اِفسِیوں 4
متن
پولس رسول قید میں بیٹھا ہے اور قیدی ہونے کے باوجود وہ حکم نہیں، بلکہ تاکید کرتا ہے: ”اُس زندگی کے مطابق چلیں جس کے لئے خدا نے آپ کو بُلایا ہے۔“ پہلے حصے میں وہ کلیسیا کی یگانگت کی بنیاد رکھتا ہے، ایک بدن، ایک روح، ایک خداوند، ایک باپ، اور بتاتا ہے کہ مسیح نے اپنی جماعت کو رسول، نبی، مبشر، چرواہے اور اُستاد بخشے تاکہ مُقدّسین خدمت کے لئے تیار ہوں اور بدن بالغ ہو جائے۔ پھر وہ اچانک بہت عملی ہو جاتا ہے: پرانا انسان اُتار دیں، نیا پہن لیں، جھوٹ چھوڑیں، غصہ سورج ڈوبنے تک ٹھنڈا کریں، چوری کی جگہ محنت کریں، زبان سے تعمیر کریں، اور ایک دوسرے کو ویسے معاف کریں جیسے اللہ نے مسیح میں آپ کو معاف کیا۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل یہ ہے کہ مسیحی اخلاقیات ہوا میں معلق کوئی اصول نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا نتیجہ ہے۔ پولس پہلے یہ نہیں کہتا ”متحد ہو جاؤ“، بلکہ کہتا ہے ”ایک ہی بدن اور ایک ہی روح ہے۔“ یگانگت بنانی نہیں ہے، وہ موجود ہے؛ ہمیں صرف اُسے ”قائم رکھنے کی پوری کوشش“ کرنی ہے۔ یہی فضل کی منطق ہے: خدا پہلے کچھ کرتا ہے، پھر ہمیں اُس میں چلنے کو بلاتا ہے۔ اِسی لئے نیا انسان ”پہن لیں“ کہا گیا ہے، جیسے کوئی لباس جو پہلے سے سی کر رکھا گیا ہو۔ اور نجات یہاں تنہا روح کا معاملہ نہیں؛ نجات یافتہ آدمی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا، کیونکہ ”ہم سب ایک ہی بدن کے اعضا ہیں۔“
نجات کی کہانی کا سلسلہ
آیت آٹھ میں پولس زبور 68 کی اُس تصویر کو اُٹھاتا ہے جہاں فاتح بادشاہ لڑائی جیت کر شہر میں چڑھتا ہے اور لُوٹ تقسیم کرتا ہے۔ لیکن وہ اِس میں ایک عجیب موڑ لاتا ہے: ”پہلے وہ زمین کی گہرائیوں میں اُترا۔“ یعنی جو تحفے کلیسیا کو ملے ہیں، وہ جنگ کے میدان سے آئے ہیں؛ خادم، اُستاد، چرواہے، یہ سب مصلوب اور جی اُٹھے مسیح کی فتح کا مالِ غنیمت ہیں۔ پرانے عہد کا خدا اپنی قوم کو کاہن اور نبی دیتا تھا؛ اب سر سے بدن کو نسیں ملتی ہیں۔ اور مقصود صرف نظم نہیں بلکہ بلوغت ہے: ”ہم مل کر مسیح کی معموری اور بلوغت کو منعکس کریں گے۔“ آدم میں بگڑی ہوئی صورت، مسیح میں بحال کی جا رہی ہے۔
آئینہ
یہ باب اُس جگہ ہاتھ رکھتا ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے: ہماری رائے میں جائز غصہ۔ ہم جھوٹ سے تو خوف کھاتے ہیں، مگر اُس تلخی کو پالتے ہیں جسے ہم ”اصول کی بات“ کہتے ہیں۔ کسی بھائی نے چار سال پہلے آپ کی بےعزتی کی، اور آپ آج بھی اُس کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں جو سچ ہیں مگر تعمیر نہیں کرتیں۔ پولس اِسی کو ابلیس کا موقع کہتا ہے، اور یہ لفظ چبھتا ہے۔ ایک اور آئینہ: ”تعلیم کے ہر ایک جھونکے سے اُچھلتے پھرتے“ رہنا۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو ہر نئی روحانی لہر، ہر نئے مقرر کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اِسے گہرائی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ بچپنا ہے۔ بلوغت شور میں نہیں، ”محبت کی روح میں سچی بات“ کرنے میں ہے، اور یہ دونوں کو ساتھ رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔
آج سورج ڈوبنے سے پہلے اُس ایک شخص کو فون یا پیغام کریں جس پر آپ کا غصہ ایک ہفتے سے زیادہ پرانا ہے، اور اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے صرف اِتنا کہیں: ”میرے دل میں تمہارے خلاف تلخی تھی، اور میں اُسے رکھنا نہیں چاہتا۔“
مشکل سوال
آیت 30 کھٹکتی ہے: ”اللہ کے مُقدّس روح کو دُکھ نہ پہنچانا۔“ کیا خدا کو ہماری بدزبانی سے واقعی تکلیف ہوتی ہے؟ اگر ہاں، تو خدا اُس سے زیادہ مجروح ہونے والا ہے جتنا ہم سوچنا چاہتے ہیں۔ اور اگر نہیں، تو یہ جملہ محض جذباتی دباؤ ہے۔ پولس تیسرا راستہ نہیں دیتا۔ وہ دُکھ اور مُہر کو ایک ہی سانس میں رکھ دیتا ہے: وہی روح جو غمگین ہوتا ہے، وہی ہماری ضمانت ہے۔ یعنی آپ کے سخت الفاظ آپ کی نجات نہیں چھینتے، مگر وہ کسی کو بےحس نہیں چھوڑتے؛ وہ خدا کے دل تک جاتے ہیں۔ اِسے حل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اِسے محسوس کریں، کیونکہ محبت ہی زخم کھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار مسیح ہے، اور اُس کی حرکت کی سمت غور کے قابل ہے: پہلے نیچے، پھر اوپر۔ ”جو اُترا وہ وہی ہے جو تمام آسمانوں سے اونچا چڑھ گیا۔“ جو بادشاہ گہرائیوں میں اُترا، وہ اپنی فتح کا اعلان کرنے کے لئے تخت نہیں سجاتا بلکہ تحفے بانٹتا ہے، اور تحفے یہ ہیں: لوگ۔ خادم۔ کمزور، غلطیاں کرنے والے چرواہے اور اُستاد۔ یہ خدا کے مزاج کا انکشاف ہے: وہ اپنی جماعت کو آسمانی نظام سے نہیں، انسانی ہاتھوں سے بناتا ہے۔ اور بدن کو جوڑنے والا بھی وہی ہے، ”وہی نسوں کے ذریعے پورے بدن کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر متحد کر دیتا ہے۔“ آپ کی کلیسیا کی وحدت آپ کی کوشش پر نہیں، اُس کے سر ہونے پر ٹھہری ہے۔
کلام کی گواہی
کلسیوں 3 میں یہی تصویر ہے، پرانے کو اُتارنا اور نئے کو پہننا، مگر وہاں زور مسیح کے ساتھ زندہ ہونے پر ہے؛ یہاں زور بدن پر ہے۔ دونوں کو ساتھ پڑھیں تو صاف ہوتا ہے کہ ذاتی تقدیس اور کلیسیائی رشتے ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ اور آیت 32 ہمیں سیدھا متی 18 کے اُس نوکر کے سامنے لے جاتی ہے جسے بادشاہ نے بےحساب قرض معاف کیا مگر اُس نے اپنے ساتھی کا گلا پکڑ لیا۔ پولس اُس تمثیل کا خلاصہ ایک فقرے میں کر دیتا ہے: ”ایک دوسرے کو یوں معاف کریں جس طرح اللہ نے آپ کو بھی مسیح میں معاف کر دیا ہے۔“ معافی کا پیمانہ ہمارا زخم نہیں، صلیب ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زبان سے نکلی پچھلی دس باتوں میں سے کتنی ”دوسروں کی ضروریات کے مطابق اُن کی تعمیر“ کر رہی تھیں، اور کتنی صرف آپ کے دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھیں؟
آپ کس بات کو ”حق پر قائم رہنا“ کہتے ہیں جو دراصل وہ تلخی ہے جس سے پولس آپ کو باز آنے کو کہتا ہے؟
Ephesians 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِفسِیوں 4 کا کیا مطلب ہے؟
اِفسِیوں 4 کس بارے میں ہے؟
اِفسِیوں 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِفسِیوں 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِفسِیوں 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ephesians 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو نے اپنی کلیسیا کو مختلف تحفے دیے ہیں، کچھ سکھانے والے، کچھ راہ دکھانے والے، کچھ تیری خوشخبری سنانے والے۔ مجھے بھی دکھا کہ تُو نے مجھ میں کیا رکھا ہے، اور دل دے کہ میں اُسے چھپاؤں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت میں خرچ کر دوں۔
اِس کے بجائے ہم محبت کی روح میں سچی بات کریں اور یوں ہر لحاظ سے بڑھتے بڑھتے مسیح تک پہنچ جائیں جو ہمارا سر ہے۔“ پولس بچوں کی بات کر رہا تھا جو ہر لہر کے ساتھ اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔ بڑا ہونے کی نشانی یہ نہیں کہ تُو سب کچھ جانتا ہے، بلکہ یہ کہ تُو سچ اِس طرح بولنا سیکھ گیا ہے کہ سننے والا ٹوٹے نہیں۔ آج کس سے تُو نے سچ چھپایا کیونکہ ڈر تھا؟ اور کس سے سچ اِس لہجے میں کہا کہ محبت کہیں پیچھے رہ گئی؟
کڑواہٹ اُس فہرست میں سب سے پہلے آتی ہے، اور یہ اتفاق نہیں۔ طیش، غصہ، شور شرابہ، بہتان، یہ سب اُسی خاموش زخم سے پھوٹتے ہیں جسے آپ نے برسوں سے دل میں سنبھال کر رکھا ہے۔ پولس کہتا ہے کہ "ہر طرح کی کڑواہٹ" سے باز آئیں، یعنی اُس پرانے حساب کو ہاتھ سے چھوڑ دیں۔ آج کس کا نام آپ کے دل میں سب سے پہلے آیا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
