مشکل وقت میں خدا پر بھروسا
بھروسا اور پناہ
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے زبور 30:5, امثال 14:23, یرمیاہ 12:1 and زبور 91:1-2.
☀ صبح کا لمحہ
کیونکہ وہ لمحہ بھر کے لئے غصے ہوتا، لیکن زندگی بھر کے لئے مہربانی کرتا ہے۔ گو شام کو رونا پڑے، لیکن صبح کو ہم خوشی منائیں گے۔
زبور 30:5
ایک لفظ پر رک جائیں: "stay" یعنی ٹھہرنا۔ رونا رات بھر ٹھہرتا ہے، مگر ٹھہرنے والا کبھی مالکِ مکان نہیں بنتا۔ وہ مہمان ہے، رات کے لیے آیا ہے، صبح کے ساتھ اسے جانا ہے۔ داؤد نے یہ فرق جان بوجھ کر لکھا۔ رات کی تکلیف عارضی ہے، صبح کی خوشی مستقل۔
آج کی صبح شاید آپ کے دل میں کل رات کا کوئی بوجھ ابھی باقی ہو۔ کام کی فکر، کسی رشتے کی الجھن، یا بس تھکن جو نیند سے پوری نہیں ہوئی۔ یہ سب حقیقی ہے، اسے جھٹلانے کی ضرورت نہیں۔
مگر خدا کا غضب لمحاتی ہے، اور اُس کا کرم زندگی بھر کا ہے۔ یہ ترتیب اہم ہے۔ مشکل پہلے آتی ہے، مگر آخری لفظ ہمیشہ اُس کی مہربانی کا ہوتا ہے۔ رات مہمان ہے، صبح وارث ہے۔
اسی لیے آج کا دن یوں شروع کریں کہ رات کی ہر پریشانی کو یاد دلائیں، تم یہاں مستقل رہنے نہیں آئے۔ خدا کی طرف سے آنے والی خوشی تمہیں باہر نکال دے گی۔
جو کچھ بھی رات نے آپ کے دل میں چھوڑا ہو، آج صبح اُسے اُس کے اصلی درجے پر رکھیں، ایک مہمان جو رخصت ہو رہا ہے۔ اور خدا کے کرم کو اُس کے اصلی درجے پر، ایک وارث جو ہمیشہ رہے گا۔
یہ دن منسوب کریں →✦ دوپہر کا لمحہ
محنت مشقت کرنے میں ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے، جبکہ خالی باتیں کرنے سے لوگ غریب ہو جاتے ہیں۔
امثال 14:23
کیا آج صبح کی میٹنگ میں جو کچھ کہا گیا، اس سے کوئی کام آگے بڑھا؟ یا صرف الفاظ ہی الفاظ تھے، خالی باتیں جو ہوا میں تحلیل ہو گئیں؟
منگل کی دوپہر کا یہی وقت ہے جب یہ سوال خود بخود ذہن میں آتا ہے۔ صبح کی مصروفی ختم ہو رہی ہے، اور جیسے ہی سانس لینے کا موقع ملتا ہے، دل جانچنا شروع کر دیتا ہے کہ صبح کا وقت کیسے گزرا۔ باتوں میں یا کام میں۔
امثال کا یہ فقرہ کوئی نرم نصیحت نہیں، سیدھی حقیقت ہے۔ محنت میں نفع ہے، مگر خالی باتوں میں مفلسی۔ یہ صرف دفتر کی کارکردگی کی بات نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری زندگی کس چیز سے بھری ہوئی ہے، عمل سے یا صرف الفاظ سے۔
ہر انسان کے پاس دن میں محدود گھنٹے ہیں۔ کچھ گھنٹے شکایتوں میں، بحثوں میں، یا فضول گپ شپ میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ اور جب شام آتی ہے تو ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔
آج دوپہر کے باقی حصے کو دیکھیں۔ کیا الفاظ کو عمل میں بدلا جا سکتا ہے؟ ایک فیصلہ، ایک قدم، ایک کام مکمل کرنا، یہی وہ چیز ہے جو خالی ہاتھوں کو بھرتی ہے۔
خدا نے محنت کو بابرکت بنایا ہے۔ باتیں نہیں، ہاتھوں کا کام۔
یہ دن منسوب کریں →◐ دوپہر کا لمحہ
اے رب، تُو ہمیشہ حق پر ہے، لہٰذا عدالت میں تجھ سے شکایت کرنے کا کیا فائدہ؟ تاہم مَیں اپنا معاملہ تجھے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ بےدینوں کو اِتنی کامیابی کیوں حاصل ہوتی ہے؟ غدار اِتنے سکون سے زندگی کیوں گزارتے ہیں؟
یرمیاہ 12:1
دوپہر ڈھائی بجے، آفس کی کینٹین میں، کولیگ نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ پروجیکٹ اسے مل گیا جس کے لیے تم نے مہینوں محنت کی تھی۔ تم نے سر ہلایا، مبارک باد دی، اور واپس اپنی میز پر آ کر چپ چاپ بیٹھ گئے۔ اندر کچھ کھول رہا تھا جسے لفظوں میں ڈھالنا آسان نہیں۔
یرمیاہ کے یہ الفاظ آسان تسلی نہیں دیتے۔ وہ خدا کو راستباز مانتا ہے، پھر بھی سوال اٹھاتا ہے، کیوں شریروں کی راہ کامیاب ہوتی ہے؟ کیوں دھوکہ باز چین سے رہتے ہیں؟ یہ شکایت نہیں، ایک نبی کی دیانتدار دعا ہے، جو خدا سے منہ موڑتا نہیں بلکہ اسی کے سامنے کھڑا ہو کر جواب مانگتا ہے۔
شاید تمہارا معاملہ اتنا بڑا نہ ہو جتنا یرمیاہ کا تھا، مگر وہی کڑواہٹ اندر پک سکتی ہے۔ جب محنت کا صلہ کسی اور کو ملے، جب ایمانداری نظرانداز ہو جائے، تو دل میں یہی سوال جنم لیتا ہے۔
خدا اس سوال سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ اس نے یرمیاہ کی شکایت کو اپنے کلام میں محفوظ رکھا، مٹایا نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہارا سوال بھی اس کے سامنے رکھا جا سکتا ہے، بغیر یہ ڈھونگ رچائے کہ سب ٹھیک ہے۔
آج کا جواب فوراً نہیں ملے گا۔ لیکن جو خدا شکایت سننے کو تیار ہے، وہی راستباز بھی ہے۔ یہی دونوں باتیں ایک ساتھ پکڑنا، شاید آج کی دوپہر کی سب سے ایماندار دعا ہو۔
یہ دن منسوب کریں →☾ شام کا لمحہ
جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہے وہ قادرِ مطلق کے سائے میں سکونت کرے گا۔ مَیں کہوں گا، ”اے رب، تُو میری پناہ اور میرا قلعہ ہے، میرا خدا جس پر مَیں بھروسا رکھتا ہوں۔“
زبور 91:1-2
دن کا شور آہستہ آہستہ تھم رہا ہے۔ دروازے بند ہو چکے ہیں، فون خاموش پڑا ہے، اور آپ کے کندھوں کو معلوم ہے کہ آج کافی اٹھایا جا چکا۔
منگل کا دن اپنی رفتار سے گزرا، میٹنگیں، فیصلے، چھوٹی چھوٹی الجھنیں جو کام کے دوران سامنے آتی رہیں۔ شاید کچھ ادھورا رہ گیا، شاید کوئی بات ذہن میں اٹکی ہوئی ہے۔ لیکن اب وقت ہے کہ آپ اسے اپنے ہاتھ سے نکال دیں۔
یہ آیت کسی چھپی جگہ کی بات کرتی ہے، ایک سایہ جہاں آرام ممکن ہے۔ یہ کوئی دور کا خواب نہیں، بلکہ آج شام کی حقیقت بن سکتی ہے۔ خدا کی موجودگی ایسی پناہ گاہ ہے جہاں دن کا بوجھ اتارا جا سکتا ہے، جہاں تھکن کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایمان کا اظہار ہے۔
آج جو کچھ نہ ہو سکا، اسے وہیں چھوڑ دیں۔ جو ذمہ داریاں کل کا انتظار کر رہی ہیں، انہیں کل پر رکھ دیں۔ ابھی صرف یہ سچ ماننا ہے کہ آپ کا خدا آپ کا قلعہ ہے، آپ کی پناہ ہے، اور وہ آج رات بھی جاگتا رہے گا۔
اپنے دل کو کہنے دیں، وہی میرا خدا ہے، جس پر میں بھروسا رکھتا ہوں۔ اسی اعتماد کے ساتھ آنکھیں بند کریں، سکون سے، جیسے کوئی بچہ اپنے باپ کی گود میں آرام کرتا ہے۔
یہ دن منسوب کریں →یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
5کیونکہ وہ لمحہ بھر کے لئے غصے ہوتا، لیکن زندگی بھر کے لئے مہربانی کرتا ہے۔ گو شام کو رونا پڑے، لیکن صبح کو ہم خوشی منائیں گے۔
23محنت مشقت کرنے میں ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے، جبکہ خالی باتیں کرنے سے لوگ غریب ہو جاتے ہیں۔
1اے رب، تُو ہمیشہ حق پر ہے، لہٰذا عدالت میں تجھ سے شکایت کرنے کا کیا فائدہ؟ تاہم مَیں اپنا معاملہ تجھے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ بےدینوں کو اِتنی کامیابی کیوں حاصل ہوتی ہے؟ غدار اِتنے سکون سے زندگی کیوں گزارتے ہیں؟
1جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہے وہ قادرِ مطلق کے سائے میں سکونت کرے گا۔
2مَیں کہوں گا، ”اے رب، تُو میری پناہ اور میرا قلعہ ہے، میرا خدا جس پر مَیں بھروسا رکھتا ہوں۔“
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں