
مشکل سوال
مگر ایک کانٹا رہ جاتا ہے: آیت 6 کہتی ہے کہ جو خدا سے نہیں، وہ ہماری نہیں سنتا۔ کیا یہ ہمیں یہ اجازت دیتی ہے کہ ہر مخالف کو "دنیا سے" کہہ کر خارج کر دیں؟ تاریخ میں یہ آیت اکثر اِسی طرح ہتھیار بنی ہے۔ ایمانداری سے کہوں تو یوحنا واقعی سخت لکیر کھینچتا ہے، اور ہم اُسے نرم نہیں کر سکتے۔ لیکن اُس نے پرکھنے کا معیار ہمارے ذوق یا فرقے میں نہیں رکھا؛ اُس نے دو کسوٹیاں دیں: مسیح کا مجسم ہونا، اور بھائی سے محبت۔ اور دوسری کسوٹی ہر اُس شخص پر بھی لاگو ہوتی ہے جو پہلی کسوٹی سے دوسروں کو کاٹ رہا ہے۔ جہاں پرکھ محبت کے بغیر ہو، وہاں پرکھنے والا خود پرکھا جا چکا ہے۔
غور و فکر
کس شخص کے لئے آپ کی محبت لفظوں تک محدود ہے، اور اُسے عمل تک لے جانے میں آپ کو کیا قیمت دینی پڑے گی؟
آیت 18 کے مطابق آپ کی سختی کے پیچھے کون سا خوف چھپا ہوا ہے؟
1 John 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-یوحنا 4 کا کیا مطلب ہے؟
۱-یوحنا 4 کس بارے میں ہے؟
۱-یوحنا 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-یوحنا 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-یوحنا 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 John 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
عزیزو، آئیں ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں، کیونکہ محبت اللہ کی طرف سے ہے۔" غور کریں، یوحنا یہ نہیں کہتا کہ محبت پیدا کرو، بلکہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ آپ کو محبت گھڑنی نہیں، صرف بہنے دینی ہے۔ اور جس شخص سے محبت کرنا آپ کو سب سے مشکل لگتا ہے، وہیں ثابت ہوتا ہے کہ آپ کس کے فرزند ہیں۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے ہمیں دنیا کی آواز کے حوالے نہیں چھوڑا۔ جو "دنیا سے ہیں" وہ دنیا کی سی باتیں کرتے ہیں اور دنیا اُن کی سنتی ہے، لیکن تُو نے ہمارے کان اپنے کلام کے لئے کھولے۔ شکر کہ تیری روح ہمیں سچائی اور دھوکے میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔
شکر ہے کہ تُو نے ہمیں یہ حکم دیا کہ جو اللہ سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے۔ تیرا شکر کہ تُو نے محبت کو صرف احساس نہیں بلکہ عملی راہ بنایا، اور ہمیں ایسے بھائی بہن دیے جن میں تجھ سے محبت کرنے کا موقع روز ملتا ہے۔
یوحنا نے سچ اور جھوٹ میں فرق پہچاننے کا پیمانہ بہت سادہ رکھا: "جو اللہ کو جانتا ہے وہ ہماری سنتا ہے۔" یعنی جانچ اِس بات کی نہیں کہ کوئی کتنے پُرجوش الفاظ بولتا ہے، بلکہ اِس کی کہ وہ رسولوں کی سنائی ہوئی مسیح کی خبر کے سامنے جھکتا ہے یا نہیں۔ ذرا سوچ، دن بھر تیرے کان کس آواز کے لئے کھلے رہتے ہیں؟ جسے ہم بار بار سنتے ہیں، آہستہ آہستہ وہی ہمیں بنا دیتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
