۲-سلاطِین 18
متن
حِزقیاہ پچیس سال کی عمر میں تختِ یہوداہ پر بیٹھتا ہے اور کچھ ایسا کرتا ہے جو اُس سے پہلے کسی بادشاہ نے نہیں کیا: وہ نہ صرف بُتوں کے مندر گراتا ہے بلکہ پیتل کے اُس سانپ کو بھی توڑ ڈالتا ہے جو خود موسیٰ نے بنایا تھا۔ اُسی دور میں شمالی سلطنت اسرائیل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے، اور چند سال بعد اسور کا لشکر یہوداہ کے قلعے ایک ایک کر کے نگل لیتا ہے۔ باب کا آخری حصہ یروشلم کی فصیل کے نیچے ایک تقریر ہے، جس میں اسوری افسر ربشاقی عبرانی زبان میں عوام کو للکارتا ہے کہ خدا پر بھروسا کرنا خودکشی ہے۔
مرکزی نکتہ
اِس باب کا اصل موضوع ہتھیار نہیں، بھروسا ہے۔ عبرانی میں ایک لفظ ہے بَطَح، یعنی کسی پر پورا وزن ڈال دینا، جیسے آدمی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہے۔ آیت 5 میں یہی لفظ حِزقیاہ کے بارے میں کہا گیا ہے: ”حِزقیاہ رب اسرائیل کے خدا پر بھروسا رکھتا تھا۔“ اور پھر ربشاقی کی تقریر میں یہی لفظ چھ بار ہتھوڑے کی طرح گرتا ہے: ”تمہارا بھروسا کس چیز پر ہے؟“ یہ محض سیاسی سوال نہیں، یہ عہد کا سوال ہے۔ آیت 12 صاف بتاتی ہے کہ اسرائیل کیوں مٹا: اُنہوں نے ”عہد کو توڑ کر“ سننے سے انکار کیا۔ سلطنتوں کا انجام فوجی طاقت سے نہیں، بلکہ اِس سے طے ہوتا ہے کہ وہ کس پر ٹیک لگاتی ہیں۔ خدا کی حکومت تلوار کے میدان میں نہیں، دل کے میدان میں فیصلہ ہوتی ہے۔
وہ ایک تار
پیتل کا سانپ توڑنا معمولی بات نہیں تھی۔ یہ وہی سانپ تھا جو گنتی 21 میں خدا کے حکم سے بنا اور جس کی طرف دیکھنے سے لوگ زندہ بچے۔ یعنی حِزقیاہ نے ایک ایسی چیز چکنا چور کر دی جو کبھی نجات کا ذریعہ تھی، کیونکہ وہ نجات دہندہ کی جگہ لے بیٹھی تھی۔ فضل کی نشانی جب خود عبادت کا مرکز بن جائے تو بُت بن جاتی ہے۔ اور یہیں سے تار سیدھا مسیح تک جاتا ہے: خداوند یسوع نے فرمایا کہ جس طرح موسیٰ نے سانپ کو بلند کیا، اُسی طرح ابنِ آدم بلند کیا جائے گا (یوحنا 3:14)۔ صلیب پر خدا نے آخری نشانی دی جسے توڑنا نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ نشانی خود ایک زندہ شخص ہے۔ ہر مذہبی چیز ٹوٹ سکتی ہے؛ مصلوب اور جی اُٹھا خداوند نہیں۔
آئینہ
ربشاقی کا سوال آج بھی اُسی لہجے میں پوچھا جاتا ہے، صرف زبان بدل گئی ہے۔ وہ کہتا ہے: مصر ٹوٹا ہوا سرکنڈا ہے، اور تمہارا خدا بھی حماتِ اور سِفروائم کے دیوتاؤں سے بہتر نہیں۔ ہم بھی اپنے سرکنڈے جانتے ہیں: بینک کا بیلنس جو تنہائی کے خوف کو نہیں ڈھانپ سکتا، ملازمت جو کسی ای میل سے ختم ہو سکتی ہے، صحت جو ایک رپورٹ سے ہل جاتی ہے، بچوں کی کامیابی جس پر ہم اپنی عزت کا سارا وزن ڈال دیتے ہیں۔ اور جیسے حِزقیاہ نے پہلے ہیکل کا سونا اُتار کر خوف کو خراج دیا، ویسے ہی ہم بھی سب سے مقدّس چیزیں دباؤ میں سب سے پہلے قربان کرتے ہیں: دعا کا وقت، سچ بولنے کی ہمت، دیانت۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جس پر آپ خدا سے زیادہ ٹیک لگا رہے ہیں، اور اُس کے نیچے آیت 5 کے الفاظ اپنے ہاتھ سے لکھیں: ”حِزقیاہ رب اسرائیل کے خدا پر بھروسا رکھتا تھا۔“
مرکزی کردار
حِزقیاہ کے بارے میں ایسی بات کہی گئی ہے جو کسی اور بادشاہ کے لیے نہیں: ”وہ رب کے ساتھ لپٹا رہا۔“ یہ وہی لفظ ہے جو شادی میں مرد اور عورت کے جڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ یہ عقیدے سے زیادہ وفاداری ہے۔ لیکن یہی آدمی آیت 14 میں ٹوٹ جاتا ہے: ”مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ مجھے چھوڑ دیں۔“ کوئی نبوّت نہیں، کوئی دعا نہیں، صرف خراج۔ یہ کردار ہمیں مایوس نہیں کرتا بلکہ سچا لگتا ہے، کیونکہ سچی ایمانداری خطِ مستقیم نہیں ہوتی۔ اُس کا روحانی نقشہ یہ ہے: بُت توڑنے کی جرأت، اور ساتھ ہی ایک ایسے آدمی کا خوف جسے پتا ہے کہ اُس کے پاس دو ہزار گھڑسوار نہیں ہیں۔ خدا اُسے اُس کی مضبوطی کی وجہ سے نہیں چھوڑتا؛ وہ اُس کے ساتھ رہتا ہے کیونکہ وہ لَوٹ آتا ہے۔
مشکل سوال
ربشاقی آیت 25 میں کہتا ہے: ”رب نے خود مجھے کہا کہ اِس ملک پر دھاوا بول کر اِسے تباہ کر دے۔“ پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ سراسر جھوٹ بھی نہیں۔ خدا نے واقعی اسور کو اپنے غضب کی لاٹھی بنایا تھا؛ سامریہ کا انجام اِس کا ثبوت تھا۔ لیکن ربشاقی سچائی کا ٹکڑا اُٹھا کر اُسے ایمان کے خلاف ہتھیار بنا دیتا ہے، اور آیت 22 میں حِزقیاہ کی اصلاح کو ہی بےحرمتی قرار دیتا ہے۔ یہ ہمیں ایک بےآرام حقیقت پر لا کھڑا کرتا ہے: دشمن کی زبان پر درست الٰہیات بھی ہو سکتی ہے۔ متن ہمیں کوئی آسان کسوٹی نہیں دیتا۔ فصیل پر کھڑے لوگ خاموش رہتے ہیں، اور یہ خاموشی مجبوری بھی ہے اور فرمانبرداری بھی۔ کبھی ایمان کا واحد جواب یہ ہوتا ہے کہ بحث نہ کرو اور معاملہ اُس کے پاس لے جاؤ جو تخت پر بیٹھا ہے۔
ایک باریک نکتہ
آیت 16 میں ایک جملہ ہے جسے پڑھنے والا آسانی سے چھوڑ دیتا ہے: ”یہ سونا اُس نے خود دروازوں اور چوکھٹوں پر چڑھوایا تھا۔“ یعنی جو سونا اُتارا جا رہا ہے، وہ حِزقیاہ کی اپنی عبادت کا نشان تھا، اُس کی اصلاح کا، اُس کے جوش کا۔ آج وہی ہاتھ اُسے نوچ کر خوف کے حوالے کر رہے ہیں۔ اِس ایک فقرے میں پورے انسان کا المیہ ہے: ہم اپنی سب سے خوبصورت فرمانبرداری بھی گھبراہٹ میں بیچ سکتے ہیں۔ اور پھر بھی، آیت 17 بتاتی ہے، ”اسور کا بادشاہ مطمئن نہ ہوا“۔ خوف کو خراج دینے سے خوف کبھی سیر نہیں ہوتا؛ وہ اگلی بار زیادہ مانگتا ہے۔ نجات صرف اُس طرف سے آتی ہے جسے ربشاقی ناکارہ سمجھتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی مذہبی چیز ہے جو ایک وقت برکت تھی مگر اب خدا کی جگہ لے رہی ہے، اور اُسے توڑنے میں کیا چیز رکاوٹ بنی ہوئی ہے؟
جب کوئی آپ کے ایمان پر آدھی سچائی کے ساتھ حملہ کرتا ہے، تو آپ کا پہلا ردِعمل بحث ہوتا ہے یا حِزقیاہ کی طرح معاملہ خدا کے حضور لے جانا؟
2 Kings 18 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-سلاطِین 18 کا کیا مطلب ہے؟
۲-سلاطِین 18 کس بارے میں ہے؟
۲-سلاطِین 18 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-سلاطِین 18 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-سلاطِین 18 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
2 Kings 18 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
