موضوع

محبت کا بائبل میں مفہوم

تعارف

ایک بوڑھا آدمی ہر روز صبح آٹھ بجے ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ اُس کی بیوی چالیس سال کی رفاقت کے بعد اب اُسے پہچانتی بھی نہیں۔ وہ اُس کے بال سنوارتا ہے، چمچ سے کھانا کھلاتا ہے، اور کبھی کبھی وہی پرانا گیت گنگناتا ہے جو دونوں نے شادی کے دن گایا تھا۔ نرس نے ایک دن پوچھا، "آپ کیوں آتے ہیں؟ اُسے تو یاد بھی نہیں رہتا۔" بوڑھے نے جواب دیا، "اُسے یاد نہیں، مگر مجھے یاد ہے کہ میں نے وعدہ کیا تھا۔"

یہی وہ مقام ہے جہاں بائبل کی محبت شروع ہوتی ہے، اور جہاں ہماری عام سمجھ ختم ہو جاتی ہے۔ اِس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ کتابِ مقدّس میں محبت کوئی بہتا ہوا جذبہ نہیں بلکہ ایک باندھنے والا عہد ہے، اور یہ عہد کیسے پیدائش سے مکاشفہ تک ایک ہی سنہری تار کی طرح چلتا ہے، صلیب پر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، اور آج آپ کے گھر، آپ کے کام اور آپ کے زخموں تک آتا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

بہت سے مضامین محبت کو ایک نرم موضوع کی طرح پیش کرتے ہیں۔ ہم اِسے دوسری طرف سے دیکھیں گے: بائبل میں محبت سب سے پہلے خدا کا عہد ہے، ایک وفاداری جو قیمت ادا کرتی ہے۔ عبرانی زبان کا لفظ "حسد" (شفقت، وفا) اور یونانی لفظ "اَگاپے" ہمیں احساسات کے کمرے سے نکال کر عہد کے میدان میں لے آتے ہیں، جہاں خون بہتا ہے اور وعدے نبھائے جاتے ہیں۔ اِس زاویے کی اہمیت یہ ہے کہ اگر محبت محض ایک جذبہ ہو تو وہ اُس دن ختم ہو جاتی ہے جس دن جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے؛ مگر اگر محبت ایک عہد ہو تو وہ بیماری، بےوفائی اور موت سے بھی زیادہ زبردست ثابت ہوتی ہے۔

محبت وہ عہد ہے جو قیمت ادا کرتا ہے۔

بائبل محبت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

کتابِ مقدّس محبت کی تعریف کسی لغت کی طرح نہیں کرتی؛ وہ ہمیں خدا کی ذات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 1 یوحنا 4:8 میں لکھا ہے: "جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔" یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ "محبت خدا ہے" (یعنی جہاں جہاں لوگ محبت کا نام لیں وہاں خدا ہے)، بلکہ یہ کہتی ہے کہ محبت خدا کی ذات سے پھوٹتی ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ محبت کائنات میں کوئی بے چہرہ توانائی نہیں؛ اُس کا ایک چہرہ ہے، ایک نام ہے، اور ایک کردار ہے۔ اور جب ہم پوچھتے ہیں کہ وہ کردار کیسا ہے، تو بائبل ہمیں مصر کی غلامی سے نکالے گئے لوگوں کے پاس لے جاتی ہے، جہاں خداوند نے خود اپنے بارے میں فرمایا کہ وہ "شفقت اور وفا میں غنی" ہے (خروج 34:6)۔ عبرانی میں یہ "شفقت" وہی حسد ہے: عہد کی وہ وفاداری جو دوسرے فریق کے نااہل ہونے پر بھی نہیں ٹوٹتی۔

اِسی لیے بائبل کی محبت ہمیشہ کسی قربانی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یوحنا 3:16 اِس کا سب سے مشہور بیان ہے: "کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔" غور کیجیے کہ جملے کا وزن کہاں ہے۔ "ایسی محبت" کی وضاحت کسی احساس سے نہیں بلکہ ایک عمل سے ہوئی ہے: اُس نے بخش دیا۔ محبت کی پیمائش اُس چیز سے ہوتی ہے جو محبت کرنے والا دینے کو تیار ہے۔

اور یہ محبت اُس وقت دی گئی جب ہم اِس کے قابل نہ تھے۔ رومیوں 5:8 فرماتا ہے: "لیکن خدا اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔" یہ آیت ہماری اُس خفیہ سوچ کو توڑ دیتی ہے کہ خدا نے ہم میں کچھ اچھائی دیکھ کر ہم سے محبت کی۔ نہیں؛ اُس نے ہم میں گناہ دیکھا اور پھر بھی عہد نبھایا۔ 1 یوحنا 4:10 اِسی بات کو دہراتا ہے: "محبت اِس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اِس میں کہ اُس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارہ کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔"

اِس بنیاد پر ہمارا جواب کھڑا ہوتا ہے۔ جب ایک عالمِ شریعت نے خداوند یسوع مسیح سے پوچھا کہ سب سے بڑا حکم کون سا ہے، تو متی 22:37 میں آپ نے فرمایا: "خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔" یہ حکم استثنا 6:5 سے لیا گیا ہے، یعنی اُس کتاب سے جو عہد کی کتاب ہے۔ دل، جان اور عقل کا ذکر بتاتا ہے کہ محبت انسان کے کسی ایک گوشے کا کام نہیں؛ اِس میں جذبات بھی ہیں، ارادہ بھی ہے، اور سوچ بھی۔

مگر ترتیب کبھی نہ بھولیں۔ 1 یوحنا 4:19 کہتا ہے: "ہم اُس سے محبت رکھتے ہیں کیونکہ پہلے اُس نے ہم سے محبت رکھی۔" یہ آیت پوری بائبل کی محبت کا رخ متعین کرتی ہے: محبت اوپر سے نیچے بہتی ہے۔ ہم خالی ہاتھ آتے ہیں، بھرے جاتے ہیں، اور پھر بانٹتے ہیں۔ اور جب یہ بہاؤ عملی زندگی میں اترتا ہے تو وہ 1 کرنتھیوں 13:4 جیسی شکل اختیار کرتا ہے: "محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔" یہاں محبت کی تصویر کسی گلاب یا شعر سے نہیں، بلکہ صبر اور مہربانی سے بنائی گئی ہے، یعنی اُن خوبیوں سے جو صرف وقت کے ساتھ، تکلیف میں، اور رشتوں کے دباؤ میں ظاہر ہوتی ہیں۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

پیدائش کے پہلے صفحوں پر محبت کا لفظ کم استعمال ہوا ہے، مگر اُس کا عمل ہر جگہ ہے۔ خدا ایک ایسی دنیا بناتا ہے جس کی اُسے ضرورت نہیں تھی، انسان کو اپنی صورت پر بناتا ہے، اور جب انسان بھاگتا ہے تو وہی اُسے پہلے آواز دیتا ہے۔ آدم اور حوّا کے لیے چمڑے کے پوشاک بنانا محبت کی پہلی خاموش تصویر ہے: کسی جانور کا خون بہا، تاکہ گنہگار کا شرم ڈھانپا جائے۔ ابرہام کے ساتھ عہد میں یہ محبت باقاعدہ شکل لیتی ہے، اور خروج میں یہ چٹان سے پانی نکالنے اور بادل کے ستون میں چلنے والی وفاداری بن جاتی ہے۔

پھر انبیا آتے ہیں اور وہ زبان استعمال کرتے ہیں جو ہمیں چونکا دیتی ہے۔ ہوسیع نبی کو حکم ملتا ہے کہ اپنی بےوفا بیوی کو واپس خرید لائے، تاکہ اسرائیل جان لے کہ خدا اُس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ ہوسیع 11:1 میں خداوند فرماتے ہیں: "جب اسرائیل بچہ تھا تو میں اُس سے محبت رکھتا تھا۔" یرمیاہ 31:3 میں وہی آواز کہتی ہے: "میں نے تجھ سے ہمیشہ کی محبت رکھی ہے اِس لِئے میں نے تجھ پر شفقت کی ہے۔" زبور 136 میں ہر آیت کے بعد ایک ہی بات دہرائی جاتی ہے، "کیونکہ اُس کی شفقت ابد تک ہے"، جیسے کوئی ماں بچے کو ایک ہی لوری بار بار سنا رہی ہو تاکہ وہ کبھی نہ بھولے۔ غزل الغزلات 8:6 اِس محبت کی طاقت کو یوں بیان کرتی ہے: "محبت موت کی مانند زبردست ہے۔"

پرانے عہدنامے کی شریعت میں یہ محبت ہمسائے تک پھیل جاتی ہے۔ احبار 19:18 حکم دیتا ہے: "اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔ میں خداوند ہوں۔" یعنی محبت کا حکم اخلاقیات کا مشورہ نہیں، عہد کے خدا کا فرمان ہے۔

نئے عہدنامے میں یہ ساری آوازیں ایک شخص میں جمع ہو جاتی ہیں۔ خداوند یسوع مسیح نہ صرف محبت کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ محبت کو جسم پہناتے ہیں: وہ کوڑھی کو چھوتے ہیں، محصول لینے والے کے گھر کھانا کھاتے ہیں، اور یوحنا 15:13 میں فرماتے ہیں: "اِس سے زیادہ محبت کوئی نہیں کہ کوئی اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دے۔" آخری رات وہ ایک نیا حکم دیتے ہیں (یوحنا 13:34): "جیسا میں نے تم سے محبت رکھی تُم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔" نیا پن حکم میں نہیں، پیمانے میں ہے۔ پہلے پیمانہ تھا "اپنی مانند"؛ اب پیمانہ ہے "جیسا میں نے"۔

رسولوں کے خطوط اِسی عہد کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ پولوس رسول اپنی ذاتی گواہی میں کہتے ہیں کہ مسیح نے "مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالہ کر دیا" (غلطیوں 2:20)۔ اور آخر میں مکاشفہ ہمیں شادی کی ضیافت پر لے جاتا ہے، جہاں برّہ اپنی دلہن کو پاتا ہے۔ بائبل ایک باغ سے شروع ہوتی ہے اور ایک شادی پر ختم ہوتی ہے، کیونکہ عہد کی محبت کا انجام ہمیشہ رفاقت ہے۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ محبت ایک احساس ہے جس پر ہمارا اختیار نہیں۔ لوگ کہتے ہیں، "میرے دل میں اب محبت نہیں رہی، تو میں کیا کروں؟" مگر خداوند یسوع مسیح نے محبت کا حکم دیا، اور کوئی بھی ایسی چیز کا حکم نہیں دیتا جو ہمارے بس میں نہ ہو۔ متی 5:44 میں آپ نے فرمایا کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو؛ اگر محبت صرف جذبہ ہوتی تو یہ حکم ظلم ہوتا۔ 1 کرنتھیوں 13:4 میں محبت کی پہلی دو صفتیں صبر اور مہربانی ہیں، اور یہ دونوں فیصلے ہیں، احساس نہیں۔ جذبات محبت کے ساتھ چلتے ہیں، مگر وہ محبت کا انجن نہیں، اُس کے مسافر ہیں۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ محبت کا مطلب ہر بات پر ہاں کہنا اور ہر رویّے کو جائز ماننا ہے۔ اِس سوچ میں "میں تم سے محبت کرتا ہوں" کا مطلب بن جاتا ہے "میں تمہاری ہر خواہش کی تصدیق کرتا ہوں"۔ مگر بائبل میں محبت اور سچائی جڑواں بہنیں ہیں۔ امثال 27:6 کہتی ہے کہ دوست کے لگائے ہوئے زخم وفاداری سے ہوتے ہیں۔ مکاشفہ 3:19 میں خداوند فرماتے ہیں کہ جن سے میں محبت رکھتا ہوں اُن کو ملامت اور تنبیہ کرتا ہوں۔ 1 کرنتھیوں 13:6 کے مطابق محبت "بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خوش ہوتی ہے"۔ جو محبت جھوٹ بولنے کو تیار ہو، وہ محبت نہیں، بزدلی ہے۔

تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ خدا کی محبت اُس کے انصاف کے مخالف ہے، جیسے وہ اپنے اندر دو حصوں میں بٹا ہوا ہو۔ لیکن صلیب پر یہ دونوں گلے ملتے ہیں۔ رومیوں 5:8 صاف کہتا ہے کہ "جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا"۔ اگر گناہ کی کوئی قیمت نہ ہوتی، تو صلیب ایک بےمقصد سفاکی ہوتی۔ عہد کی محبت اِسی لیے سستی نہیں: خدا نے گناہ کو نظرانداز نہیں کیا، اُس نے اُس کا بوجھ خود اُٹھا لیا۔ جو محبت قیمت ادا نہ کرے وہ صرف نرمی ہے؛ خدا کی محبت نرمی نہیں، قربانی ہے۔

چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ ہمیں پہلے محبت کرنی ہے تاکہ خدا ہم سے محبت کرے۔ یہ سوچ بہت سے دلوں کو تھکا دیتی ہے: ہم عبادت، خیرات اور کوشش کے ذریعے خدا کا دل جیتنے کی دوڑ لگاتے ہیں۔ 1 یوحنا 4:19 اِس ترتیب کو ہمیشہ کے لیے پلٹ دیتا ہے: "ہم اُس سے محبت رکھتے ہیں کیونکہ پہلے اُس نے ہم سے محبت رکھی۔" مسیحی زندگی خدا کی محبت حاصل کرنے کی مشقّت نہیں، بلکہ حاصل شدہ محبت کا جواب ہے۔

پہلے پیالہ بھرتا ہے، پھر چھلکتا ہے۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

عہد کی محبت سب سے پہلے وہاں آزمائی جاتی ہے جہاں کوئی تالیاں نہیں بجاتا۔ ایک شادی جس میں جذبے کی چمک ماند پڑ گئی ہے، وہ ٹوٹی ہوئی نہیں بلکہ آزمائی جا رہی ہے۔ افسیوں 5:25 شوہروں سے کہتا ہے: "اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کی اور اپنے آپ کو اُس کے لئے موت کے حوالہ کر دیا۔" یہ آیت رومانوی مشورہ نہیں دیتی، یہ قربانی کا نمونہ دیتی ہے۔ عملی طور پر اِس کا مطلب ہے: وہ جھگڑا جو آپ جیت سکتے تھے، مگر آپ نے چھوڑ دیا؛ وہ رات جب آپ تھکے ہوئے تھے مگر آپ نے سنا؛ وہ معافی جو آپ کے حق میں نہ تھی مگر آپ نے دی۔

پھر یہ محبت پیسے اور وقت کی زبان بولتی ہے۔ 1 یوحنا 3:18 کہتا ہے: "ہم لفظوں اور زبان سے نہیں بلکہ کام اور سچائی کے وسیلہ سے محبت کریں۔" اپنے مہینے کے خرچ کی فہرست اُٹھائیں اور دیکھیں کہ اُس میں کسی ضرورت مند کا نام ہے یا نہیں۔ اپنے موبائل کی سکرین کا وقت دیکھیں اور پوچھیں کہ وہ وقت کس کو دیا جا سکتا تھا: بوڑھے والدین کو، اُس بچے کو جو آپ سے بات کرنے کے لیے دیر تک جاگتا رہا، یا اُس محلے دار کو جو کئی ہفتوں سے اکیلا ہے۔ محبت وہاں ثابت ہوتی ہے جہاں وہ کچھ خرچ کرے۔

کام کی جگہ پر عہد کی محبت ایمانداری کی شکل اختیار کرتی ہے۔ 1 کرنتھیوں 13:4 کہتا ہے کہ "محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی۔" دفتر میں یہ آیت اُس لمحے زندہ ہوتی ہے جب آپ کے ساتھی کو ترقی ملتی ہے اور آپ سچے دل سے مبارک کہتے ہیں؛ یا جب آپ کسی کے پیچھے وہ بات نہیں کہتے جو آپ اُس کے منہ پر نہیں کہہ سکتے۔

مشکل ترین میدان دشمن ہے۔ کسی نے آپ کو دھوکہ دیا، آپ کی عزت پر ہاتھ ڈالا، آپ کا حق مارا۔ متی 22:37 کے مطابق پہلے خداوند سے سارے دل سے محبت رکھیں، کیونکہ صرف وہی دل جو خدا کی محبت سے بھرا ہو، اُس شخص کے لیے دعا کر سکتا ہے جس نے اُسے زخم دیا۔ آپ کو یہ ماننا نہیں پڑے گا کہ جو ہوا وہ ٹھیک تھا؛ آپ کو صرف بدلہ لینے کا حق خدا کے ہاتھ میں دینا ہے۔

اور آخر میں، اپنے آپ سے دشمنی چھوڑیں۔ بہت سے لوگ دوسروں پر مہربان ہیں مگر اپنے آپ پر بےرحم۔ رومیوں 5:8 آپ کو یہ سکھاتا ہے کہ آپ کی قیمت آپ کی کارکردگی سے نہیں بلکہ صلیب سے مقرر ہوئی ہے۔

آئینہ

اب ذرا رکیے، کیونکہ یہ باب آپ کے بارے میں ہے۔ آپ نے یہ سب پڑھ لیا، مگر سوال یہ ہے: آپ کے گھر میں وہ کون شخص ہے جس سے آپ نے دل ہی دل میں عہد توڑ دیا ہے؟ آپ اُس کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں، ایک ہی میز پر کھانا کھاتے ہیں، مگر آپ نے اُسے اپنے دل کے کمرے سے نکال دیا ہے۔ آپ نے اُسے نہ چھوڑا، نہ اپنایا۔ بائبل اِسے محبت نہیں کہتی؛ بائبل اِسے ٹھنڈی وفاداری کہتی ہے، اور مکاشفہ 2:4 میں خداوند نے ایک پوری کلیسیا سے یہی شکایت کی: "تُو نے اپنی پہلی سی محبت چھوڑ دی۔"

اور آپ کے وقت کا کیا؟ آپ کہتے ہیں آپ خدا سے محبت رکھتے ہیں، مگر آپ کی صبح کا پہلا اور رات کا آخری تعلق آپ کے فون سے ہے۔ آپ کہتے ہیں آپ اپنے بچوں سے محبت رکھتے ہیں، مگر اُنہیں آپ کی تھکن ملتی ہے اور آپ کے دفتر کو آپ کی توانائی۔ آپ کہتے ہیں آپ اپنے والدین سے محبت رکھتے ہیں، مگر ایک فون کال کے لیے تین ہفتے گزر جاتے ہیں۔ محبت کا حساب دعووں سے نہیں، کیلنڈر اور بینک اسٹیٹمنٹ سے ہوتا ہے۔

مگر آئینہ صرف شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اگر آپ ابھی یہ سوچ رہے ہیں کہ "میں تو محبت میں ناکام ہوں"، تو آپ ٹھیک اُس جگہ پر پہنچ گئے ہیں جہاں انجیل شروع ہوتی ہے۔ رومیوں 5:8 آپ سے یہ نہیں کہتا کہ بہتر بنو تاکہ محبت پاؤ؛ وہ کہتا ہے کہ آپ کے گنہگار ہونے کی حالت میں ہی مسیح آپ کی خاطر مؤا۔ آپ کی سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ آپ زیادہ محبت کرنا سیکھیں، بلکہ یہ کہ آپ اُس محبت کے سامنے ہتھیار ڈال دیں جو آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ 1 یوحنا 4:19 کی ترتیب یاد ہے؟ پہلے وہ، پھر آپ۔ آج اپنی خالی ہتھیلیاں کھولیں اور کہیں: خداوند، مجھے پہلے محبت کرنا سکھانے سے پہلے، محبت پانا سکھا دے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو محبت کا مطلب سمجھانے کے لیے تعریف کی ضرورت نہیں، تصویر کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹے بچے سے پوچھیں: "اگر تمہارا گلاس گر جائے اور دودھ سارے فرش پر بکھر جائے، تو کیا امّی تم سے پیار کرنا چھوڑ دیں گی؟" جب وہ نہ میں سر ہلائے، تو کہیں کہ خدا کی محبت اِس سے بھی بڑی ہے، کیونکہ اُس نے ہماری غلطیوں کے باوجود اپنا بیٹا ہمیں دے دیا۔ یوحنا 3:16 کو بچوں کی زبان میں یوں دہرایا جا سکتا ہے: خدا نے ہم سے اِتنا پیار کیا کہ اُس نے اپنا سب سے قیمتی تحفہ ہمیں دے دیا۔

بڑے بچوں کے ساتھ آپ 1 کرنتھیوں 13:4 کو ایک عملی کھیل بنا سکتے ہیں: صبر کرنا کیسا لگتا ہے، مہربانی کیسی دکھتی ہے، اور حسد نہ کرنا کتنا مشکل ہے جب بھائی کو بڑی سائیکل مل جائے۔ نوجوانوں کے ساتھ سوال کھلا رکھیں: کیا محبت وہی ہے جو فلموں اور گانوں میں دکھائی جاتی ہے، یا وہ جو صلیب پر دکھائی گئی؟

اِس بات کا خیال رکھیں کہ ہر عمر کو مختلف زبان چاہیے۔ اِسی لیے فیتھ نیٹ ورک پر اِس موضوع کی الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے سادہ کہانی اور تصویری زبان میں، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور روزمرہ مثالوں کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن سوالات کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے دوستی، دباؤ، دل ٹوٹنے اور شناخت کے سوال۔ گھر میں یہ گفتگو ایک ہی نشست میں مکمل نہ ہو گی؛ اِسے بار بار دہرائیں، کیونکہ بچے محبت کو سب سے پہلے سنتے نہیں، دیکھتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

بائبل میں محبت کا اصل مطلب کیا ہے؟

بائبل میں محبت بنیادی طور پر ایک عہد کی وفاداری ہے، یعنی کسی کی بھلائی کے لیے اپنے آپ کو دینے کا مستقل فیصلہ، خواہ اُس کا جواب ملے یا نہ ملے۔ عبرانی لفظ "حسد" اور یونانی لفظ "اَگاپے" دونوں اِسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اِس کی سب سے صاف تصویر رومیوں 5:8 میں ہے: "جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔" اِس لیے بائبل کی محبت کو ناپنے کا پیمانہ احساس نہیں بلکہ قربانی ہے۔

"خدا محبت ہے" کا مطلب کیا ہے؟

1 یوحنا 4:8 کہتا ہے: "جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔" اِس کا مطلب یہ ہے کہ محبت خدا کی ذات کا مستقل کردار ہے، نہ کہ اُس کا کوئی موڈ جو بدل جائے۔ مگر اِسے پلٹ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر وہ چیز جسے انسان محبت کہے وہ خدا ہے۔ یہی آیت آگے چل کر محبت کی تعریف صلیب سے کرتی ہے، اِس لیے "خدا محبت ہے" کا مطلب یہ نہیں کہ خدا ہر کام کی اجازت دیتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ ہمیشہ اپنے عہد میں وفادار ہے۔

کیا خدا کی محبت غیر مشروط ہے؟

خدا کی محبت اِس لحاظ سے غیر مشروط ہے کہ وہ ہماری اہلیت پر منحصر نہیں؛ اُس نے ہم سے اُس وقت محبت کی جب ہم گنہگار تھے (رومیوں 5:8)۔ 1 یوحنا 4:19 کے مطابق پہل ہمیشہ اُس کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُس کی محبت ہمارے رویّے سے بےنیاز ہے؛ وہ محبت کرنے والا باپ ہے، اِس لیے وہ اصلاح بھی کرتا ہے اور تنبیہ بھی۔ اُس کی محبت مفت ہے، مگر سستی نہیں۔

1 کرنتھیوں 13 کو "محبت کا باب" کیوں کہا جاتا ہے؟

کیونکہ اِس باب میں پولوس رسول محبت کی وہ عملی تصویر دیتے ہیں جو کسی جذباتی نظم سے نہیں بنی۔ 1 کرنتھیوں 13:4 کہتا ہے: "محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔" یاد رکھیں کہ یہ باب شادی کے لیے نہیں بلکہ ایک جھگڑالو کلیسیا کے لیے لکھا گیا تھا، جہاں لوگ روحانی نعمتوں پر فخر کر رہے تھے۔ اِسی لیے یہ باب آج بھی ہمارے دعووں کو تولنے کا ترازو ہے۔

بائبل میں محبت اور شہوت میں کیا فرق ہے؟

فرق سمت کا ہے۔ محبت دیتی ہے، شہوت لیتی ہے۔ محبت دوسرے شخص کی بھلائی چاہتی ہے، شہوت دوسرے شخص کو اپنی خواہش پوری کرنے کا ذریعہ بناتی ہے۔ 1 کرنتھیوں 13:5 کہتا ہے کہ محبت "اپنی بہتری نہیں چاہتی"، اور یہی جملہ شہوت کے بالکل برعکس ہے۔ بائبل جسمانی کشش کو برا نہیں کہتی؛ غزل الغزلات پوری کتاب اِسی خوشی کا جشن ہے، مگر وہاں بھی یہ خوشی ایک عہد کے دائرے میں محفوظ ہے۔

اگر میرے دل میں محبت کا احساس نہ ہو تو کیا میں محبت کر سکتا ہوں؟

جی ہاں، اور یہی بائبل کی محبت کی سب سے آزاد کرنے والی بات ہے۔ چونکہ محبت کا حکم دیا گیا ہے (متی 22:37)، اِس لیے وہ ہمارے اختیار میں ہے۔ صبر کرنا، مہربان لفظ بولنا، معاف کرنا اور خدمت کرنا، یہ سب فیصلے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر احساس عمل کے پیچھے چلتا ہے، نہ کہ آگے آگے۔ اپنے سرد دل کو خدا کے سامنے ایمانداری سے رکھیں اور پھر بھی محبت کا کام کرتے رہیں۔

یوحنا 3:16 میں "دنیا" سے کیا مراد ہے؟

یوحنا 3:16 میں لکھا ہے: "کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دِیا۔" یہاں "دنیا" سے مراد صرف کوئی ایک قوم نہیں بلکہ نافرمان انسانوں کی پوری دنیا ہے۔ یہودی سننے والوں کے لیے یہ ایک جھٹکا تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ خدا کی محبت اُن کے قومی دائرے تک محدود ہے۔ اِس آیت کا وزن یہی ہے کہ خدا کی محبت اُن لوگوں تک پہنچی جو اُس کے مخالف تھے، اور اِس میں ہر ثقافت، ہر زبان اور ہر پس منظر کا انسان شامل ہے۔

کیا خدا کی محبت اور اُس کا غضب ایک ساتھ ممکن ہیں؟

جی ہاں، اور اِن دونوں کا میل صلیب پر نظر آتا ہے۔ اگر خدا گناہ سے بےپروا ہوتا تو وہ نہ عادل ہوتا نہ محبت کرنے والا، کیونکہ محبت اُس چیز سے نفرت کرتی ہے جو محبوب کو تباہ کرتی ہے۔ رومیوں 5:8 دکھاتا ہے کہ خدا نے گناہ کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اُس کا فیصلہ خود اپنے بیٹے پر اُٹھا لیا۔ اِس لیے خدا کا غضب اُس کی محبت کا مخالف نہیں بلکہ اُس کی پاکیزگی کا وہ رخ ہے جو بدی کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتا۔

بائبل کے مطابق سب سے بڑا حکم کون سا ہے؟

متی 22:37 میں خداوند یسوع مسیح نے فرمایا: "خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔" اِس کے فوراً بعد آپ نے دوسرا حکم بتایا کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ، اور فرمایا کہ اِن دو حکموں پر تمام شریعت اور انبیا کا مدار ہے۔ اِس ترتیب کو بدلا نہیں جا سکتا: خدا سے محبت پہلے ہے، اور انسان سے محبت اُسی کا پھل ہے۔

کیا مجھے واقعی اپنے دشمنوں سے محبت رکھنی ہے؟

متی 5:44 میں خداوند یسوع مسیح کا حکم صاف ہے کہ ہم اپنے دشمنوں سے محبت رکھیں اور اُن کے لیے دعا کریں جو ہمیں ستاتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم کو ظلم نہ کہا جائے یا خود کو خطرے میں ڈال دیا جائے؛ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بدلہ لینے کا حق خدا کے ہاتھ میں دے دیا جائے اور دوسرے کی بھلائی چاہی جائے۔ یہ حکم صرف اُس دل کے لیے ممکن ہے جو پہلے خود معاف کیا گیا ہو۔

مجھے کیسے پتہ چلے کہ خدا مجھ سے محبت رکھتا ہے؟

اپنے احساسات کو پیمانہ نہ بنائیں، صلیب کو بنائیں۔ رومیوں 5:8 کہتا ہے کہ "خدا اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا"۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جو آپ کے موڈ کے ساتھ نہیں بدلتا۔ جب دل الزام لگائے، تو 1 یوحنا 4:10 اور یوحنا 3:16 کو بلند آواز میں پڑھیں اور خدا سے مانگیں کہ وہ اپنی روح کے وسیلہ سے یہ سچائی آپ کے دل میں مضبوط کرے۔

کیا بائبل خود سے محبت کرنے کی تعلیم دیتی ہے؟

بائبل خود سے محبت کو ایک حقیقت مان کر بات کرتی ہے، نہ کہ ایک حکم بنا کر۔ جب کہا گیا کہ "اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا" (احبار 19:18)، تو یہ فرض کیا گیا کہ ہم فطرتاً اپنی فکر کرتے ہیں، اور اِسی پیمانے سے دوسروں کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا۔ ساتھ ہی بائبل خود سے نفرت کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، کیونکہ آپ خدا کی صورت پر بنے ہیں اور مسیح کے خون سے خریدے گئے ہیں۔ سچی خودی وہی ہے جو اپنی قیمت اپنے کارناموں میں نہیں بلکہ خدا کی محبت میں دیکھے۔

اختتام میں

اگر آپ اِس صفحے سے صرف ایک جملہ لے کر جائیں، تو یہ لیجیے: بائبل میں محبت پہلے میرا احساس نہیں، خدا کا عہد ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ہر چیز بدل دیتا ہے۔ ایک احساس آتا اور جاتا ہے؛ ایک عہد قائم رہتا ہے، خون بہاتا ہے، اور تیسرے دن قبر سے باہر آ جاتا ہے۔ اِسی لیے یوحنا 3:16 میں محبت کو ایک تحفے سے ناپا گیا، رومیوں 5:8 میں ایک موت سے، اور 1 کرنتھیوں 13:4 میں صبر اور مہربانی سے، یعنی اُن چیزوں سے جو وقت اور تکلیف میں ثابت ہوتی ہیں۔ اور یہ سب اُس ترتیب سے شروع ہوتا ہے جو 1 یوحنا 4:19 ہمیں یاد دلاتا ہے: پہلے اُس نے۔

صلیب محبت کی سب سے صاف لغت ہے۔

آگے کے مطالعے کے لیے 1 یوحنا کے چوتھے باب کو ایک ہی نشست میں آہستہ آہستہ پڑھیں، پھر 1 کرنتھیوں 13 کو اپنے نام کے ساتھ پڑھیں: جہاں "محبت" لکھا ہے وہاں اپنا نام رکھ کر دیکھیں کہ کہاں دل کھٹکتا ہے۔ وہ کھٹکنا سزا نہیں، دعوت ہے۔ اور دعا میں صرف یہ کہیں: خداوند، مجھے اپنی محبت میں ایسا قائم کر دے کہ میں دوسروں سے محبت کرنے کے لیے کچھ حاصل کرنے کی کوشش نہ کروں، بلکہ صرف بانٹتا رہوں۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 5.857 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.234
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 171 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو امثال 29:18

جہاں الٰہی رویا نہیں ہوتی وہاں قوم بےلگام ہو جاتی ہے، لیکن مبارک ہے وہ جو شریعت کے تابع رہے۔“…

بصیرت ادارتی کو ۱-سموئیل 11:14

ساؤل کی بادشاہی مِصفاہ میں پہلے ہی قائم ہو چکی تھی، پھر بھی سموئیل کہتا ہے، ”آؤ، ہم جِلجال جا…

دعا ادارتی کو اِستِثنا 26:5

اے خدا، مجھے یاد ہے کہ میری شروعات کتنی چھوٹی تھی، ایک بےگھر سا مسافر جس کے پاس کچھ نہ…

بصیرت ادارتی کو ۲-تیمُتھیُس 2:6

پولس تیمُتھیُس کو تین تصویریں دیتا ہے: فوجی، کھلاڑی اور کسان۔ آخری سب سے سست ہے۔ "لازم ہے کہ محنت…

شکرگزاری ادارتی کو عزرا 10:11

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے اور ہمیں پکارتا…

بصیرت ادارتی کو نحمیاہ 3:14

کوڑے کا دروازہ وہ جگہ تھی جہاں سے شہر کی گندگی باہر پھینکی جاتی تھی۔ اور اُسی دروازے کی مرمت…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟