۱-یوحنا 2
متن
بوڑھا آدمی قلم اٹھاتا ہے اور پہلا لفظ ہی گود میں بٹھا لینے والا ہے: "میرے بچو"۔ وہ لکھتا ہے تاکہ وہ گناہ نہ کریں، مگر فوراً ہی گرنے والے کے لیے جگہ بنا دیتا ہے: باپ کے سامنے ایک شفیع کھڑا ہے، عیسیٰ مسیح جو راست ہے، اور وہی پوری دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ پھر وہ جماعت کو تین آوازوں میں پکارتا ہے، بچوں، والدوں، جوان مردوں کو، دنیا سے محبت کے خلاف خبردار کرتا ہے، اور آخر میں اُس زخم پر ہاتھ رکھتا ہے جو ابھی تازہ ہے: کچھ لوگ جماعت چھوڑ کر جا چکے ہیں، اور اُن کے جانے نے سب کچھ ہلا دیا ہے۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل وہاں دھڑکتا ہے جہاں دو باتیں ایک ساتھ کہی جاتی ہیں جنہیں ہم عموماً الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ پہلی: تمہارے گناہ معاف ہو چکے ہیں، اور جب تم گرو گے تب بھی ایک وکیل باپ کے سامنے کھڑا ہے۔ دوسری: جو کہتا ہے "مَیں اُسے جانتا ہوں" لیکن اُس کے احکام پر عمل نہیں کرتا وہ جھوٹا ہے۔ یوحنا نرمی اور سختی کو ملا نہیں دیتا، وہ دونوں کو پوری طاقت سے پکڑے رکھتا ہے۔ خدا کو جاننا کوئی ذہنی معلومات نہیں، نہ ہی کوئی روحانی احساس، بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جو چال ڈھال میں دکھائی دیتا ہے۔ فضل مفت ہے، مگر بے اثر نہیں۔ جہاں معافی سچ مچ پہنچی ہے، وہاں زندگی کا رخ بدلتا ہے۔
سنہری تار
"مَیں آپ کو کوئی نیا حکم نہیں لکھ رہا، بلکہ وہی پرانا حکم جو آپ کو شروع سے ملا ہے۔" یہ جملہ پوری بائبل کو ایک تار میں پرو دیتا ہے۔ محبت کا حکم شریعت میں پہلے سے موجود تھا، مگر یوحنا اگلے ہی سانس میں کہتا ہے کہ یہ حکم نیا بھی ہے، اور اِس کی سچائی مسیح میں ظاہر ہوئی۔ فرق یہ ہے کہ اب حکم صرف کہا نہیں گیا، جیا گیا ہے۔ خداوند یسوع نے وہ محبت اپنے بدن میں دکھا دی جس کا تقاضا صدیوں سے ہو رہا تھا۔ اِسی لیے یوحنا کہہ سکتا ہے: "تاریکی ختم ہونے والی ہے اور حقیقی روشنی چمکنے لگ گئی ہے۔" یہ نئی خلقت کی سحر ہے، وہی روشنی جو پیدائش کے پہلے دن اندھیرے کو چیر گئی تھی، اب مسیح میں طلوع ہو چکی۔
آئینہ
اب ذرا رکیے۔ آپ کلیسیا میں بیٹھے ہیں اور تین قطاریں آگے وہ شخص ہے جس نے آپ کے بارے میں بات پھیلائی تھی۔ آپ اُس سے سلام نہیں کرتے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ نور میں ہیں۔ یوحنا آپ کے کان میں کہتا ہے: "وہ اب تک تاریکی میں ہے۔" یہ بات چبھتی ہے، اور چبھنی چاہیے۔ اور پھر دنیا سے محبت والی بات: "آنکھوں کا لالچ" آج اسکرین پر روز گزرتا ہے، "اپنی ملکیت پر فخر" اُس گاڑی، اُس نوکری کے عہدے، اُس بچے کے نمبروں میں چھپا بیٹھا ہے جن کا ذکر آپ گفتگو میں بغیر ضرورت کے لے آتے ہیں۔ یوحنا اِن چیزوں کو حرام نہیں کہتا، وہ کہتا ہے کہ یہ سب "ختم ہو رہی ہیں"۔ آپ ڈوبتی کشتی سے محبت لگا بیٹھے ہیں۔
پس منظر
پہلی صدی کے اواخر، غالباً افسس اور اُس کے گرد چھوٹی چھوٹی گھریلو جماعتیں۔ لکھنے والا وہ ہے جو خود اُس کے پاس بیٹھا تھا جو "ابتدا ہی سے ہے"، اور اب گواہوں کی نسل مر رہی ہے۔ جماعت میں پھوٹ پڑ چکی ہے: کچھ لوگ نکل گئے ہیں، اور وہ خالی ہاتھ نہیں گئے، اپنے ساتھ ایک متبادل تعلیم لے گئے ہیں کہ جسم حقیر ہے، اِس لیے مسیح واقعی جسم میں نہیں آیا، اور اِس لیے جسم سے کیے گئے کام روح پر اثر نہیں کرتے۔ پیچھے رہ جانے والوں کے دل میں ایک سوال کھٹک رہا ہے: کیا وہ درست تھے؟ کیا ہم غلط طرف رہ گئے؟ یوحنا کا سارا خط اِسی کپکپاتے سوال کا جواب ہے۔
کتابِ مقدّس کی گونج
جب یوحنا کہتا ہے کہ حکم پرانا بھی ہے اور نیا بھی، تو وہ اُس رات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جب خداوند نے آخری کھانے پر شاگردوں کے پاؤں دھوئے اور اُنہیں ایک نیا حکم دیا کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ یوحنا وہاں موجود تھا؛ یہ خط اُس رات کی گونج ہے۔ دوسری گونج قائن اور ہابل کی ہے: نفرت اور اندھیرے میں چلنے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوا، جب بھائی نے بھائی کو دشمن سمجھا۔ اِسی لیے یوحنا محبت کے مقابل بےرُخی نہیں بلکہ "نفرت" رکھتا ہے۔ اُس کے نزدیک درمیانی زمین موجود ہی نہیں۔ آپ یا تو بھائی کی طرف چل رہے ہیں، یا اندھیرے میں ٹٹول رہے ہیں۔
ایک باریک نکتہ
آیت ستائیس ٹھہر کر پڑھنے کے لائق ہے: "آپ کو اِس کی ضرورت ہی نہیں کہ کوئی آپ کو تعلیم دے۔" یہ عجیب ہے، کیونکہ یوحنا خود اُسی وقت اُنہیں تعلیم دے رہا ہے۔ تضاد نہیں ہے۔ مسح، یعنی روح القدس کا وہ عطیہ جو ہر ایمان دار کو ملا ہے، اُس زمانے کے دعوے کا جواب ہے کہ "اصل علم" صرف خاص لوگوں کے پاس ہے اور باقی سب کو اُن کے قدموں میں بیٹھنا ہو گا۔ یوحنا کہتا ہے: نہیں۔ ایک عام دھوبن، ایک بوڑھا کسان، جس کے اندر خدا کا روح بستا ہے، وہ سچ کو پہچان سکتا ہے۔ یہ کلیسیا میں تعلیم کو ختم نہیں کرتا، مگر ہر روحانی رعب کو توڑ دیتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
کیا کوئی ایسا "بھائی" ہے جس کے بارے میں آپ کا دل خاموشی سے بند ہے، جبکہ آپ خود کو نور میں سمجھتے ہیں؟
جن چیزوں کے "ختم ہو رہی" ہونے کا یوحنا ذکر کرتا ہے، اُن میں سے کون سی چیز اِس وقت آپ کے دل کا سب سے بڑا حصہ لے چکی ہے؟
1 John 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-یوحنا 2 کا کیا مطلب ہے؟
۱-یوحنا 2 کس بارے میں ہے؟
۱-یوحنا 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-یوحنا 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-یوحنا 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 John 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے باپ، شکر ہے کہ آپ نے ہمیں کوئی نیا حکم نہیں دیا بلکہ وہی پرانا جو ہمیں ابتدا سے حاصل ہے۔ شکر کہ محبت کا یہ کلام ہم نے سنا اور یہ آج بھی وہی ہے، نہ بدلا، نہ پرانا ہوا۔ آپ کی سچائی ہر موسم میں قائم رہتی ہے، اور یہی ہمارا سہارا ہے۔
یوحنا اتنی سادہ بات کہتا ہے: "لازم ہے کہ جو کچھ آپ نے شروع سے سنا ہے وہ آپ میں قائم رہے۔" کوئی نیا راز نہیں، کوئی اونچا علم نہیں۔ بس وہی پرانی خبر جو آپ نے پہلے دن سنی تھی۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ایمان میں بڑھنے کا مطلب کچھ نیا ڈھونڈنا ہے، حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ جو مل چکا ہے اُسے پکڑے رہیں۔ آج آپ کے دل میں کیا قائم ہے؟
یوحنا ہر عمر کے لوگوں کو الگ الگ پکارتا ہے، مگر کسی کو ڈانٹنے کے لیے نہیں۔ ”اے بچو، مَیں تمہیں لکھ رہا ہوں، کیونکہ تم باپ کو جانتے ہو۔“ غور کریں، وہ نہیں کہتا ”تمہیں جاننا چاہئے“ بلکہ ”تم جانتے ہو“۔ آپ کے ایمان کا سب سے چھوٹا قدم بھی خدا کی نظر میں پہلے سے ایک حقیقت ہے۔ کیا آپ اُس پر یقین کریں گے جو وہ آپ کے بارے میں کہہ چکا ہے؟
یوحنا لکھتا ہے، "وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے، نہ صرف ہمارے گناہوں کا بلکہ پوری دنیا کے گناہوں کا بھی۔" غور کریں، پہلے "ہمارے" آتا ہے۔ یسوع کا کام کسی دُور کے ہجوم کے لیے نہیں، آپ کے اُس گناہ کے لیے بھی ہے جسے آپ کسی کو بتانے سے ڈرتے ہیں۔ اور پھر دائرہ پھیلتا ہے، وہاں تک جہاں آپ نے ابھی معافی کی اُمید بھی نہیں باندھی۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
