بائبل کی تشریح

خروج 21

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

باب کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: "اسرائیلیوں کو یہ احکام بتا"، اور پھر دس احکام کی بلندی سے اُتر کر ہم اچانک گھر، کھیت اور عدالت کے گرد و غبار میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ غلام کی چھ سالہ مدت اور ساتویں سال کی آزادی، بیٹی کے حقوق، قتلِ عمد اور قتلِ خطا میں فرق، ماں باپ پر ہاتھ اٹھانے کی سزا، اغوا، لڑائی میں لگنے والی چوٹ، حاملہ عورت کا نقصان، "آنکھ کے بدلے آنکھ" کا اصول، اور آخر میں بَیل جو کسی کو مار ڈالے یا کھلا گڑھا جس میں جانور گر جائے۔ شریعت یہاں آسمان سے زمین پر آتی ہے، بالکل اُس جگہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مرکزی بات

غور کیجیے کہ خدا کس چیز کی قیمت لگاتے ہیں۔ آزاد آدمی کی آنکھ کے بدلے آنکھ، مگر غلام کی آنکھ کے بدلے پوری آزادی: "اگر مالک کے پیٹنے سے غلام کا دانت ٹوٹ جائے تو اُسے غلام کو دانت کے بدلے آزاد کرنا پڑے گا۔" ایک دانت۔ قدیم مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے قانونی مجموعوں میں غلام جائیداد ہے، اور جائیداد کے نقصان کا ہرجانہ مالک کو ملتا ہے۔ یہاں ہرجانہ غلام کو ملتا ہے، اور وہ ہرجانہ آزادی ہے۔ خدا کی شریعت طاقت کے ڈھانچے کو راتوں رات ختم نہیں کرتی، مگر وہ اُس ڈھانچے کے اندر ایک دروازہ کھول دیتی ہے اور کمزور کے جسم کو ایسی قیمت دے دیتی ہے جو مالک کے بٹوے پر بھاری پڑتی ہے۔ یہی اِس باب کا دل ہے: انصاف تب حقیقی ہوتا ہے جب اُس کی قیمت طاقتور ادا کرے۔

سلسلۂ کلام

"آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت" ہمیں وحشیانہ لگتا ہے، حالانکہ یہ انتقام کی حد بندی ہے: ایک آنکھ کے بدلے ایک آنکھ، پورا خاندان نہیں۔ خداوند یسوع نے پہاڑی وعظ میں اِسی اصول کو لے کر آگے بڑھایا، اُسے منسوخ نہیں کیا بلکہ اُس کی روح کو انتہا تک لے گئے: بدلہ لینے کے حق سے دستبرداری۔ اور ایک اور دھاگا: آیت 32 میں غلام کی جان کی قیمت "چاندی کے 30 سِکے" مقرر ہوتی ہے۔ یہی رقم بعد میں ایک شاگرد نے اپنے اُستاد کے عوض لی۔ مسیح نے خود کو ایک غلام کی قیمت پر بکنے دیا، اور اُس سودے سے وہ آزادی نکلی جو شریعت صرف دانت ٹوٹنے پر دے سکتی تھی۔

آئینہ

یہ باب آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کے نقصان پہنچانے کا بل کون ادا کرتا ہے۔ آیت 19 میں زخمی کرنے والا صرف معافی نہیں مانگتا؛ اُسے بےکاری کے دنوں کا معاوضہ دینا ہے اور "اُس کا پورا علاج" بھی کروانا ہے۔ ہم اکثر "سوری" کہہ کر معاملہ بند سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرا شخص ابھی تک بستر پر ہے۔ وہ ملازم جسے آپ نے میٹنگ میں شرمندہ کیا، وہ بھائی جس کا حصہ آپ نے ٹال دیا، وہ بچہ جس سے آپ نے وعدہ توڑا۔ اور آیت 29 کا بَیل: جس خطرے کے بارے میں آپ کو پہلے سے معلوم تھا اور آپ نے اُسے کھلا چھوڑے رکھا، وہ غفلت نہیں، جرم ہے۔ آج ہی اُس ایک شخص کو پیغام بھیجیے جسے آپ کے لفظ یا فیصلے سے نقصان پہنچا، اور معافی کے ساتھ ایک ٹھوس چیز لکھیے جو آپ اُس کی تلافی میں کریں گے، اور پھر یہ وعدہ اِسی ہفتے پورا کیجیے۔

سوال

پھر بھی یہ باب غلامی کو ختم نہیں کرتا۔ آیت 21 ہاتھ سے پکڑ کر جھنجھوڑتی ہے: اگر پٹائی کے بعد غلام ایک یا دو دن زندہ رہے تو مالک کو سزا نہیں، کیونکہ "جو رقم اُس نے اُس کے لئے دی تھی اُس کا نقصان اُسے خود اُٹھانا پڑے گا۔" انسان کو یہاں سرمائے کے طور پر گِنا جا رہا ہے۔ اِس پر خوشنما پردہ ڈالنا بےایمانی ہو گی۔ ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ خدا ایک ٹوٹی ہوئی دنیا میں اُس کی زبان بولتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور اندر سے اُسے کاٹنا شروع کرتے ہیں؛ آیت 16 میں اغوا کرنے والے کے لیے موت کی سزا پہلے ہی غلاموں کی منڈی کی جڑ پر کلہاڑا ہے۔ مگر یہ جواب تکلیف کو مٹاتا نہیں۔ شریعت ابتدا ہے، انتہا نہیں۔

سامعین کی تصویر

یہ لوگ ابھی کل تک خود غلام تھے۔ جب اُنہوں نے سنا کہ چھٹے سال کے بعد عبرانی غلام مفت آزاد ہوتا ہے، تو اُن کے ذہن میں مصر کے اینٹوں کے بھٹے تھے جہاں کوئی ساتواں سال نہیں آتا تھا۔ اور جب اُنہوں نے سنا کہ بیٹی کو بیچنے والے باپ کے باوجود لڑکی کے حقوق محفوظ ہیں، کہ خریدار اُسے "غیرملکیوں کے ہاتھ" نہیں بیچ سکتا، تو یہ رحم کی کوئی مبہم بات نہیں بلکہ قابلِ عمل تحفظ تھا۔ اُن کے کانوں میں یہ قانون نہیں، گواہی تھی: جس خدا نے ہمیں نکالا، وہ ہمیں ایک دوسرے کا فرعون بننے نہیں دے گا۔

پس منظر

ہم سینا پہاڑ کے دامن میں ہیں، خروج کے چند مہینوں بعد، جب ایک غلام قوم کو قوم بننا سیکھنا ہے۔ باب 20 کے دس احکام کے فوراً بعد یہ تفصیلی عدالتی قوانین آتے ہیں، جنہیں بزرگ شہر کے دروازے پر لاگو کرتے تھے۔ یہاں کوئی پولیس یا جیل نہیں؛ انصاف خاندانوں، گواہوں اور معاوضے سے چلتا ہے۔ آیت 6 میں غلام کو "اللہ کے سامنے" لایا جاتا ہے اور چوکھٹ پر اُس کے کان کی لَو چھیدی جاتی ہے: ایک عوامی، ناقابلِ انکار نشان۔ اِس دنیا میں معاہدے جسم پر لکھے جاتے تھے، اور خدا اِسی دنیا کے بیچ میں اپنی مرضی رکھتے ہیں۔

غور و فکر

کون سا "بَیل" آپ کی زندگی میں کھلا پھر رہا ہے، جس کے خطرے سے آپ واقف ہیں مگر جسے آپ نے باندھنا ٹال رکھا ہے؟

آپ کے ارد گرد کون ہے جس کی تکلیف آپ کو کچھ نہیں دکھتی کیونکہ اُس کا ہرجانہ آپ کو نہیں بلکہ کسی اور کو ملتا ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Exodus 21 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

خروج 21 کا کیا مطلب ہے؟
باب کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: "اسرائیلیوں کو یہ احکام بتا"، اور پھر دس احکام کی بلندی سے اُتر کر ہم اچانک گھر، کھیت اور عدالت کے گرد و غبار میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ غلام کی چھ سالہ مدت اور ساتویں سال کی آزادی، بیٹی کے حقوق، قتلِ عمد اور قتلِ خطا میں فرق، ماں باپ پر ہاتھ اٹھانے کی سزا، اغوا، لڑائی میں لگنے والی چوٹ، حاملہ عورت کا نقصان، "آنکھ کے بدلے آنکھ" کا اصول، اور آخر میں بَیل جو کسی کو مار ڈالے یا کھلا گڑھا جس میں جانور گر جائے۔ شریعت یہاں آسمان سے زمین پر آتی ہے، بالکل اُس جگہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
خروج 21 کس بارے میں ہے؟
"آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت" ہمیں وحشیانہ لگتا ہے، حالانکہ یہ انتقام کی حد بندی ہے: ایک آنکھ کے بدلے ایک آنکھ، پورا خاندان نہیں۔ خداوند یسوع نے پہاڑی وعظ میں اِسی اصول کو لے کر آگے بڑھایا، اُسے منسوخ نہیں کیا بلکہ اُس کی روح کو انتہا تک لے گئے: بدلہ لینے کے حق سے دستبرداری۔ اور ایک اور دھاگا: آیت 32 میں غلام کی جان کی قیمت "چاندی کے 30 سِکے" مقرر ہوتی ہے۔ یہی رقم بعد میں ایک شاگرد نے اپنے اُستاد کے عوض لی۔ مسیح نے خود کو ایک غلام کی قیمت پر بکنے دیا، اور اُس سودے سے وہ آزادی نکلی جو شریعت صرف دانت ٹوٹنے پر دے سکتی تھی۔
خروج 21 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پھر بھی یہ باب غلامی کو ختم نہیں کرتا۔ آیت 21 ہاتھ سے پکڑ کر جھنجھوڑتی ہے: اگر پٹائی کے بعد غلام ایک یا دو دن زندہ رہے تو مالک کو سزا نہیں، کیونکہ "جو رقم اُس نے اُس کے لئے دی تھی اُس کا نقصان اُسے خود اُٹھانا پڑے گا۔" انسان کو یہاں سرمائے کے طور پر گِنا جا رہا ہے۔ اِس پر خوشنما پردہ ڈالنا بےایمانی ہو گی۔ ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ خدا ایک ٹوٹی ہوئی دنیا میں اُس کی زبان بولتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور اندر سے اُسے کاٹنا شروع کرتے ہیں؛ آیت 16 میں اغوا کرنے والے کے لیے موت کی سزا پہلے ہی غلاموں کی منڈی کی جڑ پر کلہاڑا ہے۔ مگر یہ جواب تکلیف کو مٹاتا نہیں۔ شریعت ابتدا ہے، انتہا نہیں۔
خروج 21 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ہم سینا پہاڑ کے دامن میں ہیں، خروج کے چند مہینوں بعد، جب ایک غلام قوم کو قوم بننا سیکھنا ہے۔ باب 20 کے دس احکام کے فوراً بعد یہ تفصیلی عدالتی قوانین آتے ہیں، جنہیں بزرگ شہر کے دروازے پر لاگو کرتے تھے۔ یہاں کوئی پولیس یا جیل نہیں؛ انصاف خاندانوں، گواہوں اور معاوضے سے چلتا ہے۔ آیت 6 میں غلام کو "اللہ کے سامنے" لایا جاتا ہے اور چوکھٹ پر اُس کے کان کی لَو چھیدی جاتی ہے: ایک عوامی، ناقابلِ انکار نشان۔ اِس دنیا میں معاہدے جسم پر لکھے جاتے تھے، اور خدا اِسی دنیا کے بیچ میں اپنی مرضی رکھتے ہیں۔
خروج 21 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کے ارد گرد کون ہے جس کی تکلیف آپ کو کچھ نہیں دکھتی کیونکہ اُس کا ہرجانہ آپ کو نہیں بلکہ کسی اور کو ملتا ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Exodus 21 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 12

اے خدا، تُو ہر انسان کی جان کو قیمتی ٹھہراتا ہے۔ میرے دل سے وہ غصہ نکال دے جو دوسروں کو زخمی کرتا ہے، اور میری زبان اور ہاتھوں کو نرم کر۔ جہاں دنیا میں خون بہتا ہے، وہاں اپنا انصاف اور شفا لے آ۔ مجھے ایسا بنا کہ میں زندگی کی حفاظت کروں، اُسے مٹانے والا نہ بنوں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟